ای میل

مالمو سے ملیے!

کچھ زندگی مصروف ہوگئی اور کچھ دنیا کے حالات نے پلٹا کھایا کہ کہیں سفر پر جانے کے نہ رہے۔ مگر اب جب حالات معمول کی طرف لوٹے ہیں تو چلیے ایک نئے سفر پر چلتے ہیں۔

کوپن ہیگن سے درجنوں دفعہ سویڈن کے شہر مالمو آنا ہوا لیکن کبھی بھی جی بھر کر یہ شہر نہیں دیکھا تھا، تاہم سفر کی تعطیلات میں گھٹن اس قدر بڑھ چکی تھی کہ ہم گھر اٹھا کر ہی سویڈن لے آئے۔ اب میں روزانہ کام پر جانے کے لیے کوپن ہیگن کا سفر کرتا ہوں اور آرام کی خاطر مالمو آ بسا ہوں۔

یہاں مجھے جس علاقے میں کرائے پر گھر ملا ہے اس کا نام روزن گارڈن ہے اور یہاں پر بیرونی ملکوں سے آکر بسنے والوں کی کثرت ہے۔

روزن گارڈن سینٹر کا رُخ کریں تو آپ پر مشرق وسطی یا افریقہ کے کسی ملک کے بازار میں آجانے کا گمان گزرے گا۔ پکے رنگوں، کالے بالوں، اونچی آوازوں، قہقہے لگا کر ہنسنے والوں کی ایک چھوٹی سی دنیا یہاں آباد ہے جو اسیکنڈے نیویا کے عمومی رنگ سے ہٹ کر ہے۔

اس سینٹر میں حلال اشیا کی دکانوں اور غیر ملکی دکانداروں کی تعداد زیادہ ہے، آپ بازار میں داخل ہوں تو دائیں طرف عراقی طرز کی بریڈ، پیزے سے ملتی جلتی روٹیاں، بھری ہوئی پیسٹریاں اور ترک قہوے جیسی چائے ملتی ہے۔ بائیں طرف فارمیسی کے بالکل ساتھ ہی ایک شامی مٹھائی والے کی دکان ہے جہاں جلیبی طرز کی ایک مٹھائی آپ کو پاکستان کی یاد دلا دیتی ہے۔

مالمو کی ایک سڑک
مالمو کی ایک سڑک

سامنے کونے میں 2 سپر مارکیٹ نما دکانیں موجود ہیں، جہاں مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کے باشندوں کی ضروریات کا تقریباً سارا سامان دستیاب ہے۔ کل ہی پتا چلا کہ کاؤنٹر کے پیچھے بل وصول کرتی لڑکی کا تعلق بھی پاکستان سے ہے۔

یہاں سے سامنے والی دکان چابیاں اور تالے کھولنے والے ایک بدیسی کی ہے۔ دائیں طرف سامنے عطر فروش اور مصالحہ فروش بیٹھے ہیں۔ وہاں سے بائیں طرف 2 حجام بیٹھے ہیں جن کی دکانوں سے اکثر تلاوتِ قرآن مجید کی آواز سنائی دیتی ہے۔ دائیں جانب ایک پنیر فروش کی دکان ہے، اس سے آگے مقامی ٹیکس آفس واقع ہے۔ اگر آپ سویڈن میں طویل قیام کے لیے آئے ہیں تو آپ کا پہلا رابطہ اس جیسے دفتر سے ہوتا ہے جسے اسکیٹ ورکس پکارا جاتا ہے۔

مجھے یہ خیال بھی بہت اچھا لگا کہ ایک بھرپور مارکیٹ کے اندر ہی ٹیکس آفس بنا ہوا ہے یعنی آپ بازار کی طرف نکلیں اور بیگم کو سپر مارکیٹ بھیج کر ٹیکس افسران سے مل آئیں۔ چند قدم آگے ایک کتب خانہ اور کلچر سینٹر ہے۔

اسیکنڈے نیویا میں اکثر اسلامی کلچر سینٹرز سے مراد مسجد ہی لی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک افغان باڑہ مارکیٹ طرز کی دکان ہے جہاں قالین سے لے کر گھر کے آرائشی سامان تک چائنا مال بھرا ہوا ہے۔

مالمو کا ایک منظر
مالمو کا ایک منظر

مالمو میں مٹرگشتی
مالمو میں مٹرگشتی

اس کے ساتھ ہی ایک عرب دہکتے کوئلوں پر تکہ بوٹی اور کباب دہکا رہا ہوتا ہے۔ یہاں پر صبح سے قہوہ پینے والوں کا رش لگا رہتا ہے۔ تھوڑا آگے مارکیٹ کے کونے تک جتنی دکانیں ہیں ان میں سے بیشتر پر مختلف ملکوں کی مختلف اشیا بیچی جاتی ہیں۔ یہیں پر ایک 'دیسی' اتفاق ہوا۔ دراصل ہوا یوں کہ جب ایک شوارمہ کارنر کے کاؤنٹر پر کھڑی محترمہ سے پوچھا کہ آپ انگریزی سمجھ لیتی ہیں؟ تو کہنے لگیں، اردو بھی سمجھ لیتی ہوں۔

چلیے روزن گارڈن سے تو اب روز کا واسطہ رہے گا سو آپ کو شہر کے مرکز کی طرف لیے چلتے ہیں۔ شہر کے اس وسطی علاقے میں ایک بہت بڑا پارک واقع ہے جسے بادشاہ کا باغ بھی پکارا جاتا ہے۔ پارک کے جس کونے میں ہم نے گاڑی پارک کی تھی وہاں کتب خانے کی ایک بڑی ہی خوبصورت عمارت دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ چونکہ ابھی خزاں نظاروں میں خوبصورت رنگ بھرنے لگی ہے اس لیے پارک تو پارک باہر سڑک کنارے لگے درختوں کے بھی رنگ ڈھنگ دیدنی ہیں۔

بادشاہ کے باغ میں واقع کتب خانہ
بادشاہ کے باغ میں واقع کتب خانہ

مالمو کا ایک نظارہ
مالمو کا ایک نظارہ

خزاں کے رنگ لیے ایک سڑک
خزاں کے رنگ لیے ایک سڑک

پارک میں دیوقامت درخت آپ کا استقبال کرتے ہیں۔ پارک کے اندر سائیکل اور پیدل چلنے والوں کے راستے بنے ہوئے ہیں، چند قدم دُور ایک چھوٹی سی جھیل آجاتی ہے، جس کے اطراف موجود بنچوں پر کچھ جوڑے براجمان نظر آئے جو موسمِ گرما کی آخری دھوپوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

اسی باغ کی حدود میں مالمو کا تاریخی قلعہ واقع ہے مگر ہم باغ کی سیر کو ادھورا چھوڑ کر ہی چلے آئے کیونکہ پارکنگ کے لیے ڈالا ہوا وقت پورا ہوچکا تھا. ہر بڑے شہر کی طرح مالمو میں بھی مفت پارکنگ ملنا تقریباً ناممکن ہے۔

یہاں سے ہم نے سینٹرل اسٹیشن کا رخ کیا۔ اب چونکہ اس اسٹیشن سے درجنوں مرتبہ گزر ہوا ہے لہٰذا اس کو دُور سے دیکھنے پر ہی اکتفا کیا۔ یہاں نہر کنارے سے نئے مالمو کی عمارتیں مالمو کو ایک جدید اور بڑا شہر بتاتی ہیں۔ سینٹرل اسٹیشن کے سامنے ہی ایک وسیع چوراہے کی حدود میں مالمو کا ٹاؤن ہال موجود ہے۔ 15ویں صدی میں بننے والے اس ٹاؤن ہال کی خوبصورتی کسی بھی طرح سے دیگر بڑے یورپی شہروں کے ٹاؤن ہالز سے کم نہیں ملے گی۔

ٹاؤن ہال کی عمارت
ٹاؤن ہال کی عمارت

سینٹرل اسٹیشن کے سامنے واقع ایک عمارت
سینٹرل اسٹیشن کے سامنے واقع ایک عمارت

اس چوراہے کے مرکز میں گھوڑے پر بیٹھے اس بادشاہ کا مجسمہ ایستادہ ہے جس نے سکوون نامی یہ علاقہ ڈنمارک سے جیتا تھا۔ اس چوراہے کے پاس بھی مجھے پارکنگ کی کوئی جگہ نہیں ملی۔ صورتحال یہ تھی کہ ایک دو گاڑیاں پہلے ہی اس انتظار میں تھیں کہ کوئی جائے تو ہماری گنجائش پیدا ہو۔ چنانچہ واکنگ اسٹریٹ اور لل تھرگ کی طرف جانے کا موقع ہی نہیں ملا۔

سینٹرل اسٹیشن کے سامنے واقع چوراہا
سینٹرل اسٹیشن کے سامنے واقع چوراہا

چوراہے کے مرکز میں گھوڑے پر بیٹھے بادشاہ کا مجسمہ
چوراہے کے مرکز میں گھوڑے پر بیٹھے بادشاہ کا مجسمہ

اس چوراہے کے عقب میں ایک عظیم الشان چرچ کے مینار دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے ان گلیوں کی جانب گاڑی موڑ دی، مگر یہاں بھی گاڑی پارک کرنے کی کوئی جگہ نہیں ملی سو یہاں ایک جگہ گاڑی روک کر ایک، دو تصاویر لیں اور مالمو یونیورسٹی کی طرف بڑھ گیا۔

یونیورسٹی کی حدود میں آکر بے سمت اس علاقے کی سڑکوں پر کچھ دیر چلتا رہا، پھر سوچا کہ مالمو کی سب سے بلند و بالا عمارت کی طرف نکلا جائے۔ وہاں پہنچ کر ہم نے ایک آدھ تصویر لی اور اسی مقام پر تہیہ کیا کہ شام کے پہروں میں ایمپوریا مال کو میزبانی کا موقع دیں گے۔

خریداری کے اس مرکز کی شاندار عمارت کو ہم نے ایک بار دن کے وقت دیکھا تھا۔ شہر میں مٹرگشتیوں کے بعد کچھ گھنٹے گھر پر آرام کرنے چلے آئے۔ جب ہمت بحال ہوئی تو ایمپوریا مال کی طرف رواں دواں ہوگئے۔ مال میں دکانوں پر نگاہ ڈالتے ڈالتے اچانک ایک ترک کھانوں کے مرکز پر نظر گئی۔ پیٹ کا بھنڈار خالی تھا سو پیٹ پوچا کی اور تھک ہار کر گھر لوٹ آئے۔

مالمو کی بلند وبالا عمارت
مالمو کی بلند وبالا عمارت

چرچ کی عمارت
چرچ کی عمارت

ایمپوریا مال
ایمپوریا مال

مگر رکیے، مالمو کا سفرنامہ ایک شاہکار کا تذکرہ کیے بغیر ادھورا ہے۔ یہ شاہکار دراصل اورسنڈ نامی پُل ہے جو کوپن ہیگن، ڈنمارک، سویڈن اور مالمو کو آپس میں جوڑتا ہے۔ گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے اس پُل سے ملاقات ہوتی ہے کیونکہ کام کے سلسلے میں کوپن ہیگن سے ناطہ اب بھی قائم ہے۔ سویڈن کی سرحد سے پیبرہولم نامی مصنوعی ڈینش جزیزے تک پھیلا یہ پُل 8 کلومیٹر طویل ہے۔ اس جزیرے کے بعد 4 کلومیٹر لمبی زیرِ زمین سرنگ کا آغاز ہوجاتا ہے جو کوپن ہیگن میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔

اورسنڈ پُل
اورسنڈ پُل

یہ پُل دونوں ممالک کی ریل اور سڑک کے ٹریفک کے راستوں کا سنگم ہے۔ کھلے سمندر کے درمیان بڑے بڑے ستون، ان پر رواں دواں بھاری بھرکم ٹرک اور ایک تہہ نیچے چلتی ہوئی ریل گاڑی، انسانی عقل کا ایک عظیم عجوبہ ہے۔

اس پُل سے گزرنا اپنے آپ میں ہی ایک دلچسپ تجربہ ہے۔ مجھے شروع شروع میں لگتا تھا کہ جیسے میں کسی ایڈونچر ویڈیو گیم کا حصہ ہوں یا پھر کسی ایکشن فلم کا کردار بن گیا ہوں۔ آپ بھی مالمو کی سیر کے لیے آئیں تو اس پُل سے گزرنے کا تجربہ ضرور کیجیے گا۔


رمضان رفیق دنیا سیاحت کے خواہشمند ہیں اور اسی آرزو کی تکمیل کے لیے آج کل مالمو، سویڈن میں رہائش پذیر ہیں۔

انہیں فیس بُک پر فالو کریں: ramzanblog.انہیں یوٹیوب پر سبسکرائب کریں Aazadtv.