تائیوان بحران: مغربی طاقتوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا

06 دسمبر 2021
لکھاری ممبئی میں مقیم وکیل اور مصنف ہیں.
لکھاری ممبئی میں مقیم وکیل اور مصنف ہیں.

مغربی طاقتیں سفارت کاری کے میدان میں اپنے صدیوں کے تجربے کے باوجود بین الاقوامی معاملات میں پیدا ہونے والے بحرانوں سے نمٹنے کا فن نہیں سیکھ پائی ہیں۔

گزشتہ 75 برسوں کے دوران محاذوں میں اضافہ ہوا ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں خطرات کی شدت بڑھی ہے۔ بحران کو جنم دینا تو مشکل نہیں لیکن اس کے نتائج کا اندازہ لگانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے چین کے ساتھ جاری شطرنج کے کھیل میں تائیوان معاملے کا مہرہ آگے کرکے بہت ہی غلط چال چلی ہے۔ عالمی برادری کی اکثریت تائیوان کو عوامی جمہوریہ چین کا اٹوٹ حصہ تصور کرتی ہے۔ چین اور جاپان کے درمیان 1895ء میں لڑی جانے والی جنگ کے خاتمے کا سبب بننے والے Shimonoseki معاہدے کے تحت تائیوان اور پیسکاڈورز پر قبضے اور مکمل خودمختاری کا حق ہمیشہ کے لیے جاپان کو دے دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے تک تائیوان چینی سرزمین کا حصہ رہا تھا۔ معاہدے کے بعد اگلے 50 سالوں کے لیے تائیوان اور اس کے ملحقہ جزیروں کا انتظام جاپان کے پاس رہا۔

دوسری جنگِ عظیم کے دوران روزویلٹ، چرچل اور چیانگ کائی شیک کی 1943ء میں قائرہ میں ملاقات ہوئی اور انہوں نے اعلان کیا کہ 'ان کا مقصد یہ ہے کہ منچوریہ، فارموسہ (تائیوان) اور پیسکاڈورز سمیت وہ تمام علاقے جو جاپان نے چینیوں سے چرائے تھے انہیں دوبارہ جمہوریہ چین کے حوالے کردیا جائے‘۔

پوٹسڈیم معاہدے کے ذریعے قائرہ اعلان کی شرائط کی تصدیق کی گئی۔ ہتھیار ڈالنے سے متعلق جاپانی دستاویز 'پوٹسڈیم معاہدے' کی شرائط پر عمل کا اظہار کیا گیا۔ جاپانی افواج نے جمہوریہ چین کے آگے ہتھیار ڈالے اور یوں اس جزیرے کا انتظام ایک بار پھر چین کے پاس آگیا۔

پڑھیے: چین- امریکا تعلقات کا مستقبل کیا ہے؟

1945ء سے 1950ء تک امریکا تائیوان کو چین کا حصہ تصور کرتا رہا۔ جنوری 1950ء میں صدر ٹرومین نے بیان دیا تھا کہ 'معاہدوں (قائرہ اور پوٹسڈیم) کے مطابق فرموسہ (جمہوریہ چین کے) صدر اعظم فوج چیانگ کائی‌ شیک کے حوالے کردیا گیا اور گزشتہ 4 برسوں کے دوران امریکا سمیت دیگر اتحادی طاقتیں جزیرے پر چینی انتظامی اختیار کو تسلیم کرچکی ہیں'۔

انہی دنوں امریکی وزیرِ خارجہ ڈین اکیسن نے کہا تھا کہ '4 برسوں سے فرموسہ کا انتظام چینیوں کے پاس ہے۔ نہ تو امریکا اور نہ ہی کسی اتحادی نے اس انتظامی اختیار اور اس قبضے پر کبھی کوئی سوال اٹھایا ہے۔ جب فرموسہ کو چین کا صوبہ بنایا گیا تب کسی نے اس حوالے سے قانونی اعتراض نہیں اٹھایا تھا‘۔ 1949ء میں عوامی جمہوریہ چین کا قیام عمل میں آیا۔

لیکن کورین جنگ چھڑ جانے کے بعد صورتحال میں زبردست تبدیلی پیدا ہوگئی۔ صدر ٹرومین نے جون 1950ء میں سیونتھ فلیٹ کو آبنائے تائیوان میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'فرموسہ کی آئندہ حیثیت کا فیصلہ بحرالکاہل میں قیامِ امن، جاپان کے ساتھ امن سمجھوتے یا اقوامِ متحدہ کی رائے تک مؤخر کرنا ہوگا‘۔

ہتھیار ڈالنے سے متعلق دستاویز کے ذریعے جاپان نے ان تمام علاقوں پر اپنے تمام تر دعوے واپس لے لیے لیکن ان کے انتظامات چین کے حوالے نہیں کیے گئے۔ یہ مؤقف آبنائے تائیوان میں سیونتھ فلیٹ کو بھیجنے کے لیے قانونی گنجائش پیدا کرنے کے لیے اپنایا گیا تھا (کیونکہ اگر تائیوان کو چین کا حصہ تسلیم کرلیا جاتا تو آبنائے تائیوان بھی 'چینی سرزمین' کا حصہ بن جاتا)۔

مزید پڑھیے: چین امریکا جنگ اور بنتے بگڑتے بین الاقوامی اتحاد

1952ء میں جاپان نے اتحادیوں کے ساتھ امن معاہدہ کیا اور تائیوان اور پیسکاڈورز کے ساتھ ساتھ اسپراٹلی جزیروں اور پارسل جزیروں پر اپنے تمام انتظامی و ملکیتی دعوؤں سے دستبردار ہوگیا۔ مگر ایک بار پھر تائیوان چین کے حوالے نہیں کیا گیا۔

چوتھائی صدی تک امریکا تائیوان میں قائم حکومت کو جمہوریہ چین کے نظام کے ماتحت قرار دیتا رہا۔ 1972ء میں امریکی مؤقف تبدیل ہوگیا تھا۔ شنگھائی اعلامیے میں امریکا نے واضح کیا کہ: 'امریکا یہ اقرار کرتا ہے کہ آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف بسنے والے تمام چینی خود کو 'ایک چین' کا حصہ بتاتے ہیں اور یہ کہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔ امریکی حکومت اس مؤقف کو چیلنج نہیں کرتا'۔

1972ء میں صدر نکسن کے دورہ چین کے موقع پر جاری ہونے والے معروف شنگھائی اعلامیے کو جس قدر محتاط انداز میں طویل مذاکرات کے بعد تیار کیا گیا تھا اس کی تاریخ میں مثالیں بہت ہی کم ملتی ہیں۔ اعلامیے کی تحریر پر ہنری کسنجر اور ژو ان لئی کے مابین پہلے ہی سمجھوتہ طے پاچکا تھا۔ یہ اعلامیہ اس اصول پر مبنی تھا کہ چین ایک وجود کا نام ہے لہٰذا تائیوان چین کا حصہ ہے۔

پڑھیے: پاکستان کو چین اور امریکا دونوں کی ضرورت بننا ہوگا

تائیوان کو اقوامِ متحدہ سے نکال دیا گیا اور سیکیورٹی کونسل میں چین کی نشست پر عوامی جمہوریہ چین بیٹھ گیا۔ دسمبر 1971ء میں عوامی جمہوریہ چین نے اپنے اتحادی پاکستان کا ساتھ دیا۔ جاپان کو شنگھائی اعلامیے سے جھٹکا لگا۔ یہ ان سب کے لیے ایک بڑا سبق ہے جو آج امریکا یا کسی بھی بڑی قوت کی خوشامد کرتے ہیں۔ افغانستان کے صدر نجیب اللہ کو بھی سوویت رہنما Mikhail Gorbachev نے انتہائی بُری زبان استعمال کرتے ہوئے باہر کا دروازہ دکھایا تھا۔

بائیڈن آخر کب تک چین کے خلاف تائیوان کارڈ استعمال کرتے رہیں گے؟ دوسری طرف چین تائیوان پر بزور بازو قبضہ کرنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ تاہم اس نے تائیوان کے خلاف طاقت کے استعمال سے باز رہنے سے متعلق تمام تجاویز رد کردی ہیں، ظاہر ہے کہ یہ بین الاقوامی نہیں بلکہ ایک داخلی معاملہ ہے۔ مگر اس نے تائیوان کو رضاکارانہ طور پر چین میں دوبارہ شمولیت کی ترغیب دی ہے اور نہ کوئی سبز باغ دکھایا ہے۔ ہانگ کانگ کا تجربہ ناخوشگوار رہا ہے۔

صدر شی جن پنگ بائیڈن کے بیانات اور لب و لہجے سے خائف نہیں ہوں گے۔ مگر غیریقینی کی صورتحال برقرار ہے۔ چین کی فوجی طاقت امریکا تک پہنچ سکتی ہے۔ خود امریکا کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ 'ون چائنہ' فارمولے پر قائم رہے اور تائیوان کو خودمختاری اور اس کے جمہوری نظام کی ضمانتوں کے ساتھ چین میں شمولیت کی تجویز پیش کرے۔


یہ مضمون 4 دسمبر 2021ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

اپنی رائے دیجئے

0
تبصرے
1000 حروف