Dawn News Television Logo

جے 10 سی طیارہ پاکستان کے لیے کتنا اہم ہے اور کیوں؟

پاکستان نے چین سے نہ صرف جے10 سی طیارے خریدے ہیں بلکہ جے ایف 17 تھنڈر کی طرح اس طیارے پر بھی پاکستان اور چین ملک مل کر کام کریں گے
اپ ڈیٹ 14 مارچ 2022 05:09pm

دنیا میں سیاسی صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ صرف 2 سال کے عرصے میں سابق سوویت یونین سے الگ ہونے والی ریاستوں میں 2 بڑی جنگیں دیکھی جاچکی ہیں۔

آرمینیا اور آذربائیجان کی جنگ میں جس طرح سے ٹیکنالوجی، ڈرون اور فضائیہ کا استعمال ہوا وہ اس سے قبل نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح روس کی جانب سے یوکرین پر حملے نے یورپی اور ایشیائی خطے کی صورتحال کو چیلنجنگ بنا دیا ہے۔ ان دونوں جنگوں اور 27 فروری 2019ء کو ہونے والے پاک بھارت معرکے نے فضائی جنگ کی اہمیت کو ثابت کردیا ہے۔

بھارت میں جہاں آرمی اور ایئر فورس کے سربراہان میڈیا میں ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر بحت کرتے پائے گئے کہ فضائیہ ایک مکمل اٹیک فورس ہے یا آرمی کی ماتحت فورس، وہیں پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی دفاعی صلاحیت کو بڑھاتے ہوئے پاکستان ایئر فورس میں جے 10 سی طیاروں کو کامیابی سے شامل کرنے کا عمل مکمل کرلیا ہے۔

بھارت اور پاکستان میں دفاعی سودوں کی تکمیل کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت نے رافیل طیاروں کی خریداری کا معاہدہ 10 سال قبل کیا تھا کیونکہ بھارتی فضائیہ کے اکثر لڑاکا طیارے یا تو گر کر تباہ ہوگئے ہیں یا پھر اپنی مدت پوری کرچکے ہیں۔ بھارت 10 سال بعد بھی محض 36 طیارے حاصل کرسکا ہے جبکہ پاکستان نے محض 8 ماہ کی مدت میں چین سے جے 10 سی طیاروں کا پہلا اسکواڈرن حاصل کرلیا ہے۔

جے 10 سی طیاروں کی پاک فضائیہ کے بیڑے میں شمولیت کی تقریب نہایت سادہ اور پُروقار انداز میں منعقد کی گئی۔ اس کو کسی طور پر بھی سیاسی تماشہ نہیں بنایا گیا۔ جبکہ دوسری طرف اگر بھارت میں رافیل کی خریداری کو دیکھا جائے تو انہوں نے ان طیاروں کی شمولیت کو مذہبی رنگ دیا اور ایک خاص پوجا کی گئی۔

ان طیاروں کی پاک فضائیہ میں شمولیت کی تقریب پاکستان ایئرفورس بیس منہاس (کامرہ ایئر بیس) پر منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی اور عالمی سطح پر چیلنجز ہیں، جیو اسٹریٹجک ماحول تیزی سے تبدیل ہورہا ہے اور یہ خطے اور پاکستان کو متاثر کررہا ہے۔ تیزی سے تبدیل ہوتی ٹیکنالوجی جنگ کے خدوخال کو مستقل تبدیل کررہی ہے۔ خلائی ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وار فیئر، نینو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے قومی سلامتی کے روایتی رجحانات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ قومی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج بروقت نئے آلات حرب کو اپنے پاس شامل کررہی ہیں۔

کورونا وبا کے باوجود پاکستان ایئر فورس نے یہ طیارے 8 ماہ کی قلیل مدت میں اپنے بیڑے میں شامل کرلیے ہیں۔ یہ تقریب پاکستان اور چین کی عظیم الشان دوستی کا مظہر ہے۔ پاکستان ایئر فورس نے 4 دہائیوں کے بعد ایک جدید ترین طیارے کو اپنے بیڑے میں شامل کیا ہے۔ 1982ء میں ایف 16 طیارے پاک فضائیہ کے بیڑے کا حصہ بنے تھے۔

جے 10 سی کی حربی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے ایئر چیف مارشل کا کہنا تھا کہ ان طیاروں میں مکمل انٹیگریٹڈ ویپن سسٹم، ایویانکس اور الیکٹرانک وار فیئر سوٹ موجود ہے جس کی وجہ سے یہ طیارہ نظر نہ آنے والے دشمن کو بھی مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طیارے کو دنیا کے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کیا گیا ہے۔ یہ فضا سے فضا اور فضا سے زمین پر اپنے اہداف کو فاصلے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طیارے سے پاکستان ایئر فورس کو حملہ کرنے میں پہل اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیت حاصل ہوگئی ہے۔

ایئرو اسپیس شعبے میں پاک-چین تعاون

دنیا بھر میں چند ہی ملک ہیں جہاں طیارہ سازی سے متعلق صنعت موجود ہے۔ اس وقت اس شعبے میں امریکا اور مغربی ممالک سب سے آگے ہیں مگر اب ایشائی ممالک بھی اس شعبے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ طیارہ سازی کی صنعت رکھنے والے ایشائی ملکوں میں چین سرِفہرست ہے۔ پاکستان اور چین دفاعی صنعت خصوصاً ایئرو اسپیس ٹیکنالوجی میں باہمی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس تعاون کا شاہکار جے ایف 17 تھنڈر ہے۔ اس تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پاکستان نے کامرہ میں ایوی ایشن سٹی کو قائم کیا ہے۔

ماضی میں پاک-چین تعاون کو دیکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ پاکستان نے چین سے نہ صرف جے 10 سی طیارے خریدے ہیں بلکہ جے ایف 17 تھنڈر کی طرح اس طیارے پر بھی دونوں ملک مل کر کام کریں گے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر نے ایئرو اسپیس ٹیکنالوجی کے فروغ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا بھر میں ایئرو اسپیس انڈسٹری ایک اسٹریٹجک صنعت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں ٹیکنالوجی، مالیاتی، سماجی اور قومی سلامتی کے فوائد حاصل ہوتے ہیں اور آئندہ 10 سالوں میں یہ صنعت 10 ہزار ارب ڈالر کی صنعت بن جائے گی۔ ایئرو اسپیس انڈسٹری کے ساتھ سائبر اور آئی ٹی انڈسٹری بھی فروغ پارہی ہے۔ اسی لیے پاک فضائیہ نے نیشنل ایئرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک قائم کیا ہے‘۔

پاکستان نے جے 10 طیارے کا انتخاب کیوں کیا؟

جے 10 سی طیاروں کو چین کے شہر چینگڈو (Chengdu) میں قائم ایوی ایشن حب میں تیار کیا گیا ہے۔ اس کمپنی کو چینگڈو ایئر کرافٹ انڈسٹری گروپ یا چینگڈو ایئرو اسپیس کارپوریشن کے طور پر جانا جاتا ہے۔

1958ء میں قائم ہونے والے اس ادارے میں لڑاکا اور دیگر طیاروں کے پرزہ جات بنائے جاتے ہیں۔ اس کمپنی میں 2 ہزار سے زائد ایوی ایشن ماہرین کام کرتے ہیں جو لڑاکا طیاروں کے ڈیزائن سے لے کر اس کو اڑانے تک کے تمام مراحل پر مہارت رکھتے ہیں۔ جے 10 کے علاوہ چینگڈو جے 5، جے 7، جے 9، جے ایف 17 اور جے 20 لڑاکا طیارے بنانے کے علاوہ بزنس جیٹ سی بی جے 800، بغیر پائلٹ کے طیارے اور مختلف طیاروں کے انجن اور پرزہ جات بناتا ہے۔

جے 10 سی چین میں تیار ہونے والا پہلا لڑاکا طیارہ ہے جس کو مغربی لڑاکا طیاروں کا ہم پلہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس طیارے کو چین میں Meng Long اور Vigorous Dragon کے ناموں سے جانا جاتا ہے۔ جبکہ مغرب خصوصاً نیٹو ممالک نے اس کو Firebird کا نام دیا ہے۔

جے 10 کا منصوبہ چین نے 1988ء میں شروع کیا اور 1998ء میں جے 10 کا پہلا پروٹو ٹائپ طیارہ تیار کیا۔ اس پورے منصوبے کو انتہائی خفیہ رکھا گیا۔ اس طیارے کے کئی ٹیسٹ کرنے کے بعد 2004ء میں چین کی فضائیہ کا حصہ بنایا گیا اور سال 2006ء میں اس طیارے کی عوامی سطح پر نمائش کی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) ایئر فورس اور نیوی کے پاس ایسے 240 طیارے آپریشنل ہیں جبکہ مزید 300 طیاروں کی طلب ہے۔

چین کے بعد پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس نے جے 10 سی طیاروں کو اپنے لڑاکا فضائی بیڑے کا حصہ بنایا ہے۔ ایران، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ بھی یہ طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ طیارہ یورو اسٹار اور ایف 16 طیارے کے مساوی صلاحیتوں کا حامل 4.5 جنریشن ایئر کرافٹ ہے۔ اس طیارے میں بی وی آر (انسانی آنکھ کے دیکھنے کی صلاحیت سے باہر) ہدف کو نشانہ بنانے والے فضا سے فضا اور فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل فائر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ فضا سے فضا میں 200 کلو میٹر تک مار کرنے والے پی ایل 15 میزائل اور قریب مار کرنے والے پی ایل 8 میزائل، اس کے علاوہ زمین پر مار کرنے کے لیے جے 10 سی 500 کلو گرام سے زائد وزن کے لیزر گائیڈڈ بم، فری فال بم اور 90 ایم ایم راکٹ سے لیس ہے۔ طیارے میں ایک نالی کی 23 ملی میٹر کی مشین گن بھی نصب ہے۔

جے 10 سی فضا میں ایندھن بھرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ جے 10 سی میں جدید ریڈار نصب ہیں جو بیک وقت 10 اہداف کی نشاندہی کرنے اور 4 کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان جے 10 سی کا پہلا خریدار بن گیا ہے۔ اس بات کا سب سے پہلے اظہار چینی سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر اس وقت کیا گیا جب جے 10 سی طیاروں کی تصاویر کو جاری کیا گیا۔ ان طیاروں کی دُم پر پاکستانی پرچم کو دیکھا جاسکتا تھا۔

جے 10 سی کو 4.5 جنریشن جیٹ فائٹر کا درجہ حاصل ہے۔ اس میں ایسا ریڈار نصب ہے جو گولڈ معیار کا ریڈار قرار دیا جاتا ہے۔ یہ موجودہ جنگی حالات میں دشمن کی واضح نشاندہی کے ساتھ ساتھ جمیرز کے خلاف زیادہ مزاحمت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جے 10 سی میں ایسا مواد استعمال ہوا ہے جو ریڈار پر مشکل سے نظر آتا ہے اور جے 10 سی کو ڈھونڈنے اور نشانہ بنانے کے امکانات کو تقریباً ختم کردیتا ہے۔

رافیل اور جے 10 سی کا موزانہ

پاک فضائیہ میں چینی ساختہ جے 10 سی طیاروں کی شمولیت سے خطے اور دنیا بھر میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ پاک فضائیہ کے حاصل کردہ جے 10 سی طیارے اور بھارت کے فرانس سے خریدے گئے رافیل طیاروں میں کیا فرق ہے؟ سب سے پہلے قیمت کا جائزہ لے لیا جائے تو دونوں طیاروں کا موازنہ آسانی سے ہوسکے گا۔

پاکستان میں مسلح افواج نے زیادہ سے زیادہ بہتر، سستے اور مقامی سطح پر تیار ہونے والے ملٹری ہارڈ ویئر کو اپنے دفاعی نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کی توجہ فینسی نوعیت کے ملٹری ہارڈ ویئر کے بجائے کم قیمت مگر بہتر صلاحیت کے آلات کو حاصل کرنے کی جانب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے رافیل طیارے کی قیمت 13 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جبکہ پاکستانی جے 10 سی کی قیمت محض 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔ یعنی بھارت نے جس قیمت میں ایک رافیل طیارہ خریدا ہے اس قیمت میں پاکستان 4 جے 10 سی طیارہ خرید سکتا ہے۔

رافیل کے مقابلے میں جے 10 سی چھوٹا اور ہلکا ملٹی رول طیارہ ہے جو ہر قسم کے موسمی حالات میں کام کرسکتا ہے۔ جے 10 سی اپنے ایک انجن کے ساتھ 2 ہزار 305 کلو میٹر جبکہ رافیل 2 انجنوں کے ساتھ ایک ہزار 912 کلو میٹر پرواز کرسکتا ہے۔ جے 10 سی طیارہ رافیل کے بعد ڈیزائن ہوا ہے اس لیے اس ڈیزائن کو بہتر بناتے ہوئے طیارے کو مستحکم رکھنے کے لیے خصوصی نظام نصب کیا گیا ہے۔ اس کا ڈبلیو ایس 10 انجن 125 سے 145 کلو ناٹ کا تھرسٹ دیتا ہے جبکہ رافیل کا ایک انجن 75 کلو ناٹ تھرسٹ دیتا ہے مگر وزن اور پھیلاؤ میں کم ہونے کی وجہ سے جے 10 سی 56 ہزار فٹ تک پرواز کرسکتا ہے جبکہ رافیل کی زیادہ سے زیادہ بلندی 51 ہزار فٹ ہے۔

جے 10 سی کا تھرسٹ اور وزن کا تناسب رافیل سے کم ہے اس وجہ سے یہ زیادہ بہتر اور تیزی کے ساتھ حرکت کرسکتا ہے۔ جے 10 سی کی رفتار 2.2 ناٹ جبکہ رافیل کی رفتار 1.8 ناٹ ہے۔ رافیل طیارے مہنگے اور بڑے ہونے کے باوجود رفتار میں کم ہیں اس وجہ سے ڈاگ فائٹ یعنی دوبدو لڑائی میں جے 10 سی بہتر صلاحیت کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔

دفاعی شعبے کی خود انحصاری میں چین قابلِ بھروسہ ساتھی

اب یہ سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ آخر چینی ٹیکنالوجی ہی کیوں؟ اس کا جواب ماضی میں امریکا اور مغرب کے پاکستان کے ساتھ روا رکھے گئے رویے میں دیکھنا ہوگا۔

امریکا نے 90 کی دہائی میں پاکستان پر دفاعی پابندیاں عائد کیں اور وہ ایف 16 طیارے جن کی قیمت پاکستان ادا کرچکا تھا انہیں فراہم کرنے سے انکار کردیا جبکہ پاکستان کے پاس موجود طیاروں کے فاضل پرزہ جات کی فراہمی بھی روک دی جس سے پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ملک میں ایک سوچ پروان چڑھی کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو قومی سلامتی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔

اس پالیسی پر عمل کے لیے پاکستان کو ایک قابلِ بھروسہ ساتھی کی ضرورت تھی اور چین سے بہتر ساتھی کون ہوسکتا تھا اور ہے۔ پاکستان نے چین کے اشتراک سے اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کا جو فیصلہ کیا تھا اس نے آج نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا ہوا ہے بلکہ قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کی بچت بھی ہورہی ہے۔ پاکستان چین سے بَری، بحری اور فضائی فوج کے لیے عسکری سازو سامان حاصل کررہا ہے اور اس کے ساتھ چین ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی کررہا ہے۔

پاکستان نے دوست ملک کے تعاون سے نہ صرف مقامی دفاعی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت حاصل کی ہے بلکہ پاکستان اسلحے کی عالمی منڈی میں اپنا تیار کردہ سامان حرب فروخت کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ پاکستان عسکری سازو سامان کی برآمدات کو ایک ارب ڈالر کے ہدف تک لے جانا چاہتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان اپنے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر آلات کے علاوہ تربیتی مشاق طیاروں اور پاک-چین دوستی کی پہچان بنے والے جے ایف 17 تھنڈر طیارے فروخت کررہا ہے جسے اب تک میانمار اور نائیجریا نے حاصل کیا ہے۔

پاک فضائیہ کے نمبر 15 اسکواڈرن کی تاریخ

جے 10 سی طیاروں کو پاک فضائیہ کے 15ویں اسکواڈرن کا حصہ بنایا گیا ہے۔ پاک-بھارت فضائی معرکے میں اس اسکواڈرن کی بہت اہمیت ہے۔ موجودہ چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر نے پاک فضائیہ کے ساتھ پیشہ ورانہ سفر کا آغاز اسی اسکواڈرن سے کیا تھا۔

پاک فضائیہ کے 15ویں اسکواڈرن کا قیام 2 فروری 1958ء کو عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کا پہلا پڑاؤ پی اے ایف بیس مسرور تھا جہاں سے اس اسکواڈرن میں مختلف طیارے شامل ہوتے رہے اور اس کو مختلف ایئر بیسز پر منتقل کیا جاتا رہا۔ اس وقت یہ اسکواڈرن سرگودھا میں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

15 نمبر اسکواڈرن کو پاک-بھارت فضائی معرکوں میں پہلا بھارتی طیارہ مار گرانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ 10 اپریل 1959ء کو فلائٹ لیفٹیننٹ محمد یونس نے راولپنڈی میں اپنے سیبر ایف 86 طیارے سے بھارتی ایئر فورس کا کینبیرا طیارہ مار گرایا تھا۔

اسی طرح 1965ء میں اس اسکواڈرن کے لیفٹننٹ امتیاز بھٹی نے 2 بھارتی ویمپائر طیاروں کو دریائے چناب پر مار گرایا تھا۔ اس کے علاوہ 27 فروری 2019ء کو آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں بھی اسی اسکواڈرن نے حصہ لیا تھا۔ جس میں دشمن کے 2 طیاروں کو تباہ کردیا گیا تھا۔ بھارت آج تک اس ہزیمت کا بدلہ لینے کے لیے بے چین ہے۔

ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ چین نے جے 10 سی طیاروں کی تمام تر خوبیوں کو شائع نہیں کیا ہے کیونکہ چین اپنی حربی صلاحیت کو خفیہ رکھنا چاہتا ہے۔ مگر ان طیاروں کا اصل امتحان تو اس وقت ہوگا جب یہ طیارے دوبدو لڑائی کے لیے آمنے سامنے ہوں گے یا پھر جب تک انہیں کسی مشن میں آزمایا نہیں جاتا ہے۔

جنگ میں معیاری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ اس کو استعمال کرنے والے افراد کے جذبہ حریت اور پیشہ ورانہ صلاحیت بھی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ جدید جنگ میں کسی بھی فارمیشن میں ایک طرح کے طیارے نہیں ہوتے بلکہ ان طیاروں کے ساتھ الیکٹرانک وار فیئر کے طیارے بھی شامل ہوتے ہیں۔ اپنے ان اثاثوں کے بہتر استعمال اور پیشہ ور افرادی قوت جنگ میں برتری کے لیے اہم ہے۔ جیسا کہ 27 فروری 2019ء کو آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں دنیا نے دیکھا کہ کیسے پاکستان میں تیار ہونے والے جے ایف 17 طیارے نے اپنے سے کہیں زیادہ جدید اور بہتر اسلحہ رکھنے والے طیارے کو مار گرایا تھا۔


راجہ کامران شعبہ صحافت سے 2000ء سے وابستہ ہیں۔ اس وقت نیو ٹی وی میں بطور سینئر رپورٹر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ آپ پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں کام کا تجربہ رکھتے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔