پی آئی اے نجکاری کے بعد بھی کب تک خسارے میں رہے گی؟

شائع January 6, 2026

ہم اُمید کرتے ہیں کہ برسوں بعد کی جانے والی ہماری پہلی بڑی نجکاری پی آئی اے کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگی۔ تاہم اس عمل میں سنگین خامیاں رہیں، جن سے آئندہ بچنا ضروری ہے۔ پی آئی اے کے ماضی کے بھاری نقصانات نے ایئرلائن کی اصلاح کو ناگزیر بنا دیا تھا، لیکن اس کے باوجود 2024 میں اس نے 26 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا (جبکہ 2023 میں اسے 100 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا) جو بنیادی طور پر اس کے کھاتوں سے قرضوں کے بڑے حصے کے خاتمے اور ایک مرتبہ دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا نتیجہ تھا۔ اس لیے ہمارے پاس ایک مضبوط اور شفاف عمل اپنانے کا وقت موجود تھا۔

یہ واضح نہیں کہ ریاست کی جانب سے 100 ارب روپے کی کم از کم بولی اور 75 فیصد حصص کی 135 ارب روپے میں فروخت واقعی منصفانہ تھی یا نہیں۔ کسی ادارے کی قیمت اس کے خالص اثاثوں سے نہیں بلکہ مستقبل میں متوقع آمدنی کی موجودہ قدر سے متعین ہوتی ہے۔

ایئرلائنز کو بڑے ہوائی اڈوں پر لینڈنگ رائٹس سے بھی اضافی قدر حاصل ہوتی ہے۔ چونکہ ریاست نے یہ واضح نہیں کیا کہ کم از کم قیمت کیسے طے کی گئی، اس لیے شکوک پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ 2024 میں منافع پہلے ہی ظاہر ہوچکا تھا جبکہ اس کی بہترین روٹس پر عائد پابندیاں مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوئی تھیں اور نہ ہی بڑی آپریشنل اصلاحات کی گئی تھیں۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ خریدار اس ممکنہ طور پر کم 135 ارب روپے میں سے صرف 7.5 فیصد رقم پیشگی ادا کرتا ہے اور اس کے بدلے 75 فیصد حصص حاصل کر لیتا ہے جبکہ باقی سرمایہ کاری وقت کے ساتھ پی آئی اے میں کی جائے گی۔

چونکہ یہ رقم دراصل ریاست کی واجب الادا ہے، اس پر سرمایہ کاری تک سود ادا کیا جانا چاہیے اور اس کے بدلے حصص ریاست کے پاس رہنے چاہئیں۔ باقی 25 فیصد حصص خریدنے کے لیے خریدار کو مکمل 45 ارب روپے بغیر کسی رعایت کے ادا کرنا ہوں گے۔ یوں اگر وہ ایسا کرے تو مجموعی طور پر صرف 55 ارب روپے ادا کر کے تقریباً 100 فیصد حصص حاصل کر لے گا، حالانکہ نیلامی میں ادارے کی قدر 180 ارب روپے لگائی گئی تھی۔ منطقی طور پر اسے صرف ایک تہائی حصص دیے جاتے اور باقی ریاست کے پاس رہنے چاہئیں تھے۔

یہ معاملہ بولی سے قبل جاری کردہ سرکاری دستاویزات میں بیان نہیں کیا گیا اور بظاہر فروخت کے بعد سامنے آیا۔ عوامی نقصان اور غیر شفاف عمل کے پیش نظر یہ کہنا کہ پی آئی اے کے بدلے جو کچھ ملا وہ کافی ہے، درحقیقت قابلِ قبول نہیں۔ دنیا میں کسی بھی ایسے معاہدے میں ایسی عجیب شرائط دیکھنے میں نہیں آئیں۔ طنزیہ طور پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید پی آئی اے کو OLX پر بیچنے سے زیادہ رقم مل جاتی!

اگر ایک منافع بخش ہوتی ہوئی پی آئی اے، جسے اپنے بہترین روٹس واپس مل چکے تھے، جس کا بڑا قرض ختم ہوچکا تھا اور جو ملکی فضائی نظام میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے، کو اونے پونے بیچ دیا گیا تو یہ اس کی حیثیت سے زیادہ ہمارے نجی شعبے کی پوری قیمت ادا کرنے سے ہچکچاہٹ اور مسلم لیگ (ن) کی انہیں خوش کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔

1990 کی دہائی میں بھی اس پر سستے داموں فروخت کے الزامات لگے تھے۔ لیکن خریداروں کو بھی ایک قومی اثاثے پر ایسا ناقص معاہدہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ یہی بات فوجی فرٹیلائزر کے معاملے پر بھی صادق آتی ہے، جس کے بارے میں بعض حلقے کہتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر بولی سے الگ ہوئی تاکہ بعد میں اثر و رسوخ کے ذریعے کسی فاتح کے ساتھ شامل ہو سکے۔ مسلم لیگ (ن) کے متنازع مینڈیٹ اور وسیع تر ادارہ جاتی کردار نے اس سودے کو جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے لیے مزید قابلِ بحث بنا دیا ہے۔

خریداروں کے پاس نہ ایئرلائن چلانے کا تجربہ ہے اور نہ عالمی سطح کی مہارت۔ ایئر انڈیا کا خریدار ٹاٹا گروپ تھا، جس نے 1930 کی دہائی میں اس کی بنیاد رکھی تھی اور جو عالمی سطح کا ایک تجربہ کار گروپ ہے۔ کیا پی آئی اے کے خریدار اسے عالمی ادارے کے طور پر چلا سکیں گے؟ انہیں عملے کی چھانٹی، کرایوں، روٹس اور بڑے ٹیکس ریلیف میں غیر معمولی آزادی دی گئی ہے، اس کے باوجود ان کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کئی برس تک خسارے میں رہ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نقصان پی آئی اے کی حالت کی وجہ سے ہوگا، جو اب بہتر ہوچکی ہے، یا خریداروں کی نااہلی کی بنا پر؟

ماضی کی نجکاریوں میں مسائل کی بھرمار رہی۔ کم قیمت فروخت، بعد ازاں خراب کارکردگی، اجارہ داریاں، غیر شفاف سودے، مہنگی پیداوار اور بڑے پیمانے پر عملے کی برطرفیاں۔ کاروباری حلقے کہتے ہیں کہ ریاست کا کاروبار میں کوئی کام نہیں لیکن ریاست کو یہ بتانا بھی کاروباری طبقے کا کام نہیں۔ ریاست کو اُن شعبوں میں کاروبار کرنے کا پورا حق ہے جہاں نجی شعبہ بہتر طور پر کام نہیں کر سکتا، مثلاً اسٹریٹجک یا عوام دوست شعبے۔

ان مسلسل مسائل اور نجی شعبے کی محدود انتظامی و مالی صلاحیت کے پیش نظر دیگر آپشنز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، جیسے خودمختار پیشہ ور بورڈز، صرف انتظامیہ نجی شعبے کے حوالے کرنا، ملازمین کی ملکیت والے ادارے، ادارے کو ختم کرنا یا حصص کی عوامی فروخت۔ ہر بیمار ادارے کے لیے بہترین راستہ واضح معیار اور شفاف عمل کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے۔

نجکاری صرف اُن چھوٹے اداروں کے لیے موزوں ہو سکتی ہے جن کی کوئی قومی یا اسٹریٹجک اہمیت نہ ہو۔

اس سودے کے حامی کہتے ہیں کہ نجکاری سے پی آئی اے درست ہو جائے گی، دیگر سرکاری اداروں کی اصلاح کی راہ ہموار ہوگی اور معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ لیکن ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ایسے خوش نما دعووں کو احتیاط سے پرکھنا ہوگا اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا مستقبل میں دیگر راستے ان مقاصد کو بہتر طور پر حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔

ڈاکٹر نیاز مرتضیٰ

لکھاری ایک سیاسی و معاشی تجزیہ کار اور یو سی بارکلے کے سنیئر فیلو ہیں۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کارٹون

کارٹون : 8 جنوری 2026
کارٹون : 7 جنوری 2026