پٹیل پارک

اپ ڈیٹ 26 اپريل 2013

ای میل

فوٹو -- مصنف --.کراچی میونسپلٹی کے 1941ء اور 1971ء کے نقشوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو دونوں تقریباً ایک سے ہی ہیں۔ 1941ء میں شہر کے مختلف علاقوں کی پہچان کوارٹرز سے ہوتی تھی۔ ان ہی میں سے ایک جمشید کوارٹرز تھا۔جمشید کوارٹرز کے علاقے سولجر بازار کے تقریباً وسط میں ایک پارک ہوتا تھا، یہ پارک جو کبھی پٹیل پارک تھا اب نشتر پارک ہے۔ اس پارک میں 60 اور 70 کی دہائی میں سیاسی جلسے ہوتے تھے لیکن اب یہاں میلاد اور مجالس عزا منعقد ہوتی ہیں۔ہمارے ایک جاننے والے شیعہ صحافی کے چھوٹے بھائی جو ایک ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں گُذشتہ سال نشتر پارک میں محرم الحرام کے موقع پرہونے والی مجلس کے بارے میں ناظرین کو براہ راست صورت حال سے آگاہ کررہے تھے۔ ان کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ وہ جذباتی انداز میں دائیں بائیں دیکھتے ہوے بتا رہے تھے کہ نشتر پارک میں مجلس عزا برآمد ہوئی۔مجھے مجلس برآمد ہونے کی اصطلاح سمجھ میں نہیں آئی۔ اتفاقاََ دوسرے روز ان کے بھائی سے ملاقات ہوئی۔ میں نے انھیں کہا کہ آپ کے بارے میں تو مجھے معلوم ہے کہ شیعہ ہیں کیا آپ کا بھائی بھی شیعہ ہے؟ انھوں نے میری طرف حیرت سے دیکھا اور کہا یقینا۔ میں نے انہیں بتایا کہ گُذشتہ روز اُن کے بھائی نے مجلس منعقد یا برپا کرنے کے بجائے نشتر پارک سے برآمد کروادی۔ ایک لمحے کے لئے ان کے چہرے پر تشویش کے آثار نمایاں ہوئے لیکن اگلے ہی لمحے وہ مطمئن چہرے کے ساتھ بولے بھئی ریٹنگ کا معاملہ ہے۔ جلدی میں ایسا ہوجاتا ہے۔یہ معاملہ صرف نشتر پارک تک محدود نہیں۔ ہمارے ٹی وی چینلز اس طرح کی پھرتیاں دکھاتے رہتے ہیں۔ ایک دن ہم پریس کلب کی بالائی منزل پر بیٹھے تھے، خدا کرے ہم کسی الیکشن میں اُمیدوار نہ ہوں اور ریٹرننگ افسر ہم سے یہ نہ پوچھ بیٹھے کہ پریس کلب کی بالائی منزل پر کیا کررہے تھے۔ تو ہمارا بھی وہی حشر ہوتا جو بیچارے ایاز امیر کا ہوا، 'آسمان سے گراکھجور میں اٹکا'۔ ریٹرننگ افسر سے بچا تو پارٹی کی نذر ہوگیا۔ہم ایک معروف ٹی وی چینل دیکھ رہے تھے۔ چینل پر Ticker چلا وزیر اعظم کے ہاں پوتے کی ولادت، اس کے ساتھ دوسرا Ticker چلا وزیر اعظم نے ملزمان کی گرفتاری کا حکم جاری کردیا۔ ایک اور صحافی دوست اصغر آزاد میرے ساتھ بیٹھے تھے۔ اصغر آزاد کسی بھی ریٹرننگ افسر کے قائم کردہ معیار پر پورے اترتے ہیں۔ میں نے ان کی توجہ Ticker کی جانب مبذول کروائی۔ انہوں نے بھی Ticker پڑھے اور دنگ رہ گئے۔ اچانک اسکرین پر بریکنگ نیوز کا دھماکہ ہوا جس سے پتہ چلا کہ وزیر اعظم نے کہیں کسی سے زیادتی کرنے والے ملزمان کی گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا او ر اسی وقت ان کے یہاں پوتے کی ولادت بھی ہوئی تھی ۔ بس Ticker ذرا سے گڈمڈ ہوگئے تھے ۔ہمارے سیاست دان اب نشتر پارک میں جلسے کرنے سے کتراتے ہیں۔ نشتر پارک میں بہ مشکل ہزاروں افراد کی گنجائش ہے اسے آپ لاکھوں میں بیان نہیں کر سکتے۔ ایک اسلامی جماعت نے سابقہ بندر روڈ حالیہ ایم اے جناح روڈ پر عراق میں امریکی مداخلت کے خلاف ملین مارچ کا اہتمام کیا تھا۔ جماعت کے امیر نے بندر روڈ پر ہونے والے اس اجتماع کو 20 لاکھ کا اجتماع قرار دیا تھا۔ایک بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے اپنی خبر میں اس اجتماع کو 20 ہزار افراد کا احتجاج قرار دیا۔ ہمارے یہ دوست اسی اسلامی جماعت کی طلبہ تنظیم میں بھی رہ چکے تھے۔ انہیں جماعت کے ایک ذمہ دار نے فون پر کہا کہ آپ نے کیا جھوٹ لکھ دیا کہ یہ 20 ہزار افراد تھے۔ انہوں نے جواباً کہا کہ میں تو جھوٹا سہی آپ بھی تو ایمانداری سے بتایئے کیا یہ 20 لاکھ تھے، ذمے دار نے فون بند کردیا۔نشتر پارک معروف مسلم لیگی رہ نما سردار عبدالرب نشتر کے نام سے منسوب ہے۔ اس سے قبل یہ پارک "پٹیل پارک" تھا، اس کی تصدیق نام ور صحافی عبدالحمید چھاپرا نے بھی کی۔ ان کا کہنا تھا اس پارک کا نام کانگریسی رہ نما ولبھ بھائی پٹیل کے نام پر رکھا گیا تھا جو ایک بڑے اور معروف سیاست دان تھے۔زاہد چوہدری اپنی کتاب پاکستان کی سیاسی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ ولبھ بھائی پٹیل متحدہ ہندوستان کے حق میں نہ تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلم اکثیریتی علاقوں پر مشتمل کٹی پھٹی ریاست بن جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ولبھ بھائی پٹیل کے مسلمانوں کے بارے میں خیالات کا ذکر جوش ملیح آبادی اپنی کتاب یادوں کی برات مطبوعہ 1970 کے صفحہ نمبر 287-288 میں یوں کرتے ہیں۔ "آج کل" کی ادارت سنبھالنے کے بعد جب ایک روز پنڈت جی (جواہر لعل نہرو) سے ملنے گیا تو انھوں نے پوچھا کے آپ اپنے محکمے کے وزیر سردار پٹیل سے اب تک ملے کہ نہیں۔ میں نے کہا نہیں، اور نہ ملنے کا ارادہ ہے، پنڈت نے پوچھا کیوں میں نے انگریزی میں جواب دیا کہ because he has got a criminal face (اس لیے کے ان کا چہرہ مجرموں کا سا ہے)۔ یہ سن کر پنڈت جی نے زبردست قہقہہ لگایا۔ پھر مجھ سے کہا، نہیں،نہیں، آپ کو ان سے ضرور مل لینا چاہئے۔ میں ابھی فون پر آپ کی ملاقات طے کئے لیتا ہوں۔ انھوں نے فون کیا ،جواب آیا، ابھی روانہ کردیجئے۔ میں ان کی کوٹھی پر پہنچا، وہ دھوتی باندھے، برآمدے میں کھڑے ہوئے تھے۔ میں نے ہاتھ ملاتے ہی ان سے کہا سردار صاحب مجھے آپ سے ملنے کا ایک خاص وجہ سے بڑا اشتیاق تھا۔ وہ بڑے گھاگ آدمی تھے، "خاص وجہ" سن کر بھانپ گئے اور پوچھا آپ کو مجھ سے ملنے کا کیوں اشتیاق تھا، میں نے کہا اس لیے کہ میں آپ کی بہت برائیاں سن چکا ہوں۔یہ سن کہ وہ مجھے کمرے میں لے گئے، بیٹھتے ہی انہوں نے انگریزی میں کہا، آپ نے یہ سنا ہوگا کہ میں مسلمانوں کا دشمن ہوں۔ آپ جس قدر خوناک برہنہ گفتار آدمی ہیں، اُسی قدر میں بھی ہوں۔ اس لیے آپ سے صاف صاف کہتا ہوں کہ میں آپ کے سے ان تمام مسلمانوں کی بڑی عزت کرتا ہوں جن کے خاندان باہر سے آکر یہاں آباد ہوگئے ہیں۔ لیکن میں ان مسلمانوں کو پسند نہیں کرتا جن کا تعلق ہندو قوم کے شودروں اور نیچی ذاتوں سے تھا۔ مسلمانوں کی حکومت کے اثر میں آکر انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، یہ لوگ دراصل نہایت متعصب، شریر اور فسادی ہیں۔ اقلیت میں ہونے کے باوجود ہندو اکثریت کو دبا کر رکھنا چاہتے ہیں۔کیا انسان تھے ولبھ بھائی پٹیل نفرت میں بھی طبقاتی فرق رکھتے تھے۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان منتقل ہونے والے مسلمانوں کو غالباً سردار پٹیل کے ان خیالات کے بارے میں کوئی آگہی نہیں تھی۔ اس وقت جوش صاحب کی 'یادوں کی بارات' بھی شائع نہیں ہوئی تھی۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کے ان کے مسلمانوں کے بارے میں خیالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔شاید یہی وجہ تھی کہ 11 اکتوبر 1965ء کو ایک مراسلے کے زریعے چیف افسر کراچی میونسپلٹی نے کمشنر کراچی کو لکھا کہ "وہ اعزاز کے ساتھ یہ بیان کرتے ہیں کہ آل پاکستان مسلم لیگ نیشنل گارڈ کراچی نے ایک قرارداد 14/2/1965 کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ پٹیل پارک کا نام تبدیل کرکے سردار عبدالرب نشتر پارک رکھا جائے یہ معاملہ کمشنر کراچی کو ان تحفظات کے ساتھ روانہ کیا گیا ہے کہ مبادا اس نام کی تبدیلی سے ہندوستانی حکومت کے ساتھ کوئی اختلافات پیدا ہوجائیں"۔ فوٹو -- مصنف --.کمال ہے اُس وقت کے ایک سرکاری ملازم کو یہ احساس تھا کہ اس طرح کے کاموں سے دو پڑوسی ممالک کے درمیان بدگمانیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ سو جناب پٹیل پارک، نشتر پارک ہوگیا۔ اب یہاں ایک اور مسئلہ ہے۔ 1941ء اور 1971ء کراچی کے علاقے جمشید کوارٹرز کے نقشے میں یہ پارک تو موجود ہے مگر اس کا نام پٹیل پارک یا ولبھ بھائی پٹیل پارک نہیں ہے۔ اس کا نام وٹھل بھائی پٹیل پارک ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ وٹھل بھائی کون تھے؟وٹھل بھائی ولبھ بھائی کے چھوٹے بھائی تھے۔ وہ بھی ایک بڑے سیاست دان تھے۔ لیکن ان کی گاندھی جی سے نہیں بنتی تھی۔ وہ گاندھی جی پر سخت تنقید کرتے تھے۔ وہ نامور انقلابی رہنما سبھاش چندر بوس سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ انہوں نے اپنی جائیداد فروخت کرکے ایک لاکھ بیس ہزار سبھاش چندر بوس کے حوالے کئے تھے تاکہ وہ اسے ہندوستان کی سیاسی فلاح وبہبود کے لیے استعمال کرسکیں۔22 اکتوبر 1933ء میں ان کا انتقال، نہیں نہیں وفات اوہ، اوہ کہیں میں پھر ریٹرننگ افسر کی گرفت میں نہ آجاؤں۔ بھلا ہو انگریز کا He died ہاں یہ ٹھیک ہے۔ ان کے بڑے بھائی سردار ولبھ بھائی پٹیل اور مہاتما گاندھی نے اس رقم کی وصولی کے لیے بمبئی ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی۔چلیں کچھ بھی ہے۔ سردار تو سردار ہوتا ہوتا ہے۔ مسلمان ہو یا ہندو۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل تو نفرت میں بھی ذات پات کے قائل تھے۔ لیکن ہم نے اُن کے بھائی کے نام سے منسوب پارک کا نام سردار عبدالرب نشتر پارک رکھا۔  اختر حسین بلوچ سینئر صحافی، مصنف اور محقق ہیں. سماجیات ان کا خاص موضوع ہے جس پر ان کی کئی کتابیں شایع ہوچکی ہیں. آجکل ہیومن رائٹس کمیشن، پاکستان کے کونسل ممبر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں