
Get the latest news and updates from DawnNews
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس کو غزہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا جائے گا اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی تو اسے ’ ختم’ کر دیا جائے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز کی میزبانی کے دوران صحافیوں سے کہا کہ ’ہم نے حماس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے کہ وہ بہت اچھا برتاؤ کریں گے، وہ ٹھیک رہیں گے، وہ مہربان رہیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ’ اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ہم جائیں گے اور انہیں ختم کر دیں گے، اگر ضروری ہوا تو، وہ ختم کر دیے جائیں گے، اور انہیں یہ معلوم ہے۔’
امریکی صدر کے یہ تبصرے انہی لمحات میں سامنے آئے جب ان کے دو اعلیٰ نمائندے ہفتے کے اختتام پر ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو سے ملاقات کے لیے گئے ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز غزہ پر ایک بار پھر وحشیانہ بمباری کی تھی جس نے تقریباً دو ہفتے قبل صدر کے توسط سے طے پانے والی نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
ٹرمپ نے تاہم زور دیا کہ امریکی افواج حماس کے خلاف مداخلت نہیں کریں گی، اور کہا کہ درجنوں ممالک جنہوں نے غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت پر اتفاق کیا ہے، ’ وہ داخل ہونا پسند کریں گے۔’
انہوں نے مزید کہا کہ’ اس کے علاوہ، اگر میں کہوں تو اسرائیل دو منٹ میں اندر چلا جائے گا، لیکن ابھی ہم نے ایسا نہیں کہا، ہم اسے تھوڑا موقع دیں گے، اور امید ہے کہ کچھ تشدد کم ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ حماس اب بہت کمزور ہوچکی ہے، خاص طور پر اس بنا پر کہ علاقائی حامی ایران کے اب اس کی مدد کے لیے سامنے آنے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اس سال کے شروع میں امریکا اور اسرائیل نے ( ایران کے خلاف) کارروائیاں کی تھیں۔
جنوبی غزہ کے شہر رفح میں ہونے والا دھماکا جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے وہ حماس نے نہیں کیا تھا بلکہ اسرائیلی آبادکاروں کے بلڈوزر کے بارودی سرنگ پر چڑھنے سے دھماکا ہوا تھا، اور مبینہ طور پر وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کو مبینہ طور پر اس بات کا علم تھا۔
قدس نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کو مبینہ طور پر اس بات کا علم تھا کہ رفح میں دھماکا ایک آباد کار اسرائیلی بلڈوزر کے وہاں دبی ہوئی بارودی سرنگ کے اوپر سے گزرنے کی وجہ سے ہوا تھا، جس سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ حماس کے جانباز سرنگوں سے نکلے تھے اور انہوں نے یہ حملہ کیا تھا۔
ڈراپ سائٹ نیوز کے صحافی ریان گریم کے مطابق امریکی حکام کو دھماکے کے فوراً بعد بریفنگ دی گئی تھی کہ یہ واقعہ ایک اسرائیلی آباد کار کے زیر استعمال بلڈوزر کے نہ پھٹنے والے فوجی سامان (بارودی سرنگ) سے ٹکرانے کے نتیجے میں پیش آیا تھا، نہ کہ یہ کوئی حماس کی کارروائی تھی، اس کے باوجود نیتن یاہو نے کھلے عام حماس پر الزام لگایا اور اعلان کیا تھا کہ وہ اس کے جواب میں غزہ میں تمام امداد کی آمد کو روک دیں گے۔
ریان گریم کے حوالے سے ذرائع کے مطابق جب امریکی انتظامیہ نے اپنی تحقیقات کے نتائج اسرائیل کے سامنے رکھے تو نیتن یاہو نے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا، اور کہا کہ کراسنگ چند گھنٹوں میں دوبارہ کھل جائیں گی، پینٹاگون بھی مبینہ طور پر اسی نتیجے پر پہنچا جو وائٹ ہاؤس کا تھا۔
’دی امریکن کنزرویٹو‘ کے صحافی کرٹ ملز نے ایک سینئر امریکی انتظامی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی کہ ’حماس نے کچھ نہیں کیا، ایک اسرائیلی ٹینک بارودی سرنگ (آئی ای ڈی) پر چڑھ گیا تھا جو شاید وہاں مہینوں سے موجود تھی۔‘
خیال رہے کہ اس انکشاف سے غزہ کی پہلے ہی نازک صورتحال میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، کیونکہ دھماکے کے بعد اسرائیل نے اپنی نئی شدت پسندی کو جائز قرار دینے کی کوشش میں پوری پٹی میں فضائی حملوں کی لہر شروع کر دی تھی، جس میں ایک صحافی سمیت 30 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے تھے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس ماہ کے شروع میں شرم الشیخ میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود لڑائی کا ایک اور دور بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے۔
حالیہ حملوں، بشمول شہری علاقوں پر حملے، نے یہ تشویش بڑھا دی ہے کہ اسرائیل کا مقصد جنگ بندی کو ناکام بنانا اور غزہ پر اپنا فوجی دباؤ برقرار رکھنا ہے۔
6 اکتوبر 2023ء کو آپ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ دنیا میں اسرائیل کے خلاف اس قدر شدید نفرت پائی جائے گی جتنی کہ آج پائی جاتی ہے۔ آج اسرائیل، نسل کشی، منظم انداز میں ریپ، ظلم و ستم اور بچوں کے قتل عام کا دوسرا نام بن چکا ہے۔
ایک کے بعد ایک ویڈیو میں ہم نے نہ صرف اسرائیلی افواج کے جنگی جرائم اور ظلم و ستم دیکھے ہیں بلکہ ان قاتل فوجیوں، جرنیلوں اور حکومتی اہلکاروں کے چہروں پر خوشی اور فخر بھی دیکھا ہے جو ان مذموم کارروائیوں کی ہدایات دیتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر لوگ یہ مناظر دیکھتے ہوئے نفرت اور گِھن محسوس کرتے ہیں۔ یہ فطری بات ہے کہ لوگ، متاثرین پر اظہارِ افسوس کریں اور ان لوگوں کے خلاف مشتعل ہوں جوکہ ان مظالم کے ذمہ دار ہیں اور ان کارروائیوں میں کوئی شرمندگی ظاہر نہیں کرتے۔
لیکن جب اسرائیل اور اس کے حامی اس نئی دنیا کو دیکھتے ہیں تو وہ اس غصے کی وجہ اپنے اعمال کو نہیں سمجھتے بلکہ وہ ’یہود مخالفت‘ کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں جو ایک ایسا بہانہ بن چکا ہے جس کا اثر اب ختم ہو چکا ہے۔ وہ خاص طور پر سوشل میڈیا بالخصوص ٹک ٹاک کو اسرائیل مخالف جذبات پھیلانے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
ان کے خیال میں ہمیں اتنی نفرت اس لیے نہیں ملتی کہ ہم نے ظلم ڈھائے ہیں بلکہ اس کی وجہ الگورتھمز ہیں۔ لہٰذا ان کی سوچ یہ ہے کہ اگر وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی ویسے ہی اپنے دباؤ میں لیں، انہیں خریدیں یا کنٹرول کر لیں جیسے وہ مغربی مین اسٹریم میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں تو اسرائیل مخالف جذبات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اگر ہم اپنی نسل کشی کے ڈیجیٹل شواہد کو مٹا دیں تو یہ سب بھلا دیا جائے گا۔ اور فی الحال وہ یہی کام کر رہے ہیں۔
سب سے پہلے انہوں نے ٹک ٹاک پر توجہ مرکوز کی ہے اور بالکل بجا کی ہے کیونکہ نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی نے 7 اکتوبر کے فوراً بعد ٹک ٹاک پر فلسطینی اور اسرائیلی حمایت میں کیے گئے پیغامات کا مطالعہ کیا تھا۔ اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ فلسطینی حمایت میں ایک لاکھ 70 ہزار 430 پوسٹس کی گئی تھیں جبکہ اسرائیل کے حق میں صرف 8 ہزار 843 پوسٹس تھیں۔
لیکن ہم سب کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ معاملہ صرف تعداد کا نہیں بلکہ صارفین کی انگیجمنٹ کا بھی ہے۔ یہاں دیکھا گیا کہ فلسطینی حمایت والی پوسٹس کو 23 کروڑ 60 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا جبکہ اسرائیل کے حق میں پوسٹس کو صرف ایک کروڑ 40 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا۔
اور پھر آئندہ دو سالوں میں اس رجحان میں کمی آنے کے بجائے فلسطینی حمایت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ اگرچہ 7 اکتوبر کے فوراً بعد اسرائیل کے حق میں پوسٹس اور ویوز میں اضافہ ہوا تھا جوکہ ایک اہم واقعے کے ردعمل کے طور پر معمول کی بات ہے لیکن اس کے بعد وہ تعداد کم ہونا شروع ہو گئی۔ جبکہ فلسطینی حمایت میں پوسٹس اسی طرح اضافہ ہوتا رہا جسے ایک دیرپا اور وسیع تحریک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
صہیونیوں نے اس مسئلے کو جلد ہی پہچان لیا جس کا اظہار امریکا کی اینٹی ڈیفیمیشن لیگ کے سربراہ جوناتھن گرین بلاٹ نے اپنی لیک آڈیو میں کیا کہ ’ہمارا مسئلہ ٹک ٹاک ہے، ایک جین زی کا مسئلہ ہے‘، جسے حل کرنا ضروری ہے۔
روایتی صہیونی انداز میں انہوں نے یہ کام امریکی سیاست پر اپنے اثر و رسوخ اور بڑے پیمانے پر مالی وسائل کے استعمال سے کیا۔ اچانک امریکا میں ایک مہم شروع ہوئی جس میں چینی حکومت پر الزام لگایا گیا کہ وہ ٹک ٹاک کے الگورتھم میں مداخلت کر رہی ہے اور امریکی صارفین کے نجی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر رہی ہے اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ امریکا میں ٹک ٹاک کے آپریشنز کو فروخت کر دیا جائے۔
یہ ایک واضح حکمت عملی تھی کیونکہ اصل وجہ جس کی بنا پر ٹک ٹاک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کا تعلق چین سے نہیں بلکہ اسرائیل اور اس کی عالمی ساکھ سے ہے۔
اسی لیے ہم نے دیکھا کہ ری پبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں نے ٹک ٹاک کے خلاف صف بندی کرلی تاکہ اسرائیل کو دوبارہ عظیم بنایا جا سکے اور ٹک ٹاک کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے امریکی آپریشنز کو فروخت کر دے۔ لیکن ٹک ٹاک کو خریدے گا کون؟ یہاں خریداروں کا ایک گروپ نمودار ہوا جس میں سب سے بڑا خریدار اوریکل تھا۔
اوریکل کی شروعات لیری ایلیسن نے کی تھی جو ایک امریکی ارب پتی تھے جو کبھی دنیا کے امیر ترین شخص ہو اکرتے تھے۔ لیری ایلیسن اسرائیلی فوج کا سب سے بڑا ذاتی عطیہ دہندہ بھی ہے اور ’سب سے پہلے اسرائیل‘ کے عزم کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ جہاں تک اوریکل کا تعلق ہے تو اس کی سابق سی ای او صفرا کٹز نے سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک کو ایک ای میل میں کھلے عام لکھا تھا کہ ’ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکی ثقافت میں اسرائیل سے محبت اور عقیدت کو حصہ بنایا جائے‘ اور ایک اور بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ اوریکل کی اسرائیل سے وابستگی ’بہت اعلیٰ درجے کی ہے‘۔ اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب اوریکل ٹک ٹاک کا کنٹرول سنبھال لے گا تو ٹک ٹاک کیسا ہوجائے گا۔
بنیامن نیتن یاہو ابھی سے جشن منا رہے ہیں۔ حال ہی میں اپنی ساتھیوں کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’سب سے اہم میدانِ جنگ سوشل میڈیا ہے اور اس وقت جو سب سے اہم خریداری ہو رہی ہے وہ۔۔۔ ٹک ٹاک کی ہے‘۔
اور اس جنگ میں کامیابی کے بعد ان کی نظر اب صرف دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہے جن میں اگلا بڑا ہدف ایکس (سابقہ ٹوئٹر) ہے۔ اور توقع کے مطابق ہم نے اسرائیلی میڈیا میں متعدد مضامین دیکھے ہیں جو ایکس کو یہود مخالفت کا نیا مرکز قرار دے رہے ہیں۔ لیکن نیتن یاہو اس بارے میں فکر مند نہیں ہیں۔
وہ کہتے ہیں، ’ایلون میرا دوست ہے۔۔۔ ہمیں اس سے بات کرنی چاہیے‘۔ وہ کریں گے۔ اور ایلون ان کی بات مانیں گے۔ اسرائیل مصنوعی ذہانت کے پیچھے بھی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے امریکی صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ایک سابق منیجر کو 60 لاکھ ڈالرز کا معاہدہ پیش کیا ہے تاکہ وہ اسرائیل نواز ویب سائٹس اور ویڈیوز تیار کرے جن پر چیٹ جی پی ٹی اور دیگر بڑے لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایمز) کو تربیت دی جائے گی۔
مقصد یہ ہے کہ ان میں اسرائیلی پروپیگنڈا فیڈ کیا جائے تاکہ وہ بھی اسے تیار کرنے اور پھیلانے میں مدد کریں۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے نسل کشی کو بھلایا جاسکتا ہے۔
یہ تحریر انگریزی میں پڑھیے۔
اسرائیل نے غزہ پر وحشیانہ بمباری کے بعد جنگ بندی معاہدے کی بحالی کا اعلان کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی تاحال برقرار ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسرائیلی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں سلسلہ وار اہم حملوں کے بعد جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھے گا اور معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی پر سخت جواب دیا جائے گا‘۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی تاحال برقرار ہے، حالانکہ اسرائیل نے گزشتہ روز مبینہ طور پر حماس کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد علاقے پر جان لیوا فضائی حملے کیے تھے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر درجنوں فضائی حملے کیے تھے اور الزام لگایا تھا کہ حماس کے جنگجوؤں نے ان کے فوجیوں کو نشانہ بنایا، جسے 9 روزہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
جب رپورٹرز نے ٹرمپ سے پوچھا کہ آیا جنگ بندی اب بھی نافذ العمل ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں، ہے‘، انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ مبینہ خلاف ورزیوں میں حماس کی اعلیٰ قیادت ملوث نہیں، بلکہ ’کچھ باغی عناصر‘ اس کے ذمہ دار ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ حماس کے ساتھ معاملہ بہت پُرامن رہے، اسے سختی سے، لیکن مناسب طریقے سے نمٹایا جائے گا‘۔
حماس کے زیرانتظام غزہ کی شہری دفاع کے ادارے کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 45 افراد شہید ہوئے۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیل نے الزام عائد کیا تھا کہ فلسطینی جنگجوؤں نے جنوبی غزہ میں اس کے فوجیوں پر حملے کیے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل پر متعدد بار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرنے والی مزاحمتی تنظیم ’حماس‘ کا کہنا ہے کہ اس کی رفح میں موجود یونٹس سے رابطہ کئی ماہ سے منقطع ہے، اور ہم ان علاقوں میں پیش آنے والے کسی بھی واقعے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
اسرائیل نے زور دیا تھا کہ حماس تمام 28 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی باقیات واپس کرے اور کہا تھا کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح کی سرحدی گزرگاہ مزید اطلاع تک بند رہے گی۔
واضح رہے کہ حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ کی قیادت میں حماس کا ایک وفد گزشتہ روز مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا تھا۔
وفد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس دورے کا مقصد جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے ثالثوں، فلسطینی گروہوں اور قوتوں کے ساتھ پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔
الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے جنگ بندی کے بعد غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے 15 ارب روپے پر مشتمل ’ری بلڈ غزہ‘ پروگرام کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
صدر الخدمت فاؤنڈیشن ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے غزہ میں ریلیف سرگرمیوں کے حوالے سے مصر کے دورے سے واپسی پر پریس بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک غزہ کے متاثرین کے لیے 8 ارب 10 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
جس میں 5 ہزار ٹن امدادی سامان پر مشتمل 35 کنسائنمنٹس ایئر کارگو اور بحری راستوں سے غزہ روانہ کی گئیں، جن میں خیمے، کمبل، خوراک، آٹا، چاول، ہائی جین، ڈلیوری اور بے بی کٹس سمیت دیگر ضروری اشیائے خوردونوش شامل تھیں۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ ’ری بلڈ غزہ‘ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 6 ہزار خاندانوں کے لیے فوڈ پیکجز، 100 ٹن امدادی سامان اور 100 ٹن چاول قاہرہ سے غزہ بھیجے جا رہے ہیں جبکہ 100 ٹن قربانی کے گوشت کو ’ریڈی ٹو ایٹ پیکٹس‘ کی صورت میں تیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ میں الخدمت کے 6 واٹر فلٹریشن پلانٹس پہلے ہی کام کر رہے ہیں، جنہیں بڑھا کر پینے کے صاف پانی کے 100 منصوبوں تک توسیع دی جائے گی۔
صدر الخدمت فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ موسمِ سرما کی آمد کے پیش نظر آئندہ ہفتے پاکستان سے 2 کارگو فلائٹس روانہ کی جائیں گی جن میں شیلٹرز، خیمے، کمبل، گرم کپڑے اور سلیپنگ بیگز شامل ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ میں 2 شیلٹر اسکول فعال ہیں جبکہ مختلف صوبوں میں مزید 5 اسکول قائم کیے جا رہے ہیں، پاکستان میں الخدمت اسکالر شپس پر موجود 404 فلسطینی طلبہ کی تعداد کو ایک ہزار تک بڑھایا جائے گا، جبکہ غزہ میں یتیم بچوں کی کفالت 750 سے بڑھا کر 3 ہزار تک کی جا رہی ہے۔
صدر الخدمت کے مطابق شہداء فیملیز کی رجسٹریشن 1550 خاندانوں تک مکمل ہو چکی ہے جن میں سے 50 خاندانوں کی کفالت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
طبی سہولیات کے حوالے سے بتایا گیا کہ اب تک 394 ٹن ادویات اور 3 ایمبولینسز غزہ میں خدمات فراہم کر رہی ہیں جبکہ 500 زخمیوں کو پاکستان لا کر علاج فراہم کرنے کا منصوبہ بھی حتمی مراحل میں ہے۔
انہوں نےکہا کہ الخدمت نے فیلڈ ہسپتال کی تیاری مکمل کر لی، جہاں مصنوعی اعضا کی تیاری کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جبکہ ’ری بلڈ غزہ‘ کے تحت 5 شیلٹر مساجد کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے جسے بتدریج 25 تک بڑھایا جائے گا۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ یہ پروگرام محض ریلیف نہیں بلکہ غزہ کے لوگوں کی پائیدار بحالی کی جانب ایک جامع قدم ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستانی عوام کا تعاون ہمارا حوصلہ ہے اور ہم غزہ کے عوام کو باوقار زندگی کی طرف لوٹانے تک اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے، پریس بریفنگ میں سیکرٹری جنرل سید وقاص جعفری، نائب صدور اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
اسرائیلی فوج نے وسطی اور جنوبی غزہ میں ہلاکت خیز فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، اسرائیل نے حماس پر اپنے فوجیوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے جس کی حماس نے تردید کی ہے، ا سرائیلی حملوں کے باعث غزہ میں جنگ بندی خطرے میں پڑگئی ہے، اسرائیلی حملوں میں اب تک 38 افاد شہید اور 143 زخمی ہوچکے ہیں، اسرائیل نے امدادی قافلوں کی گزرگاہیں روک کر غزہ میں داخلہ بند کردیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اتوار کو غزہ پر حملہ کردیا، اس پیش رفت نے امریکا کی ثالثی میں ہونے والی ایک ہفتے پرانی جنگ بندی کے مستقل امن میں بدلنے کی امیدوں کو کم کر دیا ہے، جبکہ اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کررہے ہیں۔
ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے اتوار کو بتایا کہ حماس نے غزہ کے اندر اسرائیلی فورسز پر متعدد حملے کیے، جن میں ایک راکٹ حملہ اور ایک اسنائپر حملہ شامل ہے، اہلکار کے مطابق دونوں واقعات اسرائیلی زیرِ قبضہ علاقے میں پیش آئے، یہ جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب حماس کے سینئر رہنما عزت الرشق نے کہا کہ فلسطینی گروپ جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہے، جس کی بارہا خلاف ورزی کا الزام اس نے اسرائیل پر عائد کیا۔
غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے ہفتے کے روز بتایا تھا کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے بعد 47 خلاف ورزیاں کیں، جن میں 38 افراد جاں بحق اور 143 زخمی ہوئے۔
اتوار کو ہونے والے اسرائیلی حملوں کے اثرات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکے، تاہم یہ حملے 11 اکتوبر کو نافذ ہونے والی نازک جنگ بندی کے بعد سب سے بڑا امتحان تصور کیے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی حکومت اور حماس کئی روز سے ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کے الزامات لگا رہے ہیں، جبکہ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ تاحکمِ ثانی بند رہے گی۔
الجزیرہ کے مطابق دوسری جانب خبر رساں اداروں کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حکام نے بتایا کہ اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے غزہ کی جانب امدادی قافلوں کے لیے گزرگاہیں بند کر دی ہیں۔
ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا،’ غزہ کی پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ترسیل حماس کی جانب سے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کے بعد اگلے حکم تک روک دی گئی ہے۔’
دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق آج غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد مزید وزراء نے ایسے بیانات دیے ہیں جن سے امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر اسرائیلی حکومت کی پابندی پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔
بیرونِ ملک یہودی برادری کے امور کے وزیر امیچائی چکلی، جو اپنے سخت گیر مؤقف کے لیے جانے جاتے ہیں، نے کہا:’ جب تک حماس موجود ہے، جنگ جاری رہے گی۔’
نتن یاہو کی کابینہ کے ایک اور رکن آوی ڈِختر نے صورتحال کو ’ مشکل اور پیچیدہ’ قرار دیا، اور اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق حماس پر الزام عائد کیا کہ اس نے اس مفروضے کے تحت جنگ بندی کی خلاف ورزی کی کہ ’ اسرائیل دوبارہ لڑائی شروع نہیں کرے گا۔’
انہوں نے مزید کہا:’ جیسے ہی تمام زندہ یرغمالیوں کو ہمارے حوالے کر دیا جائے گا، حالات بدل جائیں گے۔ اسرائیل حماس کو غیر مسلح کرنے کے اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔’
حماس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد، جس کی قیادت سینئر حماس رہنما خلیل الحیہ کر رہے ہیں، مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا ہے۔
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ وفد کا مقصد ’ جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے ثالثوں، فلسطینی دھڑوں اور دیگر قوتوں کے ساتھ بات چیت کرنا’ ہے۔
اس سے قبل حماس کے عسکری ونگ نے کہا تھا کہ اس نے ایک اور قیدی کی لاش کا سراغ لگا لیا ہے، جسے ’ اگر میدان کی صورتحال موزوں ہوئی’ تو اتوار کے روز اسرائیل کے حوالے کر دیا جائے گا۔
گروپ نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی ’ کشیدگی میں اضافہ’ تلاش کے جاری آپریشنز میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے کہا کہ اس نے جنوبی غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے تنازعے کے دوران فضائی اور توپ خانے کے حملے کیے ہیں۔
دریں اثنا، اسرائیلی حکام نے حماس کی جانب سے حوالے کی گئی ایک اور یرغمالی کی لاش کی شناخت کرلی، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے یرغمالی کی لاش کی شناخت رونن اینجل کے نام سے کی ہے، جسے 7 اکتوبر 2023 کو اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا،
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ وہ 7 اکتوبر کے روز ہی ہلاک ہو گیا تھا، ان کی بیٹی میکا اینجل نے انسٹاگرام پر لکھا کہ میرے والد 744 دنوں کے بعد بالآخر گھر واپس آگئے۔
حماس نے مزید 2 اسرائیلی یرغمالی کی لاشیں صہیونی انتظامیہ کے حوالے کردیں، حماس نے کہا ہے کہ رفح کراسنگ کی بندش لاشوں کی تلاش اور حوالگی میں تاخیر کا سبب بن رہی ہے، مزاحمتی تنظیم نے غزہ کے شہریوں پر حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق امریکی الزام مسترد کردیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ حماس نے مزید 2 مغویوں کی لاشیں حوالے کر دی ہیں، جب کہ غزہ کے ملبے تلے دبے اجساد کی تلاش میں تاخیر نے نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اے ایف پی نے رپورٹ کیا۔
وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی کہ ریڈ کراس نے یہ لاشیں وصول کر کے ان کی شناخت کے لیے اسرائیلی افواج کے حوالے کر دی ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق حماس نے کہا ہے کہ مصر اور غزہ کے درمیان رفح کراسنگ کی بندش مغویوں کی لاشوں کی حوالگی میں سنگین تاخیر کا سبب بن رہی ہے۔
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ کراسنگ کی مسلسل بندش ’ان خصوصی آلات کی آمد کو روک رہی ہے جو ملبے تلے دبے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے درکار ہیں، اور ان فرانزک ٹیموں اور آلات کو بھی روک رہی ہے جو لاشوں کی شناخت کے لیے ضروری ہیں‘، جس کے باعث ’لاشوں کی بازیابی اور حوالگی میں نمایاں تاخیر‘ ہو رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکا کے محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے ضامن ممالک کو ’قابلِ اعتماد اطلاعات‘ سے آگاہ کیا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حماس اس معاہدے کی خلاف ورزی کرے گی۔
محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اگر حماس نے یہ حملہ کیا تو غزہ کے عوام کے تحفظ اور جنگ بندی کی سالمیت برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے‘۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حماس نے امریکی محکمہ خارجہ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فلسطینی تنظیم نے غزہ میں عام شہریوں پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں چند افراد کو گھٹنوں کے بل بٹھا کر گولی مار کر ہلاک کرتے دکھایا گیا، اور الزام لگایا گیا کہ یہ کارروائی حماس کے ارکان نے کی۔
حماس نے وضاحت دی کہ اس نے ان گروہوں کو نشانہ بنایا جو اسرائیلی حمایت یافتہ ’مسلح اور مالی طور پر معاون جرائم پیشہ گینگ‘ ہیں، جو ’فلسطینی شہریوں کے قتل، اغوا، امدادی ٹرکوں کی چوری اور حملوں‘ میں ملوث تھے۔
حماس کے مطابق اس کی کارروائیاں غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھیں۔
صدر ٹرمپ سے جب حماس کی ان کارروائیوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’یہ چند بہت برے گینگ تھے، اس سے مجھے زیادہ فرق نہیں پڑا‘۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’انہوں نے اس بارے میں کھل کر بات کی ہے، اور ہم نے انہیں کچھ عرصے کے لیے اس کی اجازت دی تھی‘۔
اسرائیلی کی جانب سے ہٹ دھرمی جاری ہے، صہیونی ریاست نے رفح کراسنگ کھولنے سے انکار کر دیا۔
قطری نشریاتی ادارے، غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب مصر میں فلسطینی سفارتخانے نے اعلان کیا کہ غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح کراسنگ پیر کو دوبارہ کھول دی جائے گی۔
رفح کراسنگ ایک سرحدی گزر گاہ ہے جو غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع ہے۔
اس اعلان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ رفح کراسنگ نہیں کھلے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ رفح کراسنگ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حماس اپنے اس وعدے پر کس حد تک عمل کرتی ہے، جس میں ہلاک یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے اور طے شدہ فریم ورک کا نفاذ شامل ہے۔
اس سے قبل قاہرہ میں فلسطینی سفارتخانے نے اعلان کیا تھا کہ مصر میں مقیم فلسطینیوں کو پیر سے رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔
سفارتخانے کے بیان میں بتایا گیا تھا کہ یہ گزرگاہ (مئی 2024 سے زیادہ تر بند رہی) اب مصر میں مقیم فلسطینیوں کو غزہ واپس جانے کی اجازت دے گی، بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا انسانی امداد کو بھی گزرنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔
تاہم اسرائیل کے تازہ بیان کے بعد یہ واضح نہیں کہ آیا یہ منصوبہ اب عمل میں آ سکے گا یا نہیں۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق 2 سالہ تباہی کے بعد جنگ بندی کے تحت اوسطاً روزانہ 560 ٹن خوراک غزہ میں داخل ہو رہی ہے، جو اب بھی ضرورت سے بہت کم ہے۔
یہ گزرگاہ مئی 2024 میں اسرائیلی افواج کے قبضے کے بعد امداد کے لیے بند کر دی گئی تھی، تاہم 2025 کے اوائل میں عارضی جنگ بندی کے دوران مختصر وقت کے لیے دوبارہ کھولی گئی تھی۔
دو سال کی بمباری اور ناکہ بندی کے بعد غزہ میں خوراک، ادویات، رہائش اور دیگر امداد کی ضرورت شدید حد تک بڑھ چکی ہے۔
دنیا بھر کے اعلیٰ مالیاتی حکام نے اس ہفتے غزہ کی فلسطینی پٹی کی تعمیرِ نو میں مدد دینے کی اپنی آمادگی پر زور دیا ہے، جب کہ ورلڈ بینک اور اقوامِ متحدہ نے 70 ارب ڈالر کی نئی تخمینہ لاگت کو حتمی شکل دینے پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی ڈائریکٹر جنرل انگوزی اوکونجو-ایویلا نے بتایا کہ ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو مشورہ دینے والی وزارتی سطح کی ڈیولپمنٹ کمیٹی کے ارکان نے جمعرات کو ہونے والی ایک میٹنگ میں اس عمل میں درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب بہت شکر گزار ہیں کہ جنگ بندی ہو گئی ہے، قتل و غارت رک گئی ہے، یرغمالیوں کو گھر واپس لایا گیا ہے اور فلسطینیوں کو خوراک مل رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اگلے مرحلے کی جانب ایک قدم ہوگا، اور وہ مرحلہ پُرامن طریقے سے مکمل ہوگا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 3 مراحل پر مشتمل 5 سالہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس کا مقصد جنگ سے تباہ حال علاقے کو دوبارہ آباد کرنا اور اسے ریاستِ فلسطین کا فعال، مربوط اور ترقی یافتہ حصہ بنانا ہے۔
فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفیٰ نے جمعرات کو اقوامِ متحدہ اور سفارتی حکام سے ملاقات کی اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا، حالانکہ اس بارے میں غیر یقینی پائی جاتی ہے کہ جنگ سے برباد علاقے کے مستقبل میں ان کی حکومت کا کیا کردار ہوگا۔
محمد مصطفیٰ نے کہا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کے لیے پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا ہے، جو تین مراحل پر مشتمل ہوگا اور رہائش، تعلیم، حکمرانی اور دیگر 18 شعبوں کے لیے 65 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
ان کے مطابق یہ منصوبہ اس بنیاد پر بنایا گیا ہے جو مارچ 2025 میں قاہرہ میں عرب ممالک کے ایک اجلاس میں طے پایا تھا اور مصر اور اردن کے ساتھ شروع کیا گیا پولیس ٹریننگ پروگرام پہلے ہی جاری ہیں۔
محمد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ غزہ کو ریاستِ فلسطین کا ایک کھلے، مربوط اور ترقی پذیر حصے کے طور پر تعمیرِ نو کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یورپی یونین کے ساتھ محفوظ عبوری آپریشنز، کسٹمز کے نظام اور مربوط پولیسنگ یونٹس پر تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔
یورپی یونین، فلسطینی اتھارٹی کے بڑے امداد دہندگان میں سے ایک ہے، سب سے بڑھ کر، یہ جنگ کے بعد کی تعمیرِ نو کا منصوبہ ایک واحد فلسطینی حکومت کے لیے راہ ہموار کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
فلسطینی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ یہ عمل غزہ اور مغربی کنارہ کے درمیان سیاسی اور علاقائی یکجہتی کو مضبوط کرے گا اور ریاستِ فلسطین کے لیے ایک قابلِ اعتبار حکمرانی فریم ورک کی بحالی میں حصہ ڈالے گا۔
غزہ سٹی کے علاقے زیتون میں ایک گاڑی پر اسرائیلی حملے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد شہید ہوگئے، اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ یہ گاڑی اس نام نہاد ’یلو لائن‘ کو عبور کر رہی تھی، جو اسرائیلی فوجی کنٹرول والے علاقے کو ظاہر کرتی ہے۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اسرائیل 28 افراد کو شہید کر چکا ہے۔
حماس نے امریکا اور ثالثوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ جنگ بندی معاہدے کا احترام کرے اور حملے بند کرے، یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب ریڈ کراس کے ذریعے ایک اور اسرائیلی قیدی کی لاش واپس کی گئی۔
غزہ کے فلسطینی اب بھی خوراک اور پانی کے لیے بے حد پریشان ہیں، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے مطالبہ کیے گئے بڑے پیمانے پر امدادی قافلے اسرائیلی رکاوٹوں کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔
اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی غزہ پر جنگ میں اب تک 67 ہزار 967 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 70 ہزار 179 زخمی ہو چکے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں اسرائیل میں ایک ہزار 139 افراد ہلاک اور تقریباً 200 افراد کو یرغمال بنالیا گیا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ حماس کو جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنا چاہیے، اور ان 18 مقتول قیدیوں کی باقی لاشیں واپس کرنی چاہئیں جو اب بھی غزہ میں موجود ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ حماس کی جانب سے رات کے وقت واپس کی گئی قیدی کی لاش کی شناخت 75 سالہ الییاہو مارگالیت کے طور پر ہو چکی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’ہم نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے مارگالیت کے اہلِ خانہ کو اطلاع دی ہے کہ ان کی لاش کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے اور اب تدفین کے لیے تیار ہے‘۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ ’ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اور آخری یرغمال تک تمام مقتولوں کی واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے‘۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق دفتر نے مزید کہا کہ اسرائیل پُرعزم، وابستہ اور انتھک محنت کر رہا ہے، تاکہ تمام مقتول قیدیوں کی واپسی ممکن ہو سکے، اور یہ کہ حماس اپنی ذمہ داریوں کو ثالثوں کے سامنے پورا کرے اور معاہدے کے نفاذ کے حصے کے طور پر انہیں واپس کرے۔
فوجی بیان کے مطابق مارگالیت 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران کیبُٹز نیر اوز میں مارا گیا تھا، یہ وہی حملہ ہے جس نے غزہ کی جنگ کو بھڑکایا تھا۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کا کہنا ہے کہ عملہ غزہ کے بچوں کو دوبارہ اسکول بھیجنے کے لیے تیار ہے
ادارے نے ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے 8 ہزار تربیت یافتہ اساتذہ غزہ کے بچوں کو دوبارہ اسکول بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔
ایجنسی نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے دوبارہ باضابطہ طور پر کام کرنے کی اجازت دی جائے۔
اسرائیلی حکومت نے اس سال کے اوائل میں اس ایجنسی پر پابندی عائد کر دی تھی۔
دو سال میں پہلی بار غزہ کے فلسطینیوں نے غزہ سٹی کی صدیوں پرانی سید الہاشم مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی۔
یہ مسجد پوری جنگ کے دوران بند رہی تھی، اور عبادت گزاروں نے اس کی دوبارہ افتتاحی تقریب کو انتہائی جذباتی لمحہ قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں جلد ہی ’ معاہدہ ابراہیمی‘ میں توسیع کی توقع ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ سعودی عرب بھی اس معاہدے میں شامل ہوگا، جس کی وجہ سے اسرائیل اور کچھ عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات معمول پر آئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے فاکس بزنس نیٹ ورک پر جمعہ کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ سعودی عرب اس میں شامل ہو، اور میں چاہتا ہوں کہ دوسرے ممالک بھی شامل ہوں، میرا خیال ہے کہ جب سعودی عرب شامل ہوگا تو سب شامل ہو جائیں گے۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے بدھ تک ان ممالک کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ کی ہے جنہوں نے معاہدوں میں شامل ہونے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ سب بہت جلد شامل ہو جائیں گے،‘ امریکی صدر کا یہ انٹرویو جمعرات کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020 میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں پہلی مدتِ صدارت کے دوران اس معاہدے پر دستخط کیے تھے اور چوتھائی صدی بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے والے پہلے عرب ممالک بن گئے تھے۔ اس کے بعد مراکش اور سوڈان بھی شامل ہوئے۔
ٹرمپ، جنہوں نے پیر کے روز غزہ کی پٹی کے مستقبل پر بات چیت کرنے کے لیے مصر میں مسلم اور یورپی رہنماؤں کا اجلاس بلایا تھا، نے اپنے منصوبے کو غزہ پر حملے کے خاتمے اور وسیع تر علاقائی امن کے قیام کا محرک قرار دیا۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ مزید ممالک ’ ابراہیمی معاہدے‘ کی مہم میں شامل ہوں گے اور یہاں تک کہ مشرقِ وسطیٰ کے دیرینہ دشمنوں ایران اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے امکان کی تجویز بھی دی، اور اسرائیلی پارلیمان سے کہا کہ ان کا خیال ہے ایران امن چاہتا ہے۔
حفاظتی خدشات کے پیش نظر پریمیئر لیگ کلب ایسٹن ولا نے اسرائیلی کلب مکابی تل ابیب کے تماشائیوں کے ایسٹن ولا کے ہوم اسٹیڈیم ’ولا پارک‘ داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔
ترک خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق چیمپیئنز لیگ کے بعد یورپ کلب فٹبال کے دوسرے سب سے ممتاز ٹورنامنٹ یوئیفا یوروپا لیگ میں اسرائیل کے کلب میکابی تل ابیب اور ایسٹن ولا کا میچ 6 نومبر کو شیڈول ہے۔
ممکنہ مظاہروں اور ہنگامہ آرائی کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اے سیفٹی ایڈوائزری گروپ (سیگ) جو میچز کے لیے حفاظتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا ذمہ دار ادارہ ہے، نے ایسٹن ولا انتظامیہ کو بتایا ہے کہ برمنگہم میں ہونے والے میچ میں مکابی تل ابیب کے تماشائیوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انگلش کلب ایسٹن ولا کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی فیصلے میں میچ میں شرکت کرنے والے حامیوں کی حفاظت اور مقامی رہائشیوں کی حفاظت کو سب سے زیادہ فوقیت دی جائے گی‘۔
کلب نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ’میٹنگ کے بعد، سیگ نے کلب اور یوئیفا کو تحریری ضابطہ دیا ہے کہ وہ اس میچ کے لیے کسی بھی مکابی تل ابیب تماشائی کو ولا پارک میں شرکت کی اجازت نہیں دیں گے‘۔
وہیں مقامی برطانوی ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے میچ کو ’ہائی رسک‘ قرار دیا ہے۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ ’یہ فیصلہ موجودہ انٹیلی جنس اور گزشتہ واقعات کے پیش نظر کیا گیا ہے، جن میں وہ پُرتشدد جھڑپوں اور نفرت انگیز جرائم نمایاں ہیں جو ایمسٹرڈیم میں کلب ایجیکس اور مکابی تل ابیب کے درمیان 2024 کے یوروپا لیگ میچ کے دوران ہوئے تھے‘۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر 8 نومبر 2024 کو بڑے پیمانے پر شیئر ہونے والی ویڈیوز میں نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم میں مکابی کے شائقین کو نہ صرف نجی املاک کو توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دیکھا گیا، بلکہ ایک مقامی عرب ٹیکسی ڈرائیور پر حملہ کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے بھی مقابلہ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
اسرائیلی بلوائیوں نے میچ کے موقع پر اسٹیڈیم کے اندر اور باہر توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے فلسطینی پرچم نذرآتش کیا تھا جس نے شہر کے حالات کو انتہائی کشیدہ بنا دیا تھا۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایسٹن ولا کلب کے فیصلے کو غلط قرار دیا اور کہا کہ وہ اپنی سڑکوں پر یہود مخالفت کو برادشت نہیں کریں گے۔
انہوں اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’پولیس کا کردار یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام فٹبال شائقین تشدد یا خطرے کے خوف کے بغیر کھیل سے لطف اندوز ہو سکیں‘۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے کھیلوں کے شائقین جو یورپ بھر میں کھیلوں میں شرکت کر رہے ہیں مگر غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے آغاز کے بعد سے، اسرائیلی شائقین جارحانہ حرکات اور بدتہذیب رویے میں ملوث پائے جارہے ہیں جبکہ یورپی ممالک میں ان کا فلسطین کے حامی مظاہرین سے بھی تصادم تواتر سے دیکھنے میں آتا ہے۔
اسرائیل کی قومی فٹبال ٹیم اگرچہ فیفا کوالیفائرز میں اٹلی سے شکست کے باعث فیفا ورلڈ کپ میں رسائی کی دوڑ سے باہر ہوچکی ہے لیکن ناروے اور اٹلی کے خلاف میچز میں اسٹیڈیم اور شہروں کی سڑکوں پر اسرائیل مخالف مظاہرے دیکھنے میں آئے جس میں فیفا اور یوئیفا سے اسرائیل کی قومی ٹیم اور کلبز کو بین کرنے کا بارہا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
البتہ ایسٹن ولا نے یہی مؤقف اپنایا ہے کہ تماشائیوں کو داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ ممکنہ ہنگامی آرائی سے گریز سے مقصد کے تحت لیا گیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے تین مراحل پر مشتمل 5 سالہ منصوبہ پیش کر دیا ہے، جس کا مقصد جنگ سے تباہ حال علاقے کو دوبارہ آباد کرنا اور اسے ریاستِ فلسطین کا فعال، مربوط اور ترقی یافتہ حصہ بنانا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفیٰ نے جمعرات کو اقوامِ متحدہ اور سفارتی حکام سے ملاقات کی اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا، حالانکہ اس بارے میں غیر یقینی پائی جاتی ہے کہ جنگ سے برباد علاقے کے مستقبل میں ان کی حکومت کا کیا کردار ہوگا۔
محمد مصطفیٰ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بارہ ماہ بعد فلسطینی اتھارٹی غزہ میں مکمل طور پر فعال ہو جائے، یہ بیان اس وقت آیا جب چند روز قبل امریکی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی غزہ میں نافذ ہوئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ غزہ کے امن منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام کو خارج نہیں کیا گیا اور یہ تجویز بھی شامل ہے کہ اصلاحات کے نفاذ کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو ایک کردار دیا جائے۔
مگر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف عزم ظاہر کیا ہوا ہے اور رام اللہ میں مقیم فلسطینی اتھارٹی کے غزہ کے بعد کے انتظام پر حکمرانی کے امکان کو عملاً رد کر چکے ہیں۔
محمد مصطفیٰ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کے لیے پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا ہے جو تین مراحل پر مشتمل ہوگا اور رہائش، تعلیم، حکمرانی اور دیگر 18 شعبوں کے لیے 65 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
ان کے مطابق یہ منصوبہ اس بنیاد پر بنایا گیا ہے جو مارچ 2025 میں قاہرہ میں عرب ممالک کے ایک اجلاس میں طے پایا تھا اور مصر اور اردن کے ساتھ شروع کیا گیا پولیس ٹریننگ پروگرام پہلے ہی جاری ہیں۔
انہوں نے رام اللہ میں اپنے دفتر سے فلسطینی وزرا، اقوامِ متحدہ کے اداروں کے سربراہان اور سفارتی مشنز کے سربراہان کے ایک اجلاس سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہمارا نظریہ واضح ہے۔
محمد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ غزہ کو ریاستِ فلسطین کا ایک کھلے، مربوط اور ترقی پذیر حصے کے طور پر تعمیرِ نو کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ محفوظ عبوری آپریشنز، کسٹمز کے نظام اور مربوط پولیسنگ یونٹس پر تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔
یورپی یونین، فلسطینی اتھارٹی کے بڑے امداد دہندگان میں سے ایک ہے، سب سے بڑھ کر، یہ جنگ کے بعد کی تعمیرِ نو کا منصوبہ ایک واحد فلسطینی حکومت کے لیے راہ ہموار کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
فلسطینی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ عمل غزہ اور مغربی کنارہ کے درمیان سیاسی اور علاقائی یکجہتی کو مضبوط کرے گا اور ریاستِ فلسطین کے لیے ایک قابلِ اعتبار حکمرانی فریم ورک کی بحالی میں حصہ ڈالے گا۔
دریں اثنا، جب اسرائیل اور حماس ایک دوسرے کو اس بات کا الزام دے رہے تھے کہ حماس غزہ میں قید تمام فوت شدگان کی لاشیں واپس کرنے میں ناکام رہا، ترکیہ نے باقیات کی تلاش میں مدد کے لیے متعدد آفتی ریلیف ماہرین تعینات کیے ہیں۔
قیدیوں کی لاشوں کی واپسی پر اختلاف امن مذاکرات اور امن منصوبے کے دیگر حل طلب عناصر کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جن میں جنگجوؤں کے ہتھیاروں سے عاری ہونے اور غزہ کی مستقبل کی حکمرانی شامل ہیں۔
حماس نے 10 لاشیں واپس کی ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اتنی ہی لاشیں بازیاب کروا سکا۔
انہوں نے کہا کہ باقی لاشوں کی بازیابی کے لیے بھاری مشینری اور کھدائی کے آلات درکار ہوں گے، جو فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔
جمعرات کو ایک سینئر حماس عہدیدار نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمعہ کے بعد سے کم از کم 24 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا اور کہا کہ ایسی خلاف ورزیوں کی فہرست ثالثوں کے حوالے کر دی گئی ہے۔
بعد ازاں جمعرات کو مقامی صحت حکام نے بتایا کہ جنوبی غزہ کے خان یونس میں ایک اسرائیلی ہوائی حملے میں 2 افراد ہلاک ہو گئے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو دھمکی دی کہ اگر حماس نے غزہ میں لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھا تو ہم اندر جا کر انہیں مار دیں گے، جو بظاہر غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد فلسطینی شہریوں پر حالیہ فائرنگ کے واقعات کی طرف اشارہ تھا۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ان چند روز کے بعد سامنے آئے جب انہوں نے کہا تھا کہ حماس کی گولی چلا کر عام لوگوں کو مارنے سے وہ زیادہ فکر مند نہیں ہوئے اور وہ اسے گینگ کے لوگوں کو مارنے جیسا سمجھتے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل نیٹ ورک ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ اگر حماس غزہ میں لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھتا ہے، جو کہ معاہدے کا حصہ نہیں تھا، تو ہمارے پاس اندر جا کر انہیں مار دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے ’ہم‘ سے مراد کیا ہے، اس کی مزید وضاحت نہیں کی، مگر انہوں نے بدھ کو کہا تھا کہ ’ہمیں غزہ میں امریکی فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی‘۔
یمن کے حوثی آرمی چیف اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے، گروپ نے میجر جنرل محمد الغماری کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے انتقام کی دھمکی دے دی۔
ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق فوجی بیان میں کہا گیا کہ میجر جنرل محمد الغماری دشمن اسرائیل کے خلاف ایک باعزت جنگ میں مارے گئے، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ان کی شہادت کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب 2 سالہ غزہ جنگ میں جنگ بندی کو چند ہی دن گزرے ہیں، جس دوران حوثیوں نے بارہا اسرائیلی اہداف اور بحیرہ احمر میں کارگو جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔
حوثی بیان کے مطابق میجر جنرل محمد الغماری اپنے چند ’ساتھیوں‘ اور اپنے 13 سالہ بیٹے کے ساتھ شہید ہوئے، تاہم حملے کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ستمبر کے آخر میں یمن پر کیے گئے آخری بڑے فضائی حملے میں حوثیوں کے جنرل اسٹاف ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
تاہم اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’محمد الغماری اپنے زخموں کے باعث چل بسے، ان کے مطابق یہ وہی حملہ تھا جو اگست میں کیا گیا تھا، جس میں حوثی وزیرِاعظم اور ان کی کابینہ کا نصف حصہ مارا گیا تھا‘۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ محمد الغماری ’ان دہشت گرد کمانڈروں میں شامل تھے جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے تھے، ہم ان سب تک پہنچیں گے‘۔
ایران کے ’محورِ مزاحمت‘ میں شامل حوثی گروپ نے غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی اور امریکی افواج کے ساتھ متعدد بار حملوں کا تبادلہ کیا، بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے اپنی مہم کے دوران 758 فوجی کارروائیاں کیں اور 1835 ہتھیار، بشمول ڈرون اور میزائل استعمال کیے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دشمن کے ساتھ تصادم کے ادوار ختم نہیں ہوئے، اور صہیونی دشمن کو اپنے کیے گئے جرائم کی بازپرس اور سزا ملے گی‘۔
حوثیوں نے غزہ جنگ کے آغاز میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے مصروف تجارتی راستے پر اسرائیل سے منسلک جہازوں پر حملے شروع کیے تھے، ان کے بار بار کیے گئے ڈرون اور میزائل حملوں کے جواب میں اسرائیل نے شدید فضائی کارروائیاں کیں، جن میں اگست کا وہ حملہ بھی شامل تھا جس میں وزیرِاعظم اور دیگر 11 سینئر اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد امریکا کی 7 ہفتے طویل بمباری کے نتیجے میں حوثیوں کے مطابق 300 افراد مارے گئے۔
حوثی، جو یمن کے شمالی پہاڑی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، گزشتہ ایک دہائی سے دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے بڑے حصے پر قابض ہیں۔
سنہ 2015 کے اوائل میں سعودی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے کیے گئے حملے بھی انہیں ہٹانے میں ناکام رہے، جبکہ اس جنگ نے عرب دنیا کے غریب ترین ملک یمن کو ایک بڑے انسانی بحران سے دوچار کر دیا۔
حوثیوں نے براہِ راست اسرائیل پر محمد الغماری کی شہادت کا الزام نہیں لگایا، لیکن کہا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم نہیں ہوئی اور وہ ’اپنے جرائم کی سخت سزا‘ پائے گا۔
گزشتہ اگست میں اسرائیل نے صنعا میں فضائی حملوں کے دوران حوثی گروپ کے چیف آف اسٹاف، وزیرِ دفاع اور وزیرِاعظم کو نشانہ بنایا تھا، اس وقت اسرائیل نے کہا تھا کہ حملے کا ہدف محمد الغماری سمیت دیگر سینئر اہلکار تھے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے غزہ میں گینگز اور مبینہ اسرائیلی تعاون کرنے والوں کو نشانہ بنانا جاری رکھا تو وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی جنگ بندی توڑ دیں گے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’ اگر حماس نے غزہ میں لوگوں کو مارنا جاری رکھا — جو کہ معاہدے کا حصہ نہیں تھا — تو ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ ہم اندر جا کر انہیں مار ڈالیں، اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ!’
یہ بیان بظاہر ٹرمپ کے مؤقف میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ اسی ہفتے کے آغاز میں انہوں نے فلسطینی علاقے میں حماس کی جانب سے گینگز کے خلاف کریک ڈاؤن کی حمایت کی تھی۔
انہوں نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ انہوں نے چند ایسے گینگز کو ختم کیا جو بہت برے تھے، بہت ہی برے گینگز، اور انہوں نے واقعی انہیں ختم کیا، اور کئی گینگ اراکین کو مار ڈالا، اور سچ کہوں تو، اس سے مجھے زیادہ فرق نہیں پڑا، یہ ٹھیک ہے۔’
رپورٹس کے مطابق غزہ میں حماس اور مسلح قبیلوں کے اراکین کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئیں، جن پر الزام ہے کہ وہ انسانی امداد لوٹ رہے تھے اور اسرائیل کے لیے کام کر رہے تھے۔
اتوار کے روز لڑائی کے بعد، غزہ کی وزارتِ داخلہ نے ان گینگز کے اراکین کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جو خونریزی میں ملوث نہیں تھے۔
جون میں، اسرائیلی حکام نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے غزہ کے گینگز کو اسلحہ فراہم کیا تھا، جن میں سے کچھ کے تعلقات داعش سے بھی ہیں، تاکہ حماس کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔
اتوار کو مقامی فورسز کے مطابق اسرائیل سے منسلک ایک غزہ گینگ کے مسلح افراد نے ممتاز فلسطینی صحافی صالح الجفراوی کو قتل کر دیا۔
اسی ہفتے کے آغاز میں مبینہ اسرائیلی ایجنٹوں کو پھانسی دینے کے الزام کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے حماس کی مذمت کی تھی اور ان مبینہ قتل کو ’ ایک گھناؤنا جرم’ قرار دیا تھا۔
محمود عباس کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ ’جو کچھ ہوا وہ ایک جرم ہے، انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، اور قانون کی حکمرانی کے اصول پر ایک سنگین حملہ ہے۔‘
ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے تحت حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا اور غزہ کی حکومت میں اپنی تمام تر کردار سے دستبردار ہونا ہوگا، تاہم یہ واضح نہیں کہ حماس نے ان شرائط کو قبول کیا ہے یا نہیں۔
ہفتے کو نفاذ کے بعد یہ جنگ بندی زیادہ تر برقرار رہی، مگر اسرائیل نے بارہا اس معاہدے کی خلاف ورزی کی، روزانہ فلسطینیوں کو یہ کہہ کر شہید کیا کہ وہ اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے قریب آئے تھے، حالانکہ وہ علاقے واضح طور پر نشان زد نہیں ہیں۔
اسرائیل نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ وہ ایک بار پھر غزہ کے لیے انسانی امداد کو محدود کرے گا، اس الزام پر کہ حماس نے اپنے قبضے میں موجود تمام لاشیں واپس نہیں کیں، اور اس نے غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کو کھولنے سے بھی انکار کر دیا ہے، جس سے علاقے میں آمد و رفت ممکن ہو سکتی تھی۔
ٹرمپ نے اس جنگ بندی کو ’ ایک نئے مشرقِ وسطیٰ کا آغاز’ قرار دیا تھا، لیکن ان کی تازہ دھمکی نے اس معاہدے کے پائیدار رہنے پر شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
غزہ میں امن معاہدے کے نفاذ کے بعد اسرائیل سے مزید 30 شہید فلسطینیوں کی لاشیں غزہ پہنچ گئیں، جن پرتشدد کے نشانات ہیں، حماس نے کہا ہے کہ تمام یرغمالیوں کی وہ لاشیں حوالے کر دی ہیں جن تک رسائی ممکن تھی۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے غزہ کی وزارت صحت کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 30 مزید فلسطینیوں کی لاشیں غزہ پہنچ گئیں، جن میں سے بعض پر ’ تشدد، مارپیٹ، ہاتھ باندھنے اور آنکھوں پر پٹی باندھنے’ کے آثار پائے گئے ہیں۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ ان فلسطینیوں کی شہادت کب اور کیسے ہوئی۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی ) ان لاشوں کو واپس غزہ منتقل کر رہی ہے، یہ ان شہیدوں کی لاشیں ہیں جو جنگ کے دوران اسرائیل کے پاس موجود تھیں۔
منگل اور بدھ کو اسرائیل نے دو گروپوں میں 90 فلسطینیوں کی لاشیں ناصر میڈیکل کمپلیکس منتقل کی تھیں جس کے بعد واپس کی جانے والی لاشوں کی مجموعی تعداد 120 ہو گئی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ان میں سے بہت سی لاشیں تاحال شناخت نہیں کی جا سکیں، اور وزارت نے اہل خانہ کی مدد کے لیے ان کی تصاویر ایک مخصوص ویب سائٹ پر شائع کی ہیں تاکہ وہ اپنے پیاروں کی شناخت کر سکیں۔
ناصر ہسپتال کے مطابق منگل کو حوالے کی گئی لاشوں کے ہاتھ اور پاؤں بندھے ہوئے تھے، ہسپتال نے بتایا کہ یہ لاشیں اسرائیل میں ریفریجریٹروں میں رکھی گئی تھیں اور ان پر ناموں کے بجائے نمبرز درج تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل نے 360 غزہ کے شہدا کی لاشیں واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس ہفتے واپس کی جانے والی لاشوں میں وہی لاشیں شامل ہیں یا نہیں جن کا ذکر معاہدے میں کیا گیا تھا۔
دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ اس نے تمام یرغمالیوں کی وہ لاشیں حوالے کر دی ہیں جن تک اس کی رسائی ممکن تھی، اور یہ کہ ہلاک ہونے والے باقی یرغمالیوں کی لاشیں نکالنے کے لیے ’ بڑے پیمانے پر کوششیں اور خصوصی آلات’ درکار ہیں۔
ایک ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے پاس کم از کم مزید 6 لاشوں تک رسائی موجود ہے۔
جنگ بندی کے باوجود آج اسرائیلی حملوں میں کم از کم 3 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جب کہ حماس کی جانب سے بھیجی گئی مزید 2 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی شناخت ہوگئی۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق طبی ذرائع نے بتایا کہ غیر مستحکم جنگ بندی کے دوران بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں، جن میں آج مزید 3 فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
غزہ کی ایمبولینس سروس کے ایک ذریعے نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ وسطی غزہ پٹی کے بریج مہاجر کیمپ کے مشرقی حصے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک شخص شہید ہو گیا۔
یہ واقعہ اس کے بعد پیش آیا تھا، جب نصیر ہسپتال کے ذرائع نے بتایا تھا کہ آج اسرائیلی حملوں میں 2 فلسطینی مارے گئے ہیں، ایک ڈرون حملے میں، جب کہ دوسرا وہ شخص تھا جو چند روز قبل اسرائیلی افواج کے ہاتھوں زخمی ہوا تھا، اور آج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کو لوگوں کی آمدورفت کے لیے کھولنے میں تاخیر برقرار رہے گی۔
اسرائیل کے وزیر دفاع نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ اگر غزہ کی جنگ بندی ناکام ہو جائے تو حماس کو شکست دینے کے لیے ایک ’جامع منصوبہ‘ تیار کیا جائے۔
حماس نے 2 مزید اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں واپس کر دی ہیں، تاہم اس کا کہنا ہے کہ اب تک جتنی لاشوں تک رسائی ملی، وہ تمام اسرائیل کے حوالے کر دی ہیں، ملبے کے نیچے دبی مزید لاشوں کو نکالنے کے لیے خصوصی آلات اور امداد کی ضرورت ہوگی۔
اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل کی غزہ پر جنگ میں کم از کم 67 ہزار 938 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 70 ہزار 169 زخمی ہو چکے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں اسرائیل میں ایک ہزار 139 افراد ہلاک ہوئے تھے، اور تقریباً 200 افراد کو یرغمال بنالیا گیا تھا۔
غزہ کی میڈیکل ریلیف سوسائٹی کا کہنا ہے کہ صحت کی خدمات تباہ ہو چکی ہیں۔
غزہ میں میڈیکل ریلیف سوسائٹی کے ڈائریکٹر نے دوبارہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ علاقے میں صحت کی تمام خدمات تباہ ہو چکی ہیں، اور کوئی فعال صحت کا نظام باقی نہیں رہا۔
محمد ابو عفاش نے ’الجزیرہ عربی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ کے صحت کے نظام کو اسرائیلی افواج کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غذائی قلت کے کئی مریض اب بھی فالو اپ اور علاج کے محتاج ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کا کہنا ہے کہ اس کے پاس غزہ کے باہر اتنی خوراک موجود ہے، جو 3 ماہ تک لوگوں کی ضروریات پوری کر سکتا ہے، اور اس کی ٹیمیں ترسیل کے لیے تیار ہیں۔
ایجنسی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’جنگ بندی کے باوجود، اسرائیلی حکام کی جانب سے یو این آر ڈبلیو اے کو غزہ میں امدادی سامان لے جانے پر پابندی اب 7 ماہ سے زائد عرصے سے برقرار ہے‘۔
یو این ایجنسی نے مزید کہا کہ ’ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم غزہ میں ابھی مکمل پیمانے پر امداد پہنچا سکیں‘۔
اسرائیلی فوج نے بدھ کی رات غزہ سے واپس لائی گئی دو قیدیوں کی لاشوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔
فوج کے مطابق اسرائیل کے نیشنل سینٹر فار فرانزک میڈیسن نے اسرائیلی پولیس اور فوج کے تعاون سے ان باقیات کی شناخت عنبر ہائیمان اور محمد الاطرش کے طور پر کی ہے۔
فوج کا کہنا ہے کہ 27 سالہ عنبر ہائیمان نوا میوزک فیسٹیول میں موجود تھی اور 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہو گئی تھی، اس کی لاش بعد میں غزہ لے جائی گئی۔
39 سالہ ایڈوانسڈ اسٹاف سارجنٹ محمد الاطرش اسرائیلی فوج کی شمالی بریگیڈ میں خدمات انجام دے رہے تھے، وہ بھی 7 اکتوبر کو لڑائی کے دوران مارے گئے اور ان کی لاش بھی غزہ لے جائی گئی تھی۔
فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’حماس پر لازم ہے کہ وہ معاہدے کے اپنے حصے پر عمل کرے اور تمام ضروری کوششیں کرے، تاکہ ہلاک شدہ مغویوں کی لاشیں ان کے اہلِ خانہ کو مناسب تدفین کے لیے واپس کی جا سکیں’۔
ایک اندرونی پہلو ہے جس سے اسرائیلی حکام بخوبی واقف ہیں، اسرائیلی قیدیوں کے اہلِ خانہ مایوس ہیں۔ وہ لاشوں کی واپسی میں تاخیر پر سخت اذیت میں ہیں، لیکن ثالثوں اور اسرائیلی حکام کو پہلے ہی معلوم تھا کہ اس عمل میں وقت لگے گا، ہفتے، بلکہ شاید مہینے لگ سکتے ہیں۔
جنوری میں، اس معاہدے پر دستخط ہونے سے بہت پہلے، اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کو علم تھا کہ کچھ لاشیں شاید کبھی نہ مل سکیں اور انہوں نے یہ بات کھلے عام کہی تھی۔
فی الحال یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ سامان کو اندر جانے کی اجازت دینا ضروری ہے، کیوں کہ ملبہ ہٹانا پڑے گا، 5 کروڑ 50 لاکھ ٹن ملبہ پورے غزہ میں بکھرا ہوا ہے، اور 10 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کے اس ملبے کے نیچے دبے ہونے کا خدشہ ہے، لہٰذا یہ ایک دیو ہیکل کام ہے۔
اسرائیل دباؤ ڈال رہا ہے، ان خدشات کو ہوا دے رہا ہے اور ان سیاسی اتحادیوں سے مخاطب ہے جو جنگ دوبارہ شروع کرنے کے بہانے تلاش کر رہے ہیں، مگر اس وقت بمباری دوبارہ شروع کرنے کا بٹن دبانا شاید اسرائیل کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہے۔
فی الحال، اسرائیل ایک بار پھر خوراک، دوائی، پانی، اور بحالی کے لیے ضروری سامان کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اس نے غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد میں بڑی کمی کر دی ہے۔
اسرائیل حماس کے معاہدے پر عمل درآمد کے معاملے میں جج، جیوری اور ایگزیکیوشنر، تینوں کا کردار ادا کر رہا ہے، حالاں کہ اس معاہدے میں لاشوں کی واپسی کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا تھا۔
بہرحال، اس معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرم الشیخ میں دستخط کیے تھے، متن میں یہ لکھا ہے کہ تمام اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں گے، اس وقت اسرائیل میں 200 امریکی فوجی موجود ہیں جو اسی مقصد کے لیے ہیں، اور نگرانی کر رہے ہیں۔
سوئیڈن کے نیوز آؤٹ لیٹ ’افٹُن بلادیٹ‘ نے ایک انٹرویو میں رپورٹ کیا ہے کہ سویڈش کارکن گریٹا تھیونبرگ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اسرائیلی حراست کے دوران ’تشدد کا نشانہ بنایا گیا، تذلیل کی گئی، اور یہاں تک کہ ’پنجرے میں گیس بھرنے‘ کی دھمکی دی گئی‘۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق گریٹا ان 450 افراد میں شامل تھیں، جو گلوبل صمود فلوٹیلا کے جہاز پر سوار تھے، یہ ایک انسانی ہمدردی پر مبنی امدادی مشن تھا، جس میں 40 سے زائد کشتیوں نے حصہ لیا تھا، اس مشن کا مقصد غزہ کی پٹی میں خوراک، پانی اور ادویات پہنچانا تھا، جہاں اسرائیل کی جانب سے دو سال سے محاصرہ جاری ہے۔
یہ کشتیاں یکم اکتوبر کو اسرائیلی بحریہ نے روک لی تھیں اور گریٹا سمیت تمام کارکنوں کو گرفتار کر کے اسرائیلی حراست میں لے لیا گیا تھا، انہیں 6 اکتوبر کو رہا کر کے یونان بھیج دیا گیا تھا۔
اپنے انٹرویو میں گریٹا تھیونبرگ نے اسرائیلی حراست میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کو بیان کیا ’تحقیر، تشدد کی دھمکیاں، اور جسمانی مارپیٹ‘۔
افٹُن بلادیٹ نے لکھا کہ وہ اپنے بارے میں یا اس اذیت کے بارے میں سرخیاں نہیں چاہتیں جس کا وہ کہتی ہیں کہ انہیں سامنا کرنا پڑا، یہ ان کی ابتدائی باتوں میں سے ایک تھی، جب وہ اپنے ملک واپس آئیں۔
سرگیلز ٹورگ میں گلوبل صمود فلوٹیلا میں شریک دیگر سوئیڈش کارکنوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران گریٹا نے کہا کہ ’یہ میرے یا فلوٹیلا کے دیگر افراد کے بارے میں نہیں ہے، ہزاروں فلسطینی، جن میں سیکڑوں بچے شامل ہیں، اس وقت بغیر کسی مقدمے کے قید ہیں، اور ان میں سے کئی پر تشدد کیا جا رہا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ ’اگر اسرائیل پوری دنیا کی موجودگی میں، ایک مشہور، سفید فام، سوئیڈش پاسپورٹ رکھنے والی شہری کے ساتھ ایسا سلوک کر سکتا ہے، تو ذرا سوچیں کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ بند کمروں میں کیا کرتے ہوں گے‘۔
گریٹا نے کہا کہ فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ اس اذیت کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس کا فلسطینی دہائیوں سے سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی قید کے مقام کی دیواروں پر گولیوں کے سوراخ، خون کے دھبے، اور فلسطینی قیدیوں کے کندہ کردہ پیغامات دیکھنے کا ذکر کیا۔
گریٹا نے اس رات کا ذکر بھی کیا، جب اسرائیلی فوج نے فلوٹیلا پر چڑھائی کی اور بتایا کہ اسرائیل نے کیمیائی مواد استعمال کیا اور اب وہ کبھی بھی ستاروں بھرا آسمان دیکھ کر ڈرونز کو بھول نہیں سکیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ وہاں نیچے بہت زیادہ گرمی تھی، ہم بس بیٹھے رہے، جو لوگ ہمیں نہیں دیکھ رہے تھے، وہ کشتی کے گرد گھوم رہے تھے، چیزیں توڑ رہے تھے اور ہر چیز ادھر اُدھر پھینک رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق کہ تقریباً 20 گھنٹے بعد وہ اشدود پہنچے تھے، جو اسرائیل کی سب سے بڑی صنعتی بندرگاہ ہے اور تل ابیب سے 40 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے، ایک فوجی نے گریٹا تھیونبرگ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ’تم پہلے، چلو!‘
امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام ) نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ امن منصوبے پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر غیرمسلح ہوجائے۔
شفق نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایکس اکاؤنٹ پر کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا بیان جاری کیا گیا ہے جس میں ایڈمرل بریڈ کوپر نے موجودہ صورتحال کو ’ امن کے لیے ایک تاریخی موقع’ قرار دیا اور زور دیا کہ حماس کو چاہیے کہ وہ مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے، صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر سختی سے عمل کرتے ہوئے، بلاتاخیر غیر مسلح ہو جائے۔
ایڈمر بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکا نے امن عمل میں شامل ثالثوں کے سامنے اپنے خدشات رکھے ہیں اور انہوں ( ثالثوں ) نے واشنگٹن کے ساتھ تعاون پر اتفاق کیا ہے تاکہ جنگ بندی کو نافذ کیا جا سکے اور غزہ کے شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
حماس نے کوپر کے بیان پر تاحال کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم تنظیم نے ہمیشہ یہ مؤقف اپنایا ہے کہ اس کی کارروائیاں عام شہریوں کے خلاف نہیں بلکہ ان افراد کے خلاف ہیں جو جنگ کے دوران پیدا ہونے والے حالات سے فائدہ اٹھانے والے مجرم گروہوں اور مبینہ تعاون کاروں کو نشانہ بناتی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں علاقائی اور بین الاقوامی رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی کو مضبوط کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک سیاسی عمل شروع کرنے پر زور دیا گیا۔
خیال رہے کہ 13 اکتوبر کو مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن سربراہی کانفرنس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اور مصر، قطر اور ترکیہ کے سربراہان نے دستخط کیے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ 20 نکاتی غزہ امن منصوبہ 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں پیش کیا تھا۔
اسرائیل نے قید میں رکھے گئے مزید 45 بے گناہ فلسطینیوں کی لاشیں غزہ میں حکام کو واپس کر دیں ہیں۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ اسرائیل نے بین الاقوامی کمیٹی آف ریڈ کراس کے ذریعے مزید 45 فلسطینیوں کی لاشیں حکام کے حوالے کر دی ہیں، جس کے بعد واپس کی جانے والی لاشوں کی مجموعی تعداد 90 تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت نے بتایا کہ طبی ٹیمیں لاشوں کے معائنے، قانونی کارروائی اور اہلخانہ کے حوالے کرنے کی تیاری کے عمل کو طے شدہ طبی پروٹوکول کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہیں۔
طبی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ 14 اکتوبر کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے واپس کی گئی کچھ فلسطینی لاشوں کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں اور ہاتھ باندھے ہوئے تھے، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ ممکنہ طور پر ان افراد کو شہید کیا گیا۔
دریں اثنا، امن معاہدے کے باوجود اسرائیل غزہ میں امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے، الجزیرہ کے مطابق غزہ میں 600 ٹرکوں کے ہدف کے باوجود امدادی قافلے محدود تعداد میں داخل ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج اب بھی غزہ کی پٹی میں امدادی سامان کی ترسیل پر پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے، معاہدے کے تحت روزانہ کم از کم 600 امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ انسانی بحران کو کم کیا جا سکے۔
تاہم، فی الحال امداد انتہائی معمولی مقدار میں متاثرہ پٹی میں پہنچ رہی ہے، آج صبح سے اب تک صرف 12 امدادی ٹرک وسطی علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔
قطری نشریاتی ادارے کے مطابق ہم اس پیشرفت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں ذرائع سے پتا چلا کہ غزہ کے لوگوں کو صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی تباہ شدہ مقامی کمیونٹی کو دوبارہ سنبھالنے کے لیے بھی امداد کی ضرورت ہے۔
کئی خاندانوں نے ہمیں بتایا ہے کہ لوگوں کو ہسپتالوں کی بحالی کے لیے ایندھن، زخمیوں کے علاج کے لیے ادویات اور تباہ شدہ گھروں کی تعمیرِ نو کے لیے تعمیراتی سامان کی اشد ضرورت ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 25 افراد کی لاشیں، جن میں سے 16 کو مختلف جگہوں سے ملبے سے برآمد کیا گیا، انہیں مختلف ہستپالوں میں پہنچا گیا۔ اس کے علاوہ 35 زخمیوں کو بھی طبی امداد کے لیے ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
وزارت نے بتایا کہ اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 67 ہزار 938 افراد شہید اور ایک الکھ 70 ہزار 169 زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارت کے روزانہ جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، اب بھی متعدد لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں کیونکہ ایمبولینس اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں کئی مقامات تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
یہ ہرگز حیران کُن نہیں کہ گزشتہ جمعے کو نوبیل امن انعام کے اعلان سے قبل قیاس آرائیاں عروج پر تھیں۔ ان قیاس آرائیوں میں سے زیادہ تر کا محور یہ تھا کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ انعام دیا جائے گا یا نہیں حالانکہ اس دوران اس بات کو کافی حد تک نظر انداز کر دیا گیا کہ اس انعام کے لیے نامزدگیوں کا عمل جنوری کے مہینے میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔
لہٰذا امریکی صدر کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے 8 جنگیں روکی ہیں، کسی اہمیت کا حامل نہیں تھا۔ ہاں یہ دعوے اگلے سال شاید ان کے کچھ کام آسکیں۔
حالیہ دنوں میں نوبیل امن انعام کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر نامزد کیا گیا جوکہ بنیامین نیتن یاہو نے یروشلم کی کنیسٹ میں اپنے خطاب میں کیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی شرم الشیخ میں ہونے والی نام نہاد امن کانفرنس کے دوران ٹرمپ کی توثیق کی حالانکہ مصر میں یہ امن کانفرنس ایک بے معنی اجلاس تھا جہاں 20 سے زائد خوشامدی رہنما ایک چھت تلے جمع ہوئے تاکہ وہ بادشاہ کی تعریفوں کے پُل باندھ سکیں۔
شہباز شریف نے عقلِ عام اور عالمی رائے عامہ دونوں کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ’آپ وہ شخصیت ہیں جس کی اس وقت دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے‘۔ امریکی صدر کا جواب بھی اسی طرح مبالغہ آمیز تھا، ’واہ! مجھے یہ توقع نہیں تھی۔ چلیے گھر چلتے ہیں، میرے پاس کہنے کو اب کچھ نہیں۔۔۔ یہ واقعی بہت خوبصورت تقریر تھی اور اسے خوبصورتی سے پیش کیا گیا‘۔
اس سے پہلے ٹرمپ اپنی تقریر میں جنرل عاصم منیر کو ’اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ قرار دے چکے تھے۔ پاکستانی ریاست یقیناً امریکی صدر کی اس ’منظوری‘ پر خوش ہوگی اور شاید امریکی وعدہ خلافیوں کی تاریخ کو بھلا بیٹھی ہے جو 1950ء کی دہائی میں واشنگٹن کو نجات دہندہ سمجھ کر گلے لگانے کے بعد سے بار بار دہرائی گئی ہیں۔
غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے قتل عام کو کم از کم عارضی طور پر روکنے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کے حوالے سے کی جانے والی تعریفیں، اُن مبہم پہلوؤں پر پردہ ڈال دیتی ہیں جو اُن کے نام نہاد امن منصوبے کا حصہ ہیں۔
یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں فلسطینی حقِ خودارادیت کے تصور کی کوئی گنجائش نہیں جبکہ ‘ٹرمپ اقتصادی منصوبہ’ اس چھوٹے سے علاقے کے لیے خطرہ ہے جس کا نصف سے زائد حصہ اب بھی اسرائیلی قبضے میں ہے۔ غزہ کے تباہ حال انفرااسٹرکچر کی تعمیرِ نو میں ایک دہائی یا اس سے زائد عرصہ لگ سکتا ہے اور جو لاکھوں جانیں اس دوران ضائع ہو چکی ہیں، ان کا کوئی ازالہ ممکن نہیں ہے۔
اس ماہ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو توسیع دیتے ہوئے، اگر کسی طویل المدتی قیامِ امن کی گنجائش موجود بھی ہے تو یہ وقت ہی بتائے گا کہ آیا کوئی بھی فریق اس امکان کو سنجیدگی سے لیتا ہے یا نہیں۔ ایک ایسا قتل عام جو گریٹر اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرے، اب بھی صہیونی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
اور یہ بالکل واضح نہیں کہ امریکی انتظامیہ چاہے ٹرمپ کی ہو یا کسی اور کی، اسرائیلی کارروائیوں کو روکنے کی صلاحیت یا ارادہ رکھتی ہے کیونکہ اس نے خود اس خونریزی کی براہ راست سرپرستی کی ہے۔
ٹرمپ کے اگلے سال نوبیل انعام جیتنے کے امکانات وینزویلا کے خلاف امریکا کی عسکری کارروائیوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے رواں سال کی نوبیل انعام یافتہ کا تعلق بھی یہیں سے ہے۔ ماریا کورینا ماچادو نہ صرف ٹرمپ اور نیتن یاہو کی مداح ہیں بلکہ وہ ارجنٹینا کے حاویئر میلی، اٹلی کی جارجیا میلونی اور ہنگری کے وکٹر اوربان جیسے انتہا پسند رہنماؤں کے نظریات سے بھی ہم آہنگ ہیں۔
وہ مارگریٹ تھیچر کو پسند کرتی ہیں جبکہ وہ 2002ء میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والے ہوگو چاویز کے خلاف ناکام بغاوت میں بھی شریک رہیں جبکہ وہ سوشلزم کو ’ہمیشہ کے لیے دفن کرنے‘ کا عزم بھی ظاہر کر چکی ہیں۔ نوبیل انعام کمیٹی نے ماریا کی غیر جمہوری سرگرمیوں نظر انداز کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک ’متحد کرنے والی شخصیت‘ ہیں جو ’وینزویلا کے عوام کی آزادی کے لیے برسوں سے سرگرم ہیں‘۔
ان کے ایک امریکی مداح، دی نیویارک ٹائمز کے کالم نگار بریٹ اسٹیفنز نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ الفریڈ نوبیل کی وصیت کے مطابق یہ انعام اُس شخص کو دیا جانا چاہیے جس نے ’گزشتہ سال کے دوران انسانیت کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا ہو‘۔ انہوں نے یہ نکتہ اس لیے اٹھایا تاکہ وضاحت کی جا سکے کہ رواں سال ٹرمپ کو کیوں کمیٹی نے نظرانداز کیا۔ چلیے یہ تو ٹھیک ہے لیکن وہ اس بات کی وضاحت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے کہ ماریا کورینا ماچادو نے آخر ’انسانیت کو سب سے زیادہ فائدہ‘ کیسے پہنچایا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب ناروے کی نوبیل کمیٹی نے انعام دینے میں سنگین حماقت کا مظاہرہ کیا ہو۔ آخر کو کمیٹی نے ہینری کیسنجر کو بھی نوبیل امن انعام سے نوازا تھا جس پر ہارورڈ کے ریاضی دان اور جز وقتی نغمہ نگار ٹام لیہرر نے 50 سال سے بھی پہلے طنزیہ کہا تھا کہ اب طنز مرچکا ہے۔
1973ء میں جب یہ انعام دیا گیا تو ہینری کیسنجر کے ساتھ مشترکہ طور پر یہ انعام جیتنے والے شمالی ویتام کے لی ڈک تھو نے دانشمندی سے یہ اعزاز قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اس وقت ویتنام جنگ ختم نہیں ہوئی تھی۔
آج غزہ یا وینزویلا کا مستقبل کیا ہوگا، یہ ایک راز ہے۔ نہ تو وینزویلا کی ناکام نکولس مادورو کی حکومت اور نہ ہی حماس کی کارروائیاں اتنی سنگین ہیں جتنا کہ اسرائیلی دفاعی افواج کے مظالم ہولناک ہیں۔ نسل کش کارروائیوں کو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی میں کھلی چھوٹ دی گئی۔ خود پذیرائی اور اپنی ٹیم کی غیر حقیقی تعریفوں سے ہٹ کر، امریکی صدر کی کنسیٹ میں تقریر کا اصل مقصد اسرائیل اور اس کے موجودہ وزیر اعظم کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کرنا تھا۔
ان کے لیے اراکین نے کھڑے ہو کر خوب تالیاں بجائی گئیں۔ اگرچہ ایک مختصر خلل بھی آیا لیکن اگر وہ فلسطینیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے تو شاید ایسا نہ ہوتا۔ وہ تعریفیں جن پر وہ فخر سے جھومتے ہیں، شرم الشیخ کے اجتماع میں بھی کسی طور ان میں کمی نہیں آئی۔ اس کانفرنس میں آخری لمحے پر ٹرمپ کو نیتن یاہو کو اپنے ساتھ لانے سے روکا گیا تھا۔
ٹرمپ اپنے اُس امن بورڈ کے لیے پُرجوش ہیں جس کی سربراہی وہ کرنے والے ہیں لیکن یہ ابھی معلوم ہونا باقی ہے کہ جب وہ قیام امن سے بیزار ہوجائیں گے تو اس کے بعد کیا ہوگا۔ یہ بات فلسطین کے لیے تو اہم ہے ہی بلکہ وینزویلا کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماریا ماچادو اُس ہر فیصلے کی منظوری دیں گی جو وہ وینزویلا کے لیے کریں گے۔ ممکن ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اُن کی ہم عصر شخصیت نیتن یاہو کے بجائے محمود عباس ہوں۔
ٹرمپ اگلے سال کے نوبیل انعام کے لیے ممکنہ امیدوار ہو سکتے ہیں حالانکہ فرانچیسکا البانیز، گریٹا تھیونبرگ یا ورلڈ سینٹرل کچن ٹرمپ سے کہیں زیادہ اس انعام کے مستحق ہیں۔
یہ تحریر انگریزی میں پڑھیے۔
حماس نے مزید 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالے کر دی ہیں، جس سے اب تک واپس کی جانے والی لاشوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے، مزید لاشیں بھی آج اسرائیل کے حوالے کی جائیں گی، غزہ میں امدادی سامان کے ٹرک بھی داخل ہوگئے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسرائیل نے دھمکی دی کہ وہ غزہ میں صرف طے شدہ امدادی ٹرکوں کی نصف تعداد کو داخل ہونے کی اجازت دے گا اور رفح کراسنگ کو کھولنے میں تاخیر کرے گا، اس کی وجہ اس نے قیدیوں کی لاشوں کی سست رفتاری سے واپسی کو قرار دیا، تاہم بعد ازاں وہ اس دھمکی سے پسپا ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً 20 لاشیں اب بھی غزہ میں موجود ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دے، اور خبردار کیا کہ ’اگر وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے تو ہم انہیں غیر مسلح کر دیں گے، اور یہ عمل تیزی سے اور ممکنہ طور پر پرتشدد طریقے سے ہوگا‘۔
اسرائیل کی غزہ پر مسلط کردہ جنگ میں کم از کم 67 ہزار 913 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 70 ہزار 134 زخمی ہوئے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں اسرائیل میں ایک ہزار 139 افراد ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً 200 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا، تاہم گزشتہ ہفتے سے ہونے والی جنگ بندی اب تک برقرار ہے۔
جنگ بندی معاہدہ ہوئے تقریباً ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود اسرائیل اب بھی غزہ میں داخل ہونے والے امدادی ٹرکوں کی تعداد محدود کر رہا ہے۔
اسرائیل نے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ وہ صرف 300 ٹرکوں کو اجازت دے گا, جو ٹرمپ منصوبے کے تحت طے شدہ کم از کم تعداد کا نصف ہے۔
اسرائیلی حکام نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے، کیوں کہ غزہ میں اب بھی 20 قیدیوں کی لاشیں موجود ہیں۔
الجزیرہ کی سینئر نمائندہ نور اودے نے اردن سے رپورٹ کیا کہ یہ تصدیق موصول ہو رہی ہے کہ صہیونی سیاسی قیادت نے دراصل ایک ایسا قدم اٹھایا تھا، جسے زیادہ تر ایک دکھاوے کے طور پر دیکھا گیا تھا، اور وہ اب پیچھے ہٹ رہی ہے۔
یاد رہے کہ معاہدے میں یہ شرط شامل نہیں تھی کہ تمام 28 لاشوں کی واپسی 72 گھنٹوں کے اندر ہونی لازمی تھی، وہ مدت صرف زندہ قیدیوں پر لاگو ہوتی تھی۔
جنوری ہی میں اس بات کا اعتراف اور تسلیم کر لیا گیا تھا کہ لاشوں کو بازیاب کرنا ایک مشکل عمل ہے۔
موساد کے سربراہ نے قیدیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی اور اس معاملے پر اس وقت بھی بات چیت کی تھی جب ابھی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔
یہ واضح نہیں ہے کہ ثالثوں نے اس معاملے میں کیا کردار ادا کیا، لیکن اسرائیلی نشریاتی ادارے اور دیگر اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے اقوامِ متحدہ سے اپنی پہلے کی گئی بات چیت، جس میں امدادی ٹرکوں کی تعداد آدھی کرنے اور رفح کراسنگ نہ کھولنے کا عندیہ دیا گیا تھا، سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔
رفح کراسنگ انتہائی اہم ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے ہزاروں فلسطینیوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر منتقل کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے ’کان‘ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ رفح کراسنگ کو آج دوبارہ کھولا جائے گا، جیسا کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت پہلے سے طے کیا گیا تھا۔
اس سے قبل یہ اطلاع دی گئی تھی کہ اسرائیل اس اہم امدادی راستے کو دوبارہ کھولنے میں تاخیر کرنے کی دھمکی دے رہا ہے، تاہم کان کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت واپس لے لیا گیا جب منگل کی رات حماس نے مزید 4 قیدیوں کی لاشیں واپس کر دیں اور کہا کہ وہ آج مزید لاشیں واپس کرے گا۔
شمالی اٹلی کے شہر یوڈائن میں ہزاروں فلسطین کے حامی مظاہرین نے اسرائیل کے خلاف ہونے والے ورلڈ کپ فٹبال کوالیفائنگ میچ سے قبل مارچ کیا، زیادہ تر پُرامن رہنے والے اس احتجاج کا اختتام پولیس کے ساتھ جھڑپوں پر ہوا۔
پولیس کے ابتدائی اندازوں کے مطابق 5 ہزار سے زائد مظاہرین اس مارچ میں شریک تھے، یہ ریلی منگل کی شام کے وقت شہر کے مرکزی علاقوں سے گزرتی ہوئی فریولی اسٹیڈیم تک پہنچی، جہاں رات 8:45 پر میچ شروع ہوا، جو اٹلی نے 0-3 سے جیت لیا تھا۔

مظاہرے کے منتظمین کا تعلق کمیٹی فار فلسطین-یوڈائن سے تھا، انہوں نے فیفا سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو تمام مقابلوں سے باہر کرے، انہوں نے یہ مؤقف اپنایا کہ اسرائیلی ٹیم فلسطینی علاقوں میں قبضے کی پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے۔
مظاہرین نے 18 میٹر طویل فلسطینی پرچم اور ایک بڑا سرخ بینر اٹھا رکھا تھا، جس پر احتجاج کا نعرہ درج تھا ’اسرائیل کو ریڈ کارڈ دکھاؤ‘۔
ان کے درمیان ایک دھات کی بنا ہوا مجسمہ بھی تھا، جو انصاف کی علامت کے طور پر ایک ہاتھ میں ترازو اور دوسرے میں ریڈ کارڈ تھامے ہوئے تھا۔
ایک مظاہرہ کرنے والی خاتون ویلنٹینا بیانکی نے کہا کہ ’جنگ بندی تو ہو گئی ہے، مگر امن نہیں ہوا، جیسا کہ میں نے اپنے پلے کارڈ پر لکھا ہے، انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں ہے‘۔
مارچ کے اختتام پر کچھ مظاہرین نے پولیس پر آتش بازیاں اور بیریئرز پھینک دیے، جس کے جواب میں پولیس نے پانی کی توپوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا، بعد ازاں مظاہرین منتشر ہوگئے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے گزشتہ رات حوالے کی گئی چار لاشوں میں سے ایک لاش کسی بھی مغوی سے مطابقت نہیں رکھتی۔
بی بی سی نیوز کے مطابق حماس کو غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت باقی 48 مغویوں کو واپس کرنا تھا، اب تک 20 زندہ مغویوں اور 7 مغویوں کی لاشیں واپس کی جا چکی ہیں۔
گزشتہ رات حوالے کی گئی باقی 3 لاشوں کی شناخت تمیر نمروڈی، ایتان لیوی، اور یوریل باروخ کے طور پر ہوئی ہے۔
لاشوں کی حوالگی میں تاخیر کے جواب میں اسرائیل نے دھمکی دی تھی کہ وہ غزہ میں امداد کو محدود کرے گا اور رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے میں تاخیر کرے گا۔
جنگ بندی کے معاہدے میں بظاہر یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کو مغویوں کی باقیات تلاش کرنے میں پیر تک کی ابتدائی آخری تاریخ سے پہلے مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس ہتھیار ڈال دے، ورنہ ہم اسے غیر مسلح کریں گے، غزہ سے تمام 20 اسرائیلی یرغمالی واپس آچکے ہیں، اب امن معاہدے کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے، تاہم وعدے کے برخلاف ہلاک اسرائیلوں کی لاشیں واپس نہیں کی گئیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ تمام 20 یرغمالی واپس آ چکے ہیں، اور وہ حالات کو بہتر محسوس کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایک بڑا بوجھ ہٹ گیا ہے، لیکن کام ابھی مکمل نہیں ہوا کیونکہ وعدے کے برعکس ہلاک اسرائیلیوں کی لاشیں واپس نہیں کی گئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دوسرا مرحلہ ابھی سے شروع ہوتا ہے۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا کہ اسے اپنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے، ورنہ ’ہم انہیں غیر مسلح کر دیں گے،‘ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل اور غزہ کے مستقبل کے حوالے سے بڑے سوالات اب بھی موجود ہیں۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ارجنٹائن کے صدر جویئر میلی کے ساتھ ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں گے، اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا، تو ہم انہیں غیر مسلح کر دیں گے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ یہ کیسے کریں گے، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’مجھے یہ آپ کو سمجھانے کی ضرورت نہیں، لیکن اگر وہ غیر مسلح نہیں ہوئے، تو ہم انہیں غیر مسلح کر دیں گے، انہیں پتا ہے کہ میں مذاق نہیں کر رہا۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ عمل ’تیزی سے اور شاید طاقت کے استعمال کے ذریعے‘ ہو سکتا ہے۔
جب ان سے غیر مسلح کرنے کے لیے وقت کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک مناسب عرصے میں یہ بہت جلد ہو گا، مگر کوئی مخصوص مدت نہیں بتائی۔
واضح رہے کہ 13 اکتوبر کو فلسطینی مزاحمتی گروپ ’حماس‘ نے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد غزہ میں موجود تمام 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو 2 مرحلوں میں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے حوالے کر دیا تھا، اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے اور قیدیوں کی 38 بسیں اسرائیل سے غزہ پہنچ گئی تھیں۔
گزشتہ روز مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن سربراہی کانفرنس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اور مصر، قطر اور ترکیہ کے سربراہان نے دستخط کر دیے تھے۔
کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف نے کی جبکہ دیگر شرکا میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز شامل تھے۔
معاہدے پر دستخط کے بعد عالمی رہنماؤں کے ہمراہ اپنے خطاب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ وہ دن ہے جس کے لیے اس خطے اور دنیا بھر کے لوگ کوششیں اور دعائیں کررہے تھے۔
انہوں نے کہا تھا کہ پچھلے ایک ماہ کے دوران جو کچھ ہوا، اس کی قطعی توقع نہیں تھی کہ ایسا ہوسکتا تھا، آج ہم نے وہ حاصل کرلیا جس کے بارے میں ہر کوئی یہ کہہ رہا تھا کہ یہ ناممکن ہے مگر آخر کار ہم مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اس کے لیے میں سب کو مبارکباد دیتا ہوں۔
انہوں نے کہا تھا کہ برسوں کی تباہی و بربادی اور خونریزی کے بعد غزہ میں جنگ اب ختم ہوچکی ہے، انسانی امداد وہاں پہنچ رہی ہے، اور خوراک، ادویہ اور دیگر اشیائے ضروریہ سے لدے سیکڑوں ٹرک وہاں پہنچ رہے ہیں، یرغمالی واپس پہنچ گئے ہیں اور شہری اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں امداد داخل ہونے سے روک رہا ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی ’انروا‘ نے بتایا کہ اسرائیل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لائی جانے والی امداد کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے، ایجنسی نے مطالبہ کیا کہ امداد پر عائد پابندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
انروا نے ایک بیان میں کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے کی امداد، خوراک، صفائی کی کٹس، ادویات اور عارضی خیموں کے لیے ضروری سامان غزہ کے باہر گوداموں میں موجود ہے، جنہیں اسرائیلی ریاست نے اندر آنے سے روک رکھا ہے۔
ادارے نے کہا کہ ہمارے پاس مصر اور اردن میں غزہ کی پوری آبادی کے لیے 3 ماہ کی خوراک موجود ہے، جو منتقلی کی اجازت کی منتظر ہے۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے کہا کہ مزید وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا، ہمیں فوری اجازت کی ضرورت ہے تاکہ یو این آر ڈبلیو اے کی امدادی اشیا غزہ لانا شروع کی جائیں اور ہماری ٹیمیں انہیں ضرورت مندوں تک پہنچا سکیں، یو این آر ڈبلیو اے کی امداد پر پابندی فوری طور پر ختم کی جانی چاہیے۔
دریں اثنا، غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 44 لاشیں اور 29 زخمی افراد کو مختلف ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے۔
وزارت نے بتایا کہ 38 شہید افراد کی لاشیں ملبے کے نیچے سے نکالی گئیں، وزارت صحت نے خدشہ ظاہر کیا کہ متعدد متاثرین اب بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، جن تک ایمبولینس اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں پہنچنے سے قاصر ہیں۔
ادارے کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک مجموعی طور پر 67 ہزار 913 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 70 ہزار 134 زخمی ہو چکے ہیں۔
فٹبال کی عالمی تنظیم (فیفا) کے صدر جیانی انفنتینو نے غزہ امن اجلاس کے موقع پر کہا کہ جنگ بندی کے بعد غزہ میں فٹبال کی تمام سہولیات کو دوبارہ تعمیر کیا جائےگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی مشترکہ سربراہی میں ہونے والے اجلاس کا مقصد حالیہ جنگ بندی کو مضبوط بنانا، دو سالہ جنگ کا خاتمہ کرنا اور غزہ میں طویل مدتی استحکام اور تعمیرِ نو کے منصوبے تیار کرنا تھا۔
اہم اجلاس میں مسلم اور عرب دنیا کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت یورپ کے اعلیٰ سربراہانِ مملکت نے بھی شرکت کی۔
غزہ امن معاہدے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے موقع پر فیفا سربراہ جیانی انفنتینو نے کہا کہ فٹبال کا کردار حمایت اور اتحاد پیدا کرنا اور اس خطے میں امید فراہم کرنا ہے، ہم یقینا غزہ اور فلسطین میں فٹبال کی تمام سہولیات کی تعمیر نو میں مدد فراہم کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیفا فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر ملک کے ہر کونے میں فٹبال کو واپس لائے گی، ہم کھیلنے کے لیے فٹبالز فراہم کریں گے، میدان تعمیر کریں گے، کوچز کو لائیں گے، مقابلوں کے انعقاد میں مدد اور فلسطین میں فٹبال کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے لیے ایک فنڈ قائم کریں گے۔
جیانی انفنتینو نے بتایا کہ فیفا پہلے ہی فلسطین میں منی پچز اور فیفا ایرینا پروگرام کے ذریعے تعاون کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پوری دنیا اس میں حصہ لے، کیونکہ فٹبال بچوں کو امید دیتا ہے اور یہ بہت ضروری ہے۔
فٹبال کی عالمی تنظیم کے سربراہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو بھی سراہا، انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا کردار اس سارے عمل میں انتہائی اہم اور فیصلہ کن رہا، صدر ٹرمپ کے بغیر امن ممکن نہ ہو سکتا تھا۔
صدر ٹرمپ نے رکاوٹیں ختم کیں، لوگوں کو قریب لائے اور درحقیقت مصر، قطر، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، بحرین اور اردن سمیت کئی ممالک کے ساتھ مل کر یہ سب ممکن بنایا۔
جیانی انفنتینو نے سماجی رابطے کی سائٹ ’لنکڈ اِن‘ پر بھی اجلاس میں مدعو کر نے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے لکھا کہ میں نے دنیا کے تمام رہنماؤں پر واضح کر دیا کہ فیفا مدد کے لیے موجود ہے، تعاون کے لیے تیار اور اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کریں گے تاکہ یہ امن عمل کامیاب ہو کر منطقی انجام تک پہنچے۔
غزہ جنگ کے دوران فٹبال کی عالمی تنظیم پر اسرائیل کے خلاف کارروائی کے مطالبات زور پکڑتے رہے جبکہ فلسطینی حکام اسرائیلی ٹیم کو بین الاقوامی فٹبال سے معطل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیفا اور یونین آف یورپین فٹبال ایسوسی ایشن (یو ای ایف اے) کو خط بھیج کر اسرائیلی فٹبال ایسوسی ایشن کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا، یہ معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے فیفا میں زیرِ غور ہے، تاہم، تاحال اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
جیانی انفنتینو نے بارہا کہا ہے کہ ایسے معاملات میں کنفیڈریشنز کے ساتھ اتفاقِ رائے ضروری ہے اور انہیں احتیاط سے نمٹایا جانا چاہیے۔
یہ بیانات اُس وقت سامنے آئے جب فیفا کے نائب صدر وکٹر مونٹاگلیانی نےکہا تھا کہ اسرائیل کی یورپی مقابلوں اور ورلڈ کپ کوالیفائرز میں شرکت کا فیصلہ، یو ای ایف اے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور یہ فیصلہ یورپی فٹبال باڈی کو ہی کرنا ہے۔
فیفا سربراہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ فٹبال تنازعات حل نہیں کر سکتا، مگر اسے امن اور اتحاد کا پیغام ضرور دینا چاہیے۔