اور اب فیس بک ڈرون

ای میل

فیس بک کے مطابق سولر پاور ڈرون کےذریعے انٹرنیٹ فراہم کیا جائے گا۔ فائل تصویر
فیس بک کے مطابق سولر پاور ڈرون کےذریعے انٹرنیٹ فراہم کیا جائے گا۔ فائل تصویر

پاکستان میں ڈرون کا نام خوف اور بیزاری کی علامت ہے لیکن مغرب میں ڈرون پیزا پہنچارہے ہیں ، تحقیق میں مدد دے رہے ہیں۔

تازہ خبر یہ ہے کہ فیس بک نے دنیا کی دوتہائی آبادی کو انتہائی کم قیمت پر انٹرنیٹ پہنچانے کیلئے انٹرنیٹ ڈرونز پر کام شروع کردیا ہے۔

اس بات کا اعلان سوشل میڈیا ویب سائٹ کے سربراہ مارک زکربرگ نے کیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل گوگل بھی انٹرنیٹ غباروں کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرنے کے مقابلے کا اعلان کرچکا ہے۔ ان دونوں کا ہدف ترقی پذیر ممالک ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں۔

فیس بک کی تفصیلات ذیادہ واضح نہیں لیکن منصوبے کے تحت سورج کی توانائی سے اڑنے والے ڈرونز اور نچلے مدار میں گھومنے والے سیٹلائٹ کے ذریعے یہ کام کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ نظر نہ آنے والی انفراریڈ شعاعوں کو نیٹ کنکشن کیلئے استعمال کیا جائے گا۔

فیس بک کی ٹیم نے ہوا بازی کے ماہرین سے پہلے ہی رابطہ کرلیا ہے اور پہلے فلپائن اور یوراگائے کے علاقوں میں اس کی آزمائش کی جائے گی۔

' ہم اس پارٹنرشپ کی طرف جارہے ہیں لیکن پوری دنیا کو انٹرنیٹ فراہم کرنے لئے نئی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوگی،' زکربرگ نے اپنی پوسٹ میں کہا۔

اس کیلئے فیس بک ایئروسپیس اور کمیونکیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین سے رابطہ کرے گی اور اس ضمن میں ناسا کے ماہرین سے بھی مشورہ کیا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ برطانوی فرم ایسینٹا سے بھی رابطہ کیا گیا ہے جس کے مالکان نے لمبے عرصے تک غیرانسانی ڈرون کو سولر قوت سے اڑانے کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ اس سے قبل یہ خبریں بھی تھیں کہ فیس بک ڈرون بنانے والی کمپنی ٹائٹن خریدے گی لیکن مزید تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

زکربرگ ان لوگوں میں شامل ہیں جو انٹرنیٹ کو بنیادی انسانی حق قرار دیتے ہیں۔ نیٹ کی سہولت میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ فیس بک کے صارفین بھی بڑھیں گے اور اس طرح فیس بک کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

گوگل نے ' لون' کے خفیہ نام سے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت جون میں سوئزرلینڈ میں تیس کے قریب غباروں سے انٹرنیٹ فراہم کرنے کا تجربہ کیا جائے گا۔

لیکن اس طرح انٹرنیٹ میں کچھ قباحتیں بھی ہیں جن میں سیاسی مداخلت بھی شامل ہیں کیونکہ ہر حکومت اپنی فضا میں انٹرنیٹ سے جڑے ڈرون یا غباروں کی اجازت نہیں دے گی۔

دوسری جانب موبائل آپریٹرز کو دوسرے طریقے سے نیٹ فراہم کرنے سے بھی خطرہ لاحق ہے پھر ملک کا پورا کمیونکیشن نظام ہی کسی غیر ملکی میں جانے کا خطرہ رہتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی۔