پختون کا سوال

22 اپريل 2014

ای میل

پختونوں کو جہاں سفر سے طاقت اور دولت حاصل ہوئی تو انہیں مصیبتوں اور بدبختی کا بھی سامنا کرنا پڑا-
پختونوں کو جہاں سفر سے طاقت اور دولت حاصل ہوئی تو انہیں مصیبتوں اور بدبختی کا بھی سامنا کرنا پڑا-

سوائے پنجابیوں کے، پاکستان میں بسنے والے لسانی قومی گروپوں کا اپنے بارے میں یہ خیال ہے کہ وہ مظلوم اور نظرانداز ہیں- بنگالیوں، بلوچوں، سرائیکیوں اور بہت سے دیگر لسانی اور نسلی کمیونٹیز نے کسی نہ کسی موقع پر پاکستانی ریاست کی جانب سے ظلم اور استبداد سہا ہے اور اس کے خلاف مزاحمت بھی کی ہے- تاہم ان سب میں سب سے زیادہ بحث طلب معاملہ پختونوں کا ہے جن کی پاکستان میں سیاسی، معاشی اور ثقافتی حیثیت اتنی زیادہ بار تبدیل ہوئی ہے کہ شاید کبھی کسی نے اس پر غور بھی نہ کیا ہو-

ہماری تاریخ کی کتابوں میں اس بات پر زیادہ زور نہیں دیا جاتا کہ 1947 میں ڈیورنڈ لائن کے مشرق میں پختونوں میں غالب سیاسی جذبات، بٹوارے کے خلاف تھے- ہندوستان اور افغانستان سے تعلقات کے تناظر میں، نوزائیدہ پاکستانی ریاست نے پختون قوم پرستوں کو، جن کا بیس خوشحال اور زیادہ آباد، وادی پشاور تھا، سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا- اس کے ساتھ ساتھ ریاست نے نام نہاد "قبائلی" پختونوں کی سرپرستی شروع کر دی جن کے بارے میں خیال تھا کہ وہ وفادار ہیں اور ملک کے دفاع کے لئے آسانی سے موبلائز کئے جا سکتے ہیں- مختصر یہ کہ ابتدائی سالوں سے پختونوں کے ساتھ گاجر اور چھڑی کی پالیسی اپنائی گئی-

وقت کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک ایک سسٹمیٹک (SYSTEMATIC) شریک کار بنانے کے عمل سے پختون علیحدگی پسند تحریک پر قابو پا لیا گیا- سول اور ملٹری سروسز میں پختونوں کو شامل کرنے پر خاص توجہ دی گئی- خفیہ ایجنسیوں میں اب پختون خاصی تعداد میں موجود ہیں جن میں زیادہ تر اسی کی دہائی میں افغان جنگ کے دوران اور بعد میں ان کا حصہ بنے-

اسی دوران، قبائلی علاقوں کو نام نہاد اور نامعقول "نیشنل سیکورٹی" ضروریات کے تحت سیاسی طور پر الگ تھلگ رکھا گیا حالانکہ یہ پالیسی بری طرح لیکن غیر حیران کن طور پر ناکام ثابت ہوئی اور اس کے ہولناک نتائج فاٹا کے عام پختونوں کو بھگتنا پڑے-

اس وحشیانہ تصادم میں، جس کو بہت عرصے تک اسلام کے دشمنوں کے خلاف جنگ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، ہزاروں کی تعداد میں لوگ، ہلاک اور اپاہج ہونے کے ساتھ ساتھ، لاکھوں افراد اپنے علاقوں سے بے گھر ہو چکے ہیں-

یقیناً اب بھی بہت سے پختون اس فرسودہ داستان کا شکار ہیں تاہم یہ دلیل بھی دی جا سکتی ہے کہ ریاست بنیادی طور پر پختونوں کی ثقافت کو اس حد تک مسخ کرنے کی ذمہ دار ہے کہ اس کی پہچان کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے- پختون معاشرے کو پرتشدد تصادم اور ریاست کی تنگ نظری پر مبنی نظریے کے ہولناک نتائج سے باہر نکالنے کے لئے تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے-

سچ کہیں تو اس حقیقت کے باوجود کہ نسلی قومی داستان پر اب بھی پنجاب ہی کا قبضہ ہے تاہم پاکستان کے چند حصوں میں پختون، ریاست کے ہم معنی ہے- بلوچ معاشرے کو فرنٹیئر کورپس کی جانب سے حالیہ برسوں میں بربریت کا سامنا ہے، جو کہ تقریباً مکمل طور پختونوں پر مشتمل ہے- دوسری جانب دیکھا جائے تو عام طور پر تقریباً زندگی کے ہر شعبے میں پختون، بلوچوں کے مقابلے میں معاشی اور پروفیشنلی زیادہ ترقی یافتہ ہیں-

ویسے یہ صرف بلوچستان ہی نہیں جہاں پختونوں کی مالکانہ اور قائدانہ صلاحتیں دیکھی جا سکتی ہیں- کراچی اور ملک بھر کے دیگر شہروں میں پختون، اپنی موبلٹی اور معاشی ہمہ جہتی کا روزانہ کی بنیاد پر مظاہرہ کرتے رہتے ہیں- تاریخ بتاتی ہے کہ یہ رجحان نیا نہیں؛ سینکڑوں سالوں سے پختون بر صغیر کے طول و عرض میں سفر کرتے رہے ہیں اور اکثر ان علاقوں میں ضم ہو گئے جہاں کہ وہ آباد ہوئے-

پختونوں کو جہاں سفر سے طاقت اور دولت حاصل ہوئی تو انہیں مصیبتوں اور بدبختی کا بھی سامنا کرنا پڑا- اسلام آباد کی سبزی منڈی میں ہوئی تباہی کے بارے جو بات ہمیں نہیں بتائی گئی وہ یہ ہے کہ وہاں موجود زیادہ تر دکان دار اور مزدور پختون ہیں اور دھماکے میں ہلاک ہونے والے بھی زیادہ تر پختون ہی تھے- جن کچی آبادیوں میں وہ رہتے ہیں وہاں کے حالات انتہاہی دگرگوں اور مایوس کن ہیں- لیکن اس سے بھی زیادہ برترین تو وہ ہے جو یہ غریب پختون، اسلام آباد، لاہور اور دوسرے شہروں میں نسلی عصبیت، پروفائلنگ اور سیاسی انتقام کے نام پر سہتے ہیں-

یہی وجہ ہے کہ پختون قومی سوال انتہائی پیچیدہ ہے جس کے عناصر دولت کے بلا روک ٹوک جمع کرنے، غربت، مذہبی عسکریت پسندی، موت، ریاستی طاقت کا لالچ اور بالکل بے اختیاری پر مشتمل ہیں- اور اگر دوسری طرح دیکھا جائے تو پاکستان میں پختونوں کی داستان، انتہاؤں کی داستان ہے جس میں بے مثال عروج کے ساتھ ساتھ اسی طرح کی تباہی موجود دکھائی دیتی ہے-

مستقبل میں کیا ہو گا اس کی پیشنگوئی کرنا مشکل ہے- مجھے ڈر ہے کہ پختون قوم میں اس بارے کبھی بھی اتفاق رائے نہیں ہو سکتا کہ اس کی ترقی کے لئے کیا ضروری اور کیا کافی ہے- بیشک عام خیالات ایک طرف لیکن قوم پرستی کبھی بھی حقیقی قوت نہیں رہی، خاص طور پر جب قومیں اس بری طرح سے طبقات اور دوسرے پیرائے میں بٹی ہوئی ہوں-

بہرحال، پختون قوم کے اندر موجود ترقی پسند عناصر کو کم از کم نسلی بٹوارے کے دیگر ترقی پسند عناصر سے مربوط کرنے کے لئے اہم کردار ادا کرنا ہو گا- ترقی پسند پختونوں کے لئے لازمی ہے کہ وہ ریاست، سامراج اور دائیں بازو کے مذہبی اور متمول پختونوں کی ساز باز کی مذمت اور مزاحمت کریں- یہ انہی تین طاقتوں کا گٹھ جوڑ ہے جو پختون معاشرے کو اس بحران سے دوچار کئے ہوئے ہے جس نے تمام پختونوں کو عزت و وقار سے زندگی گزارنے سے باز رکھا ہوا ہے-

انگلش میں پڑھیں


لکھاری قائد اعظم یونیورسٹی، اسلام آباد میں پڑھاتے ہیں-

ترجمہ: شعیب بن جمیل