دو دنیاؤں کے بیچ پُل

ای میل

"پوری طرح انسان دوست بننے کے لئے ضروری ہے کہ نابینا اور بینا افراد ایک دوسرے کا ساتھ دیں-"   
فائل فوٹو۔۔۔۔
"پوری طرح انسان دوست بننے کے لئے ضروری ہے کہ نابینا اور بینا افراد ایک دوسرے کا ساتھ دیں-" فائل فوٹو۔۔۔۔

پروفیسر جان ہل برمنگھم یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں اور On Sight and Insight کے مصنف ہیں- اندھے پن کے بارے میں اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے وہ یہ کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک خاصیت ہے- لیکن ہل اس سے اتفاق نہیں کرتے- وہ تیس سال پہلے نابینا ہوگئے تھے- وہ کہتے ہیں کہ نابینا افراد کی اپنی دنیا ہوتی ہے جس طرح دیکھ سکنے والوں کی اپنی دنیا ہوتی ہے- لیکن جن لوگوں کو بینائی کی دولت میسر ہے وہ نابینا افراد کو اپنی دنیا سے خارج کر دیتے ہیں- یہ دونوں دنیائیں آپس میں نہیں ملتیں- ہل کے دل میں اس بات کی تڑپ تھی کہ وہ "اس خلیج کو پاٹیں جو نابینا افراد کو بینائی رکھنے والوں سے جدا کرتی ہے"-

یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کو ہر کوئی نہیں سمجھتا- لیکن جو اس حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ شمولیت کے ذریعے اس خلیج کو پاٹنے کی کوشش کرتے ہیں- اسلام آباد میں واقع المکتوم سنٹر ایک ایسا ہی منفرد ادارہ ہے- یہ ادارہ 1982 سے نابینا بچوں کی خدمت کررہا ہے اور انھیں تعلیم کے ذریعے خود کفیل بنانے کی جدوجہد کر رہا ہے-

آج المکتوم میں 300 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں- اس اسکول کے طلباء 1995 سے وفاقی بورڈ کے میٹرک کے امتحانوں میں شرکت کر رہے ہیں- اس اسکول کی بہت سی لڑکیاں اور لڑکے کالج میں داخلہ لیتے ہیں اور وہاں سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ملازمتیں کرتے اور معاشرے کا کارآمد حصہ بن جاتے ہیں- المکتوم کے ایک طالب علم طلال وحید نے نامل کالج سے اپنی تعلیم مکمل کی اور اب وہ یونیسف کے ایک پروجیکٹ میں کام کر رہے ہیں جو معمر افراد کی دیکھ بھال کرتا ہے- عمارہ انور یہاں کی ایک اور طالبہ ہیں اور پاکستان فیڈریشن فائٹنگ بلائنڈنس میں ملازم ہیں اور آڈیو کتابیں ریکارڈ کرتی ہیں-

المکتوم میں تیس اساتذہ پڑھاتے ہیں جن میں سے چھ نابینا ہیں- یہ اساتذہ بچوں کی رہنمائی کا بہترین فریضہ انجام دے رہے ہیں اور انھیں بڑوں کی دنیا سے روشناس کرا رہے ہیں جو ان کے لئے اتنی زیادہ محفوظ نہیں ہے جتنی ان کی اپنی دنیا-

المکتوم کا دورہ میرے لئے ایک خوشگوار تجربہ تھا- اسکول کی پرنسپل روبینہ انجم اس سنٹر کومحدود بجٹ کے ساتھ جس خوبی اور محبت سے چلا رہی ہیں وہ قابل تحسین ہے- خصوصی بچوں کی خدمات کے اعتراف میں انھیں تمغہ امتیاز مل چکا ہے- وہ 2001 سے المکتوم سے منسلک ہیں-

اگرچہ یہ ایک سرکاری ادارہ ہے لیکن روبینہ انجم کی پوری کوشش رہی ہے کہ یہ ادارہ اس بےحسی اور نا اہلی کا شکار نہ ہو جو کہ عام طور پر سرکاری تنظیموں کے ساتھ ہوتا ہے- انھیں اپنے اسکول اور بچوں پر فخر ہے جوغریب ترین طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں- حکومت سے جو مدد ملتی ہے اسکی کمی کو پورا کرنے کے لئے وہ عوام سے چندہ لیتی ہیں جسکی مدد سے بچوں کو مفت یونیفارم، کتابیں اور سیر و تفریح فراہم کی جاتی ہے- لائبریرین شاہ محمد افضل نے ایک بریل لائبریری قائم کی ہے جہاں بچوں کو بریل میں اچھی خاصی کتابیں دستیاب ہیں-

پروفیسر ہل شمولیت کی اہمیت پر جو زور دیتے ہیں اس کا اظہار المکتوم کی آرٹ کی سرگرمیوں سے ہوتا ہے جو یہاں ہوتی رہتی ہیں- فوزیہ من اللہ ایک ہمدرد دل کی مالک آرٹسٹ ہیں اور فنکور کے نام سے ایک آرٹ سنٹر یہاں چلاتی ہیں- وہ آرٹ کا سامان فراہم کرتی ہیں- فوزیہ شمولیت کے فلسفہ کی زبردست حامی ہیں اور کہتی ہیں کہ،" یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اگر کوئی بچہ بصارت سے محروم ہو تو اسے آرٹ کے ذریعہ خود کا اظہار کرنے کا موقع نہ دیا جائے؟"

اس سوال کا جواب دینے کے لئے انھوں نے وہ سامان فراہم کیا جسے چھو کر محسوس کیا جاسکتا ہے اور نابینا بچوں کو سکھایا کہ وہ چیزوں کو چھو کر اس کی شکل کی جانکاری حاصل کریں اور خاص قسم کے کاغذ پر اسکی لائنیں کھینچیں اورپھراسے چھو کر دیکھیں- فوزیہ اور ان کی ساتھیوں نے المکتوم میں Amai پارک بھی بنایا ہے جہاں خصوصی بچوں کو کھیلنے کے لئے محفوظ جگہ فراہم کی گئی ہے- یہاں یہ بچے عام بچوں کی طرح آزادی سے گھومتے پھرتے اور کھیلتے ہیں-

روبیبہ نے تعلیمی نصاب میں موسیقی کوبھی شامل کیا ہے تاکہ بینائی سے محروم ان بچوں کا تعلق دیکھنے والوں کی دنیا سے قائم ہو- شاہد ندیم کا تعلق گلگت سے ہے- اس نے مجھے بانسری پر ایک میٹھی دھن سنائی- موسیقی یقیناً ایک ایسا فن ہے جو دونوں دنیاوں کے درمیان ایک رشتہ جوڑتا ہے-

شمولیت کی ایک اورسرگرمی کرکٹ ہے جو سنٹر کے کھیلوں کے پروگرام کا ایک حصہ ہے- سید سلطان شاہ، جو ورلڈ بلائنڈ کرکٹ کونسل کے پریذیڈنٹ ہیں اور پاکستان میں نابینا بچّوں کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی ہیں اور المکتوم کی ٹیم کے کوچ ہیں- انھوں نے مجھے نابینا بچوں کی کرکٹ کے پیچیدہ میکانزم اور اصولوں سے آگاہ کیا- سلطان سے یہ سن کر میرا سر فخر سے بلند ہوگیا کہ پاکستان اب تک 13 بین الاقوامی سیریز کھیل چکا ہے جن میں سے 11 میں وہ کامیاب رہا-

المکتوم اور فنکور ایک ایسی دنیا کی دو غیر معمولی مثالیں ہیں جہاں زاہد عبداللہ نے اپنی کتاب کا نام Disabled by Society رکھا ہے- شمولیت اور ہمدردی دو مختلف چیزیں ہیں- شمولیت اختیار کرنے کے لئے ہمدردی ضروری ہے- لیکں شمولیت اختیار کئے بغیر بھی ہم ہمدرد ہوسکتے ہیں-

بچوں کے وہ اسکول جہاں بینا بچے پڑھتے ہیں--- وہ دراصل اپنے کو ایسا نہیں سمجھتے ہیں--- وہ ان بچوں کو داخلہ کیوں نہیں دیتے جو بینائی سے محروم ہیں تاکہ وہ بھی ان بچوں کے ساتھ پڑھ سکیں جن کی نظر20/20 ہے؟ ہمارے ملک کے بہت سے تعلیمی بورڈ اس بات کی اجازت کیوں نہیں دیتے کہ نابینا بچے ان کے امتحان دیں اور ان کے لئے کسی لکھنے والے کی مدد فراہم کی جائے؟ ہمارے ملک کی انسانی حقوق کے علمبرداروں کی تنظیمیں کیوں اسی سرگرمی کے ساتھ اس کاز کو آگے نہیں بڑھاتیں جو اقوام متحدہ کے معذور افراد کے حقوق کے کنونشن کا حصہ ہے جس پر پاکستان نے بھی دستخط کئے ہیں اور توثیق کی ہے لیکن اس پر عمل درآمد کبھی نہیں ہوا؟

پروفیسر ہل بالکل ٹھیک کہتے ہیں،"پوری طرح انسان دوست بننے کے لئے ضروری ہے کہ نابینا اور بینا افراد ایک دوسرے کا ساتھ دیں-"

انگلش میں پڑھیں

ترجمہ : سیدہ صالحہ