دیوتاؤں کی جنگ

ای میل

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو
السٹریشن -- خدا بخش ابڑو

میڈیا کے بحران کے بارے میں کافی کچھ لکھا جا چکا ہے جس نے حالیہ ہفتوں میں پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا- جس قسم کے حالات میں ہم رہ رہے ہیں اس میں اس بات پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئے-

یہ عام حالات نہیں ہیں اوروہ معاشی اور سماجی نظام جوریاست اور سماج کو روائتی طور پرجوڑ کر رکھتے ہیں، سیاسی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں- اس کے نتیجہ میں ادارے اور ان کے اہلکاراپنی وہ صلاحیتیں کھو چکے ہیں جو مشکل ترین حالات سے نمٹنے اوران سے بغیر نقصان اٹھائے باہر نکلنے میں مدد دیتے ہیں-

حالات کو درست کرنے کی صلاحیت اگر موجود ہوتی، تو وہ اقدام کافی پہلے اٹھالئے جاتے--- جب پہلا پتھر پھیکا گیا تھا- اب تو حالات آخری حد کو پہنچ چکے ہیں- ہم نے ایک میڈیا ہاؤس اورایک مقتدرسیکیورٹی انٹلیجنس ایجنسی کے درمیان جنگ کا مظاہرہ کیا ہے- حکومت اپنے ہی پھیلائے ہوئے جال میں پھنس گئی-

صحافیوں کی زندگیوں کے تحفظ اورمیڈیا کی آواز کومن مانے طریقوں سے دبانے کی مزاحمت کرنے کیلئے ہمارا متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے- اس کے ساتھ ہی ہمیں اپنی تاریخ میں جھانکنے کی بھی ضرورت ہے تا کہ ہم وہی غلطیاں دہرانے کی بھول نہ کریں- مسائل پرانے ہو جاتے ہیں اس لئے کہ ہمارا ردعمل ہمیشہ دیر میں ہوتا ہے اور دوسرے لوگ اس کا غلط فائدہ اٹھا لیتے ہیں-

اب اس موجودہ بحران ہی کو لے لیں- اس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ آئی ایس آئی اور جیو کے درمیان ٹکراؤ ہے- یعنی، سویلین طاقتوں اور فوج کے درمیان طاقت کی کشمکش، جس میں میڈیا ہاؤس کو حکومت کی تائید حاصل ہے اور جس کی وجہ سے میڈیا اتنا تقسیم ہوگیا ہے کہ اس کو کسی بات کی پرواہ نہیں ہے- ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری بنیادی آزادی خطرے میں ہے-

جن لوگوں نے پریس کی آزادی کیلئے طویل جدوجہد کی ہے ان کا حیران ہونا سمجھ میں آتا ہے- کوئی کیسے اس بات کی حمایت کرسکتا ہے کہ سیکیورٹی کے ادارے اپنی مرضی سے میڈیا کی زبان بندی کر دیں؟ لیکن اس زبانی جنگ میں، سب سے زیادہ نقصان نظریاتی اور غیر جذباتی طریقے سے حالات کو دیکھنے کی صلاحیت کوپہنچا ہے-

میں تو ہر حال میں صحافی کے آزادی اظہارکے حق کی حمایت کرونگی--- یا ایک ایسا غیرجانب دار اور دیانت دار نگراں ادارہ ہو جو اس آزادی کا نگراں ہو-

جب جنرل مشرف نے فیصلہ کیا کہ' ہر طرح کی آزادی ہونی چاہئے'، اور لاتعداد ٹیلی وژن چینل کھل گئے، تو پاکستان ایک چھلانگ میں آزادی کے اس دور میں پہنچ گیا جس کا پہلے تصور نہیں کیا جاسکتا تھا- یہ ایک خطرناک روش تھی کیونکہ اس سے پہلے آپ کو یاد ہوگا کہ پاکستانی میڈیا زنجیروں میں تھا اور نارمل حالات میں صحتمند روایتوں کوپھلنے پھولنے کا موقع نہیں ملا تھا-

اگر سر پر ہر وقت تلوار لٹکی ہوتو ذمہ دارانہ رویہ کی تربیت نہیں ہو سکتی - پیشہ ورانہ رویہ اور ذہنی بالیدگی پریس ایڈوائس اور سنسرشپ کے تحت نہیں پروان چڑھ سکتے ہیں-

نتیجتاً، اس میں شک نہیں کہ آزادی اظہارمیں اضافہ ہوا- لیکن میڈیا کی اس بلاروک ٹوک آزادی نے اس کو اچھے برے ہر کام کا کھلا لائسنس دے دیا- جنرل مشرف کا خیال تھا کہ ٹی وی چیلنلوں کو کنٹرول کر کے اپنی مرضی کا تابع کیا جاسکتا ہے جیسا کہ پچھلی حکومتوں نے کیا-

کئی دہائیوں سے انتظامیہ - صحافی تعلقات کا دارومدار لالچی بکاؤ صحافیوں کو 'خریدنے' کے مذموم طریقے پر تھا--- ضیاء دور کی بدنام زمانہ لفافہ صحافت اور وزارت خارجہ کا خفیہ فنڈ یاد ہے؟ یہ کوئی مشکل بات نہیں تھی کیونکہ سیاستدان بھی خریدے جاسکتے تھے- البتہ اس بار سیکیورٹی انتظامیہ کی کنٹرول کرنے کی حکمت عملی--- نام نہاد نرم دباؤ کی--- نہیں چلی-

معیشت کو آزاد کر دینے کی وجہ سے معاشی حالات بدل گئے ہیں- بدعنوانیوں میں بے حساب اضافہ ہوا ہے- میڈیا ہاؤسز کیلئے اس کا مطلب آمدنی کیلئے حکومتی اشتہاروں پر کم سے کم انحصار ہے یعنی پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتہاروں کا تناسب اب الٹا ہوگیا ہے-

میڈیا کے پھیلاؤکا نتیجہ یہ مقابلے ہیں جس میں مقبول ٹی وی اینکرز کو یہ موقع ملتا ہے کہ اپنی مرضی کی قیمت کے اشتہار حاصل کر لیتے ہیں- اور پھر اس کی مدد سے اپنی مرضی کی جاب بدلنے میں انہیں لاکھوں کا فائدہ ہوتا ہے- ایسے ماحول میں جو ریٹنگ کا نتیجہ ہوتے ہیں، بریکنگ نیوزکی بیماری اور اس کی بناء پر سنسنی خیزی پیدا ہوتی ہے، کیا ایسی صورت میں صحتمند صحافت پنپ سکتی ہے؟

ہم بھول جاتے ہیں کہ الیکٹرونک میڈیا کی غلط باتوں کے خلاف پہلے بھی آوازیں اٹھائی گئی ہیں- انسانی جانوں کا تقدس ختم ہو گیا ہے اور تشدد کو ٹیلی وژن پر آزادی سے دکھایا گیا ہے- صحت کے اداروں میں کام کرنے والے میڈیا سے شاکی تھے کہ وہ بچوں کی نفسیات پر کس قسم کا اثر ڈال رہا ہے- لوگوں کی ایک باعزت زندگی گذارنے کی جدوجہد کی کوئی قدر نہیں- چند متفکر افراد کی پکار--- میڈیا کی شخصیات اور دوسرے پیشہ ور لوگوں کی اپیلیں--- اخلاقیات پر مبنی ایک ضابطۂ اخلاق قائم کرنے کیلئے سب بے اثر ہو گئیں-

سیکیورٹی کے ادارے تو ہمیں وہیں واپس لے جا رہے ہیں جہاں سے ہم چلے تھے- یہ تو کوئی حل نہیں ہے- دیوتاؤں کی جنگ میں، جو طاقتور ہوتا ہے وہی جیتتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں نقصان عام آدمی کا ہوتا ہے-

انگلش میں پڑھیں


ترجمہ: علی مظفر جعفری