پاکستانی میڈیا اور صحافیوں کی پُھرتیاں - 2

اپ ڈیٹ 26 مئ 2014

ای میل

میڈیا گروپس کو چاہئے کہ ایک ایسا ضابطہ اخلاق تشکیل دیں جس پر عمل کرکے ملکی میڈیا کو سیاست کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکے
میڈیا گروپس کو چاہئے کہ ایک ایسا ضابطہ اخلاق تشکیل دیں جس پر عمل کرکے ملکی میڈیا کو سیاست کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکے

یہ اس بلاگ کا دوسرا حصّہ ہے، پہلے حصّے کے لئے کلک کریں


ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ٹی وی چینلز کی تعداد ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد تفریحی چینلز کی ہے جن پر فلمیں، ڈرامے، موسیقی اور دیگر تفریحی پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔

نیوز چینلز کی تعداد بیس کے قریب ہے جو ناظرین تک سب سے پہلے اور سچی خبریں پہنچانے کے دعویدار ہیں لیکن ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور "مارکیٹ" پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی خاطر ان میں جو دوڑ لگی ہے اس میں اخلاقیات کی پامالی کا کسی کو غم نہیں۔

جب عوام کو "سب سے پہلے" سچی خبریں پہنچانے والوں کا یہ رویہ ہو تو ان کا کیا قصور جو ان خبروں پر آنکھ بند کرکے یقین کرلیتے ہیں؟ کاش ہماری صحافت امریکہ اور مغربی ممالک کے معیار کی پیروی کرتی جو صحافت اور صحافتی اخلاقیات کے بانی ہیں۔

اس کے برعکس ہم نقالی کرتے بھی ہیں تو انڈیا کی جسے ہم اپنا دشمن نمبر ایک قرار دیتے ہیں۔ خبروں میں سنسنی خیزی اور ٹاک شوز میں بلا کر مہمانوں کی بے عزتی کروانا اور انہیں آپس میں دست و گریبان کرنے کا یہ انداز ہم نے انہیں سے تو سیکھا ہے ۔

لیکن اسی انڈیا میں ایسے بھی سرپھرے Investigative Journalists, اور ادارے ہیں جو جان ہتھیلی پر رکھ کر سچی خبریں ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ تہلکہ ڈاٹ کام کی مثال لیجئے جس نے 2002 میں ہندوستانی ریاست گجرات میں ہونے والے فسادات سے متعلق تحقیقی رپورٹ شائع کی تھی۔

اگرچہ اس آن لائن ادارے کے کرتا دھرتا ہندو تھے لیکن انہوں نے جس دلیری سے ہندو انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل کے مظالم اور وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے کردار کا پردہ چاک کیا تھا اسے یاد کرکے دل میں یہی خواہش ابھرتی ہے کہ کاش ہمارے دلیر اور حق گو صحافی بھی کبھی "مرغے لڑانے" کے بجائے قتل عام ہونے والے بے گناہ پاکستانیوں کے قاتلوں کا پیچھا کرکے ان کے چہرے بے نقاب کریں۔

نیوز چینلز کی بھرمار اور ناظرین کو چینل تبدیل کرنے کی سہولت میسر ہونے کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ صحافت کے معیار میں بہتری آتی اور مقابلے کی دوڑ میں آگے رہنے اور ناظرین کی نظریں اپنے چینل پر جمائے رکھنے کی خاطر خبروں کے معیار، ان کی صحت اور پیشکش کے انداز میں تبدیلی لائی جاتی، عوامی مسائل کو زیر بحث لاکر حکمرانوں کو عام پاکستانی کی مشکلات سے آگاہ کیا جاتا اور ملک کو انتشار اور بدامنی سے نکالنے کی خاطر رواداری، بھائی چارہ اور پر امن بقائے باہمی کے فروغ کے لئے پروگرام پیش کئے جاتے۔ لیکن ہو اس کے برعکس رہا ہے اور نیوز چینلز اپنی ریٹنگ بہتر بنانے اور زیادہ اشتہار حاصل کرنے کی خاطر جس سنسنی خیزی اور چٹ پٹی خبروں کا سہارا لے رہے ہیں اس نے ایک زمانے میں چھپنے والے شام کے اخبارات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

بعض چینل تو "بریکنگ نیوز" دیتے وقت ایسی دل دہلانے والی موسیقی (Signature Tune) نشر کرتے ہیں کہ انہیں سن کر ہی خون خشک ہونے لگتا ہے۔

آٹو رکشے کے سائیلنسر اور گیس سلینڈر پھٹنے کی آواز کو بم دھماکہ قرار دیکر لوگوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے کی داستانیں تو عام ہیں لیکن ان غلطیوں پر معزرت کرنے کی کوئی مثال نہیں ملتی حالانکہ پیمرا کے ضابطہ اخلاق کے مطابق غلط خبر نشر کرنے پر معزرت کرنا لازمی ہے۔

صبح کی نشریات پر نظر دوڑائیں تو یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ آپ کوئی نیوز چینل دیکھ رہے ہیں۔ بھڑکیلے لباس میں ملبوس خواتین و حضرات کی اوٹ پٹانگ حرکتیں، میک اپ ٹپس، کھانا پکانے کی ترکیبیں، بے سروپا باتیں، ناچ گانا، کھیل کود اور شور شرابہ. یاد رہے کہ پیمرا رولز 2009 کے تحت نیوز اور تفریحی چینل دو مختلف کیٹیگریز میں شمار ہوتے ہیں ۔ لیکن پاکستانی میڈیا کے کرتا دھرتاؤں نے نیوز چینلز میں بھی اتنا تنوّع ڈال دیا ہے کہ ان میں اور تفریحی چینلز میں زیادہ فرق باقی نہیں رہا۔

حقیقی واقعات کی ازسر نو ڈرامائی تشکیل (Reenactment) کے نام پر بھی نیوز چینل کا ایک بڑا حصہ مختص ہے۔ گو کہ یہاں اس کی گنجائش موجود ہے لیکن ان پروگراموں کے پیش کرنے کا انداز بھی ایسا ہی ہے کہ اکثر پر جھوٹ کا گمان ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے محض چینل کا پیٹ بھرنے کی کوشش ہو رہی ہو۔

اسی طرح معاشرے کی برائیوں کو بے نقاب کرنے کے نام پر جس طرح لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں بے جا مداخلت کی جاتی ہے اس میں بھی زور زبردستی، دھونس دھمکی، بلیک میلنگ اور سنسنی خیزی کا عنصر واضح دکھائی دیتا ہے۔ بعض ایسے پروگراموں میں میزبان کا رویہ اکثر پولیس افسران جیسا ہوتا ہے جو لوگوں کو باقاعدہ ہتھکڑی لگانے کے احکامات دیتے نظر آتے ہیں۔

2012 میں ایسے ہی ایک پروگرام کی خاتون میزبان کو عوام کے شدید احتجاج کے بعد ایک نیوز چینل سے اس وجہ سے برطرف کیا گیا تھا کہ وہ شو کے نام پر لوگوں کی ذاتی زندگی میں دخل در معقولات کرتی پھرتی تھی۔

مذکورہ خاتون جو ایک سابق اداکار رہ چکی ہیں نے بعد میں اس بات کا برملا اعتراف بھی کرلیا تھا کہ دراصل ان کا شو حقیقت کے نام پر ایک ایسا ڈرامہ تھا جس میں معاوضے کے عوض شوقیہ اداکاروں سے کام لیا جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکینڈل کے باوجود موصوفہ زیادہ دنوں بیکار نہیں بیٹھی رہیں بلکہ جلد ہی ایک اور نیوزچینل پر ملازمت مل گئی جہاں وہ آجکل جن بھوتوں، چڑیلوں اور عاملوں کے درمیان کُشتی کے براہ راست مقابلے کروارہی ہیں۔ ہو سکتا ہے کبھی اس بات کا بھی انکشاف ہو کہ ان جن بھوتوں اور چڑیلوں کو بھی ان کی پرفارمنس کے بدلے باقاعدہ معاوضہ دیا جاتا ہو۔

ایک اور رجحان جو کم و بیش ہر نیوز چینل پر دیکھنے میں آرہا ہے وہ ہے جُگتوں پر مبنی پروگرام کا۔ ان پروگراموں پر اسٹیج کے اداکاروں کا قبضہ ہے جو جُگتیں کرنے میں ماہر ہیں۔ جو بات ان سب پروگراموں میں مشترک ہے وہ ہے ان میں استعمال ہونے والی پنجابی زبان جسکا سمجھنا باقی صوبوں کے لوگوں کے لئے اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

ان پروگراموں کو دیکھ کر دوسرے صوبوں کے عوام کا یہ سوچنا فطری ہے کہ میڈیا کی زیادہ توجہ پنجاب پر ہے جہاں سے انہیں زیادہ اشتہارات ملتے ہیں۔

سوال پھر وہی کہ نیوز چینل پر ایسے پروگراموں کی کتنی گنجائش ہو سکتی ہے؟ خصوصاَ ان اوقات میں جب لوگ کسی دلخراش واقعے کے بارے میں جاننا چاہ رہے ہوں اور چینل پر قہقہے لگ رہے ہوں۔

اب زرا بات ہوجائے پرائم ٹائم کی جس کی ٹیلی ویژن پر سب سے زیادہ اہمیت ہے۔ اسکا دورانیہ عموماَ رات آٹھ سے گیارہ بجے تک ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب تمام نیوز چینلز اپنے اہم ترین پروگرام پیش کرتے ہیں۔ اس دوران ٹاک شوز کے علاوہ تبصروں اور تجزیوں کے پروگرام بھی نشر کئے جاتے ہیں جن میں سینئر اور باخبر صحافی و اینکرز بھرپور تیاری کے ساتھ اپنی معلومات عوام تک پہنچانے کے لئے موجود ہوتے ہیں۔

تجزیوں اور تبصروں کے دوران میزبان بعض اوقات جس طرح مختلف شخصیات کا نام لے لے کر انہیں چیلنج کرتے نظرآتے ہیں انہیں دیکھ کر مولا جٹ فلموں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ شاید یہ بھی ایک سنجیدہ پروگرام کو دلچسپ بنانے کا کوئی تیر بہ ہدف نسخہ ہو؟

اسی پرائم ٹائم کے دوران بڑھکوں، گالی گلوچ اور الزام تراشیوں سے بھرپور کچھ ایسے ڈرامے بھی نشر ہوتے ہیں جنہیں ٹاک شوز کہا جاتا ہے۔ ان میں ناظرین کی تفریح کا اتنا سامان ہوتا ہے کہ ان کی مقبولیت نے تفریحی چینلز کو بھی گہنا کر رکھ دیا ہے۔

ان ٹاک شوز کی مقبولیت کا الگ ہی پیمانہ ہے۔ کسی پروگرام میں مہمان ایک دوسرے کی جتنی زیادہ بےعزتی کرتے ہیں اس پروگرام کا اتنا ہی چرچا ہوتا ہے۔ میزبانوں کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح بات گالم گلوچ بلکہ ہاتھا پائی تک جا پہنچے اس لئے وہ مہمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ان اینکرز کی صرف ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ جس طرح ممکن ہو پروگرام کی مقبولیت میں اضافہ کیا جائے تاکہ ان کے میڈیا گروپ کو زیادہ سے زیادہ اشتہارات مل سکیں اور وہ خود بھی 'سیلیبریٹی' کہلائیں۔

اس ماحول میں ان چند گنے چنے اینکرز کا دم غنیمت لگتا ہے جو دھیمے سُروں میں مہمانوں سے سوال کرتے اور عوامی مسائل پر بات کرتے نظر آتے ہیں ورنہ بعض حضرات خصوصاَ کچھ خواتین میزبان اتنی چیخ چیخ کر بات کرتی ہیں کہ ناظرین کو ذہن پر ہتھوڑے برستے محسوس ہوتے ہیں۔

آجکل یہی نیوز چینلز اور ان سے وابسطہ صحافی سارے کام چھوڑ کر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور جھگڑالو پڑوسنوں کی طرح ایک دوسرے کے 'جائز و ناجائز تعلقات' کی داستانیں افشا کرنے پر تلے ہوئے ہیں جسے دیکھ کر گمان ہوتا ہے جیسے ملک کے دیگر سارے مسائل حل ہو چکے ہیں۔ ہر طرف امن ہی امن ہے، طالبان اور ان کے اتحادی فرقہ وارانہ گروہ اپنی حرکتوں سے باز آچکے ہیں، کراچی پر سکون ہو چکا ہے، بلوچستان میں فرقہ واریت اور مسخ شدہ لاشیں ملنا بند ہوگئی ہیں. مہنگائی ختم ہو چکی ہے، عوام کا معیار زندگی بلند ہو چکا ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ قصئہ پارینہ بن چکی ہے، غربت کے مارے لوگوں کی خود کشیاں تھم گئی ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان جنت کا نمونہ بن چکا ہے۔

جبکہ مسائل جوں کے توں ہیں۔ ہاں صحافیوں، میڈیا گروپس اور اداروں کی اس لڑائی میں اب سیاست دان اور مذہبی گروہ بھی کود پڑے ہیں اور "مرے پر سو دُرّۓ" والے محاورے پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف جنگ اور جیو کے بائیکاٹ کے اعلانات ہو رہے ہیں بلکہ ان پر فتوے بھی لگائے جارہے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حامد میر پر ہونے والا قاتلانہ حملہ ہر لحاظ سے ایک قابل مذمت فعل ہے۔ اس بات کا فیصلہ تو اب شاید عدالت ہی کریگی کہ ان پر حملہ کرنے والے کون تھے اور ان کا مقصد کیا تھا؟ لیکن آجکل کچھ صحافی اور میڈیا گروپس اس واقعے کی آڑ لے کر جس طرح ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں اور مولویوں کی طرح فتوے صادر کر رہے ہیں انہیں پاکستانی صحافت کے مستقبل کے لئے نیک شگون ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

یاد رکھنا چاہئے کہ ایسا ہی کوئی واقعہ کل کسی اور صحافی یا شخصیت کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی صحافیوں کے لئے ایک خطرناک ملک کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں متعدد صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔

ایسے میں حامد میر پر حملہ تمام صحافیوں کے لئے ایک پیغام بھی ہو سکتا ہے لہٰذا اگر اس واقعے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور صحافی اسی طرح ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف رہے تو آئندہ ان کے لئے بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دینا ممکن نہیں رہے گا۔

اسے بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ سیاست دانوں، وکلاء اور مذہبی پارٹیوں کے میدان میں کود پڑنے اور ان کے شور شرابے کے باعث اصل معاملہ پس پشت چلاگیا ہے اور فتوؤں اور الزامات کے اس ماحول میں صحافیوں کی طرح عوام بھی کئی حصوں میں تقسیم نظر آرہی ہے جسکا بعض صحافی اور میڈیا گروپ خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یقیناَ اس کھینچا تانی سے ان میڈیا گروپس کے کاروباری مفادات وابسطہ ہیں جبکہ کچھ صحافی اور سیاستدان بھی اس موقع کو غنیمت جان کر جیو سے اپنے پرانے حساب چکانے میں مشغول ہیں۔

ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا، صحافی اور دیگر تمام ادارے اپنے کردار اور حدود کا از سر نو جائزہ لیں۔ صحافیوں اور میڈیا گروپس کو بھی چاہئے کہ مل بیٹھ کرایک ایسا ضابطہ اخلاق تشکیل دیں جس پر عمل کرکے نہ صرف ملکی میڈیا کو سیاست کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکے بلکہ ایک معیاری صحافت کی بھی شروعات کی جاسکیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔