امن کے لئے رقص

ای میل

آپ اپنا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک کس طرح پہنچا سکتے ہیں، اس سے پہلے کہ آپ کی آواز کرخت آوازوں کے شور میں دب جاۓ؟ سیاستداں مائیکروفون میں بپھرے ہوئے انداز میں چیختے دھاڑتے ہیں جبکہ ان کے سامنے بیٹھے ہوئے عوام، جنھیں ان کے حواریوں نے وہاں اکٹھا کیا ہے، چپ چاپ انھیں سنتے ہیں- انتہا پسند اور جنگجو اپنا نقطہ نظر پھیلانے کے لئے کرایہ کے قاتلوں اور خودکش بمباروں کی خدمات حاصل کرتے ہیں- ٹیلی ویژن کے ٹاک شوز میں میزبان اپنے احمقانہ تبصرے نشر کرتے ہیں-

دوسری جانب ایک مصور تصویروں کے ذریعے اپنے خیالات کی عکس کشی کرتا ہے جبکہ شاعر اور ادیب لفظوں سے تانے بانے بنتا ہے- لیکں ایک ذریعہ اور بھی ہے جس سے لوگوں کے دل و دماغ جیتے جاسکتے ہیں- گزشتہ ہفتے سہائے ابڑو نے دلکش انداز میں بتایا کہ رقص کے ذریعہ امن اور محبت کا پیغام پھیلایا جاسکتا ہے-

میں نے اس باصلاحیت بچی کو ایک خوبصورت رقاصہ اور کوریوگرافر میں ڈھلتے دیکھا ہے، میں یہ دیکھ کر مسحور ہوگئی کہ سہائے اور اس کے ٹروپ کے 44 اراکین نے کس آسانی سے 2000 کے مجمع کو اپنے سحر میں جکڑ لیا- ان کا پیغام ہم آہنگی اور حسن کا پیغام تھا جس میں دلکشی تھی-

ان کے رقص میں رنگارنگی اور معنی آفرینی تھی کیونکہ ان میں سے بہت سے کراچی کے باہر سے آئے تھے اور انہوں نے پہلے بھی مختلف قسم کے رقص کے ذریعے اس فن میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا تھا-

اپنے فن اور پیغام کے ساتھ ان کا عہد و پیماں اتنا گہرا تھا کہ انھوں نے معاوضے میں صرف پھولوں کا ایک گلدستہ ہی قبول کیا- انھوں نے یہ ثابت کردیا کہ رقص رائے بنانے اور نفرتوں کو ختم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے- وجہ یہ ہے کہ رقص میں جذبات کو متاثر کرنے کی قدرت موجود ہے-

سہائے نے بچپن ہی سے عورتوں کے حقوق کی ممتاز کارکن اور رقص کے فن کی ماہر شیما کرمانی سے تربیت حاصل کی اور اب انہوں نے 'نرت تال' کے نام سے اپنا ڈانس گروپ بنالیا ہے- وہ بھارت ناٹیم کی فنکارہ ہیں اور ایک ماہر کوریوگرافر بھی ہیں- اپنے وطن سندھ کا صوفی اور لوک رقص ان کا خاص میدان ہے-

سہائے ایک ایسی فنکارہ ہیں جن کا ایک مشن ہے- ان کے حالیہ شو کا عنوان تھا: رقص میں ہے سارا جہاں ------- اور اس کے ذریعہ انھوں نے اپنی اس تڑپ کااظہار کیا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اختلافات بھلا دیں- اس پیغام میں وحدت اور یگانگت پیدا کرنے کے لئے انھوں نے لاہور اور بلوچستان سے ممتاز اور تجربہ کار فنکاروں کو مدعو کیا تھا کہ وہ آئیں اور ان کے مشن میں شامل ہوجائیں-

کتھک ڈانسر نگہت چودھری، عدنان جہانگیر جو کتھک کے ماہر ہیں اور کوریوگرافر بھی، منور چاؤ جنھیں بھارت ناٹیم میں ملکہ حاصل ہے اور وہاب شاہ جو کوریوگرافر ہیں اور رقاص بھی، اس اتحاد کی علامت تھے جس نے تمام صوبوں کے رقص کرنے والوں کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا-

لیکں اس شو کا سب سے شاندار آئٹم 'دو چپی' تھا جسے بلوچستان کے طائفے نے پیش کیا تھا- اسکی ہدایت فلم ساز طارق مراد نے دی تھی جو ناپا کے تربیت یافتہ ہیں- انھوں نے یہ رقص بلوچستان کے ان گمشدہ طلباء کے نام کیا تھا جو ابھی تک لاپتہ ہیں- یہ ہمارے ملک کے وہ ناپسندیدہ لوگ ہیں جن کے بارے میں ہمارے ارباب اختیار چاہتے ہیں لوگ ان کی آواز نہ سنیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کا پیغام پھیلے-

'دوچپی' ڈانس میں رقص کرنے والے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر رقص کرتے ہیں اور ان کے پیر ایک ساتھ اٹھتے اور تھاپ دیتے ہیں- یہ رقص خوشیوں کا رقص ہے اور ہمارے خوشی منانے کے کلچر کی علامت-

یہ رقص بلوچوں کے اس جذبے کی علامت ہے کہ 'ہماری طاقت اتحاد میں ہے' اور 'ہم جیتینگے'- بلوچ 1947 سے اس الحاق کی مخالفت کرتے رہے ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ خان آف قلات کو مجبور کیا گیا تھا- بغاوتوں کا ایک سلسلہ ہے --- 1948 میں، 1959-1958، 1969-1963، 1977-1973 اور 2005 کے بعد- 1969 کی سرکشی کے بعد بلوچستان کو ملک کے چوتھے صوبے کے طور پر شامل کرلیا گیا-

یہ تنازعہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ذہنی اذیت کی شکل اختیار کرگیا ہے اور اسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے- 'مارو اور پھینک دو' کی کارروائیوں نے ہمارے اجتماعی ضمیر کو سلا دیا ہے- یہ اب علاقائی تشدد یا آئینی تنازعہ نہیں رہا، بلکہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں، جو اتار چڑھاؤ کی تاریخ ہے، اب اس میں ریاستی عناصر بھی شامل ہوگئے ہیں ---سول اور فوجی دونوں--- جو قوم پرستوں اور علیحدگی پسندوں کے رد عمل میں مبینہ طور پر ان کے رہنماؤں کو اغوا اور ہلاک کر رہے ہیں-

2011 میں گمشدہ افراد کی تحقیقات کے لئے جو کمیشن قائم کیا گیا تھا ---جن میں بہت سے بلوچ تھے--- اس کا ایجنڈہ مشکلوں سے بھرا ہے- چار سال پہلے اس کے سامنے 138 کیسز تھے اور اب ان کی تعداد میں 1856 کا اضافہ ہوگیا ہے اور ان میں سے ایک تہائی بلوچ ہیں-

کہا جاتا ہے کہ گمشدہ بلوچوں کی تعداد 621 ہے لیکن وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز نے، جنھوں نے حال ہی میں اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تھا، ان اعداد و شمار کو چیلنج کیا ہے-

لیکن ہم میں سے بہت سوں کے لئے ایک فرد کی گمشدگی ہزار ہا گمشدہ لوگوں کے دکھ درد کے برابر ہے- چنانچہ یہ جدوجہد جاری رہیگی- "دو چپی" ڈانس میں دولھا سے اس کی شادی کی اچکن چھین لی گئی تھی لیکن وہ اور اس کے دوست جو مسلسل رقص کر رہے تھے اسے واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں- کیا اسلام آباد میں کوئی سن رہا ہے؟

انگلش میں پڑھیں


ترجمہ: سیدہ صالحہ