دانشور سردار

ای میل

اب جبکہ خیر بخش مری رخصت ہوچکے ہیں اسلام آباد کو چاہیئے کہ اس صورتحال پر غور کرے جو خود اسکی اپنی پیدا کردہ ہے
اب جبکہ خیر بخش مری رخصت ہوچکے ہیں اسلام آباد کو چاہیئے کہ اس صورتحال پر غور کرے جو خود اسکی اپنی پیدا کردہ ہے

نواب خیر بخش مری جو کوما میں چلے گئے تھے بالآخر موت کی گود میں جا سوئے- انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایک ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ گزارا تھا- گو کہ کوئی بھی شخص انھیں عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے سے نہ روک سکا لیکن انھیں کبھی بھی اس بات کا موقع نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کام کریں-

ان کے ذاتی المیے سے بڑا المیہ یہ تھا کہ پاکستانی ریاست اپنی نا اہلی کی وجہ سے ان کی اس صلاحیت سے فائدہ نہ اٹھا سکی کہ بلوچ عوام کی تاریخ میں ایک نیا باب کھولا جاتا- ابھی وہ تین سال کے ہی ہوئے تھے کہ ان کے والد نواب مہر اللہ خان مری کا انتقال ہوگیا اور ان کی جاگیر کورٹس آف وارڈز میں چلی گئی-

اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ انھیں لاہور کے ایچیسن کالج میں بھیجا گیا- اگرچہ ان کی عادتیں کچھ شاہانہ سی ہوگئی تھیں، مثلاً ذہین اور خوبصورت مردوں اور عورتوں کے ساتھ وقت گزارنا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھیں انقلابی ہیرووں کی صحبت بھی میسر آئی جن کے بارے میں وہ پڑھا کرتے تھے-

جن دنوں ایوب خان کے دور حکومت میں مری علاقے میں گیس اور تیل کی کھدائی کے منصوبوں کے نتیجے میں وہ سیاست میں حصہ لینے پر مجبور کردیئے گئے وہ ایک دانشور کی حیثیت سے مشہور ہوچکے تھے جو اپنی ذاتی زندگی اور سیاست کے تضادات سے نمٹنے کے لئے سوشلزم کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتا تھا-

گو کہ انھیں ہمیشہ سے پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کے تعلق سے تحفظات تھے لیکن تب بھی انھوں نے اسے موقع دیا- جب 1970 میں وہ غوث بخش بزنجو اور ڈاکٹر عبدالحئی کے ساتھ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جبکہ عطا اللہ مینگل اور گل خاں نصیر کو صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل تھی، پاکستان کو نادر موقع ملا تھا کہ رضاکارانہ طور پر وفاق میں مساوی اکائیوں کی حیثیت سے بلوچ عوام کی حمایت حاصل کی جائے-

جس سازش کے نتیجے میں عطااللہ مینگل کی وزارت برخواست ہوئی، عبدالصمد اچکزئی نیشنل عوامی پارٹی سے علیحدہ ہوگئے، حیدر آباد کا مشہور زمانہ مقدمہ اور بلوچ گروپ کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ سے وہ نقصان پہنچا ہے جس سے پاکستان ابھی تک نکل نہیں پایا ہے-

یوں تو جمہوریت پسندوں کی ساری برادری واہمے میں مبتلا ہوگئی لیکن سب سے زیادہ خیربخش مری اس سے متاثر ہوئے- ایک طرف تو انھیں اپنے قوم پرست دوستوں پر اعتماد نہ رہا؛ دوسری طرف انھیں یقین ہوگیا کہ حکمراں اشرافیہ صرف بلوچوں کی قدرتی دولت کا استحصال کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے-

بالاخر، انھوں نے اپنے ان تمام کامریڈوں سے ناطہ توڑ لیا جو بلوچستان میں بلوچوں کی حالت کے بارے میں فکرمند تھے یا اختیارات کے بغیر عہدے قبول کرنے پر تیار تھے، ان کا مقصد تمام بلوچوں کے لئے آزادی حاصل کرنا تھا- انھیں اپنے مقصد کی کامیابی پر یقین تھا-

ملک سراج اکبر کہتے ہیں کہ مری نے 2008 میں ان سے کہا تھا؛

"ہم بلوچ قوم کی آزادی سے کم کسی بات پر مصالحت نہیں کرسکتے- ہم پرامید ہیں کہ ہم اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائنگے گو کہ یہ بتدریج ہی ممکن ہے-"

وہ لوگ جو خیربخش پر اس لئے تنقید کرتے ہیں کہ وہ پاکستان سے مایوس ہوگئے تھے اس بات کو نہیں سمجھتے کہ انھوں نے جو انتہا پسندانہ موقف اختیار کیا تھا وہ ان کی پہلی ترجیح نہیں تھی- وہ اس لئے انتہا پسند ہوگئے تھے کیونکہ حکمراں اس بات کے لئے تیار نہیں تھے کہ بلوچ عوام کو ان کا یہ حق دیں کہ وہ اپنے صوبے میں اپنے قدرتی وسائل کے مالک ہوں اور انھیں فروغ دیں-

ان کے بیٹے کی ہلاکت کسی طور پر بھی ناراض قوم پرستوں کو جیت نہیں سکتی تھی- اب خیر بخش مری کے وارثوں کے لئے یہ بات مشکل ہوگی کہ وہ ان کی چھوڑی ہوئی روایت کو نظرانداز کریں-

انتہائی غیر مصالحت پسند بلوچ رہنما کی حیثیت سے ان کے عروج نے ان کی ذہنی تربیت اور سماجی مرتبہ کے درمیان گہرے تضادات پیدا کردیئے تھے- ان کے سوشلسٹ نظریات اس بات کے متقاضی تھے کہ سب کے لئے یکساں حقوق اور مساوات کے اصولوں کا احترام کیا جائے جبکہ اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنے کے لئے انھیں اپنا سرداری کا مرتبہ درکار تھا- بطور سردار ان کا عمل بعض اوقات کچھ ایسا ہوتا تھا جسے ان کے اندر کا دانشور قبول نہ کرسکتا تھا- ان کا یہ تضاد دور نہ ہوسکا اور وہ گوشہ نشین ہوگئے-

اپنی آخری قید کے دوران جو قتل کے ایک گھڑے ہوئے الزام کے تحت ہوئی تھی، یہ خبر آئی تھی کہ ان کے جیلر نے ان سے برا سلوک کیا تھا- عاصمہ جہانگیر پاکستان کے انسانی حقوق کے کمیشن کی پوری قیادت کے ساتھ عقیدت کے اظہار کے لئے ان سے ملنے جیل گئیں- انھوں نے ان سے ملنے سے انکار نہیں کیا لیکن انھوں نے جس سردار کو دیکھا اس کی نظریں دھندلائی ہوئی تھیں- وہ بات کرنے کے لئے تیار نہیں تھے- ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ اور ان کے ملاقاتی دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھتے ہیں- وہ اس درجے پر پہنچ چکے تھے کہ ان کے دشمن ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے، نہ ہی ان کے دوست ان کی مدد کرسکتے تھے-

رہا ہونے کے بعد انھوں نے یہ محسوس کیا کہ ان کی قوت اسی میں مضمر ہے کہ وہ خود اپنے ساتھ ایماندار رہیں، انھوں نے اس عہدے کی پیشکش ٹھکرا دی جو انھیں پیش کیا گیا تھا- ان کے پیارے بیٹے بالاچ کی موت نے ان کے دل میں گہرا زخم کردیا اور وہ اپنے سوائے ایک بیٹے کے سارے بیٹوں کی سنگت سے محروم ہوگئے-

ریاست نے اس زخم خوردہ باپ کا دل جیتنے کی کوئی کوشش نہیں کی- ان کے ساتھ صرف ان کا یہ غرور رہا کہ بلوچوں نے ابھی تک کسی جبر و استبداد کے سامنے اپنا سر نہیں جھکایا ہے جس کا انھیں خود کو پہچاننے کی جدوجہد کے دوران سامنا کرنا پڑا-

اب جبکہ خیر بخش مری رخصت ہوچکے ہیں اسلام آباد کو چاہیئے کہ اس صورتحال پر غور کرے جو خود اسکی اپنی پیدا کردہ ہے جو بلوچ عوام کو مایوس کرنے کا نتیجہ ہے --- ایک مصلحت پسند انسان (نواب اکبر بگٹی) سے لیکر ایک اصول پرست انسان (نواب خیربخش مری) تک- سبق یہ ملتا ہے:

"بلوچ زندہ رہینگے، ان کے مارنے والوں کو چاہیئے کہ اپنی فکر کریں-"

انگلش میں پڑھیں


ترجمہ: سیدہ صالحہ