اسلام آباد: علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کا بل مسترد

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2014

ای میل

قومی اسمبلی میں یہ بل آج بروز بدھ پیش کیا گیا—۔فائل فوٹو
قومی اسمبلی میں یہ بل آج بروز بدھ پیش کیا گیا—۔فائل فوٹو

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کا بل مسترد کردیا ہے۔

ڈان نیوز ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس محمود بشیر ورک کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا۔

اجلاس میں ماروی میمن کی جانب سے پیش کیے گئے علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کے آئینی ترمیمی بل پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں وزارت قانون نے علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کے آئینی ترمیمی بل کی مخالفت کی۔

اسپیشل سیکرٹری قانون جسٹس( ریٹائرڈ) رضا خان نے کہا کہ ایسا مناسب نہیں کہ ایک قوم ہو اور قومی زبانیں 10 ہوں۔

اُن کا کہنا تھا کہ قومی زبان وہ ہوتی ہے جو سب کو قابل قبول ہو اورجسے لوگ سمجھتے ہوں۔

جسٹس( ریٹائرڈ) رضا خان کے بعد مسلم لیگ (ن )کے رکن معین وٹو نے بھی آئینی ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کی ضرورت ہی نہیں ہے اور یہ بل ملک میں نئی شورش پیدا کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمیٹی ممبران نے ماروی میمن کو بل واپس لینے کا مشورہ دیا تاہم بل واپس نہ لینے پر چئیرمین قائمہ کمیٹی نے بل پر ووٹنگ کرائی۔

چار اراکین نے بل کی مخالفت جبکہ صرف ایک رکن نے حمایت کی۔

ووٹنگ کے بعد قائمہ کمیٹی نے علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کا آئینی ترمیمی بل مسترد کردیا۔


قومی زبانوں کا بل آج پیش ہوگا


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف بدھ کو ملک کے مختلف حصوں میں بطور مادری زبان بولی جانے والی علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کے لیے ایک ترمیمی بل پیش کرے گی۔

پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی ماروی میمن نے نو دیگر پارٹی اراکین کے ہمراہ رواں سال فروری میں یہ بل تیار کا تھا، جس کا مقصد آئین کے آرٹیکل 251 میں ترمیم تھی، اس آرٹیکل کی رُو سے فی الحال صرف اردو کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔

اس بل میں حکومت سے ایک نیشنل لینگویج کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے، جو ملک میں بولی جانے والی مادری زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کے حوالے سے ایک معیار مقرر کرے گا۔

آئین کے آرٹیکل 251 میں تجویز کردہ ترامیم کی رُو سے 'پاکستان کی قومی زبانیں بلوچی، بلتی، براہوی، پنجابی، پشتو، شینا، سندھی، سرائیکی، ہندکو اوراردو کے علاوہ وہ تمام زبانیں ہیں، جنھیں نیشنل لینگویج کمیشن کی جانب سے قومی زبان تصورکیا جائے گا'۔

اس آرٹیکل کی رُو سے ماہرین اور لسانی ماہرین پر مشتمل نیشنل لینگویج کمیشن کے قیام کا مقصد پاکستان کی مادری زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دلوانے کے لیے ایک معیار مقرر کرنا ہوگا۔

مجوزہ آرٹیکل کی شق نمبر 2 کے مطابق 'پاکستان کی سرکاری زبان اُس وقت تک انگریزی رہے گی جب تک بل کے پاس ہونے سے لے کر 15 سال کے اندر اردو کواس کے متبادل کے طور پر اپنانے کے حوالے سے انتظامات مکمل نہیں ہو جاتے'۔

بل میں حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیاگیا ہے کہ وہ قومی زبانوں کی ترقی اور ترویج کے لیے ایک فنڈ قائم کرے، اس کے ساتھ ساتھ عربی اور فارسی کو اسکول کی سطح پر پڑھانے کے حوالے سے اقدامات کو بھی یقینی بنایا جائے۔

یاد رہے کہ مئی 2011ء میں ماروی میمن کی جانب سے پیش کیا گیا ایک ایسا ہی بل قائمہ کمیٹی کی جانب سے مسترد کردیا گیا تھا۔

اس بل کو قومی اسمبلی میں بھاری اکثریت سے مسترد کردیا گیا تھا، جس کے بعد سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی ماروی میمن اورپاکستان پیپلزپارٹی کے ممتاز رہنما سید ظفر علی شاہ نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا تھا۔

اس سلسلے میں جب ماروی میمن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ یہ بل مسترد نہیں کیا جائے گا کیوں کہ یہ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم امید کرتے ہیں کہ قانونی کمیٹی لینگویج بل کا جائزہ لے گی، جیسا کہ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشورکے مطابق ایک لینگویج کمیشن کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہوگی'۔

کمیشن کے قیام کی تاریخ کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بدھ کو ہونے والے اجلاس میں حکومت کے سامنے رکھا جائے گا۔