کیپٹن ہینڈز، سونے کے بٹن اور گمشدہ گورا قبرستان

08 اگست 2014

ای میل

فوٹو --  اختر بلوچ
فوٹو -- اختر بلوچ
فوٹو --  اختر بلوچ
فوٹو -- اختر بلوچ
فوٹو --  اختر بلوچ
فوٹو -- اختر بلوچ
فوٹو --  اختر بلوچ
فوٹو -- اختر بلوچ
مائیکل جاوید (بائیں) احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے -- فوٹو --  اختر بلوچ
مائیکل جاوید (بائیں) احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے -- فوٹو -- اختر بلوچ

گورا قبرستان کا نام سنتے ہی ذہن میں شاہراہ فیصل پر واقع 'مسیحی قبرستان' کا خیال آتا ہے۔ گوکہ اس کا سرکاری نام مسیحی قبرستان ہے، لیکن اسے عام طور پر 'گورا قبرستان' کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔

ہمارے صحافی دوست سعید جان نے بار ہا ہمیں کہا کہ گورا قبرستان پر لکھنا چاہئے۔ لیکن سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ کسی عام قاری کے لیے اس میں دل چسپی کی کیا بات ہوسکتی ہے۔


قبرستان کب قائم ہوا، کیوں ہوا؟ اس پر پہلے ہی بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ ہاں البتہ ایک بات کا ذکر ضروری ہے کہ سعید خان نے یہ بھی بتایا اس قبرستان میں پاکستان کے سابق گورنر جنرل غلام محمد کی قبر بھی ہے۔

کھوج لگانے پر معلوم ہوا کہ ان کی قبر گورا قبرستان میں نہیں بلکہ اس سے متصل ایک اور فوجی قبرستان میں ہے۔ ایک دن پریس کلب میں ہم نے اپنے دوست نعمت اللہ بخاری سے ذکر کیا کہ گورا قبرستان پر لکھنا ہے۔

جواباً نعمت بھائی نے فرمایا، کس گورا قبرستان پر؟

ہم نے حیرانی سے پوچھا، کس سے ان کی کیا مراد ہے؟ کراچی میں ایک ہی گورا قبرستان ہے۔

وہ مسکراتے ہوئے بولے نہیں، ایک اور بھی ہے جو بندر روڈ پر ہے۔ ابھی وہ مزید بتانا ہی چاہتے تھے کہ ان کے ایک مہمان آگئے اور وہ معذرت کرکے ان کے ساتھ چلے گئے۔ لیکن ہمارے ذہن میں ایک سوال چھوڑ گئے۔

اچانک ذہن میں چار بار ایم پی اے منتخب ہونے والے مسیحی رہنما مائیکل جاوید کا نام گونجا۔ ہمیں یقین تھا کہ مائیکل جاوید ضرور اس حوالے سے ہماری مدد کریں گے۔

اگلے روز ہم ان سے ملنے ان کی رہائش گاہ عیسیٰ نگری پہنچے میرا خیال ہے کہ عیسیٰ نگری نا صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان میں سب سے بڑی مسیحی آبادی ہے۔ اس آبادی کا حال بھی کبھی آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔

مائیکل صاحب نے دوران ملاقات اس بات کی تصدیق کی کہ سب سے قدیم مسیحی قبرستان بندر روڈ پر واقع ہے۔ لیکن اب اسے مسمار کرکے اس کی جگہ ایک عمارت تعمیر کر دی گئی ہے۔

ہم نے ان سے درخواست کی کہ اگر اس حوالے سے ان کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت ہو تو ہمیں ضرور دیں۔ انھوں نے بتایا کہ مسیحی برادری کے ایک فرد کے پاس کاغذات موجود ہیں لیکن اب وہ کراچی سے لاہور منتقل ہوگیا ہے۔ وہ کوشش کریں گے کہ اس سے رابطہ کرکے وہ دستاویزی ثبوت ہمیں دیں۔

کچھ دنوں بعد مائیکل جاوید نے بتایا کہ وہ شخص شدید بیمار ہے اور فالج کی وجہ سے بول چال سے معذور ہے۔ یہ سن کر ہم مایوس ہوگئے اور دل میں سوچا کہ شاید ہم سعید جان کی خواہش پوری نہیں کر پائیں گے۔

ایک دن سرِ راہے ہماری ملاقات ممتاز سیال صاحب سے ہوگئی۔ ممتاز صاحب کا تعلق میرپورخاص سے ہے جو ہمارا آبائی شہر ہے۔ گوناگوں شخصیت کے مالک ہیں۔ ریونیو ڈپارٹمنٹ میں ایک بڑے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ ان سے اپنی مشکل کا ذکر کیا تو انھوں نے بھی تصدیق کی کہ پہلا گورا قبرستان ایم اے جناح روڈ پر ہی تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے محکمے کے ایک ڈپٹی رجسٹرار نے KBCA اور دوسرے محکموں کی ملی بھگت سے یہ جگہ بلڈر مافیا کو لیز کردی تھی۔ لیکن لیز ہونے سے قبل اس قبرستان کو مسمار کرکے اس پر پلازہ تعمیر کر دیا گیا تھا۔

بعد ازاں متعلقہ سرکاری اہل کاروں کو برطرف کر دیا گیا تھا جنہوں نے برطرفیوں کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل کی جو رد ہوگئی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے انہیں بحال کر دیا تھا۔

گمشدہ گوراقبرستان کا کچھ اتا پتہ ہمیں گزیٹئر آف کراچی میں ملا۔ یہ جے ڈبلیو اسمتھ کا مرتب کردہ ہے۔ اس گزیٹئر کی پہلی اشاعت 1919 میں اور دوسری اشاعت 2003 میں انڈس پبلی کیشن کے زیر اہتمام صفدر مہدی نے کی۔

اس گزیٹئر کے مطابق کراچی کے بارے میں مستند تاریخی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ کراچی کا قدیم ترین قبرستان بندر روڈ کے بائیں کنارے پر بندر روڈ اور پریڈی ٹینک کے درمیان ہے۔ یہ سندھ میں کراچی کا سب سے قدیم یورپی قبرستان ہے۔

سندھ کی فتح سے قبل جب ریزروڈ فورسز نے پرانی کراچی کے قریب پڑاؤ ڈالا تھا۔ یہاں پرینکنڈ گرینڈیئر ریجمنٹ BNI کے کیپٹن ہینڈرز کی قبر بھی ہے جنہیں سندھیوں کے ایک گروہ نے 1839 میں قتل کر دیا تھا۔

لواحقین نے سیٹھ ناؤمل کو کیپٹن ہینڈز کے درد ناک انجام کے بارے میں بتایا کہ ایک دن وہ مگر پیر (منگھوپیر) کی سیر کے لیے گھر سے نکلے لیکن واپس نہیں لوٹے۔ تلاش کی گئی تو ان کی لاش ایک پہاڑی سلسلے کی چوٹی پر ملی.

کرنل اسیلر آفیسر ان کمانڈ نے ناؤ مل سے رابطہ کیا انہوں نے اس بات کا پتہ چلالیا کہ قاتل بدنام زمانہ مذہبی رہ نما شاہ بلاول کا خلیفہ چاکر تھا (چاکر کلمتی بلوچ تھا) اس کے ماننے والے کیپٹن کے کوٹ پر لگے سونے کے بٹن چرانا چاہتے تھے۔

حیدرآباد کے پولیٹیکل ایجنٹ میر نور محمد پر دباؤ ڈالا گیا کہ خلیفہ چاکر کو گرفتار کرلے۔ گرفتاری کے بعد اسے کراچی بھیجا گیا۔ مقدمے کی سماعت ایک ملٹری کورٹ میں کی گئی۔ سزا کے بعد اسے نیپئر بیرکس سے دو میل دور شمال مشرقی علاقے میں اسی مقام پر پھانسی دی گئی جہاں قتل ہوا تھا۔ اس مقام کو ہینڈز ہل کے نام سے جانا جاتا ہے۔

معروف مؤرخ گل حسن کلمتی اپنی کتاب 'کراچی کے لافانی کردار' میں میر چاکر خان کلمتی کو ایک حریت پسند قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق چاکر خان کو جس وقت سزائے موت دی جارہی تھی اور ان کے چہرے پر سیاہ نقاب چڑھانے کے لیے جب ایک انگریز اہلکار آگے بڑھا تو چاکر خان نے اسے روک دیا انہوں نے پھانسی کا پھندہ اپنے گلے میں خود ڈال کر جلاد کو پیروں کے نیچے سے تختہ ہٹانے کے لیے کہا۔

خیر یہ تو ثابت ہوگیا کہ گمشدہ گورا قبرستان بندر روڈ پر ہے۔ لیکن ہے کہاں؟َ آج قبرستان کی جگہ پر اقبال سینٹر کے نام سے ایک عمارت کھڑی ہے۔

ہم اقبال سینٹر پہنچے وہاں انجمن تاجران کے سیکریٹری ضیاء صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تو نہیں معلوم کہ یہ گورا قبرستان ہے یا نہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ وہ بچپن میں یہاں کھیلتے تھے اور یہاں کچھ قبریں ہوتی تھیں بعد میں یہاں اقبال سینٹر بن گیا۔


اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بندر روڈ پر اقبال سینٹر ہے کہاں؟

زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس عمارت کو آپ آسانی سے تلاش کرلیں گے۔ بھئی بندر روڈ کے مین چوراہے جامع کلاتھ کے سگنل پر جہاں دل پسند مٹھائی والے کی مشہور دکان ہے یہی اقبال سینٹر ہے جو کراچی کے پہلے گورا قبرستان کی قبروں پر قائم ہے۔