ایک نئی دنیا کا وعدہ

اپ ڈیٹ 14 اگست 2014

ای میل

اوباما نے بھی 'تبدیلی' کا وعدہ کیا تھا، پتا ہے ان کے حامیوں کو کیا ملا؟ جو پہلے تھا وہی، پہلے سے بھی زیادہ- -- اے پی پی فوٹو
اوباما نے بھی 'تبدیلی' کا وعدہ کیا تھا، پتا ہے ان کے حامیوں کو کیا ملا؟ جو پہلے تھا وہی، پہلے سے بھی زیادہ- -- اے پی پی فوٹو

آج یوم آزادی ہے، 'آزادی'، 'انقلاب'، اور نیا پاکستان کے نعرے فضا میں ہمیشہ سے زیادہ بڑھے ہوئے جوش و جذبے کے ساتھ گونجتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں-

صاف لگتا ہے کہ پاکستانی اس سڑے گلے موجودہ نظام سے تنگ آچکے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں- لیکن کس طرح کی تبدیلی؟ باراک اوباما نے بھی اپنی انتخابی مہم کے دوران تبدیلی کا وعدہ کیا تھا، اور آپ کو پتہ ہے ان کے حامیوں کو کیا ملا: جو پہلے تھا وہی، پہلے سے بھی زیادہ-

سچائی تو یہ ہے کہ ایک عرصے سے موجود ایک نظام کو ختم کرنے کیلئے ایک بڑے سیاسی عزم کے ساتھ اور کافی تکلیفوں سے گذرنا پڑتا ہے- جب ذوالفقار علی بھٹو نے 1970 میں اپنی مہم شروع کی، تو ان کے پاس سوشلسٹ انقلاب کا ایک واضح خاکہ تھا، ان کے پروگرام سے اختلاف کیا جاسکتا ہے ---اور یقیناً ان کی قومیانے کی پالیسیاں ایک بڑی تباہی ثابت ہوئیں--- لیکن انہوں نے اپنے اہداف بالکل واضح انداز میں پیش کئے-

بالکل اسی طور پر، یہ شدت پسند جو پاکستانی ریاست سے جنگ میں مصروف ہیں انہوں نے ہمارے سامنے قبائلی طرز زندگی کا ایک نمونہ پیش کیا ہے جسے وہ اس معاشرے پر تھوپنا چاہتے ہیں، اور جو ان کے خیال میں ابتدائی اسلامی دور کی ایک شکل ہے- اور ایک بار پھر، اس نظریہ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن کم ازکم اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ طالبان اور ان کا ٹولہ چاہتا کیا ہے-

بہرحال، اپنے پیروؤں کیلئے اس طرح کی کوئی وضاحت عمران خان اور طاہرالقادری کے پیغام میں نہیں دی گئی ہے- دونوں بدعنوانی کا خاتمہ، نوازشریف کی حکومت کا خاتمہ، بجلی کی کمی کا خاتمہ، اور لاکھوں بیروزگار پاکستانیوں کیلئے نوکریاں چاہتے ہیں-

یہاں تک تو ٹھیک ہے، تو ہم پہلے بدعنوانی سے شروع کرتے ہیں- اگر، مثال کے طور پر، کل عمران خان نوازشریف کی جگہ پر ہوں، تو وہ رشوت خوری کیسے ختم کرینگے؟

مجھے پتہ ہے کہ انہوں نے 90 دنوں میں اسے ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ایک سال سے زیادہ عرصے سے خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت ہے، اور مجھے یقین نہیں ہے کہ انہوں نے یہ وعدہ پورا کیا ہے-

بدعنوانی سے ملک کو پاک کرنا ایک مختلف قسم کا چیلنج ہے- اس سے قطع نظر کہ کون سربراہ ہے، بیوروکریسی کی مشینری وہی رہے گی جو ملک کو چلانے کی ذمہ دار ہے- ایماندار اورلائق بابوؤں اور سپاہیوں کی فوج آسمان سے اتنی جلد اترنے والی نہیں ہے-

اتنے سالوں میں، ہماری سول سروس اور پولیس فورس اور زیادہ بے ایمان اور نا اہل ہو چکی ہے- اس لئے اگر آپ مقامی تھانیدار یا پٹواری کے پاس جائیں اوراس سے کہیں کہ بڑے خان صاحب کا حکم ہے کہ اب کوئی رشوت خوری نہیں ہوگی، تو میں صرف آپ کی خوش قسمتی کی خواہش کرسکتا ہوں-

اس کے بعد، نوکریاں- انکی انتخابی مہم کےدوران، میں نے انہیں ایک جلسہ میں یہ کہتے سنا کہ وہ پاکستان کے سارے بیروزگار نوجوانوں کو نوکریاں دینگے- اس بات کا خیال رہے کہ تقریباً 40 لاکھ مزید نوجوان ہر سال نوکری کیلئے مارکیٹ میں آجاتے ہیں، ان کے علاوہ جو پہلے سے موجود ہیں، میں حیران ہوں کہ وہ یہ کام کس طرح کرینگے-

پھر پاکستان میں بجلی کی کمی کا شدید تر ہوتا ہوا مسئلہ ہے- گذشتہ حکومت کو لوڈ شیڈ نگ کم کرنے یا ختم کرنے میں ناکامی کا نتیجہ انتخابی پٹائی کی صورت میں بھگتنا پڑا- نوازشریف کی کارگذاری اس سے کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے-

کئی مرتبہ عمران خان نے، پاکستان کے دریاؤں سے بجلی پیدا کرنے کا وعدہ کیا- مجھے حیرت ہے کہ ان کے مشیروں میں سے کسی نے بند کی قیمت اور وقت کے بارے میں ان کو بتایا ہے یا نہیں جو اس کی تعمیر اور وافر بجلی کی پیداوار کیلئے چاہئے؟

اتنے سال اور اربوں ڈالر جو اس کی تعمیر کیلئے چاہئے اس کے علاوہ، کے پی اور سندھ دونوں صوبوں نے ڈیم بنانے اور دریاوں کا راستہ بدلنے کے کسی بھی بڑے پانی سے بجلی بنانے کے منصوبے کی مخالفت کی ہے- اسے صرف پنجاب کی حمایت حاصل ہے، لیکن اس کی زمیںیں ان منصوبوں کی وجہ سے سے زیر آب نہیں آئیںگی، اور نہ اس کی نہریں خشک ہونگی-

اس سے متعلق ایک مسئلہ جس کا ذکر شاید ہی کبھی کیا جاتا ہے وہ غیر ادا شدہ یوٹیلٹی بلز کا ہے- یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب خواجہ آصف، ملک کے توانائی کے چودھری، نے مجھے بتایا تھا کہ کے پی کے کچھ حصوں میں 93 فی صد بجلی کے بل ادا ہی نہیں کئے جاتے ہیں، اس کے باوجود وہاں کے لوگ بجلی نہ ہونے کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں-

اگر افراد، کاروباری اور حکومتی ادارے بجلی کے بل ادا نہ کریں گے، تو بجلی کمپنیوں کے پاس کبھی بھی تیل اور گیس کی خریداری، سپلائی کے نیٹورک میں سرمایہ کاری یا نئے بجلی گھر بنانے کیلئے کافی پیسے نہیں ہونگے-

تو پھر آخر اس 'نئی دنیا' کے خدوخال کیا ہیں جس کا وعدہ عمران خان اور طاہرالقادری لوگوں سے کرتے پھررہے ہیں؟ حقیقتاً، کوئی بھی چیز اس سے بہرحال بہتر ہوگی جو ابھی ہمارے پاس ہے- میں نے حال ہی میں جب یہ لکھا کہ نوازشریف کو ان کی مدت پوری کرنے دیا جائے کیونکہ ان کی کارکردگی اتنی بری بھی نہیں ہے، تو مجھے کافی لوگوں کی طرف سے جھاڑ پڑی تھی-

لیکن یہ حکومت جس نااہلی اور توجہ کے فقدان کا مظاہرہ کررہی ہے، اس کی وجہ سے اگر وہ تبدیلی کا مطالبہ کریں تو میں لوگوں کو الزام نہیں دونگا، خصوصاً جب کہ وہ اس شدید گرمی میں بےحد پریشان ہوں اور بجلی کے پنکھے بھی نہ چلا سکیں-

بہرحال، چاہے عمران خان کا لانگ مارچ (اور میں اس Cliche کے بےتحاشہ استعمال سے سخت تنگ آچکا ہوں) اس حکومت کو شاید متزلزل کردے، لیکن مجھے اس میں شبہہ ہے کہ یہ اچانک بجلی کے سارے مسائل حل کردے گا- اور جیسا کہ ہم نے بارہا دیکھا ہے- ہر نیا آنے والا پرانے سے بھی بدتر ہوتا ہے-

عمران خان نے 14 اگست کو مستقبل کا ایک خاکہ دینے کا وعدہ کیا ہے- مجھے دیکھنا ہے کہ ان کے ہیٹ سے کون سا خرگوش برآمد ہوتا ہے- لیکن اگر وہ واقعی ملک کے مسائل 90 دنوں میں حل کرنے کا ارادہ کرچکے ہیں جیسا کہ انہوں نے کئی بار کہا ہے، تو اس کیلئے ان کو ایک جادو کی چھڑی درکار ہوگی جس کو چارج کرنے کیلئے قومی بجلی گھر کی ضرورت نہیں ہوگی-

ترجمہ: علی مظفر جعفری


انگلش میں پڑھیں