انیس سو ستتر کی بازگشت

اپ ڈیٹ 17 اگست 2014

ای میل

نواز شریف کی تمام غلطیوں کے باوجود، کیا ہم کہ سکتے ہیں کہ ہماری غیر مستحکم جمہوریت کو ختم کر دینا چاہیے؟
نواز شریف کی تمام غلطیوں کے باوجود، کیا ہم کہ سکتے ہیں کہ ہماری غیر مستحکم جمہوریت کو ختم کر دینا چاہیے؟

ایک غیر حاضر زمیندار کرائے وصول کرنے دور دراز کا سفر تو کر سکتا ہے، پر ایک غیر حاضر وزیر اعظم صرف خطرے کو دعوت دیتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نواز شریف کی اسلام آباد موجودگی کا مطلب ان کی گورننس میں بہتری کی مثال ہے، لیکن پھر بھی ان کی موجودگی سے ان کے حامیوں میں اعتماد کی کمی دور ہو سکتی ہے۔ اس وقت تمام حوالوں سے وہ ایک الگ تھلگ شخصیت ہیں، جن سے اکثر ان کے کابینہ کے وزرا بھی نہیں مل پاتے۔

اسی لیے یہ حیران کن بات نہیں، کہ جب عمران خان اور طاہر القادری نے اپنے دھرنوں اور مارچوں کا اعلان کیا، تو نواز شریف نے کہا، "میری سمجھ سے باہر ہے، انھیں آخر یہ ایجنڈا دیا کس نے ہے؟"۔

کنفیوژن ہی وہ لفظ ہے، جو موجودہ بحران سے نمٹنے کے ان کے اقدامات کے لیے پوری طرح موزوں ہے، اور مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے اپنے لیے یہ لفظ خود چنا۔ لیکن نواز شریف کو اب تک تو یہ سمجھ جانا چاہیے تھا کہ یہ ایجنڈا کس کی جانب سے دیا گیا ہے۔

تاریخی طور پر پاکستانی ملٹری اور سیاسی قیادت کے ہمیشہ سے خراب تعلقات، اور نواز شریف کے اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر یہ امید کی جاسکتی ہے، کہ وہ جنرلز کے خلاف جانے سے پہلے اب دو بار سوچیں گے۔ کیونکہ اب انھیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ آرمی سے زیادہ زوردار وار کوئی نہیں کر سکتا۔

شاید گزشتہ سال جنرل کیانی کے بعد جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف بناتے ہوئے ان کے ذہن میں یہ خیال تھا، کہ جنرل راحیل شریف کے ساتھ ان کے خاندانی تعلقات انھیں مستقبل میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت سے محفوظ رکھیں گے۔

لیکن نواز شریف کو اب تک یہ سمجھ لینا چاہیے، کہ آرمی کے لیے اپنے ادارے کے مفادات دوسری تمام باتوں سے بالا تر ہیں۔ اور ایسے وقت میں جب بھلے ہی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے خود کو موجودہ سیاسی بحران سے دور رکھا ہوا ہے، اس کا کردار بالکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

طالبان کے خلاف آپریشن لانچ کرنے میں تاخیر سے لے کر، جیو ٹی وی کی جانب سے حامد میر پر حملے کے الزامات آئی ایس آئی پر لگانے کے بعد جیو کی حمایت کرنے تک، نواز شریف آرمی کے ساتھ تصادم کی راہ پر ہیں۔

اور ان کا مشرّف کے ٹرائل کو لے کر جنرلز کے ساتھ "پنگا" لینا بھی ان کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوا ہے۔ بھلے ہی قانون کی بالادستی کے علمبرداروں اور پارٹی میں موجود کچھ عناصر نے ان کے اس فیصلے کو سراہا، لیکن جی ایچ کیو میں اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

آج کے پاکستان میں سیاسی حقائق پرکشش قانونی نقطوں سے میل نہیں کھاتیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اخلاقی راستہ اپنانا آپ کو ایک آسان شکار بنا سکتا ہے۔ پچھلے ایک سال سے الیکشن کمیشن اور حکومت انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات میں تاخیر سے کام لے رہے ہیں۔

اور اب جبکہ حکومت پر ایک زبردست پریشر ڈالا گیا ہے، تو حکومت نے عمران خان کی شکایات کا جائزہ لینے کے لیے عدالتی ٹربیونل قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مجھے اس سے ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے اپوزیشن کی ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کی تحریک کو ٹھنڈا کرنے کے لیے شراب، نائٹ کلبز، اور جوئے پر لگائی گئی پابندی یاد آ گئی۔ یہ سب اقدامات انھیں بچانے میں ناکام رہے، لیکن ان اقدامات کے نتائج ملک آج تک بھگت رہا ہے۔

پھر ان واقعات کے ساتھ ساتھ دوسرے واقعات بھی ہیں۔ اصغر خان نے نا صرف فوج کو مداخلت کرنے کی دعوت دی، بلکہ بھٹو کی جانب سے دوبارہ انتخابات کرانے کے اعلان کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے انتخابات ہونے سے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ اگر پی پی پی انتخابات میں کامیاب ہوئی، تو اپوزیشن نتائج مسترد کر دے گی۔ انہوں نے بھٹو کو کہوٹہ پل سے لٹکا دینے کی بھی دھمکی دی تھی۔ سنا سنا لگ رہا ہے؟

سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر انتخابات میں نقائص موجود رہے ہیں۔ 2013 کے انتخابات کے بارے میں قومی اور بین الاقوامی مبصرین کی اکثریت کی یہ رائے ہے، کہ یہ آج تک کے شفاف ترین انتخابات ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کئی حلقوں میں اعداد و شمار کے ساتھ کھیلا گیا، جبکہ کچھ حلقوں میں نتائج بیوروکریسی یا با اثر امیدواروں کے غنڈوں کی مداخلت کی وجہ سے حقائق پر مبنی نہیں قرار دیئے جا سکتے۔

لیکن تیسری دنیا میں بہت کم ہی انتخابات مکمّل طور پر شفاف ہوتے ہیں۔ مینڈیٹ کے بارے میں ایک اچھے اندازے سے زیادہ کی ہم امید نہیں کر سکتے۔ 2000 میں جب میامی کے "ہینگنگ چاڈز" نے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیڈ لاک پیدا کرنے کی دھمکی دی، تو معاملہ سپریم کورٹ کو ریفر کر دیا گیا۔ کیس سننے کے لیے جو بینچ قائم کیا گیا، اس کے ججز کی اکثریت دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھتی تھی، جس نے بش کے حق میں فیصلہ دیا۔

ان کے مخالف الگور کو انکی قانونی ٹیم نے کیس لڑتے رہنے کے لیے قائل کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن الگور نے اس سے انکار کر دیا، کیونکہ ان کے نزدیک امریکا کے لیے غیر یقینی سیاسی صورتحال خطرناک ہو سکتی ہے۔ عمران خان سے اس طرح کی کوئی امید رکھنا تو دور کی بات ہے، ان کے الفاظ اور اقدامات غیر آئینی قوّتوں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں، بلکل اسی طرح، جیسے کبھی اصغر خان کے تھے۔

1977 اور آج کے حالات میں ایک اور مماثلت یہ ہے، کہ تب بھٹو نے اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے طوفان سے نمٹنے کے لیے فوج کو مدد کے لیے پکارا۔ بڑے شہروں میں فوجی دستوں کی تعیناتی کے بعد ضیاء الحق نے حکومتی تختہ الٹ کر بھٹو کو پھانسی دے دی۔

لیکن نواز شریف کی تمام غلطیوں کے باوجود، کیا ہم کہ سکتے ہیں کہ ہماری غیر مستحکم جمہوریت کو عمران خان کی خواہشات کی تکمیل کے لیے ختم کر دینا چاہیے؟

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 16 اگست 2014 کو شائع ہوا۔