اب مارشل لاء کیوں ناممکن؟

22 اگست 2014

ای میل

بے انتہا طاقت، اور اعلیٰ اداروں میں ٹیکنو کریٹس کی موجودگی کے باوجود بھی آمر نہ پہلے کچھ کر سکے، نہ آج کر پائیں گے۔
بے انتہا طاقت، اور اعلیٰ اداروں میں ٹیکنو کریٹس کی موجودگی کے باوجود بھی آمر نہ پہلے کچھ کر سکے، نہ آج کر پائیں گے۔

پاکستان آرمی کے لیے ٹیک اوور کر لینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ملک کی 67 سالہ تاریخ میں آنے والے سارے مارشل لاء کسی خون خرابے کے بغیر ہی حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہوئے۔ ہلکے ہتھیاروں سے لیس صرف کچھ فوجی دیواریں پھلانگ کر کچھ عمارات میں داخل ہوتے ہیں، اور سول اسٹیبلشمنٹ کو "حفاظتی تحویل" میں لے لیتے ہیں۔

پھر بیک گراؤنڈ میں قائد اعظم کی تصویر اور قومی پرچم کے ساتھ فوج کا سربراہ "میرے عزیز ہموطنو!" والا خطاب کرتا ہے۔

اس لائیو ٹیلیکاسٹ سے پہلے بہت سارے واقعات وقوع پزیر ہوتے ہیں ۔۔۔۔ سیاستدان چھوٹے چھوٹے مسئلوں پر سب کے سامنے لڑنا شروع کر دیتے ہیں، اور جیسے ہی بحراں اپنے کلائمکس کو پہنچتا ہے، تو بچانے والا میدان میں کود پڑتا ہے۔ دیکھنے والے سکون کا سانس لیتے ہیں، جبکہ کچھ طبقے بے تحاشہ تالیاں بجانا شروع کر دیتے ہیں۔

لیکن سامنے نظر آنے والے اس کھیل کے علاوہ، مارشل لاء کے اس بظاہر سادہ عمل سے پہلے کچھ اور چیزیں بھی سرگرم عمل ہوتی ہیں، جن کا حساب لگانا ضروری ہے۔

پاکستانی تاریخ کے تین بڑے فوجی انقلابوں کا اگر تقابلی جائزہ لیا جائے، تو میرے نقطہ نظر سے اس دفعہ شاید فوجی بغاوت ممکن نہ ہو۔


1: آئینی تحفظ شاید نا دیا جائے۔

بغاوت کے بعد فوج کو اس غیر آئینی اقدام کو آئین کی چھتری کے نیچے لانے کے لیے کئی سطحوں پر مشتمل مشق کرنی پڑتی ہے۔

سب سے پہلا، ایک عبوری آئینی حکم (پی سی او)، جس کے تحت آئین اور پارلیمنٹ کو معطل کر دیا جاتا ہے۔ یہ کسی بھی وقت پرانے پی سی او میں کاپی پیسٹ کے ذریعے بنایا جا سکتا ہے۔

لیکن پی سی او کا ایک نتیجا یہ بھی ہے، کہ اعلیٰ عدلیہ کے تمام جج صاحبان کو اس کے تحت دوبارہ حلف اٹھانا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے مشکل پیدا کرنے والا یا کوئی بھی باغی جج بینچ میں باقی نہیں رہتا۔ ماضی میں بھی کئی جج صاحبان پی سی او کے تحت حلف اٹھاتے رہے ہیں۔

کیا یہ 2014 میں دوبارہ ممکن ہو گا؟

اس کے بعد عدالت نظریہ ضرورت کے تحت مارشل لاء کے اقدام کو ضروری قرار دیتی ہے، اور فلسفہ سناتی ہے کہ انقلاب خود اپنے قانونی ہونے کو ثابت کر دیتا ہے۔

ایسے ہی فیصلوں سے آمروں کو آئین میں ترمیم کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ آئین میں ترمیم کی اجازت کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ اس سے کھیل کھیلنے کے لیے زیادہ طاقت مہیا ہو جاتی ہے۔

ضیاء کے لیے تو آئینی ترمیم کی اجازت یہاں تک دے دی گئی، کہ "جیسے آپ کو بہتر لگے"۔ جنرل مشرف کو بھی فری ہینڈ دیا گیا تھا، پر 2000ء میں کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں انہیں پابند کر دیا تھا، کہ وہ ٹیک اوور کے 3 سال کے اندر عام انتخابت کرایئں گے۔

لیکن مشرف کے 2007 کے اقدامات پر اعلیٰ عدلیہ کا رد عمل ہماری تاریخ کا ایک نیا باب ہے۔

پچھلے 7 سالوں میں عدلیہ نے ایک نیا مقام، اور ایک بے مثال آزادی حاصل کی ہے، کیا وہ اسے ایسے ہی ختم ہونے دے گی؟


2: عالمی برادری کی جانب سے تسلیم کیا جانا مشکل ہے۔

مارشل لاء کا نفاز کرنے والے کے لیے ایک مشکل کام عالمی برادری سے نمٹنا ہے۔

جب جنرل مشرف نے 1999 میں نواز حکومت کا تختہ الٹا تھا، تو انہیں خوش آمدید نہیں کیا گیا، یہاں تک کہ پاکستان کی دولت مشترکہ کی رکنیت بھی معطل کر دی گئی تھی, بھلے ہی یہ صرف علامتی قدم تھا، لیکن مشرف پر ملک میں جمہوریت کی جلد واپسی کی گارنٹی دینے کے لیے پریشر بڑھ چکا تھا۔

مارشل لاء کے کچھ ہفتوں بعد ہی وہ کھٹمنڈو گئے، جہاں انہوں نے سارک کانفرنس میں شرکت کی۔ اپنی تقریر کے اختتام پر وہ ہندوستانی ہم منصب کے پاس گئے اور ان سے مصافحہ کیا۔ کارگل جنگ کے ذمہ دار جنرل کی جانب سی اپنی بڑھتی ہوئی تنہائی ختم کرنے کے لیے یہ ایک "بولڈ" قدم تھا۔

مارچ 2000 میں امریکی صدر بل کلنٹن ہنوستان کے پانچ روزہ دورے پر آئے۔ وہائٹ ہاؤس کو یہ فیصلہ کرنے میں ہفتوں کا وقت لگا کہ آیا بل کلنٹن پاکستان کا دورہ کریں گے یا نہیں۔

امریکی فیصلی ساز اس حوالے سے دہ گروبوں میں تقسیم تھے۔ ایک گروب کا کہنا تھا کہ کلنٹن کا دورہ پاکستان کا مطلب ہو گا کہ امریکہ فوجی حکومت کی حمایت کرتا ہے، جس سے وہاں جمہوریت کے پروان چڑھنے میں مشکل ہو گی۔

دوسرے گروب نے پہلے کی بات سے اتقاق کیا پر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کیونکہ پاکستان ایٹمی عدم پھیلاؤ، دہشتگردی کے خلاف جنگ، اور علاقائی امن کے حوالے سے ایک اہم ملک ہے، اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

آخر کار کلنٹن نے پاکستان کا 5 گھنٹے کا دورہ کیا۔ انہوں نے اپنی ساری میٹنگز اسلام آباد ایئر پورٹ پر کیں، اور اس بات کا خاص اہتمام کیا کہ مشرف کے ساتھ انکی ملاقات کی فوٹوگرافی نا ہو، کیونکہ وہ ایک ملٹری ڈکٹیٹر سے ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھا جانا نہیں چاہتے تھے۔

لیکن 11 ستمبر کے بعد چیزوں نے ایک مختلف رخ اختیار کیا۔

صدر بش نومبر 2011 میں جنرل مشرف سے اس وقت ملے، جب وہ اقوام متحدہ کی میٹنگ میں شرکت کرنے کے لیے امریکہ گئے تھے۔ میٹنگ کی نا صرف تصویریں نکالی گئیں، بلکہ ٹی وی پر نشر بھی کی گئی۔ عالمی لیڈروں نے پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی بارش کر دی۔ باقی آپ جانتے ہیں۔

جب ایوب اور ضیاء نے ٹیک اوور کیا تھا، تو اس وقت عالمی سیاسی اخلاقیات فوجی مداخلتوں کے خلاف نہیں تھیں، لیکن پھر بھی ان دونوں جنرلز نے ایک ایک دہائی کی حکومت صرف سیاسی کھیلوں میں مہروں کا کردار ادا کر کے کی۔

ایوب نے امریکا کو پشاور میں جاسوسی کا اڈا فراہم کیا، تو ضیاء الحق نے پورا ملک ہی سی آئی اے کو افغانستان میں سوویت افواج سے لڑنے کی لیے دے دیا۔

جغرافیائی-سیاسی کھیل اب بھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔

حال ہی میں مصر میں جنرل سیسی نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا، اور پھر اپنے بنائے ہوئے آئین کے تحت خود ہی منتخب ہو گئے۔ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ ان انتخابات کے ذریعے کامیاب ہوئی، جس میں اس کے علاوہ باقی تقریباً تمام جماتوں نے بائیکاٹ کر دیا تھا۔ عالمی برادری دونوں حکومتوں کو جائز تسلیم کرنے میں ہچکچا رہی ہے، لیکن اب تک کسی نے ان دونوں کے خلاف کوئی اقدام بھی نہیں کیا ہے۔

حقیقت میں ان دونوں ٹیک اوور کو رحمت کے طور پر دیکھا گیا، کیونکہ دونوں ہی لیڈر اپنے اپنے ملکوں میں مذہبی انتہا پسندی کے سخت مخالف ہیں۔

تو اس وقت عالمی سیاست کا قانون یہ ہے کہ اگر آپ مذہبی انتہاپسندی کے خلاف ہیں، تو آپ کو قوانین اور جمہوریت سے کھیلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

لیکن پاکستانی ملٹری جنرل سیسی یا شیخ حسینہ واجد جیسی شہرت نہیں رکھتی، اس لیے عالمی برادری اسے یہ پتہ کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔


3: دوستانہ پارلیمنٹ شاید نہ ملے

مشرّف نے عام انتخابات 10 اکتوبر 2002 کو کورٹ کی جانب سے دی گئی مہلت کے خاتمے سے کچھ دن پہلے ہی کرائے۔ لیکن عام انتخابات میں حصّہ لینے سے پہلے، تمام تین فوجی آمروں نے بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔

اس سے ان کے پاس جی حضوری کرنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد مل جاتی ہے، جن کو تربیت دے کر ملٹری حکمران کے سویلین ہتھیاروں کے طور پر لایا جاتا ہے۔ پچھلے مارشل لاء میں تربیت حاصل کر چکے ہوئے کچھ سینئر کھلاڑیوں کو بھی آگے آنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ بلدیاتی الیکشنز کے ساتھ ساتھ ایک ریفرنڈم بھی کرایا جاتا ہے، جس میں جنرل کو ملک کے ٩٠ فیصد سے زیادہ عوام کی جانب سے ملک کا حقیقی حکمران تسلیم کر لیا جاتا ہے۔

مشرّف نے یہ دونوں اہم کام 2002 میں عام انتخابات کرانے سے پہلے کر لیے تھے۔ اس وقت وہ اپنے عروج پر تھے۔ چیف آف آرمی سٹاف کی حثیت میں ریفرنڈم کرانے کے بعد انہوں نے وفادار سیاستدانوں کی ایک پوری بٹالین کو بھرتی کر لیا تھا، جن میں سے کچھ مسلم لیگ ن کی ہاری ہوئی فوج سے تھے، اور کچھ نئے بلدیاتی انتخابات سے حاصل کیے گئے۔ انہوں نے ووٹنگ کے لیے عمر کی حد کو کم کیا، نئے حلقے بنائے، اور حلقہ بندیاں بھی دوبارہ کیں۔ اس کے علاوہ وہ ملک کے دو چوٹی کے لیڈروں بینظیر بھٹو اور میں نواز شریف کو جلا وطن کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ دونوں پارٹیاں بدنظمی اور ڈپریشن کا شکار ہو گئیں، جبکہ ان کے حلقوں میں مایوسی پھیل گئی۔

مارشل لاء نافذ کرنے والے کے لیے جیتنے کا اس سے بہتر کوئی موقع نہیں تھا۔

لیکن 2002 کے انتخابات کے نتائج کیا تھے؟

"کنگز پارٹی" کے پاس حکومت بنانے کے لیے اکثریت نہیں آ سکی۔

اس کے بعد مشرّف نے قوانین میں تبدیلی کی، اور آزاد امیدواروں کو اجازت دی کہ وہ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد کسی سیاسی جماعت کا حصّہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی تبدیل کرنے کے قوانین میں بھی نرمی کی، اور پی پی پی کے حلقوں میں پھوٹ ڈالنے میں کامیاب ہوئے۔ اس سب سے ملٹری کی سیاست میں اسٹریٹجک قابلیت کھل کر سامنے آئی، اور یہ سب صرف 12 سال پہلے ہوا۔

فوجی آمر کو اب پارلیمنٹ میں کتنے حامی مل سکیں گے؟


4: ملٹری ٹیکنو کریٹس شاید اقتصادی محاذ پر بہتر کام نہ کر سکیں

جمہوری حکومتوں پر ہمیشہ ملکی معیشت تباہ کرنے کا الزام لگتا رہا ہے، جبکہ معاشی اشاریوں کے مطابق فوجی حکومتیں نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ معیشت کی بہتری عوامی حمایت جیتنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

لیکن جنرلز کی بہتر پرفارمنس کے پیچھے ایک وجہ ہے۔

ایوب، ضیاء، اور مشرّف، تینوں ہی مغربی قوّتوں کی جانب سے جغرافیائی سیاسی کھیلوں میں اسٹریٹجک کردار کے بدلے میں ملنے والے تحفوں پر جیتے تھے۔ پیسا گرانٹس اور ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ذریعے آسان شرائط پر قرضوں کی صورت میں آتا تھا۔

لیکن اوپر اوپر سے دیکھنے والی یہ ترقی اسی وقت ختم ہوجاتی، جب مغرب سے سپلائی رک جاتی۔

ملٹری حکمران ان مواقع کو ساؤتھ کوریا اور ملائشیا کی طرح استعمال کرنے میں ناکام رہے، ان دونوں ممالک نے اپنی اسٹریٹجک پوزیشنز کو اپنے مضبوط معاشی استحکام کے لیے استعمال کیا۔

مشرّف کے دور کی یادیں تو اب بھی تازہ ہیں۔ ملک کا توانائی کا بحران ان کے دور میں ہی آج کے دور کی حد تک سنجیدہ صورت اختیار کر گیا تھا۔ ظفراللہ جمالی جیسے سویلین وزیر اعظم کو 20 ماہ تک آزمانے کے بعد انہوں نے ایک اونچے درجے کے ٹیکنو کریٹ شوکت عزیز کو وزیر اعظم تعینات کر دیا۔

شوکت عزیز امریکہ میں سٹی بینک کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے، کہ مشرّف نے انھیں وہاں سے پاکستان بلا کر وزیر خزانہ تعینات کر دیا۔ اکتوبر 1999 سے لے کر نومبر 2007 تک وہ اسی حیثیت میں کام کرتے رہے، اور آخری تین سالوں میں انہوں نے وزارت عظمیٰ بھی سنبھالی۔ لیکن یہ ٹیکنو کریٹ صاحب ملکی معیشت کو سنبھالنے میں بری طرح ناکام رہے۔ حقیقت میں ان کی پالیسیوں کو بلا شبہ توانائی کے اس شدید بحران کے لیے مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

ان کی حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے جیسے اہم کاموں میں بھی ناکام رہی۔

اسی لیے، بے انتہا طاقت، اور اعلیٰ اداروں میں ٹیکنو کریٹس کی موجودگی کے باوجود بھی آمر نہ پہلے کچھ کر سکے، نہ آج کر پائیں گے۔

معیشت کو بہتری کے لیے ایک لمبا، مشکل، اور جمہوری راستہ لینا ہے۔

اس لیے شارٹ کٹس کو بھول جائیں۔

انگلش میں پڑھیں


طاہر مہدی جمہوریت اور گورننس پر ریسرچ کرنے والے ادارے پنجاب لوک سجاگ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر @TahirMehdi کے نام سے لکھتے ہیں۔