سیاست کا نقصان

ای میل

عاصم سجاد اختر قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ ہیں۔
عاصم سجاد اختر قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ ہیں۔

پاکستان تمام حوالوں سے ایک بے مثال ملک ہے۔ پچھلے دس دنوں سے اسلام آباد کے ریڈ زون میں جو کچھ ہورہا ہے، اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان میں سیاست کس قدر غیر یقینی نوعیت رکھتی ہے۔

24 گھنٹے ٹی وی نشریات کے دور سے پہلے، لوگوں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا، کہ وہ ملک میں طاقت کے ڈھانچوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، انھیں تبدیل کرنا تو دور کی بات ہے۔ لائیو ٹی وی نشریات کے شروع ہونے کے بعد کچھ وقت کے لیے یہ فریب ہمارے دلوں میں بیٹھ گیا، کہ میڈیا ہی تبدیلی لا سکتا ہے۔

کئی سالوں بعد، عام لوگوں کی ایک بڑی اکثریت اب بھی ٹیلی ویژن سکرینز کے سامنے موجود ہے، پر اب انھیں یقین آگیا ہے ہے کہ اس سکرپٹ میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

کچھ حد تک پنجاب کے لوگوں کو محسوس ہوا ہوگا، کہ وہ بھی اس ڈرامے میں شریک ہیں۔ یہ اس وجہ سے بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے مارچ کرنے والوں کو قریب سے دیکھا، اور اس وجہ سے بھی کہ سڑکوں پر رکاوٹوں سے سب سے زیادہ وہ ہی متاثر ہوئے ہیں۔ لیکن یہ زبردستی کی شراکت ہے۔ مجھے شک ہے کہ پنجابیوں اور سرائیکیوں کی ایک بڑی تعداد ایسا نہیں سمجھتی کہ اس پورے معاملے کے بعد وہ زیادہ با اختیار ہو جائیں گے، یا پھر ان کی اجتماعی زندگیوں میں اس سے کوئی فرق پڑے گا۔

اس ڈرامے میں پختون واضح طور پر شریک تھے، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے۔ پارٹی کے جو ورکر پرویز خٹک کی قیادت میں پشاور سے اسلام آباد تک آئے، وہ آزادی مارچ کے سب سے وفادار شرکاء میں سے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی سے تعلّق رکھنے والے پی ٹی آئی کے وفاداروں کی بڑی تعداد نے اپنے قائد کی طرح شام کو مظاہرے میں شرکت، اور دن میں اپنے گھر واپسی کے روٹین پر عمل کیا۔

لیکن پھر بھی مجھے شک ہے کہ آیا پوری پختون قوم عمران خان کی اس جنگ سے امن، ترقی، اور خوشحالی کی توقع رکھتی ہے۔

بلوچ کیونکہ مین سٹریم منظرنامے سے غائب ہیں، اس لیے وہ پاکستانی سیاست میں بھی کم ہی حصّہ لیتے ہیں۔ کچھ بلوچ سیاسی کارکن شاید ویسے اس سب کے بارے میں فکرمند ہوتے، پر میرا خیال ہے کہ وہ خضدار کی اجتماعی قبروں پر کمیشن کی رپورٹ سے نالاں ہیں۔ کمیشن نے نہ صرف ملٹری اور ایجنسیوں کو کلین چٹ دے دی، بلکہ یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی، کہ آخر اس واقعے کا ذمہ دار ہے کون۔

اس کے بعد صرف سندھ بچتا ہے۔ صوبے کی دو بڑی سیاسی جماعتیں موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے ایک "ذمہ دار" کردار تو ادا کر رہی ہیں، لیکن یہ نوٹ کرنا مشکل نہیں ہے، کہ سندھی عوام ٹی وی سکرینز پر چلنے والے اس طاقت کے کھیل سے بالکل باہر ہیں۔

کسی بھی دوسری لسانی قوم کی طرح، عام سندھیوں کو طاقت کے اس نظام، جس میں وہ موجود ہیں، سے دور رکھا گیا ہے۔ کیونکہ میڈیا رپورٹ نہیں کرتا، اس لیے کم ہی لوگوں کو یہ بات معلوم ہے، کہ پچھلے کچھ مہینوں میں کئی سندھی قوم پرست اسی طرح گمشدہ اور قتل ہوئے، جس طرح بلوچستان کے قوم پرستوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں، کہ عمران خان اور طاہر القادری سندھی عوام کے جذبات کی ترجمانی نہیں کر رہے۔

قادری اور عمران خان کے "شو" میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔ بھلے ہی ٹی وی پر چلنے والے ڈرامے اور پاکستانی عوام کی بڑی اکثریت کے درمیان کنکشن نہیں ہے، پر یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ اس کھیل میں صرف ملک کے اندر کے وہی کھلاڑی شامل نہیں، جواکثر شک کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

حالیہ کچھ سالوں میں پاکستان کو ہر سیاسی بحران کے دوران انٹرنیشنل میڈیا میں بھرپور کوریج ملتی رہی ہے، کیونکہ یہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک ہے، اور اسے دائیں بازو کے عسکریت پسندوں سے شدید خطرہ ہے۔ لیکن اس بار ملکی سرحدوں کے باہر اس مسئلے پر کوئی خاطر خواہ رپورٹنگ نہیں ہو رہی۔

دوسری طرف عالمی برادری کے پاس اس مسئلے پر کہنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہے۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے صرف دو چار مبہم اور محتاط بیانات پر ہی اکتفا کیا ہے، جس میں جمہوریت، اور احتجاج کے حقوق کے تحفّظ پر زور دیا گیا ہے۔

کھیل میں آرمی، امریکہ، یا کسی بھی اور طاقت کے شامل ہونے کے اندازوں سے قطع نظر ایک بات تو ثابت ہو چکی ہے، کہ طاقت کے کھیل میں اس عوام کی کوئی جگہ نہیں، جن کی وجہ سے یہ ملک چلتا ہے۔ عوامی شورش کے ڈیزائن اور نتائج کو تیسری قوّتیں تبدیل بھی کر سکتی ہیں۔ جب تک یہ کالم چھپے گا، شاید اس سب کا کوئی خوشگوار (یا افسردہ) خاتمہ ہو چکا ہوگا۔ لیکن دونوں صورتوں میں، نقصان سیاست کو پہنچے گا۔

انگلش میں پڑھیں۔


عاصم سجاد اختر قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 22 اگست 2014 کو شائع ہوا۔