پاکستانی طالبان میں نیا گروپ تشکیل

26 اگست 2014
— اے پی فائل فوٹو
— اے پی فائل فوٹو

پشاور: کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے جماعت الاحرار کے نام سے ایک نیا گروپ تشکیل دے دیا ہے۔

نمائندہ ڈان ڈاٹ کام کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے اہم کمانڈروں نے جماعت الاحرار کے نام سے ایک نئے گروپ کی تشکیل کا اعلان کیا ہے، جس کے امیر مولانا قاسم خراسانی ہوں گے، جبکہ دیگر اہم کمانڈر بھی اس کا حصہ ہوں گے۔

نئے گروپ کے نو منتخب ترجمان احسان اللہ احسان نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس گروپ میں زیادہ تر مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے طالبان شامل ہیں۔

ان کاکہنا تھا کہ ان کا گروپ طاہر القادری اور عمران خان کی تحریکوں کی مخالفت کرتا ہے کیوں کہ دونوں کے مطالبات شریعت سے متصادم ہیں۔

ایک سوال کہ وہ کس جماعت کے حامی ہیں پر انھوں نے کہا کہ وہ کسی کے بھی ساتھ نہیں ہیں بلکہ صرف ملک میں ایک حقیقی شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دونوں جماعتیں غیر اسلامی مغربی جمہوریت کی حامی ہیں جو انہیں قبول نہیں ۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جماعت الاحرار کی مجلس شورہ میں مولانا قاسم خراسانی کے ساتھ ساتھ مہمند ایجنسی کےعمر خالد خراسانی، چار سدہ کے قاری شکیل حقانی، سوات کے مولانا یاسین، خیبر ایجنسی کے قاری اسماعیل، باجوڑ ایجنسی کے مولانا عبداللہ، پشاور کے مفتی مصباح اور اورکزئی ایجسی کے مولانا حیدر منصور شامل ہیں۔

تبصرے (1) بند ہیں

عمران شاہین Aug 28, 2014 10:24am
جماعت احرار نے اپنے پہلے سیاسی بیان میں عمرانی اور قادری انقلاب کی مخالفت کر کے مستقبل کی پیش بندی کی ہے۔ اس انقلاب کے بطن سے پیدا ہونے والے کسی بھی ملٹری ایڈوینچر کی صورت میں، اس ایڈہینچر کے مخالفین کی ہمدردیاں نہ چاہتے ہوئے بھی جماعت احرار کے ساتھ ہوں گی۔ کسی مارشل لاء کی صورت میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال میں یقینا جمہوری سیاسی جماعتوں کے احتجاج کو دبایا جائے گا۔ ایسی صورت حال میں فوج کے خلاف ایک عمومی تاثر ابھرے گا جو طالبان کے حق میں جائے گا۔ طالبان سے یہ ہمدردی حب علی سے ذیادہ بغض معاویہ کا نتیجہ ہو گی۔ اور شاید کہیں وہ والے حالات دوبارہ واپس نہ آ جائیں جب فوج کے آفیسر وردی پہن کر باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ ان حالات میں فوج کو خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ان حالات میں ایسا ایڈوینچر برداشت کر پائے گی یا نہیں ؟۔ مشرقی بارڈرز پر بھی حالات سب کے سامنے ہیں۔ مودی سرکار بھی کسی موقع کی تلاش میں ہے، جب فوج حکومتی مسائل میں الجھی ہوئی ہو اور عوامی سینٹی مینٹ بھی اس کے خلاف ہو تو دشمن ملک ایسے موقعوں سے فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں لگاتے۔ افغانستان میں موجود پاکستان مخالف حکومت، را اور طالبان پاکستان کی غیر مستحکم سیاسی صورتحال سے یقینا فائدہ اٹھائیں گے۔ آنے والے دنوں میں امریکی فوج کا انخلاء، مشرق وسطی کی بگڑتی سیاسی صورتحال، داعش کا بڑھتا عسکری اثر و رسوخ، بلوچستان میں بلوچوں کی تحریک اور طالبان کی افغانستان میں کاروائیاں یقینا ایسے بڑے چیلنجز ہوں گے جن سے نبٹنا ایک غیر جمہوری حکومت کے لئے ناممکن ہوگا۔ لہذا فوج کے کرتا دھرتا ان سب حالات کو سامنے رکھ کر قومی مفاد میں فیصلہ کریں۔ خدا