کراچی کا 'رنچھوڑ لائن'

اپ ڈیٹ 14 جون 2013

ای میل

رنچھوڑ لائن، کراچی -- فوٹو -- مصنف رنچھوڑ لائن کا شمار کراچی کی قدیم ترین آبادیوں میں ہوتا ہے۔ یہاں راجھستان سے ہجرت کر کے آنے والی سلاوٹ برادری کے افراد بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ سلاوٹ برادری کے لوگ اس علاقے میں تقسیم ہند سے قبل بھی آباد تھے۔ آج رنچھوڑ لائن کی چوڑی گلیاں تجاوزات اور پتھاروں کی وجہ سے سکڑ تی جا رہی ہیں۔ یہاں آپ کو 120 گز کے رقبہ پر 5 سے 6 منزلہ عمارتیں بھی ملیں گی۔ یہ عمارتیں ڈربے نما فلیٹوں پر مشتمل ہیں۔ یہاں بسنے والے سلاوٹ برادری کے افراد بہ مشکل ہی اس علاقے کو چھوڑنے پر تیار ہوتے ہیں۔ ہاں البتہ کچھ لوگ یہ علاقہ چھوڑ کر شہر کے پوش علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ مگر اب بھی یہ نا ممکن ہے کہ کوئی بڑا تہوار ہو تو وہ اور ان کے اہل خانہ علاقے میں نہ آئیں۔ وہ اپنی شناخت اب بھی اسی علاقے کو مانتے ہیں۔ سلاوٹ برادری کے افراد پی پی پی میں ہیں تو مسلم لیگ میں بھی، متحدہ میں ہیں تو فنگشنل لیگ میں بھی۔ اگر آپ کا کسی الیکشن میں وہاں جانا ہو تو آپ کو وہاں ہر جماعت کے پرچموں کی بہار نظر آئے گی۔ مجال ہے کوئی کسی کے جھنڈے یا بینر کو ہاتھ تک لگائے۔

رنچھوڑ لائن، کراچی -- فوٹو -- مصنف رنچھوڑ لائن کا دل وہ مرکزی سڑک ہے جو پونا بائی ٹاورسے شروع ہو کر ہوتی مارکیٹ پر ختم ہوتی ہے۔ پونا بائی ٹاور کے دائیں جانب کراچی کا مشہور لکھ پتی ہوٹل ہے جہاں کبھی شہر کے مختلف علاقوں سے لوگ صرف اس ہوٹل کی مزے دار چائے پینے آتے تھے۔

رنچھوڑ لائن، کراچی -- فوٹو -- مصنف اس ہوٹل میں چائے شیشے کے چھوٹے گلاسوں میں دی جاتی تھی۔ ہوٹل خاصہ بڑا تھا لیکن کبھی رش زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ ہوٹل کے باہر چبوترے پر بیٹھ کر بھی چائے پینے میں کوئی حرج محسو س نہیں کرتے تھے۔ یہ ہوٹل ایک بڑا عرصہ ہوا بند ہو گیا ہے۔ اس کی واحد نشانی ہوٹل کی پیشانی پر لگا گلا، سڑا بورڈ ہے۔ یہاں آپ کو جدید قسم کے ہیئر ڈریسر سیلون سے لے کر روائتی حجاموں کی دکانیں بھی نظر آئیں گی۔ پونا بائی ٹاور سے ہوتی مارکیٹ کی جانب چلیں تو ہر گلی کے نکڑ پر آپ کو دونوں جانب لکڑی کی بڑی آرام دہ بینچیں نظر آئیں گی۔ جن پر بیٹھنے کے علاوہ ضرورت پڑنے پر آپ لیٹ بھی سکتے ہیں۔

رنچھوڑ لائن کا ایک روائتی حجام، کراچی -- فوٹو -- مصنف ان بینچوں کی وجہ اس علاقے کی گنجان آبادی ہے۔ بینچوں پر بیٹھنے کے لیے مختلف اوقات میں مختلف عمروں کے لوگ بیٹھتے ہیں۔ جب ان بینچوں پر آپ کو نوجوان نظر آئیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عمر رسیدہ لوگ گھروں میں آرام کر رہے ہیں۔ اور جب عمر رسیدہ لوگ بینچوں پر بیٹھے ہوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اب نوجوان گھروں میں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گھر اتنے چھوٹے چھوٹے ہیں کہ بہ یک وقت تمام مکینوں کا گھر میں رہنا نا ممکن ہے۔ مگر ان بینچوں پر لیٹنے کے لیے آپ کا سلاوٹ ہونا ضروری ہے۔ اس سڑک کی گہما گہمی کا صحیح مزہ لینا ہو تو آپ عشاء کے بعد جائیں۔ آپ ایسا محسوس کریں گے کہ علاقے کے تمام لوگ سڑ ک پر نکل آئے ہیں۔ پان کی دکانوں پر اگر کوئی ایک فرد پان لے رہا ہے تو وہاں کھڑے دوسرے پانچ سے چھ افراد اشاروں اور ہوں ہاں کے ذریعے مسلسل گفتگو کرتے ملیں گے۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ گونگے بہرے نہیں ہیں۔ وہ صرف پان کے ذائقے سے محروم ہونا نہیں چاہتے۔ اسی طرح کی بے زبان گفتگو آپ کو بینچوں پر بھی نظر آئے گی۔

رنچھوڑ لائن، کراچی -- فوٹو -- مصنف یہاں کھانے پینے کے ہوٹل بھی ہیں۔ لیکن ہم آپ کو شرطیہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کسی بھی ہوٹل پر کھانا کھا لیں مجال ہے کہ آپ کو سرخ مرچوں کا ذائقہ تک محسوس ہو۔ ہمارے دوست مظہر لغاری جو 2013 کے انتخابات کا مشاہدہ کرنے کے لیے اسلام آباد سے کراچی تشریف لائے تھے نے ایک بار ہم سے فرمائش کی کہ ہم انھیں رنچھوڑ لائن کا کھانا کھلائیں۔ وہ بارہ دن کراچی رہے جن میں سے چھ دن انھوں نے رات کا کھانا رنچھوڑ لائن سے کھایا۔ ایک دن انھوں نے ہوٹل کے بیرے سمندر خان سے کھانے کی تعریف کرتے کرتے خصوصاً کھانے میں لال مرچیں نہ ہونے کا سبب جاننا چاہا۔ سمندر خان نے ہنستے ہوئے کہا یہاں کھانے میں لال مرچیں ہوتی تھیں کسی وقت میں۔ لیکن گزشتہ 10, 15 سال سے بغیر لال مرچوں کے کھانا بنتا ہے۔ اتنی دیر میں علاقے کا ایک نو جوان جس کا منہ بین بجانے والے جوگی کی طرح پھولا ہوا تھا نے سمندر خان کو کوئی مخصوص اشارہ کیا ۔اس کے بعد سمندر خان نے گردان شروع کی۔ بھنا ہے، بوگھیلا ہے، قیمہ ہے، بھنڈی ہے، دال فرائی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس نوجوان نے منہ کھولے بغیر ایک مخصوص آواز نکالی۔ سمندر خان نے جواباََ کہا، قیمہ رکھ دوں گا۔ اس کے بعد نوجوان دوبارہ چل دیا۔ مظہر لغاری نے دوبارہ سمندر خان کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

فائل فوٹو --. سمندر خان نے جاتے ہوئے نوجوان کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا کہ ان لوگوں کی وجہ سے اب لال مرچوں میں کھانا نہیں بنتا۔ اس نے مزید بتایا کہ علاقے کے بیشتر لوگوں کے منہ مین پوری، گٹکا اور پتی کا پان کھانے کی وجہ سے پک گئے ہیں۔ اب یہ لال مرچوں میں بنا کھانا نہیں کھا سکتے۔ مظہرنے کوئی تبصرہ کرنے کی بجائے اوں، اوں سے کام لیا۔ سمندر خان سمجھ گیا اور کسی اور گاہک سے آرڈر لینے چلا گیا۔ رنچھوڑ لائن کی ایک اور خاص بات غیر رنچھوڑی مشتبہ عاشق مزاجوں اور داداگیروں کی اجتماعی مارپیٹ بھی رہی ہے۔ اس مار پیٹ میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی جوتی بہ جوتی حصہ لیتی تھیں۔ دن کے اوقات میں جب مرد حضرات کام پر گئے ہوتے تھے، تو یہ کام خواتین خود ہی انجام دیتی تھیں۔ اس لیے باہر کے لوگ گلیوں میں مٹرگشت کرنے سے ڈرتے تھے اور اب بھی ڈرتے ہیں۔ رنچھوڑ لائن کا علاقہ مردم خیز رہا ہے۔ سلاوٹ برادری کے افراد سیاسی طور پر بہت بالغ تھے۔ انگریزوں سے آزادی کی جد و جہد میں بھی ان کا بڑا کردار رہا ہے۔ ان میں سے ایک 'بابا میر محمد بلوچ' تھے۔ ممتاز ادیب اجمل کمال کی مرتبہ کتاب 'کراچی کی کہانی' میں پیر علی محمد راشدی کی کتاب 'وہ دن وہ لوگ' کے حوالے سے بابا میر محمد بلوچ کا ذکر یوں ہے؛ "بابا میر محمد بلوچ تو آخر بلوچ تھے، سرفروش، بے خوف اور انگریزوں کے جانی دشمن، ہندوؤں سے بے زار۔ رات دن حکومت کے خلاف ہنگامہ اٹھائے رکھتے۔ بمبئی کاؤنسل رکن منتخب ہوئے۔ انگریزی نہ جانتے تھے مگر اس سے، اُس سے، انگریزی میں سوال لکھوا کر کاؤنسل میں بھیجتے اور یوں حکومت کی خوب پردہ دری کرتے۔ جس سوال کو پوچھنے کے لیے دوسرے اراکین کانپنے لرزنے لگتے کہ مبادا حکومت خفا نہ ہو جائے، وہ سوال بابا میر محمد ڈنکے کی چوٹ پر پوچھ بیٹھتے۔" جاری ہے ...

  اختر حسین بلوچ سینئر صحافی، مصنف اور محقق ہیں. سماجیات ان کا خاص موضوع ہے جس پر ان کی کئی کتابیں شایع ہوچکی ہیں. آجکل ہیومن رائٹس کمیشن، پاکستان کے کونسل ممبر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں