ایک خراب ریکارڈ

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2014

ای میل

آخر کب تک جنوبی ایشیاء کے لگ بھگ ڈیڑھ ارب افراد تنازع کشمیر کے مغوی بنے رہیں گے؟
آخر کب تک جنوبی ایشیاء کے لگ بھگ ڈیڑھ ارب افراد تنازع کشمیر کے مغوی بنے رہیں گے؟

میں سمجھتا ہوں کہ نوجوان نہیں جانتے ہوں گے کہ گراموفون کا ایک خراب ریکارڈ سننے میں کیسا لگتا ہے، لیکن اگر وہ جاننا چاہیں، تو انہیں صرف پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو سننا کافی ہوگا۔

جیسے گراموفون کی سوئی ریکارڈ کے کھانچوں میں اٹک جاتی ہے، اسی طرح جو الفاظ ہم سنتے ہیں، وہ بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ 'مناسب جواب، مناسب جواب، مناسب جواب'۔

شاید کوئی یہ سوچے، کہ انگلش میں ذخیرہ الفاظ اتنا وسیع ہے، کہ اسلام آباد اور دہلی کے سیاستدانوں اور بابوؤں کے پاس ان دماغ چکرا دینے والی حد تک مانوس الفاظ کے علاوہ بھی الفاظ ہوں گے۔

درحقیقت الزامات کے حالیہ تبادلے، جوابی الزامات اور گولہ باری پرانی یادوں کو تازہ کرتی ہے۔ یہ کبھی نہ ختم ہونے والا چکر اب اس حد تک اکتا دینے والا بن چکا ہے کہ اب ہم کچھ نیا چاہتے ہیں۔ مگر میں ان کی بات کررہا ہوں جوکشمیر میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والی تشدد کی اس حالیہ لہر سے بہت دور مقیم ہیں۔ وہ لوگ جو سرحد پر رہنے کی وجہ سے اس دیوانگی کا شکار ہیں، ان کے لیے تو یہ کسی جہنم سے کم نہیں۔

ہر بار جب کوئی بھی فریق معاملات کو گرم رکھنے کے لیے توپوں کو بے لگام چھوڑ دیتا ہے تو ہمیں دونوں اسٹیبلشمنٹس کی جانب سے جانے پہچانے الزامات سننے کو ملتے ہیں۔ لیکن اس بار ہمیں نئی دہلی کی جانب سے زیادہ جنگجوانہ آواز سننے کو ملی، جس کے وزیرِ دفاع ارون جیٹلی کا فخریہ طور پر کہنا تھا کہ ہندوستانی فوجوں نے پاکستان کو اقوامِ متحدہ سے احتجاج کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

اس طرح کے حالات میں میرا دل چاہتا ہے کہ ایک بڑا درمیان میں آئے، اور ان دونوں بچکانہ ریاستوں کو بیٹھ کر مسائل سلجھانے پر آمادہ کرے۔ آخر کب تک پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسائل کی ایک طویل فہرست کا ایجنڈا کشمیر کے ذریعے طے ہوگا؟ آخر کب تک جنوبی ایشیاء کے تقریباً ڈیڑھ ارب افراد مسئلہ کشمیر کے مغوی بنے رہیں گے؟

1999 میں جب لگتا تھا کہ نواز شریف اور اٹل بہاری واجپائی کسی مفاہمت تک پہنچ گئے ہیں، تو اس وقت امید کی کرن پیدا ہوئی تھی، مگر مشرف نے کارگل میں المناک مذاق کا آغاز کردیا، جس سے امن اقدامات منہدم ہوگئے۔ پھر دس سال پہلے مشرف نے اقوام متحدہ کی قرارداد، جسے ہندوستان پچاس سال پہلے ہی مسترد کرچکا تھا، سے ہٹ کر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی پیشکش کی، لیکن اس بار ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور قریب النظری کسی ممکنہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔

ہر بار جب تشدد کی لہر مسئلہ کشمیر کو صفحہ اول میں واپس لے آتی ہے، سیاسی پنڈت اور دیگر لوگ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد 47، جو 1948 میں منظور ہوئی، کے تحت کشمیر میں ریفرنڈم کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں، مگر جس چیز کا وہ ذکر نہیں کرتے، وہ یہ ہے کہ قرارداد میں پاکستان کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ تمام قبائی جنگجوﺅں اور (پاکستانی) شہریوں کو واپس بلائے گا جبکہ ہندوستان امن و امان کی ضروریات کے مطابق کم سے کم تعداد میں فوج وہاں تعینات کرے گا۔

پاکستان نے آج تک اس قرارداد کی ہدایت پر عمل نہیں کیا۔ ممکنہ طور پر اسے ڈر ہے کہ ہندوستان فوری طور پر خالی کیے گئے علاقے کا کنٹرول سنبھال لے گا۔ جب پاکستان نے امریکا کے ساتھ 1954 میں ایک فوجی معاہدہ کیا تھا تو نہرو نے اعلان کیا کہ جنوبی ایشیاء میں ایک سپرپاور کی آمد کے بعد جیو پولیٹیکل صورتحال میں تبدیلی آئی ہے اور ان حالات میں اقوام متحدہ کی قرارداد غیرمتعلق ہوچکی ہے۔

1972 کا شملہ معاہدہ جس کے ذریعے بھٹو مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالنے والے لگ بھگ نوے ہزار پاکستانی فوجیوں کو رہا کرانے میں کامیاب رہے، بھی اقوام متحدہ کی پچھلی قرارداد پر سبقت لے جاتا ہے، کیونکہ اس معاہدے میں تمام تنازعات کو دوطرفہ بنیادوں پر حل کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ تو جنرل اسمبلی سے اپنے حالیہ خطاب میں نواز شریف نے جب اقوام متحدہ سے مداخلت کی درخواست کی، تو گویا وہ خود اپنے لیے مسائل پیدا کر رہے تھے۔

اگرچہ یہ سب عوام کے سامنے ہے، لیکن پاکستانیوں کی دو نسلوں کو جزوی حقائق سے آگاہ کیا گیا اور انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا گیا کہ ہم ہی درست ہیں، جبکہ ہندوستان بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑا رہا ہے، ہمارے سیاسی ماہرین اور ٹی وی ٹاک شوز کے میزبان یا تو ان بنیادی حقائق سے واقف نہیں یا انہیں نظرانداز کردیتے ہیں۔

ایک اور چیز جو ہم آسانی سے بھول جاتے ہیں، وہ یہ کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت ریفرنڈم میں کشمیریوں کے پاس صرف دو آپشن ہوں گے۔ یا تو وہ پاکستان کا انتخاب کریں یا ہندوستان کا، آزادی نام کا کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔ مگر جو نوجوان کشمیری جو احتجاج کرتے ہوئے مررہے ہیں ان سے اس بارے میں پوچھا جائے تو وہ جواب میں پاکستان سے الحاق کی بجائے آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں۔

اسی کی دہائی کے اواخر سے جب پہلی بار بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوئے، تو اس وقت سے اب تک کئی ہزار کشمیری انڈین فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم ہندوستانی کارکنوں نے انسانیت سوز ظلم کے واقعات نوٹ کیے ہیں، جس میں ریپ اور تشدد بھی شامل ہے۔ یہ لوگ ان مشکلات کا شکار اس لیے نہیں ہورہے، کہ ایک ظالم کے بدلے دوسرے ظالم کا انتخاب کرلیں۔

اس مسئلے کی قانونی حیثیت اور کشمیریوں کی خواہش سے ہٹ کر دیکھا جائے، تو حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کے پاس (اس مسئلے پر) کسی بھی حلقے سے کوئی حمایت نہیں ہے۔ ہندوستان کی فوجی اور سفارتی طاقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ پاکستان توازن اپنے حق میں کر سکتا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی ریاست عوامی سطح پر کشمیر پر پاکستانی دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔

کشمیری قوم بہادر ہے جو آزادی کی مستحق ہے، مگر یہ وہ جنگ ہے جو انہیں اپنے بل بوتے پر جیتنا ہوگی، ایسی نہیں جس میں پاکستان کو کودنا چاہیے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمارے حکمران کشمیریوں کی حمایت انصاف کے لیے نہیں کررہے ہیں بلکہ انہیں صرف ایک اور خطہ چاہیے۔

تو کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم اس پھنسی ہوئی سوئی کو نکالیں، اور باقی کے ریکارڈ کو بھی سن لیں؟

انگلش میں پڑھیں


[email protected]

یہ مضمون ڈان اخبار میں 8 نومبر 2014 کو شائع ہوا۔