گڈلک جناب وزیراعظم

06 جنوری 2015

ای میل

انہیں اپنے اچھے کاموں کے سلسلے کو توسیع دینی چاہیے اور انہیں توانائی کی پیداوار تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہئے۔
انہیں اپنے اچھے کاموں کے سلسلے کو توسیع دینی چاہیے اور انہیں توانائی کی پیداوار تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہئے۔

سال 2015 کی پہلی صبح ٹیلیویژن پر ایک ماہر نجوم نے 2015 کو پاکستان کے لیے بہترین قرار دینے کی پیشگوئی کرتے ہوئے بتایا کہ یہ برس خوشحالی لائے گا۔

یہ ریاست کے تحت چلنے والا پی ٹی وی تھا اور یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ نجومی کی کتاب میں سب سے خوش قسمت فرد میاں نواز شریف تھے۔ عادت کی وجہ سے آپ کے ذہن میں شکوک و شبہات ابھریں گے، جنہیں آپ جھٹک بھی دیں گے۔ وقت کا یہ نیا آغاز اتنا ہی اہم ہے جتنا کسی اور چیز کا آغاز۔ کوئی منفی خیال نہ رکھیں۔ یہ وہ امید اور وعدہ ہے جس پر ہر ایک کو یقین ہونا چاہیے۔

اندرونی جنگ، غیرمعمولی حالات میں فوجی عدالتوں کا جنم اور ایک عدالتی کمیشن جو مشتبہ انتخابات کی تحقیقات کرے، یہ وہ مرکزی خیالات ہیں جو 2014 میں چھائے رہے اور نئے سال کی شام پر بھی زیربحث رہے۔ اس کے علاوہ یقیناً ایک مشہور شخصیت کی شادی بھی، جو مغربی میڈیا میں خبریں چلنے کے بعد اب زیادہ 'حقیقی' ہوکر ابھری ہے۔ اسی طرح محمد حفیظ کے باﺅلنگ ایکشن کا ٹیسٹ بھی چنئی میں چل رہا ہے جس پر تمام پاکستانیوں کا ماننا ہے کہ ہمیں سازشوں کا ہدف بنایا جارہا ہے۔

یہاں ایک بنیادی اصلاح کی ضرورت ہے۔ پاکستانیوں کو لازمی فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ بھی کھیل کھیلنا چاہتے ہیں، جس کے لیے انہیں اس کے قوانین کو ماننے کی ضرورت ہے۔ یا وہ نظام کو خیرباد کہہ کر اپنا خود کا نیا سسٹم تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

وہ ہمیشہ ایک وسیع تر عالمی کھیل کا ہدف بن کر کھیلتے ہوئے جیتنے کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ یہ کھیلوں کے میدان کے لیے بھی حقیقت ہے اور باقی ہر شعبے کے لیے بھی۔ اگر یہ بنیاد ٹھیک ہوگی تو یہ سال گزرے برسوں کے مقابلے میں مختلف ثابت ہوگا وگرنہ بہتر یہی ہے کہ ہم اپنا وقت اس بات پر حیران ہوتے ہوئے گزاریں کہ عمران خان کس سے شادی کر رہے ہیں اور اس شادی کے انقلاب پر کس قسم کے اثرات مرتب ہوں گے۔

2015 کے لیے قومی ایجنڈا میں کافی کچھ ہے مگر نئے سال کے موقع پر اٹھایا جانے والا سب سے بنیادی مسئلہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اٹھایا گیا، اور یہ 2013 کے عام انتخابات سے تعلق نہیں رکھتا۔ یہ ایک انتباہ، اور توقع ہے کہ ایک پالیسی بیان ہے جو چیف الیکشن کمشنر نے جاری کیا ہے جنہیں اس عہدے پر تعینات ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔

رپورٹس کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے بلدیاتی انتخابات پر تاخیر پر صوبوں کو یاد دلایا ہے کہ کمیشن کے پاس کیا اختیار ہے۔ متعدد حلقے اب دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنے اختیارات کو کیسے استعمال کرتے ہیں اور کس طرح ان لوگوں کو مجبور کرتے ہیں جو تمام طاقت اپنے ہاتھوں میں رکھنے کے عادی ہیں اور کیسے وہ مقامی سطح تک منتقل ہوتے ہیں۔

پہلے ہی پنجاب اور سندھ کے تاخیری حربوں کی وجہ سے کافی قیمتی وقت ضائع ہوچکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پنجاب میں تاحال انتخابی حد بندیوں کے حوالے سے ضلعی سطح کا ڈیٹا الیکشن کمیشن کو فراہم کرنے کا عمل جاری ہے جبکہ سندھ میں ابھی تک بلدیاتی اداروں کے ڈھانچے کے حوالے سے ضروری قانون سازی ہونا باقی ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت انتخابات کے لیے بائیومیٹرک سسٹم کے استعمال پر اصرار کررہی ہے جس کا مطلب ہے کہ اس صوبے میں انتخابات ستمبر 2015 تک چلے جائیں گے۔ یہ ان بلدیاتی انتخابات کے لیے بہت تاخیر ہوگی جنہیں بہت پہلے ہی ہوجانا چاہیے تھا تاکہ سیاستدانوں کی جانب سے ملک میں جمہوریت کے قیام کے عزم اور بیانات سننے میں بھلے لگتے۔

یہی سیاستدان غیرمعمولی حالات کا جواز دیتے ہوئے جمہوری روایات سے ہٹ کر فوجی عدالتوں کے لیے جمع ہوجاتے ہیں مگر بلدیاتی اداروں پر قومی اتفاق پیدا نہیں کر پائے ہیں۔ وہ اوپری سطح سے طاقت حاصل کر کے زیادہ مطمئن ہوتے ہیں، پیپلزپارٹی سندھ اور مسلم لیگ نواز پنجاب و وفاق میں۔ وہ بلدیاتی اداروں کی آزمائش کے سامنے کھڑے ہونے اور اپنی طاقت کو دیگر کے ساتھ شیئر کرنے کے خیال سے خوفزدہ ہیں اور وہ لوگوں کو نچلی سطح پر سیاست میں منظم طریقے سے شرکت کی اجازت اس وقت تک نہیں دیں گے جب تک انہیں مجبور نہ کردیا جائے۔

عوام مستقبل قریب میں بلدیاتی انتخابات کروانے کی مہم میں بھرپور حصہ لے کر ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، تاکہ ان کا انعقاد ممکن ہوسکے ورنہ یہ انتخابات اگر قانون کے دباﺅ کے تحت ہوئے جیسا الیکشن کمیشن نے اپنے مضبوط بیان میں عندیہ دیا ہے، تو اس سے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق ہوجائے گی کہ سیاستدان کس حد تک نااہل ہیں اور اپنی مرضی سے کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

وزیراعظم نواز شریف نے نئے سال کے موقع پر ایک مثبت پیغام دینے کی کوشش پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کی تاکہ ان کی حکومت کو کچھ سکون کا سانس لینے کا موقع مل سکے. بھلے ہی یہ ان کے لیے ایک فخریہ لمحہ تھا لیکن انہیں اپنے اچھے کاموں کے سلسلے کو توسیع دینی چاہیے اور انہیں فوری کام کے متقاضی شعبوں جیسے توانائی کی پیداوار تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ بنیادی سطح پر عوامی ترقی کے لیے دلچسپی کا اظہار کرنا چاہیے۔

لوگوں کو میاں صاحب کی خوش قسمتی کے سائے کو آزماتے ہوئے خواہش کرنا چاہئے کہ یہ وہ سال ہو جب وہ مدبر سیاستدان کے طور پر اپنے سفر کا آغاز کریں۔ ان کے تیسرے دور اقتدار میں سامنے آنے والے واقعات کی سیریز سے ان میں وہی جانا پہچانا مفاہمت پر آمادہ سیاست دان سامنے آیا ہے۔ مگر ان سے اس بات کی توقع کرنا بہت زیادہ ہوگا کہ وہ کچھ پاکستانیوں کے حکومت پر اعتماد کی بحالی کے لیے ڈرامائی طور پر ایک عدالتی کمیشن کی تشکیل دیں اور دباﺅ میں آکر اپوزیشن کی جماعت کو رعایت دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔

اس بات کی توقع کرنا بھی کچھ زیادہ ہوگا کہ وزیراعظم کے ماتحت سویلین سسٹم اس طاقت کو واپس حاصل کر لیے، جس سے یہ عوامی تحفظ کے نام پر دستبردار ہوگیا ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جہاں معمول کے قوانین پہلے ہی معطل ہیں، اور یہ ہار مان لینے جتنا ہی برا ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔


لکھاری لاہور میں ڈان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 2 جنوری 2015 کو شائع ہوا۔