پولیو ویکسین 'حرام' نہیں : لیبارٹری رپورٹ

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2015

ای میل

فائل فوٹو/ اے ایف پی—۔
فائل فوٹو/ اے ایف پی—۔

اسلام آباد: پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کے لیے استعمال کی جانے والی ویکسین کو پاکستان میں حلال قرار دے دیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع اور دستاویزات سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈی آراے پی) کے زیر انتظام ایک لیبارٹری نے پولیو ویکسین کے ٹیسٹ کے بعد اس کے حلال ہونے کی تصدیق کی ہے۔

منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیو ویکسین کو ملک میں اُسی وقت رجسٹر کیا گیا تھا جب ڈی آر اے پی کے بائیولوجیکل اینڈ ڈرگ رجسٹریشن بورڈ کی ایکسپرٹ کمیٹی نے 'اچھی طرح اندازہ' کرلیا تھا۔

تاہم کچھ والدین پولیو ویکسین کو حرام قرار دے کر اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے گریز کرتے ہیں۔

انسدادِ پولیو مہم کی دستاویزات کے مطابق ہمارے معاشرے میں یہ تصور 2004 میں اس وقت پروان چڑھا جب چند دقیانوسی عناصر نے اس قسم کی باتیں عام کرنا شروع کردیں کہ پولیو ویکسین میں بچوں کو بانجھ بنانے کے لیے جان بوجھ کر چند انسانی ہارمون شامل کیے جاتے ہیں۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بہت سے پولیو رضاکار اس بیماری کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں یا اپنے ہاتھ پاؤں گنوا چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں پولیو جہاد کے 'شہداء' کی داستان

تاہم اس سے بھی بدتر یہ ہے کہ بہت سے سادہ لوح پاکستانیوں نے پولیو ویکسین کے خلاف دقیانوسی عناصر کے من گھڑت دعووں کی بناء پر نہیں بلکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسندوں کے خوف کی وجہ سے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کیا۔

خصوصاً قبائلی علاقوں میں اس پریشان کن رجحان میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ ابیٹ آباد کے قرب و جوار میں ایک پاکستانی فزیشن شکیل آفریدی کی جانب سے چلائی جانے والی ایک جعلی ہیپٹائٹس ویکسین نے ہی امریکی سی آئی اے کو مئی 2011 میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو تلاش کرکے قتل کرنے میں مدد دی۔

جون 2012 میں طالبان نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں پولیو ویکسینیشن پر پابندی لگا دی اور اس ویکسین کوحرام قرار دے دیا گیا، حتیٰ کہ وہ لوگ بھی اس بات کے حق میں تھے جن کی ہمدردیاں طالبان کے ساتھ نہیں تھیں۔

اس وقت سے لے کر اب تک ملک میں نئے پولیو کیسز کی تعداد 300 کی ریکارڈ تعداد تک پہنچ گئی ہے اور پاکستان پر 'پولیو وائرس کا گڑھ' ہونے کا داغ لگ چکا ہے۔

حکام کے مطابق حرام ہونے کا لیبل ہٹانے کے لیے ویکسین کے تین مختلف کمپنیوں کے تیار کردہ نمونے اسلام آباد میں نیشنل کنٹرول لیبارٹری فار بائیولوجیکلز (این سی ایل بی) کو بھیجے گئے۔

این سی ایل بی کے ڈائریکٹر عبدالصمد خان نے تصدیق کی کہ ویکسین کے نمونوں کی کم سے کم مقدار میں بھی انسانی ہارمون کی موجودگی کو جانچا گیا اور یہ ثابت ہوا کہ پولیو کے دو قطروں میں چھ ممکنہ ہارمون کی معمولی سی مقدار بھی نہیں پائی گئی۔

معلقہ دستاویزات میں پولیو ویکسین کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات ملتے ہیں اور ان کے مطابق پولیو ویکسین میں ایسٹروجن اور پروجسٹیرون نامی ہارمون نہیں پائے جاتے جو بانجھ پن پیدا کرتے ہیں۔

ایک دوسرا سوال یہ ہے کہ پولیو ویکسین بندر کے گردے کے خلیوں میں پیدا ہوتی ہے اور مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پولیو ویکسین کی تیاری کے تمام مراحل کو مکمل طور پر جانچا ہے اور اس میں ایسا کوئی وائرس نہیں ملا جو بیماریاں پیدا کرے۔

ایک مزید سوال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ پولیو ویکسین کی تیاری پاکستان میں کیوں نہیں ہوتی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ویکسین ملک میں 1980 سے 2003 تک تیار ہوتی تھی، تاہم اس کا فارمولا پرانا تھا اور اس کے تحت ایک خوراک میں چھ قطرے دینے پڑتے تھے۔

مذکورہ ویکسین کو سنبھالنا مشکل تھا اور اکثر یہ بچوں کے منہ سے باہر گر جاتی تھی تاہم موجودہ ویکسین کے صرف دو قطرے کافی ہوتے ہیں، یہ نہ صرف زیادہ مستحکم ہے بلکہ اسے سنھالنا بھی آسان ہے۔

دوسری بات یہ کہ مستقبل قریب میں پولیو ویکسین انجیکشن کی صورت میں دستاب ہوگی لہذا اسے باہر سے منگوانے کو ہی ترجیح دی جائے گی۔

فی الوقت انڈونیشیا، بیلجیئم، انڈیا، اٹلی اور فرانس میں پولیو ویکسین تیار کی جارہی ہے اور پاکستان عالمی ادارہ صحت کی جانب سے مستند قرار دیئے گئے تیار کنندگان سے ہی پولیو ویکسین خریدتا ہے۔

دستاویزات کے مطابق اگرچہ ویکسین کے معیار کو جانچنے کی ضرورت نہیں تاہم اسے وقتاً فوقتاً مقامی طور پر بھی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز ) کے وائس چانسلر اور میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ ویکسین کے لیبارٹری ٹیسٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہ جینیٹک انجینیئرنگ کے تحت بنائی جاتی ہے اور اس کا حرام اور حلال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس رپورٹ کے بات شاید ناقدین ویکسین پر اعتماد کا اظہار کریں اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانا شروع کریں۔

حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام کے نیشنل مینیجر رانا صفدر نے بھی اس امید کا اظہار کیا کہ یہ رپورٹ ان مذہبی عناصر کو مطمئن کرنے میں مدد دے گی جو پولیو ویکسینیشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ہم نے انٹرنیشنل اسلام یونیورسٹی کے اشتراک سے پولیو ویکسین پر تنقید کرنے والے مذہبی عناصر کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے مہم کا آغاز کیا کہ یہ ویکسین حلال ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں اس تنقید کا سامنا ہے کہ یہ ویکسین ملک سے باہر تیار ہوتی ہے اور یہ کہ ڈبلیو ایچ او ایک پاکستانی ادارہ نہیں ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم ہمیشہ سے اس ویکسین کی کارگردگی اور محفوط ہونے کے حق میں رہے ہیں اور لیبارٹری ٹیسٹ سے یہ مزید واضح ہوگیا ہے اب مذہبی عناصر کو بھی اس بات پر متفق ہو جا نا چاہیے'۔


سندھ میں پولیو کے نئے کیس کا انکشاف


دوسری جانب سندھ میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا ہے۔

صوبائی محکمہ صحت نے منگل کو بتایا کہ نوشہرو فیروز سے تعلق رکھنے والے دس ماہ کے عبدالعلیم کے ٹیسٹ کے نمونے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد بھیجے گئے جہاں اس میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

اس حالیہ کیس کے بعد 2014 میں سندھ میں پولیو کیسز کی تعداد 30 ہوگئی ہے جبکہ پاکستان میں مجموعی طور پر پولیو کیسز کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 6 مزید کیسز ابھی تصدیق کے مراحل میں ہیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ بچے کو پولیو کی خصوصی مہم کے دوران تین مرتبہ قطرے پلوائے گئے تھے، تاہم اس کی ٹانگیں پولیو سے متاثر ہوچکی ہیں۔

حکام کے مطابق فاٹا میں سب سے زیادہ 177 کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں، خیبر پختونخوا سے 69، سندھ سے 30، بلوچستان سے 23 جبکہ پنجاب میں پولیو کے 4 کیسز سامنے آچکے ہیں۔