ایک اسٹریٹ صرف کاغذات پر

12 فروری 2015

ای میل

نامور ادیب اجمل کمال نے ہمارا بلاگ بمبئی نہ بنی ممبئی پڑھنے کے بعد ہماری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب بمبئی کا نام ممبئی کیا گیا تو صوبائی حکومت نے دکانوں پر لگے بورڈز پر زبردستی ممبئی لکھوایا اور اس میں کامیاب بھی رہے، لیکن ابھی ان کی منزل دور تھی۔ بات یوں تھی کہ ہندوستان اور دنیا بھر سے جو خطوط ممبئی بھیجے جاتے تھے ان پر شہر کا نام بمبئی لکھا ہوتا تھا۔ ایک وزیر باتدبیر نے حکومت کو مشورہ دیا کہ جس خط پر بمبئی لکھا ہو، اس کی ڈلیوری نہ کی جائے۔

حکومت نے فوراً احکامات جاری کر دیے اور ایک تاریخ مقرر کر دی کہ اس کے بعد جس خط پر بمبئی لکھا ہوگا اس کی ڈلیوری نہ جائے۔ لیکن چند دنوں میں ہی انہیں اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ وجہ یہ تھی کہ پوسٹ آفسوں اور کوریئر سروس کے دفتروں میں انبار لگ گئے اور پوسٹ آفس کے عملے کے بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں بچ پائی۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اس طرح کی پابندی اگر کراچی میں لگ جائے تو محکمہ ڈاک اور کوریئر والوں کا کیا ہوگا کیوں کہ جمشید ٹاؤن کے ریکارڈ کے مطابق اب مانک جی اسٹریٹ خالد اسحاق ایڈووکیٹ اسڑیٹ ہے۔ یہ اسٹریٹ گارڈن ایسٹ کے علاقے میں واقع ہے۔ مانک جی اور خالد اسحاق دونوں ہی عالم، فاضل اور مطالعے کے شوقین تھے۔ دونوں ہی مذہبی رحجان رکھتے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ مانک جی پارسی اور خالد اسحاق مسلمان تھے۔

معروف صحافی عارف الحق عارف کے مطابق خالد اسحاق ایڈووکیٹ بنیادی طور پر ایک اسکالر تھے اور وکالت کو محض ذریعہ معاش کے طور پر اختیار کیا تھا۔ ان کے اندر کے اسکالر نے کبھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ وہ اردو کے علاوہ عربی، فارسی، انگریزی، سندھی، پنجابی اور سرائیکی زبانوں میں اعلی مہارت رکھتے تھے۔ اسلام سے عشق ان کی گھٹی میں پڑا تھا اور وکلاء انہیں ”مولوی“ پکارا کرتے تھے۔ ہر نئی کتاب خریدنا ان کا شوق تھا۔ 1948 میں وکالت شروع کرتے ہی انہوں نے اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ دنیا بھر میں مختلف موضوعات پر لکھی جانے والی کتابوں کی خریداری میں مختص کردیا۔ یہ تعداد ان کے انتقال تک دو لاکھ سے زائد ہو چکی تھی۔ ان کی آمدنی کا 40 سے 50 فیصد حصہ نئی کتابوں کی خریداری میں خرچ ہوتا تھا۔ ان کی لائبریری غالباً پاکستان کی سب سے بڑی نجی لائبریری تھی۔

2004 میں اس نابغہ روزگار قانون داں کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد 2004 میں جمشید ٹاؤن کے ایک کونسلر عبدالرشید بلوچ صاحب نے ایک قرارداد پیش کی جس کا متن یوں ہے:

قرارداد نمبر 205

تجویز کندہ: عبدالرشید بلوچ

تائید کندہ: امیرعلی کابانی

موضوع: روڈ/اسٹریٹ کا نام خالد اسحاق ایڈوکیٹ کے نام منسوب کرنا۔

جمشید ٹاؤن کے پینتیسویں اجلاس میں مرحوم خالد اسحاق ایڈوکیٹ کے نام سے کسی روڈ /اسٹریٹ کو منسوب کرنے کے لیے جناب عبدالرشید بلوچ نائب ناظم یوسی 11، جناب فرخ نیاز تنولی نائب ناظم یوسی نمبر 12 اور جناب امیر علی کابانی نائب ناظم یوسی نمبر 13 پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی نے تجویز دی کہ یوسی 12 میں مانک جی اسٹریٹ، جس پر مرحوم خالد اسحاق ایڈوکیٹ کا گھر واقع ہے، کا نام بدل کر مرحوم کے نام سے منسوب کیا جائے۔ لہٰذا آج کا اجلاس مانک جی اسٹریٹ کا نام بدل کر مرحوم خالد اسحاق ایڈوکیٹ اسٹریٹ رکھنے کی منظوری عطا کرتا ہے۔

مزید پڑھیے: ہندو موتی اور مسلم جگر

یہ کام تو ہو گیا اور جمشید ٹاؤن نے مانک جی اسٹریٹ کا نام تبدیل بھی کردیا لیکن اس منظوری کے 3 سال بعد 31 اگست 2007 کو ترقیاتی کاموں کے حوالے سے جمشید ٹاؤن کے اجلاس میں پیش کی جانے والی ایک قرارداد میں مانک جی اسٹریٹ کو خالد اسحاق اسٹریٹ کے بجائے مانک جی اسٹریٹ ہی لکھا گیا ہے۔ قرارداد کا متن ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

قرارداد نمبر 257 مورخہ 31 اگست 2007

تجویز کندہ: خالد خان

تائید کندہ: الطاف ذاکر

موضوع: پارسی کالونی، ”مانک جی اسٹریٹ“ مکی چند رام روڈ یوسی 12 (مکی چند رام روڈ یقینا مکھی چند رام روڈ ہوگا کیوں کہ ہم نے کبھی بھی مکی چند رام روڈ نہ ہی پڑھا اور نہ ہی کبھی سنا ہے لیکن اگر ہمارا کوئی پڑھنے والا ہماری رہ نمائی کرے تو یہ خوشی کی بات ہو گی۔) جمشید ٹاؤن پر روڈ کے گرہوں (یہ لفظ بھی لگتا ہے گڑھوں ہوگا) کی پیوند کاری کا کام مر محتجس (یہ لفظ مرمتجس غالباً ”مرمت جس“ ہوگا) کی تخمینی لاگت 60,17,759 بنتی ہے میسرز کے این بلڈرز سے کرانے کی منظوری۔

مانک جی اسٹریٹ کے نام کی تبدیلی کا حوالہ تو ہمیں جمشید ٹاؤن کے شعبہ اطلاعات کے فرحان بھائی کی مہربانی سے مل گیا لیکن مانک جی اسٹریٹ تلاش کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اب کراچی کا تقریباً پورا نقشہ تبدیل ہوچکا ہے۔ کسی بھی پرانی سڑک کا پتہ نہیں ملتا خاص طور پر اگر وہ کسی غیر مسلم کے نام سے منسوب ہو۔ مانک جی اسٹریٹ کے حوالے سے ہمیں ابتدائی معلومات تو مل گئی تھیں کہ اس کا نام تبدیل ہوچکا ہے، لیکن یہ اسٹریٹ کہاں ہے؟ اس کا ذکر ہم نے اپنے صحافی دوست نعمت اللہ بخاری سے کیا تو انہوں نے اگلے روز ہمیں گلی دکھانے کا وعدہ کیا۔

دوسرے دن میں نعمت اللہ بخاری کے ہمراہ گارڈن ایسٹ کے علاقے میں پہنچا۔ مانک جی اسٹریٹ کی صحیح جگہ انہیں بھی یاد نہ تھی، خیر پوچھتے پوچھتے ہم صحیح جگہ پر پہنچ گئے۔ ایک تختی بھی نظر آئی جو CPLC سٹیزن پولیس لائیژن کمیٹی کی جانب سے لگائی گئی تھی۔ تختی تو مل گئی لیکن اصل مسئلہ یہ تھا کہ خالد اسحاق ایڈوکیٹ کا گھر کون سا تھا۔ اچانک ایک آواز آئی ”بلوچ چہ کنگے“ (بلوچ کیا کر رہے ہو)۔ یہ آواز اسحاق بلوچ کی تھی جن کا شمار کراچی کے مایہ ناز اسپورٹس رپورٹرز میں ہوتا ہے۔ ہم نے انہیں بتایا کہ خالد اسحاق صاحب کا گھر تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک عمارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہے۔

اسحاق نے جس طرف اشارہ کیا تھا وہاں گھر تو کوئی نہیں تھا، صرف فلیٹس ہی فلیٹس تھے۔ اس عمارت کے ساتھ ایک مسجد بھی تھی۔ اسحاق بلوچ نے ہمیں بتایا کہ خالد اسحاق کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء نے خالد اسحاق کا گھر بیچ دیا تھا۔ گھر کے دوحصے ہوئے، ایک حصے پر فلیٹس ہیں اور دوسرے حصے پر مسجد بنی۔ یہ معلومات دینے کے بعد اسحاق بلوچ بضد تھے کہ ان کے دفتر میں جا کر چائے پیئں لیکن ہمارے انکار پر مایوس ہو کر وہ وہاں سے چل دیے۔

پڑھیے: رابرٹ اور حسرت: دو شاعر، دو کہانیاں

مانک جی دستور ڈھالا پارسیوں کے ایک بہت بڑے مذہبی پیشوا تھے۔ ان کا شمار سخت گیر افراد میں ہوتا تھا اور وہ کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے خیالات کا برملا اظہار کر دیا کرتے تھے جس کی وجہ سے انہیں قدامت پرست پارسی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی سوانح عمری بھی لکھی تھی۔ یہ سوانح عمری دستور ڈھالا میموریل انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے 1975 میں شائع کی گئی تھی۔ سوانح عمری میں وہ کولمبیا یونیورسٹی میں دورانِ تعلیم اپنے آخری سال کا ذکر یوں کرتے ہیں:

'کولمبیا یونیورسٹی میں میرا آخری سال تھا اور میری تعلیم لگ بھگ مکمل ہو چکی تھی۔ میں نے اپنی ماسٹرز کی ڈگری 1906 میں حاصل کی۔ اس کے دو سال بعد 1908 میں میں نے اپنا Ph.D مکمل کیا۔ بہتر نتائج حاصل کرنے کی خوشی میں میرے برہمن ہندو دوست مجھے ہوٹل لے گئے۔ انہوں نے مجھے دوپہر کے کھانے میں کیکڑوں کی ڈش کھلائی۔

'برہمن سے لے کر شودر تک کی ہندو ذاتوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے ہندو جب مغرب جاتے ہیں تو وہاں شراب اور کباب کا بھرپورمزہ لیتے ہیں۔ جس چیز کا کبھی تجربہ نہ کیا ہو اور اس کا موقع ملے تو انسان کبھی کبھی بے قابو ہوجاتا ہے۔ میں نے بہت سے ہندو دوستوں کو گائے کے گوشت کا مزہ چکھتے دیکھا، جو ایک ایسی چیز ہے جس سے میں کبھی بھی متاثر نہیں ہوا۔

'جو پیسے میری برادری نے میرے امریکا میں رہنے اور تعلیم حاصل کرنے پر خرچ کیے تھے ان کا بہتر استعمال کرتے ہوئے میں نے خود کو ہر ممکن طریقے سے قابل بنانے کی کوشش کی۔ میں جتنا علم حاصل کر سکتا تھا میں نے کیا، میں نے ایک پاک و صاف زندگی گزاری اور مغرب کے فیشن اور وہاں کے رہن سہن کا مجھ پر کچھ اثر نہ ہوا۔'

عبدالرشید بلوچ نے مانک جی اسٹریٹ کا نام خالد اسحاق ایڈوکیٹ کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز ستمبر 2004 میں پیش کی۔ یہ تجویز منظور بھی ہو گئی اور کاغذات میں اسٹریٹ کا نام بھی بدل دیا گیا لیکن یہ جگہ اب بھی مانک جی اسٹریٹ کے نام سے ہی مشہور ہے۔ دسمبر 2004 میں عبدالرشید بلوچ صاحب انتقال کر گئے۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو مانک جی اسٹریٹ پر خالد اسحاق صاحب کے نام کی ایک آدھ تختی لگوا دیتے۔ لیکن ان کی زندگی نے وفا نہ کی اور مانک جی اسٹریٹ پر لگی مختلف عمارتوں کی تختیوں پر مانک جی اسٹریٹ ہی لکھا ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب ہم نے خالد اسحاق ایڈوکیٹ کے ساتھ کام کرنے والے سابق جسٹس مشتاق میمن سے اس حوالے سے بات کی تو وہ بھی حیرت زدہ رہ گئے کہ مانک جی اسٹریٹ خالد اسحاق ایڈوکیٹ اسٹریٹ بن گئی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ خالد اسحاق ایڈوکیٹ کے ورثاء ان کے انتقال کے بعد یہ مکان فروخت کر کے کہیں اور منتقل ہو گئے۔ اب اس مکان پر ایک سہ منزلہ عمارت بن گئی ہے جس میں مختلف لوگوں کے فلیٹس ہیں۔ اس کے ساتھ ایک مسجد بھی ہے۔ خالد اسحاق کا گھر اسی مانک جی اسٹریٹ پر تھا جو اب نہیں ہے۔ آپ اگر اس علاقے میں جا کر خالد اسحاق اسٹریٹ کا پتہ پوچھیں گے تو شاید ہی کوئی بتا پائے، لیکن مانک جی اسٹریٹ کا پتہ بتانے والے بے شمار لوگ مل جائیں گے۔

— تصاویر اختر بلوچ