'چوہدری' کو سلام کرنا ضروری ہے

17 اپريل 2015

ای میل

غریب اور شریف شہری کی زندگی بااثر افراد اجیرن کر دیتے ہیں، جبکہ اس کام میں پولیس اور دیگر ادارے بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔ — خاکہ خدا بخش ابڑو
غریب اور شریف شہری کی زندگی بااثر افراد اجیرن کر دیتے ہیں، جبکہ اس کام میں پولیس اور دیگر ادارے بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔ — خاکہ خدا بخش ابڑو

ابوظہبی میں شروع سے میری یہ عادت رہی ہے کہ شام کو آفس سے گھر واپس آ کر چائے پینے ایک نزدیکی کیفے کا رخ کرتا ہوں اور وہاں چائے پینے کے ساتھ ساتھ آرٹیکل بھی لکھتا ہوں یا کسی افسانے کا خاکہ تشکیل دیتا ہوں۔ ابوظہبی میں یہ میری واحد مصروفیت ہے۔

کچھ دن قبل ابوظہبی میں موسم بے وقت کی بارشوں کی وجہ سے خاصا خوشگوار رہا۔ ایسی ہی ایک بھیگی بھیگی شام میں کیفے میں بیٹھا چائے اور پیسٹری سے لطف اندوز ہو رہا تھا، اور ہلکی ہلکی بارش، بادلوں کی گھن گرج مجبور کر رہے تھے کہ آج سیاست جیسے خشک موضوع کے بجائے کوئی اچھا سا افسانہ لکھا جائے، کہ ایک ادھیڑ عمر صاحب میری ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھ گئے۔

ان کے الجھے ہوئے سفید بال اور چہرے پر تفکرات کی بکھری لکیریں نشان دہی کر رہی تھیں کہ وہ کسی شدید الجھن کا شکار ہیں۔ کاغذ اور پین دیکھا تو مجھ سے گفتگو کا سلسلہ بڑھانا چاہا، جسے میں نے رسمی سا جواب دے کر ختم کر دیا، لیکن ان کے چہرے میں چھپے اضطراب کو محسوس کرنے کے بعد میں نے ہی دوبارہ گفتگو شروع کی جو کچھ دیر میں گپ شپ میں تبدیل ہو گئی۔ انہوں نے دوران گفتگو مجھے اپنی زندگی کے دو واقعات سنائے جو میں آپ کے بھی گوش گذار کرنا چاہتا ہوں۔

پہلا ان کی اپنی زندگی کا تھا۔ ان کے مطابق آج سے 25 سال قبل وہ جہلم کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ابوظہبی روزگار کی تلاش میں آئے، اور مختلف کام کرنے کے بعد اپنا چھوٹا سا بزنس شروع کردیا۔ وقت گزرتا گیا، بچے بڑے ہوگئے، تو انہوں نے سوچا کہ یہ ابو ظہبی میں آخری سال ہوگا اس کے بعد پاکستان چلا جاؤں گا اور وہاں کاروبار شروع کروں گا۔

اسی دوران انہوں نے پیسے جمع کر کے جہلم میں ایک کنال کا پلاٹ لے لیا تاکہ اس پر اپنا گھر بنا سکیں۔ گاؤں میں ان کی زندگی میں بھی تبدیلی آگئی تھی۔ بچے سائیکل سے موٹر سائیکل پر آگئے اور اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھنے لگے، تو گاؤں کے کچھ جرائم پیشہ لوگوں کو ایک اچھا شکار سامنے نظر آنے لگا۔ اس گروہ کے لوگوں نے وہاں کے پٹواری سے مل کر زمین کے کاغذات میں رد و بدل کیا، اور اس کے ایک کنال کے پلاٹ پر غیر قانونی قبضہ کر لیا۔

بچے جوان ہو رہے تھے، گھر میں بوڑھے والد تھے، جب ان کو پتہ چلا تو تینوں بیٹے جن کی عمریں 14 سے 20 سال کے درمیان تھیں، اپنے دادا کے ساتھ اس شخص کے گھر پہنچ گئے۔ بچے نا سمجھ تھے، اور پھر ان کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا تھا، تو انہوں نے جذبات میں آکر اس شخص کو دو چار تھپڑ جڑ دیے، لیکن وہاں موجود لوگوں نے بیچ بچاؤ کروا دیا۔

بچے اور والد گھر واپس آگئے اور قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا، لیکن ابھی وہ واپس پہنچے ہی تھے کہ گھر میں پولیس آگئی اور تینوں بیٹوں اور 80 سال کے والد کو اقدام قتل اور اغواء کے جھوٹے مقدمے میں تھانے میں بند کر دیا۔ وہ شخص چاہتا ہی یہی تھا کہ بچے جذباتی ہو کر اس پر ہاتھ اٹھائیں۔ اس نے پہلے ہی پولیس سے ساز باز کر کے جھوٹی ایف آئی آر کٹوا دی۔

گھر میں کوئی بھی مرد نہیں بچا تھا جو مقدمے کی پیروی کرے۔ ایک طرف ایک کنال کے قیمتی پلاٹ پر قبضہ ہوگیا، دوسری طرف بچے اور والد اقدام قتل کے مقدمے میں تھانے چلے گئے۔ انہوں نے فوراً اپنا کاروبار ایک دوست کے حوالے کیا اور خود پاکستان آ گئے۔ ایک طرف پلاٹ کے قبضے کے خلاف مقدمے کی پیروی شروع کردی اور دوسری طرف جھوٹی ایف آئی آر کے خلاف، یہاں تک کہ ایک سال گزر گیا لیکن دونوں مقدموں کا معاملہ جوں کا توں رہا۔

ابوظہبی میں کاروبار میں دوست نے فراڈ کردیا تو وہ کاروبار بھی بند ہوگیا۔ اور مقدموں میں بھی پیسہ پانی کی طرح بہنے لگا تو کسی نے مشورہ دیا کہ "صلح" کر کے معاملہ رفع دفع کرو۔ پولیس کو پانچ لاکھ رشوت دی، ایک کنال کے پلاٹ کا مقدمہ بھی واپس لیا، پلاٹ سے ہاتھ اٹھایا، اور "صلح" کے نام پر اس قبضہ مافیا کو دس لاکھ روپے علیحدہ دیے جس کے عوض انہوں نے اقدامِ قتل اور اغوا کا مقدمہ واپس لیا، اور بچے اور والد رہا ہوگئے۔

یوں ایک سال میں ان کے مطابق ان کی پورے پچیس سال کی محنت ضائع ہوگئی اور جہاں سے زندگی کا سفر شروع کیا وہی دوبارہ پہنچ گئے۔ "اب یہاں دوبارہ ایک کمپنی میں ڈرائیور کی حیثیت سے کام شروع کیا ہے اور بچوں کی تعلیم مکمل کرنے کی کو شش کر رہا ہوں تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکے کبھی کبھی اس ریسٹورنٹ میں اچھے دنوں کو یاد کرنے آتا ہوں جب سب کچھ ٹھیک تھا دوستوں کو چائے پلانے یہاں آتا تھا۔"

انہی صاحب نے دوسرا واقعہ بھی سنایا۔ کہتے ہیں کہ "ایک بار چھٹی پر پاکستان گیا تو میرے ایک دوست ہیں جو محکمہ جنگلات میں انسپکٹر ہیں۔ ایک دن ہمارے گاؤں کے ایک بڑے زمیندار نے ہم دونوں کو کھانے پر مدعو کیا۔ جب کھانا وغیرہ کھا چکے تو ان چوہدری صاحب (یہاں چوہدری سے مراد ذات نہیں بلکہ ہر وہ بڑا زمیندار ہے جو پیسے اور طاقت کے بل بوتے پر غریب لوگوں کی زندگیاں اجیرن کردیتا ہے) نے کہا کہ ہمارے گاؤں میں ایک شخص ہے جو جنگل سے لکڑی کی اسمگلنگ کر کے شہر میں بیچتا ہے، آپ اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کریں اور پھر اسے میرے ڈیرے پر لے کر آئیں، میں آپ سے کہوں گا کہ غریب آدمی ہے چھوڑ دیں پر آپ نے چھوڑنا نہیں، اس کے خلاف سرکاری چالان بھی کاٹنا ہے، اور رشوت بھی لینی ہے، اور پھر اس کو میرے سامنے گالیاں بھی دینی ہیں۔

"میں یہ سب خاموشی سے سن رہا تھا میں نے پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ غریب آدمی لکڑی کی اسمگلنگ نہیں کرتا، بلکہ وہ غریب ایک موچی ہے جو بیچارہ گھر کا چولہا جلانے کے لیے سوکھی ہوئی جھاڑیاں اور درختوں کی گری ہوئی سوکھی شاخیں اکھٹی کرتا ہے تاکہ اس کے گھر کا چولہا جل سکے۔

"میں نے چوہدری صاحب سے وجہ پوچھی کہ آخر اس بیچارے کا قصور کیا ہے کہ اتنی بڑی اور سخت سزا دلوا رہے ہیں کہ اس کا سرکاری چالان بھی کاٹا جائے، پھر رشوت بھی لی جائے اور گالیاں دے کر اس کی عزت نفس بھی مجروح کی جائے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ پورا گاؤں مجھے دیکھ کر سلام کرتا ہے اور یہ موچی کا بچہ میرے سامنے سے سلام کیے بغیر ایسے گزر جاتا ہے جیسے یہ گاؤں اس کے باپ کا ہے، میں اسے مزہ چکھانا چاہتا ہوں۔"

یہ دونوں واقعات ہمارے ملک میں قانون اور انصاف کی بالا دستی کا پول کھول دیتے ہیں کہ کس طرح جرائم پیشہ افراد اور گاؤں کے 'چوہدری' غریب اور شریف لوگوں کی زندگیاں پولیس اور دیگر اداروں کی آشیرباد سے اجیرن کر رہے ہیں۔

وہ صاحب یہ بات کر کے چلے گئے، لیکن میں کافی دیر تک یہ سوچتا رہا کہ آج بھی ایک شخص جو اپنی ساری زندگی پردیس میں صرف اس لیے برباد کر دیتا ہے کہ اس کے بچے اچھی زندگی گزار سکیں، اور وہ بڑھاپے میں عزت کی زندگی گزار سکے۔ لیکن اس ملک کے ناسور اس کا یہ خواب بھی پورا نہیں ہونے دیتے اور دوسری طرف آج بھی گاؤں کے چوہدری کو سلام نہ کرنے کی اتنی بڑی سزا ملتی ہے کہ غریب انسان کی زندگی ہی اجیرن ہو جاتی ہے۔