• KHI: Zuhr 12:34pm Asr 5:17pm
  • LHR: Zuhr 12:05pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:10pm Asr 5:11pm
  • KHI: Zuhr 12:34pm Asr 5:17pm
  • LHR: Zuhr 12:05pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:10pm Asr 5:11pm
— S.M.Bukhari
— S.M.Bukhari
— S.M.Bukhari
— S.M.Bukhari
شائع April 22, 2015 اپ ڈیٹ August 19, 2021

ولیم ورڈزورتھ کی ایک نظم 'دی ڈیفوڈلز' کا آغاز یوں ہوتا ہے: "میں وادیوں اور کہساروں کی فضاؤں میں تیرتے بادل کی طرح آوارہ گردی کر رہا تھا۔ یکایک میں نے ایک جھیل کے کنارے درختوں کے نیچے سنہرے ڈیفوڈل پھول دیکھے، جو مخمور ہواؤں میں رقص کر رہے تھے۔"

یونہی بادل کی طرح برف زاروں، پہاڑوں، اور بستیوں میں آوارہ گردی کرتے دیوسائی کو جب پہلی بار دیکھا تو مجھے لگا جیسے ورڈزورتھ نے دیوسائی میں بیٹھ کر لکھا ہو۔ یقین نہیں تو جا کر دیکھ لیں۔ دیوسائی نیشنل پارک اور اس میں واقع شیوسر جھیل ورڈزورتھ کی نظم کا مجسم روپ ہیں۔

محض ایک صدی پہلے تک انسان ویرانوں کو خوف و دہشت کی علامت سمجھتا تھا۔ شیطان کا مسکن، ہولناک تنہائی، زمین کا ناسور، وحشت ناک مقام، جیسے ناموں سے پکارتا تھا۔ آبادی کی حد سلامتی کی سرحد سمجھی جاتی تھی۔ آج کا انسان آبادی سے رخ موڑ کر ویرانوں کی سمت جاتا ہے تاکہ قدرت کو قریب سے محسوس کر سکے، یا اپنی ذات کا عرفان حاصل کر سکے۔ انسان جوں جوں عقلی ارتقاء میں آگے بڑھتا گیا، اس کی روح توں توں بیقرار ہوتی گئی۔ علم و شعور کی دہلیز پر کھڑا آج کا انسان بھیڑ میں موجود زندگی کی ساری رعنائیوں اور سہولتوں کے ساتھ تنہا ہے۔ اگر ویرانے سکون بخشنے لگیں، اور وہاں جانا ہی ہو، تو دیوسائی سے بہتر ایسی کون سی جگہ ہو سکتی ہے؟

دیوسائی کے میدان — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی کے میدان — فوٹو سید مہدی بخاری

موسمِ گرما میں شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
موسمِ گرما میں شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری

دیوسائی دو الفاظ کا مجموعہ ہے 'دیو' اور 'سائی' یعنی 'دیو کا سایہ۔' ایک ایسی جگہ، جس کے بارے میں صدیوں یہ یقین کیا جاتا رہا کہ یہاں دیو بستے ہیں۔ آج بھی مقامی لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ یہ حسین میدان مافوق الفطرت مخلوق کا مسکن ہے۔ یہاں دیکھتے دیکھتے ہی موسم خراب ہونے لگتا ہے، کبھی گرمیوں میں اچانک شدید ژالہ باری ہونے لگتی ہے۔ ہر لمحہ بدلتے موسم کی وجہ سے دیوسائی میں دھوپ چھاؤں کا کھیل بھی جاری رہتا ہے۔ یہ علاقہ جنگلی حیات سے معمور ہونے کی وجہ سے انسان کے لیے ناقابل عبور رہا۔ برفانی اور یخ بستہ ہواﺅں، طوفانوں، اور خوفناک جنگلی جانوروں کی موجودگی میں یہاں زندگی گزارنے کا تصور تو اس ترقی یافتہ دور میں بھی ممکن نہیں۔ اسی لیے آج تک اس خطے میں کوئی بھی انسان آباد نہیں۔

کشمیر سے ہجرت کر کے دیوسائی آنے والے خانہ بدوشوں کی قدیم گزرگاہ یہی میدان ہے جو اپنے ساتھ بھیڑ بکریاں لے کر دیوسائی کی ہیبت میں چلتے جاتے ہیں۔ دیوسائی میں عمیق خاموشی اور صدیوں کی تنہائی خیمہ زن ہے۔ خاموشی ایسی کہ دل کانوں میں دھڑکتا محسوس ہوتا ہے تاوقتیکہ کہ کسی مارموٹ کی سیٹی فضا میں گونجنے لگے، اور تنہائی ایسی کہ کبھی کبھی اپنے وجود سے خوف آنے لگے۔

دیوسائی کے خانہ بدوش — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی کے خانہ بدوش — فوٹو سید مہدی بخاری

دیوسائی کے خانہ بدوش — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی کے خانہ بدوش — فوٹو سید مہدی بخاری

موسمِ گرما کی ایک دوپہر میں دیوسائی کی گھنی خاموشی میں کیمرے کا شٹر گرا تو دھماکا سا سنائی دیا۔ شور صدیوں سے ٹھہری ہوئی چپ فضا میں دور تک سرایت کرتا گیا۔ مارموٹوں کے کان کھڑے ہو گئے، لہلہاتی گھاس اور جنگلی پھول سہم کے اپنی جگہ رک گئے اور چشمِ تخّیل نے دیکھا کہ دور کہیں ماده ریچھ نے اپنے بچے کو آغوش میں بھر لیا۔ سورج بھی بدلی کی اوٹ میں جا چھپا تو میں شرمنده ہو کر گھاس پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد سورج بدلی کی اوٹ سے یوں جھانکا جیسے دخل اندازی کرنے والے کا سراغ لگا رہا ہو۔ پھول پھر سے لہلہانے لگے، مارموٹ اپنے بِل چھوڑ کر گھاس میں کودنے لگے، ریچھ نے شتوں نالے میں قدم رکھا اور مچھلی کی بو لینے لگا۔ دیوسائی میں معمولات بحال ہونے لگے تو میں کیمرا سمیٹ کر چل دیا۔

ہمالیہ کے دامن میں واقع دیوسائی دنیا کا سب سے بلند اور اپنی نوعیت کا واحد پہاڑی میدان ہے جو اپنے کسی بھی مقام پر 4000 میٹر سے کم بلند نہیں۔ سال کے 8 ماہ یہ مقام برف سے ڈھکا رہتا ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ گرمیوں کے 4 مہینوں میں پہاڑی ڈھلوانوں اور گھاٹیوں پر مشتمل 3000 مربع کلومیٹر کے اس قدرے ہموار میدانوں کی زمین پر ہزار ہا رنگ کے شوخ جنگلی پھول تو جابجا کھلتے ہیں، مگر کہیں ایک بھی درخت نہیں ملتا۔

دیوسائی کی ایک چاندنی رات — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی کی ایک چاندنی رات — فوٹو سید مہدی بخاری

دیوسائی کے میدان — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی کے میدان — فوٹو سید مہدی بخاری

اس میدان میں جگہ جگہ بہتے نالے اور ان میں موجود سنہری ٹراؤٹ مچھلیاں، بیک ڈراپ میں 5000 میٹر بلند برف پوش پہاڑ، انہیں پہاڑوں میں مقیم جنگلی حیات، آسمان سے گزرتے بادلوں کے بڑے بڑے ٹکرے جو اتنی کم بلندی سے گزرتے معلوم ہوتے ہیں کہ لگنے لگتا ہے جیسے آپ پر سایہ کرنے کو قدرت نے چھتری بنا رکھی ہے، اور ان ٹکڑوں کے بیچ محوِ پرواز ہمالیائی گولڈن ایگلز، فضا میں پھیلی ایک انجان مہک جو شاید بھورے ریچھوں، سرخ لومڑیوں، سفید چیتوں اور شرارتی مارموٹوں کے جسموں سے نکل کر دیوسائی کی نم زدہ گھاس اور تازہ جنگلی پھولوں سے مل کر ساری فضا کو معطر کیے رکھتی ہے، ہی دیوسائی کا حسن ہے۔ اس خطہ زمین پر جنابِ میر تقی میر کا یہ شعر بالکل صادق آتا ہے:

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

اسکردو کے بازار سے گزر کر ایک سڑک سدپارہ گاؤں کی طرف مڑ جاتی ہے۔ اس بل کھاتی سڑک پر سدپارہ کی نیلگوں جھیل یوں نظر آتی ہے کہ مسافر پلک جھپکنا بھول جاتے ہیں۔ جھیل کو دیکھتے دیکھتے آگے سدپارہ کا گاؤں آ جاتا ہے جہاں بچوں نے قدرت سے سازباز کر کے سڑک کو بند کرنے کا کھیل رچا رکھا ہے۔ گرمیوں میں جائیں تو گاؤں سے پہلے سڑک کے اوپر سے بہتے چشمے نے ایک طرف سے سڑک کو توڑ پھوڑ دیا ہے تو وہیں دوسری طرف مقامی بچے گاڑیاں روک کر مسافروں کو چیری بیچتے ملتے ہیں۔ ایک ننھی بچی سے خوش ہو کر چیری خریدی تو مسکراہٹ سے اس کے چہرے پر چیری کا رنگ جھلکنے لگا۔

سدپارہ گاؤں — فوٹو سید مہدی بخاری
سدپارہ گاؤں — فوٹو سید مہدی بخاری

بڑا پانی — فوٹو سید مہدی بخاری
بڑا پانی — فوٹو سید مہدی بخاری

گاؤں سے گزر کر سڑک غیر ہموار ہونے لگتی ہے۔ مسلسل چڑھائی کانوں پر دباؤ ڈالنے لگتی ہے۔ ایک طرف نہایت اونچے پہاڑ، اور دوسری طرف گہری کھائیوں کی موجودگی دل کی دھڑکن کو بے ترتیب کرنے کے لیے کافی ہے۔ نہ دل سنبھلتا ہے، نہ ہی سڑک۔ بل کھاتے، چکراتے، چڑھائی چڑھتے بالآخر آنکھوں کے سامنے ایسا منظر کھلتا ہے جس کی وسعت دو آنکھوں کے پردے پر سمونا ممکن نہیں۔

تنگ درے کے سفر کے بعد بلندی پر دیوسائی ہتھیلی کی طرح پھیلا ہوا ملتا ہے۔ بڑے پانی کے پل کو عبور کریں، تو شیوسر جھیل تک ایک پتھریلی سڑک کھلے میدان کی وسعت میں چلتی جاتی ہے۔ شیوسر جھیل کا مقامی زبان میں مطلب 'اندھی جھیل' ہے۔ یہ جھیل دنیا کی بلند ترین جھیلوں میں سے ہے۔ اس کے گہرے نیلے پانی اپنے پس منظر میں برف پوش پہاڑیوں اور پیش منظر میں سرسبز گھاس اور رنگ برنگے جنگلی پھولوں کے ساتھ موسمِ گرما میں ایسا نظارہ پیش کرتے ہیں کہ آنکھ حیرت زدہ پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہے۔

شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری

شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری

شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری

شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری

موسم صاف ہو تو جھیل کے عقب میں قاتل پہاڑ نانگاپربت کی برف پوش چوٹی نظر آتی ہے اور جھیل اگر پرسکون ہو تو نانگاپربت کا عکس پانیوں میں یوں گھلتا دِکھتا ہے جیسے کسی نے نِیل میں سفیدی گھول دی ہو۔ گرد و نواح کی کسی پہاڑی پر چڑھ کر دیکھیں تو شیوسر جھیل کے نیلاہٹ پوری آب و تاب کے ساتھ انسانی دل نما شکل میں نظر آتی ہے۔ یہ جھیل دیوسائی کا دل ہے۔

شیوسر جھیل کے عقب میں نانگاپربت — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل کے عقب میں نانگاپربت — فوٹو سید مہدی بخاری

جیپ روڈ — فوٹو سید مہدی بخاری
جیپ روڈ — فوٹو سید مہدی بخاری

یوں تو دیوسائی سے عشق ہونے کے سبب اپنی سفری زندگی میں کئی بار محبوب کے وصال کو گیا۔ کبھی تو محبوب نے بانہیں کھول کر میرا استقبال کیا اور کبھی دیوسائی برف کی سفید چادر اوڑھ کے الگ تھلگ بیٹھا رہا اور اذنِ دیدار نہیں ملا۔ بہت کم لوگوں نے شاید سردیوں میں اس میدان کو پار کرنے کا جوکھم اٹھایا ہو۔ میں دیوسائی کو نومبر میں دیکھنا چاہتا تھا جب سیاحوں سے پاک یہ میدان بالکل قدرتی حالت میں تنہا ہو۔

مجھے اس دن سدپاره کی چوکی سے ہی موسم دیکھ کر واپس اسکردو پلٹ جانا چاہیے تھا۔ فوجی گاڑیاں آدھے راستے سے واپس پلٹ رہی تھیں اور گزرتے ہوئے انہوں نے اشارہ کیا کہ آگے برف باری اور خراب موسم ہے واپس ہو جاؤ، مگر میرے اندر دیوسائی جانے کی خواہش شدید تھی۔ میری چھٹی حِس کہہ رہی تھی کہ دیوسائی جاؤ۔ اس غلطی کی سزا یہ تھی کہ دیوسائی میں مسلسل گرتی برف سے ایک تو جیپ ٹریک چھپ گیا تھا اور راستہ نظر نہیں آتا تھا، دوسرا سارا دن جیپ کے پہیوں کو چَین لگا کر ساتھ دھکا بھی لگانا پڑتا۔ جیپ برف میں دھنستی تھی اور برف کئی جگہوں سے آئینے جیسی بن چکی تھی جس پر پاؤں پھسلتا تھا۔

— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری

— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری

وہ سارا دن برفباری میں دھکا لگاتے، برف کھودتے، منظر و موسم کو دیکھتے، اور خدا کو یاد کرتے گزرا۔ تھکاوٹ تو جو ہوئی سو ہوئی، پر قدرت نے ہماری محنت کا جو انعام دیا وه لاجواب تھا۔ قدرت آپ کی محنت کا انعام آپ کے حوالے کرنے سے پہلے اپنی پوری قیمت وصول کرتی ہے۔ تنہائی کے عالم میں کئی منظر ایسے ہوتے ہیں کہ لگتا ہے خدا ہمیں ہی دکھا رہا ہے۔ بس یہی سوچ کر اسی لمحے ایک سجدہ بے اختیار کرنے کو جی کر اٹھتا ہے۔ دیوسائی کی ہیبت ناک تنہائی اور خراب موسم میں جب بادلوں میں بالکل قطبِ شمالی کی آسمانی روشنیوں کی طرح رنگ چمکنے لگیں تو آپ سجدہ نہیں کریں گے کیا؟

شیوسر جھیل سے ذرا پہلے براؤن ماده ریچھ اور اس کا چھوٹا بچہ ہمیں نظر آئے۔ برفباری میں حدِ نظر اچھی نہیں تھی، پر میرے لیے یہ میرے سفری لمحوں میں سب سے خوشگوار لمحہ تھا۔ ویسے بھی میرے پاس دو سو ملی میٹر سے زیادہ فوکل لینتھ کا لینس نہیں تھا۔ دوربین لگائے میں ریچھ ماں اور بچے کی حرکتیں دیکھتا رہا۔ تین ہمالیائی سرخ لومڑیاں بھی نظر آئیں جو سکون سے میری جیپ کے آگے سے گزر گئیں۔

— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری

— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری

شیوسر جھیل پر جانے تک برفباری انتہائی شدید ہو چکی تھی۔ جھیل پر برف گرتی تھی اور اس سفیدی میں حدِ نظر 20 میٹر سے زیاده نہیں تھی۔ میں جیپ میں بیٹھا قدرت کو اصل حالت میں محسوس کر سکتا تھا اور کہیں آس پاس ریچھوں کی بو پھیلی تھی، لومڑیوں کا خاندان تھا، اور مارموٹ بلوں میں دبکے بیٹھے تھے۔ دیوسائی نے سفید چادر اوڑھنا شروع کر دی تھی۔ وہاں میرے، ڈرائیور، اور قدرت کے سوا کوئی نہ تھا۔

نیلی جھیل پر سفید روئی جیسے گولے برس رہے تھے۔ شدید سردی میں مشقت بھرا دن گزارنے کے بعد دیوسائی کو پار کر کے چِلم چوکی تک پہنچتے پہنچتے شام پھیل رہی تھی۔ چِلم کی فوجی چوکی میں اندراج کروا کے استور روڈ پر نکلا تو کچھ فاصلے پر ایک چھوٹی سی لڑکی اپنی دو بھیڑوں کے ساتھ اچھلتی کودتی چلی جا رہی تھی۔ جیپ کی آواز سن کر بھیڑوں نے سڑک کنارے پناہ لی۔ بچی نے پیچھے مڑ کر مسکرا کے دیکھا تو دل پر جمی ساری برف پگھل گئی، ساری تھکاوٹ اتر گئی۔ گاڑی میں بیٹھے ڈرائیور اور میں بھی مسکرا دیے تھے۔

چلم گاؤں کے پاس — فوٹو سید مہدی بخاری
چلم گاؤں کے پاس — فوٹو سید مہدی بخاری

چلم گاؤں — فوٹو سید مہدی بخاری
چلم گاؤں — فوٹو سید مہدی بخاری

چلم کی شام — فوٹو سید مہدی بخاری
چلم کی شام — فوٹو سید مہدی بخاری

چلم کی شام — فوٹو سید مہدی بخاری
چلم کی شام — فوٹو سید مہدی بخاری

کبھی کبھی سفر کی دشواریاں اور تکلیفیں اتنی زیادہ ہوجاتی ہیں، کہ مسافر کو خود پر ملامت ہونے لگتی ہے۔ لیکن یہی سفر ایسے ایسے رنگ ذہن کے پردے پر منقش کرتا ہے جن کا عکس تا حیات جھلکتا رہتا ہے، اور گوشہ تنہائی میں کبھی کبھی آسیب کی صورت اردگرد منڈلانے لگتا ہے۔

دیوسائی میں مشقت بھرا دن گزارنے کے بعد چلم سے استور کے راستے میں تھکی ہاری شام پہاڑوں پر اتر رہی تھی۔ سڑک سے کچھ فاصلے پر ایک شخص دِکھا جو ایک قبر پر جس کے اطراف لکڑی کے تختوں سے حد بندی کی گئی تھی، اس لکڑی کے چوپٹے کے اندر بیٹھا تھا اور کچھ دیر پہلے ہی اس نے آنسو پونچھے تھے۔ قبر پر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔

چلتے چلتے اس کے پاس پہنچ کر سلام کیا تو بولا "نیچے سے آئے ہو؟" (شمالی علاقہ جات کے لوگ میدانی علاقوں سے آنے والوں کو ایسا ہی کہتے ہیں)۔ میں نے ہاں میں جواب دیا، اور حال احوال پوچھ کر اور اِدھر ادھر کی ایک دو باتیں کر کے جب میں نے پوچھا کہ کس کی قبر ہے تو بولا "یہ میرے بیٹے کی قبر ہے۔ فوج سے ریٹائر ہو کر مزدوری کرتا ہوں، پنشن کے تھوڑے پیسوں سے اور مزدوری کر کے جو کچھ بھی کماتا تھا اس پر لگا دیتا تھا۔ یہ اکلوتا بیٹا تھا صاحب، پنڈی میں کالج میں پڑھتا تھا۔ پنڈی سے استور آتے ہوئے راستے میں ظالموں نے بس سے اتار کے باقی مسافروں سمیت مار دیا۔ اس کا قصور باقی مرنے والوں کی طرح اس کا مسلک ہی تھا۔"

بات ختم کرنے سے پہلے اس کی آواز اس کا ساتھ چھوڑ گئی تھی، اور آنکھیں بھر آئیں تھیں۔ مجھے بھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ جواب میں کیا کہوں ماحول میں خاموشی طاری ہو گئی تھی۔

کچھ وقفے کے بعد بولا کہ کام پر جاتے اور آتے ہوئے یہ گھر کے راستے میں آتی ہے، اس لیے کچھ دیر دعا پڑھنے کے لیے بیٹھ جاتا ہوں۔ رخصت ہوتے میری نظر پاکستان کے جھنڈے پر پڑی تو مجھے لگا جیسے چاند تارے میں خون اتر آیا ہو، یا شاید ڈھلتی شام میں آسمان پر سرخ پڑتے بادلوں کا عکس اس میں جھلک رہا تھا۔

پاکستان کے شمال کو دیکھ کر دل اگر شاد ہوتا ہے تو وہیں مقامی لوگوں کے دکھ درد پر ملول بھی ہونا چاہیے۔ روڈ پر اپنی جیپ تک پہنچتے پہنچتے آنکھیں ڈبڈبا گئی تھیں۔ منظر دھندلے ہو گئے تھے، سورج پہاڑوں کی اوٹ میں جا چھپا تھا، اور رومال بھی کہیں گم ہو گیا تھا۔

دیوسائی  — فوٹو سید مہدی بخاری
دیوسائی — فوٹو سید مہدی بخاری

شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
شیوسر جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری

— فوٹو سید مہدی بخاری
— فوٹو سید مہدی بخاری

لکھاری اندھی جھیل کے کنارے — فوٹو سید مہدی بخاری
لکھاری اندھی جھیل کے کنارے — فوٹو سید مہدی بخاری

جیپ چلی تو آنکھوں کی نمی خنک ہوا نے جذب کر لی، اور دل سردی کی لہر سے سرد پڑنے لگا۔ میرے ڈرائیور نے ٹیپ ریکارڈر آن کر دیا۔ غزل کی آواز شام کے دھندلکے میں وادی کی خاموشی کو چیرنے لگی۔ آنکھوں کی نمی جو کچھ دیر پہلے خنک ہوا نے جذب کر لی تھی، پھر آنکھوں میں بھر گئی۔ سڑک کے دونوں جانب کھڑے چیڑ کے درخت دھندلے پڑنے لگے۔ ان کے پتوں سے قطرے ٹپک رہے تھے۔ باہر شدید سردی تھی اور گاڑی کے اندر سانسیں تپ دق کے مریض جیسی تیز اور گرم تھیں۔ ٹیپ ریکارڈر پر غزل گونج رہی تھی

سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے

اِس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے

دِل ہے تو دھَڑکنے کا بہانہ کوئی ڈھونڈے

پتھر کی طرح بے حِس و بے جان سا کیوں ہے


یہ پاکستان کے شمالی علاقوں کے سفرنامے کی سیریز میں چوتھا مضمون ہے۔ گذشتہ حصے پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔


لکھاری پیشے کے اعتبار سے نیٹ ورک انجینیئر ہیں۔ فوٹوگرافی شوق ہے، سفر کرنا جنون ہے اور شاعری بھی کرتے ہیں۔ ان کا فیس بک پیج یہاں وزٹ کریں۔

سید مہدی بخاری

لکھاری یونیورسٹی آف لاہور کے کریئٹیو آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں پڑھاتے ہیں۔ فوٹوگرافی شوق ہے، سفر کرنا جنون ہے اور شاعری بھی کرتے ہیں۔

ان کا فیس بک پیج یہاں وزٹ کریں: سید مہدی بخاری فوٹوگرافی

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔
ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے (90) بند ہیں

smazify Apr 22, 2015 04:36pm
I m beginning to worship ur work. Great work really
[email protected] Apr 22, 2015 04:38pm
stunning
Stunning Apr 22, 2015 04:38pm
Stunning Apr 22, 2015 04:39pm
نہایت عمدہ
Baltee Apr 22, 2015 04:56pm
Syed Mehdi Bukhari You are a great photographer and travrl writerThanks for bringing Gilgit Baltistan in attention of Pakistani so called Media. Otherwise our media is bus in political issues and making headlines of unnecessary incidents like Express tribune . I hope you will write an article about constitutional issue of Gilgit baltistan. Because Gilgit Baltistan is deprived from its basic rights since 1948 . www.skardu.pk .
Abrar Hussain Bagoro Apr 22, 2015 05:10pm
heart touching artical well done bukhari sahab..
Muhammad Arshad Apr 22, 2015 05:13pm
Wah wah, kia baat hai Pakistan Ki. Thank you for introducing us the true beauty of our homeland.
Muhammad Talha Naeem Rao Apr 22, 2015 05:19pm
Not only a good photographer but an excellent Urdu writer !! Respect
Rafiud Din Khalid Apr 22, 2015 05:26pm
What a photographer Nicely done man.
Azhar Ahmed Baig Apr 22, 2015 05:34pm
ur work is really great :) n cant bellive that these pictures belongs to Pakistani land. its really amazzing n superb . i have no words to appreciate ur efforts . MAY ALLAH BLESS U AT ALL STEPS OF LIFE AMIN.
Muhammad Naeem Apr 22, 2015 05:43pm
!!!Wonderful demonstration of Deo-Sai
Ejaz Sharif Apr 22, 2015 05:43pm
Fantastic work ever, dear u done a great job and narrate ur journey as i feel im also with u...your pics of journey may amazed any nature lover... So i can say Haven comes down in Pakistan God Bless u Always
anees Apr 22, 2015 05:49pm
seamless beauty . we really are blessed. gr8 work
Yusuf Awan Apr 22, 2015 06:09pm
Most of the photos uploaded here are photoshopped.......why?
jamshed Khan Apr 22, 2015 06:20pm
Syed Mehdi Bahi kia baat hy bht he zabardast pcis share ki app nay,bht he khoobsorat hy hemara Pakistan.
Syed Mehdi Bukhari Apr 22, 2015 07:07pm
@Yusuf Awan ہر الا بلا چیز پر ، سیاستدانوں کے بیانات پر ، میڈیا کے پروپیگنڈا پر ، ٹوٹکوں اور نسخوں پر ، ہومیوپیتھیک کے ڈاکٹروں کی میٹھی گولیوں پر ، مولویوں کے تفرقے پر آنکھ بند کر کے یقین کر لینے والے لوگ جب یہ کہتے ہیں نہ کہ فلاں لینڈ اسکیپ کی فوٹو میں فوٹو شاپ کیا گیا ہے، تو بڑی ہنسی آتی ہے۔ ساری تحقیق انہیں یہیں پر یاد آتی ہے، جہاں کرنی چاہیے وہاں تو سوال بھی نہیں پوچھا جاتا۔ ڈیجیٹل فوٹوگرافی میں تصویر کو ڈویلپ کرنا پڑتا ہے ورنہ بائی ڈیفالٹ کیمرا بہت پھیکی امیج دیتا ہے اور یہ ساری دنیا کے آرٹسٹ کرتے ہیں ۔ فلم کے زمانے میں بھی کیمیکلز سے نیگیٹو کو ڈویلپ کرتے تھے آرٹسٹ اپنی مرضی کے کنٹراسٹ اور رنگوں کے حصول کے لیئے ۔ snapshot اور photography میں فرق ہوتا ہے ۔ باقی تمام دوستوں کا شکریہ
Hanif Apr 22, 2015 07:15pm
One more good entry! Thanks
abdulbasithussaini Apr 22, 2015 07:54pm
waaaaah kmaaaaaal hai murshid
سمیرا Apr 22, 2015 08:18pm
دل سنبھلتا تھا نہ سڑک۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آخر تک آتے آنکھوں میں نمی بھی نہیں سنبھلتی۔۔اللہ اس باپ پر اپنا کرم کرے اس پیارے پاکستان پر بھی امین۔۔۔ بہت خوب ہمیشہ کی طرح صاحب مضمون کے الفاط بھی دل میں اترتے محسوس ہوۓ اور جو خوبصورتی کیمرے کی آنکھ سے دکھائ گئ وہ باکمال ہے۔۔۔ بہت ہی خوب صورت۔۔۔۔ دیوسائ کے سب رنگ جو برف کی چادر میں لپٹے،چاندنی رات میں بھیگے اور گرم موسم میں سورج ،بادل کی آنکھ مچولی۔۔۔۔۔ سب بے حد خوبصورت۔۔۔
majid Apr 22, 2015 08:25pm
@Syed Mehdi Bukhari So many Different color filters are used even in hubble's magnificent pictures.
عبدالرؤف خاں Apr 22, 2015 08:27pm
سب سے پہلے تو میں آپکو بہت مُبارک باد پیش کرتا ہوں، اور آپ پر فخر بھی ہے کہ اتنے خوبصورت نظارے ہم تک پہنچائے جو ابھی تک ہماری آنکھوں سے اوجھل تھے۔ جن خوبصورت الفاظ میں آپنے یہ مضمون لکھا ہے اُسکی جتنی بھی تعریف کی جائے اُتنی ہی کم ہے۔ اس سفر نامے کے ماتھے کا جھومر وہ قبر تھی جس پر پاکستان کا جھنڈا لگا تھا۔ جہاں جہاں قدرت کے نظارے دیکھے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی گئیں، اور جب وہ قبر دیکھی تو یقین مانیں آنکھیں نم بھی ہوئیں اور دل بھی ڈوب گیا۔ اللہ کرے زوربیاں اور زیادہ۔
Badar Apr 22, 2015 09:23pm
@Yusuf Awan your question is good but your knowledge is poor. Criticize where needed. I am nature lover and respect those persons who bring me near to it.Thanks
AAMIR AHMED FARIDI Apr 22, 2015 09:24pm
AOA BUKHARI SAB APKA KAM BOHAT KHOBSOORAT HEY AAP PAKISTAN KI AISI SHANDAR TASWEER PESH KER RAHEY HAIN JO SHAYED KAM LOGO NEY DEKHI HEY JAZAK ALLHA
مرزا الفت Apr 22, 2015 10:50pm
@Syed Mehdi Bukhari سر کچھ لوگ ہیں جو بس ایک دوسرے کی ٹانگیں کھیچنے کی ماہرہوتے ہیں۔ آپ اپنا کام جاری رکھیں
محمد ارشد قریشی (ارشی) Apr 22, 2015 11:13pm
بہت ہی خوبصورت بہت عمدہ بہت حسین
FURQAN Apr 23, 2015 12:56am
Excilant jurnyy and experiance yar i really really feel the emotions of auther
iqbal hameed Apr 23, 2015 01:02am
AOA, I HAVE READ YOUR ADVENTUROUS STORY, ITS WONDERFUL. I AM A HIKER, I KNOW VERY WELL HOW TO ENJOY NATURAL WORLD. YOUR PICTURES ARE REMARKABLE, TELLING THE WHOLE ADVENTURE STORY. KEEP UP. KHUDA HAFIZ IQBAL
Aamir Apr 23, 2015 02:57am
. Please post some more. Loved your way of work and lust for natural beauty.Very good sir you have done a wonderful work
طیب ابراہیم Apr 23, 2015 06:43am
میں روزانہ دن میں دس بار ڈان کی سائٹ اس امید میں وزٹ کرتا ہوں کہ شاید مہدی صاحب کا آرٹیکل آیا ہو۔ آج آرٹیکل آیا تھا۔ جیتے رہیں شاہ جی۔ اور لکھتے رہیں شاہ جی۔
طیب ابراہیم Apr 23, 2015 06:46am
@Yusuf Awan They are NOT photoshopped. They are only finished/touched in Adobe Lightroom or a similar program. This is not called photoshopping. I can say this because I've been teaching Photoshop for over 10 years.
Muhammad Abid Apr 23, 2015 08:42am
Breath taking... Great work.
شفقت اللہ Apr 23, 2015 10:02am
کیسے تعریف کرو وہ الفاظ کہاں سے ڈھونڈ کے لاوٗ کہ جو مہدی صاحب کے کام کو سراہنے میں میری مدد کریں۔ کوئی جادو ساہوگیا ہے آپکی فوٹو گرافی دیکھ کر۔ شکریہ سر پیارے پاکستان کو اس خوبصورتی سے منظر کرنے پر۔
Mohammad haron Apr 23, 2015 10:11am
great way of writing a travel story..it feels like that i have seen deosai with my own eyes.would be pleased to know more from you.
Ahmad Apr 23, 2015 10:13am
میرے سفر دیو سائی (1996) جو کہ ماونٹین بائیک پر کیا گیا تھا اس میں ایک کمی جو آج تک شدت سے محسوس ہوتی ہے وہ اچھی تصاویر کا نہ ہونا ہے۔ آج آپ نے وہ کمی پوری کردی ہے۔ پڑا پانی پر جو پل ہے اس کی تصویر بھی ضرور شئیر کیجیے۔
Suhail Akhtar Apr 23, 2015 10:59am
.World class photography, natural beauty of Pakistan is presented very well. Excellent photography and beautiful write-up by Syed Mehdi Bukhari.
Critical Khan Apr 23, 2015 11:25am
I recommend your work for the pride of performance, seriously. This work by no standards is less then those of Discovery and Nat Geo. What a stunning beauty these areas offer. But those who should care to promote tourism in Pakistan are sleeping fast
Shahid Apr 23, 2015 11:58am
very nice place and classic and descent scenes
Muhammad Arshad Apr 23, 2015 12:15pm
سلام ہے سید مہدی بخاری صاحب کیا خوبصورت تصویرکشی کی ہے آپ نے بہت ہی حیران کن پکچرز ہیں
Jibran Apr 23, 2015 12:46pm
full Passionately Amazing Masha ALLAH Awsome pictures & Wordings as well......
Syed Armaghan Nishat Apr 23, 2015 01:13pm
Amzing. Most beautiful pics i have ever seen
Bikers & Hikers Apr 23, 2015 01:30pm
I personally only can say SIR u done great job to promotion of Tourism of Pakistan - my special pray for you, God give you more courage and power for more explore beauty of Pakistan - Bikers & Hikers
raj Apr 23, 2015 02:48pm
behad khoobsoorat manzar hain janab bahut bahut shukaria share karne ke liye
Muhammad Nadeem Akhtar Apr 23, 2015 03:02pm
سال 2014 مین مجھے بھی دئوسایئ جانے کا اتفاق ہوا۔ بہت ھی اعلی اور پر سکون جگہ ہے دنیا سے دور اور قدرت کے قریب۔ میں آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اس جگہ کی خوبصورت تصاویر اور عمدہ تحریر لکھنے پر۔ پاکستان زندہ باد
Ahmed Aqib Apr 23, 2015 03:16pm
Haal-E-Dil Zubaan Bayaan Karne Se Qasir Hai, Har ak Manzar Pe Khuda ki Hamd-O-Sana Karen ko Dil Chahta Hai Kassh k Ye Husn waha k Logo k Dilon Main Bhi utar Aaye Or Maslak ki Buniyaad Pe Ye Khoon Na Bahaya Jaye Aap k Liye Me Alfaz Ka Chunao Nahi Kar Pa Raha k Kiya Tareef Karoon Aap Ki :) ALLAH TALA Mere Bhai Aap ko Jaza-E-Khair Aata Farmaye Aameen
Kheshgi Apr 23, 2015 03:31pm
Excellent article and photography. Well done.
Sufian Irshad Apr 23, 2015 03:54pm
bht alaaww.. great piece of work.. i don't have words..... how to explain my feelings.... just awesome
Mansoor Apr 23, 2015 04:11pm
Excellent
Mubarak Ali Apr 23, 2015 04:19pm
سلام ہے سید مہدی بخاری صاحب کیا خوبصورت تصویرکشی کی ہے آپ نے بہت ہی حیران کن پکچرز ہیں.. سلام پاکستان۔ سلام پاک فوج ۔ انشااللہ دیوسائی کی طرح پورئے پاکستان میں بھی جلد امن وامان ھو گا ۔۔۔
Amjad Iqbal Apr 23, 2015 05:36pm
amazing. you are lucky that you captured brown bear. i crossed deosai 13 times but only 1 time i captured brown bear. outclass pics shah jee
Muhammad Rizwan Apr 23, 2015 05:50pm
gooooooooooooooooooooooooooooooood Beauti OF world like gift ALLAH us In PAkistan
Khalil Apr 23, 2015 06:18pm
Well done shah g really amazing
Sarfaraz Ali Sheikh Apr 23, 2015 07:41pm
Maina kbhi itna haseen safar namaa nhn parha! Jo banda paishaa sa likharee na ho or wo is had tak nafasat sa ak mazmoon ko zinda karda beshak, behad nafees kirdaar ka malik hoga! Khuda Tarakee da, or is mulk ko dard e dil or fikar rakhna wala mazeed loog ata farmaya! AMeen!
M.Naeem Photo Grapher Apr 23, 2015 07:50pm
very good Kamal ki photography hy
ayesha waheed Apr 23, 2015 08:27pm
speechless to see this wonderful beauty of nature..wish to live here wish to enjoy my teas and coffees here..even wish to die here...Mehdi bukhari loved your passion your excellent photography..love to join you in all these beautiful journeys of nature...i guess william Wordsworths's soul lives here..anyway keep grow keep glow and rise..God Bless you..
aamir bashir Apr 23, 2015 08:32pm
Mehdi Sb.Buhat Khoob.........Deo Sai na janay Kisa hi..........Magar App ne Tasveeronn main Essay lafani bana dia Hi.... Sad para tk to gaiy hian... Ab Allah ne Chaha to Deo Sai bhi dekhain ge... Buhat Khoob
talhamid Apr 24, 2015 12:35pm
Amazing article. For all those crying Photoshop: I have been to Deo Sai and it looks exactly as in the photos! As people have pointed out, professional cameras are not perfect - they sometime give a picture that is very conservative in terms of colours and contrast. As an amateur photographer I can testify that I edit my photos to bring them in line with the colours and the contrasts that my EYES saw. Remember, our eyes are the best camera in the universe and no camera can ever match the range of colours and resolution seen by our eyes. So enjoy the photos and get a life!
nighat Apr 24, 2015 02:39pm
بہت ہی زبردست ارٹیکل آپ نے لکھا ہے۔۔۔اس کو پڑھ کر میرا بھی دل چاہ رہا ہے میں ابھی کہ ابھی وھاں جاوں،،،،
Rizwan Mir Apr 24, 2015 02:48pm
Great effort, mind blowing pictures and amazing writing. Thanks for representing Pakistan.
terry Apr 24, 2015 03:39pm
Trout fish is not in golden color. Trout has dark green upper skin with black spot, then a strip of light pink color and bottom skin has silver colour.
Muhammad Arshad Apr 24, 2015 04:26pm
SYED MEHDI BUKHARI TUGHY SALAAM HAI
Muhammad Arshad Apr 24, 2015 04:27pm
SLAAM HAI AAP KI MAHARAT KA
Aftab Apr 24, 2015 08:37pm
Wonderful place and magnificent picturization....
محمّد احسن Apr 24, 2015 10:31pm
میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ اصل لفظ دیووسائی ہے جس کے معانی ہیں دیو نے بسائی جو بعد میں بگڑ کر دیوسائی بن گیا- ویسے میں آپ کو داد تحسین پیش کرتا ہن اتنا عمدہ سلسلہ شروع کرنے پر- فوٹو گرافی کافی شاندار ہے-
Jawed Sheikh Apr 25, 2015 08:03am
Congratulations! Excellent work done for Beautiful PAKISTAN.
Jamsheed Alam Apr 25, 2015 11:30am
bukhari its great work and thanks to you bring the true ,beautiful of the peaceful Gilgit Baltistan. Being a native of GB i thanks again and again for this great and marvelous approach.
Salahuddin Apr 25, 2015 02:22pm
بہت ہی خوبصورت تصاویر ہیں۔پاکستان یں ایسے علاقے قدرت کی صناعی کا مظہر ہیں۔مشکل یہ ہے کہ اکثر لوگ کم مائیگی کی وجہ سے ان علاقوں کا سفری خرچ نہیں رکھتے ورنہ میں تو کہتا ہوں پیدل بھی چلنا پڑے تو ان جیسی جگہوں کو دیکھنا چاہئے۔فاضل مصنف سے درخواست ہے کہ وہ ہمیں موقع بموقع ان نوادرات سے نوازتے رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت عطا فرمائے۔آمین صلا ح الدین ۔سوات پاکستان 03422702536
Mubashar Hassan Apr 25, 2015 04:14pm
الفاظ اتنے رسیلے کہ پڑھتے ہی دل میں اترتے جاتے اور اوپر سے دیو ہیکل دیوسائی کے میدان کی تصویریں واللہ لگ رہا ہے کہ جیسے یہ ہی جنت ہے۔ مالک قدرت نے ہمارے شمالی علاقہ جات کو یہ حسن و نور بخشا ہے کہ تصویر میں بھی دیکھ کر میری آنکھیں چندھیا رہی ہیں۔ مالک آپ کو کامیابیاں دیں اور پل دو پل اس کریم حسن کی ہماری آنکھوں کو آپ کی بدولت زیارت نصیب ہوتی رہے۔ واہ مرشد کیا کہنے الفاظ نہیں ہیں میرے پاس آپ کی اس شاہکار تحریر کی زینت بیان کرنے کیلئے۔
ملک راشد یعقوب Apr 25, 2015 05:46pm
اس کی تعریف کے لئے میرے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں۔ بس ایک بات کہہ سکتا ہوں۔ تبارک اللہ احسن الخالقین
Nomaan Asim Apr 27, 2015 12:35pm
unbelievable stunning
shahbaz Apr 27, 2015 10:34pm
Un logon k liye jo ps editing per tanqeed kertey hain. Mere bhai pehli baat to yeh Allah ki takhleeq ki hui aankh ka muqabla duniya ka koi lense nahi ker sakta. Yahi wajah hai k jo manzar rung chamak saya aankh dekhti hain woh pics main nahi aapata. Is liyeediting kerni perti hai
Kashif Apr 29, 2015 12:40am
Bohat aala sir, your writing is as great as your photography :)
غوری Apr 29, 2015 12:33pm
:)
Ghulam Murtaza Apr 29, 2015 11:09pm
Dear Syed Mehdi Bukhari, amazing pictures that your visit was in almost winter of Deosai but i visited in July, the colors are very different of Deosai you are suggested to visit in that session
جلال May 30, 2015 05:11pm
hi , i'm from iran .. so nice .. thanks
Aadil Jadoon Jun 04, 2015 04:59pm
outstanding this the word
Hamid Abbasi Jun 09, 2015 09:05pm
Great work Dost .MASHA ALLAH
Imran Shah Jun 26, 2015 01:41pm
بہت خوب .. بہت ہی خوب اور عمدہ کام کیا ہے آپ نے ..... آپ نے میرے دل میں ان ساری جگہوں پر جانے کی خواہش کو مزید بھڑکا دیا ہے ... الله پاک آپ کو ..میرے پیارے وطن کو ... یہاں سیر کے لیے جانیوالوں کو ... اور اس وطن کی سرحدوں کی نگرانی کرنیوالوں کی حفاظت فرماتے.......اور ہمارے وطن کے حکمرانوں کو اتنی بصیرت دے ... کہ اس جنّت کے ٹکڑے کو وہ اپنے ملک کے لیے فائدہ مند بنا سکیں .....
Tehmina Jul 03, 2015 04:54am
آپکی تحریر اور آپکی فوٹوگرافی ایسے سحر میں جکڑتی ہے کہ انسان گردوپیش سے مکمل غافل ہو جاتا ہے. ایسے منظر کشی کہ محسوس ہوتا ہے جیسے ہم بھی لکھاری کے ساتھ وہیں کہیں موجود ہیں اور ان سب مناظر کا حصہ ہیں. زبردست.
Hajjrah Farooq Sep 29, 2015 11:17am
Basti bhi, Samandar Bhi, Bayabaan Bhi Mera Hai, Aankhain Bhi Meri, Khawab-e-Pareshaan Bhi Mera Hai..!!
Hajjrah Farooq Sep 29, 2015 11:22am
Khoobsurat Alfaaz, Khoobsurat Tasaawir, Khoobsurat Pakistan
Abid Feb 21, 2016 07:08am
تصویر کشی کے ساتھ ساتھ لفظ کشی بھی خوب ھے۔ سلامت رھیں
M.A.RAZA Jul 08, 2016 12:42pm
Fintasting ,interesting ,dramatically ,full of fear & Enjoyment ,no more comments on your birrilient suttrugle of your unbelievable tour .may Allah bless u & your achievements forever . m a Raza . Gujranwala
Polaris Aug 20, 2021 01:30am
Another beautiful travelogue by Bukhari Saheb. Hopefully, someday people living in these beautiful areas will also have a safe and happy life.
ھدایت خٹک Aug 20, 2021 07:28am
قدرت آپ کی محنت کا انعام آپ کے حوالے کرنے سے پہلے اپنی پوری قیمت وصول کرتی ہے..واہ شاہ جی واہ
سعلیم Aug 20, 2021 10:16am
گاڈی میں کونسا ٹیپ ریکارڈر ہوتا ہے،،
Abdul Rasheed Aug 20, 2021 11:34am
Awesome pictures and writing and i feel like that i am accompanying you there keep writing these wonderful blogs,
Farooq Aug 20, 2021 02:28pm
Bohat khoob mazboon....
Liaqat Ali Aug 20, 2021 09:40pm
Mn ne is area mn 2 yrs guzare. Lkn yeah tehreer parh kr bohut maza aaya. Bohut umda aur malomaati tehreer Hy. Tehreer mn rawani Hy. Kahen bhi boriat ka ihsaas ni hua.
Niaz Ahmed Aug 21, 2021 01:59pm
One of best travelogue i ever read. Each word is a jewel and each photo is unique. Best regards for your passionate effort and the happiness it gives to readers. I will appreciate if you email me your other travelogues
Syed Mahmood Alam Oct 04, 2021 12:18pm
Syed Mehdi Bukhari is not only a veteran photographer but a good writer also, My goodwishes to him in his life.