عہدِ حاضر میں جدید اردو غزل کے والی

اپ ڈیٹ 20 جولائ 2015

ای میل

دائیں سے بائیں: سلیم احمد، انور شعور، صابر ظفر۔
دائیں سے بائیں: سلیم احمد، انور شعور، صابر ظفر۔

صابر ظفر عہد حاضر کے ایک اہم غزل گو شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں دو مختلف جہتیں ہیں۔ روایتی غزل ان کا بنیادی حوالہ ہے اور گیت نگاری میں بھی انہیں یدِ طولیٰ حاصل ہے۔ کراچی سے 2013 میں صابر ظفر کی کلیات کا حصہ اول ”مذہبِ عشق“ رنگ ادب پبلیکیشنز نے شائع کیا۔ اس کلیات میں ان کے پہلے 10 مجموعہ ہائے کلام کو یکجا کیا گیا جن کے نام ابتداء، دھواں اور پھول، پاتال، دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے، دکھوں کی چادر، بارہ دری میں شام، اک تری یاد رہ گئی باقی، عشق میں روگ ہزار، بے آہٹ چلی آتی ہے موت، اور چین ایک پل نہیں، ہیں۔ صابر ظفر کی یہ کلیات اپنے اندر بہت سے موضوعات سموئے ہوئے ہیں۔ دُکھ، انتظار، درد، لہو، ہجر، پیاس، صحرا، سمندر، قفس، نیند، عشق کے موسم اور وحشت کے تماشے جیسے موضوعات ان کی شاعری میں پوری طرح منعکس ہیں۔

یہ کلیات 800 صفحات پر مشتمل ہے، اس میں 497 غزلیں، 77 متفرق اشعار شامل ہیں۔ اس کلیات میں 1974 سے 2000 تک کے عرصے میں کی جانے والی شاعری شامل کی گئی ہے۔ صابر ظفر نے اپنا ایک مجموعہ کلام ”بے آہٹ چلی آتی ہے موت“ اپنے 22 سالہ بیٹے شاہد مظفر کے نام کیا، جسے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا اور پھر اُس کی لاش نہر میں بہا دی گئی۔ کچھ غزلیں اپنے شاعر دوست عبیداللہ علیم کی یاد میں لکھی ہیں۔ ان کی شاعری میں بابا بلھے شاہ کی شاعری سے اکتساب بھی ملتا ہے، جبکہ مرزا غالب، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی اور احمد فراز کی شاعری کی جھلک بھی موجود ہے۔ اکثر مقامات پر ان شعراء کی شاعری سے ایک تعلق محسوس ہوتا ہے، کہیں جواب غزل بھی ملتی ہے۔

صابر ظفر حساس دل اور سادہ طبیعت کے مالک ہیں، ان کی غزلیں غلام علی، منی بیگم، نیرہ نور، گلشن آراء سید نے گائیں۔ گیت گانے والے گلوکاروں میں نازیہ حسن، زوہیب حسن، محمد علی شہکی، سجاد علی، شہزاد رائے، نجم شیراز، حدیقہ کیانی، فاخر، راحت فتح علی خان، شفقت امانت علی خان، وقار علی اور دیگر شامل ہیں۔ صابر ظفر کے لکھے ہوئے درجنوں گیت پاکستانی ڈراموں کے ٹائٹل سونگ بن چکے ہیں، جنہیں مقبولیت ملی، ان میں سرفہرست ”میری ذات ذرہ بے نشاں“ ہے۔ دو قومی گیتوں کو بھی بہت شہرت ملی، پہلا ”ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار“ تھا، جو 1996 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ ہارنے پر مقبول ہوا۔ دوسرا ہالی وڈ کی فلم ’جناح“ کا ٹائٹل سونگ تھا۔

صابر ظفر غزل کی روایت کو مضبوط کرنے والے عہد حاضر کے شعراء میں ایک نمایاں شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں زندگی اپنی تلخ حقیقتوں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ ان کے یہ چند اشعار اس بات کی گواہی ہیں۔

میں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں

جہاں میرے سواکوئی نہیں ہے

۔۔۔۔۔

آوارگی شناس نہ تھا دست کوزہ گر

شاید اسی لیے مری مٹی کو تر کیا

۔۔۔۔۔

چین اک پل نہیں

اور کوئی حل نہیں

کیا بشر کی بساط

آج ہے کل نہیں


انور شعور دور جدید کے معتبر شاعر ہیں۔ عام فہم اور سادہ شاعری کرنے کی وجہ سے ان کو سہلِ ممتنع کا شاعر سمجھا جانے لگا ہے۔ چھوٹی بحروں میں ان کے کئی ایک اشعار زبان زدِ عام ہیں۔ کراچی سے 2015 میں انور شعور کی ”کلیاتِ انور شعور“ شائع ہوئی، جس کو رنگ ادب پبلی کیشنز نے ہی شائع کیا۔ا س کلیات میں ان کے چار مجموعہ ہائے کلام اندوختہ، مشق سُخن، می رقصم اور دل کا کیا رنگ کروں شامل ہیں۔ انور شعور جدید غزل کے نمائندہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ قطعہ نگاری بھی ان کی شہرت کا ایک بنیادی حوالہ ہے۔ ان کی شاعری میں شریک موضوعات انتہائی حساس نوعیت کے ہیں، جو انسان کے داخلی اور خارجی معاملات سے مکالمہ کرتے ہیں۔ رومانویت اور جمالیات کے نقوش ان کی شاعری میں واضح طور پر محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ آدمی، طلسم، انتظار، دھوکا، جستجو، شراب، شام، رات، غم، تلاش، زہر، صحبت، ہمدم، زنداں، صیاد، بدن، حیرت، سفر، مشقت جیسے موضوعات کی گہرائی سے ان کی شاعری لبریز ہے۔

یہ کلیات 912 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں 526 غزلیں اور 7 متفرق اشعار شامل ہیں۔ اس کلیات میں 1995 سے 2015 تک کے عرصے میں کی گئی شاعری کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری پر مختلف ادبی شخصیات نے اظہار خیال بھی کیا، جن میں شکیل عادل زادہ، پروفیسر سحر انصاری، مشفق خواجہ، احمد ندیم قاسمی، قمر جمیل، احمد جاوید، محمود واجد، ڈاکٹر اسلم فرخی، جمیل الدین عالی، شاہ محمد مری، ظفر اقبال، فاطمہ حسن اور شاعر علی شاعر شامل ہیں۔ میر تقی میر اور ناصر کاظمی کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ پڑھنے والوں پر انمٹ نقوش چھوڑتے ہیں۔

انور شعور دھیمے لہجے کے مالک ہیں، ان کی شاعری میں مدہوشی کی کیفیت اپنی سرمستی سے مہک رہی ہوتی ہے۔ غزل کے رومان پرور شاعر ہونے کے باوجود ان کی ایک جداگانہ شناخت قطعہ نگاری بھی ہے۔ زندگی کے روزمرہ کے موضوعات کو ایک قطعہ میں سمو دینے کا ہنر انہیں خوب خوب آتا ہے۔ یہ سماج اور شعر کے درمیان ایک مستند مقام پر فائز ہیں، یہ مرتبہ ہر ایک شاعر کے حصے میں نہیں آتا، لیکن انور شعور نے اپنی لگن اور سچائی سے اس کٹھن منزل کو حاصل کیا ہے۔ ان کے چھوٹی بحروں کے اشعار بہت مقبول ہیں، یہ اپنی ذات کی طرح شاعری میں بھی کھلی کتاب کی مانند ہیں۔ ان کی کلیات سے چند منتخب اشعار

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں

اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں

۔۔۔۔۔

تمہارا رِند پیاسا، یاد رکھنا

تمہاری میزبانی میں رہا ہے

۔۔۔۔۔

صاف گوئی صفت نہیں کوئی

ہم سے ہر شخص روٹھ جاتا ہے

روز آتا ہے قرض خوا ہ میرا

اور دروازہ کوٹ جاتا ہے


سلیم احمد اردو شاعری کے منظرنامے پر کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، ان کا بنیادی حوالہ غزل گو شاعر کا ہے، قطعہ اور نظم کی اصناف میں بھی انہوں نے طبع آزمائی کی۔ فلموں کی کہانیاں اور ریڈیو کے لیے ڈرامے بھی لکھے۔ ادبی تنقید نگار کی حیثیت سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ کراچی سے 2015 میں ”کلیاتِ سلیم احمد“ شائع ہوئی، جس کا خصوصی اہتمام رنگ ادب پبلیکیشنز نے کیا۔ اس کلیات میں ان کے چاروں مجموعہ ہائے کلام چراغِ نیم شب، اکائی، مشرق اور بیاض شامل ہیں۔ سلیم احمد نے غزل، نظم اور قطعہ نگاری کو مشق سخن بنایا، مگر انہیں تنقیدی ہنر سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کی شاعری میں دلِ عاشق کے ساتھ ساتھ غم زمانہ بھی موجود ہے۔ ادبی ناقد اور فلسفے سے گہری رغبت ہونے کی وجہ سے یہ پہلو بھی تخلیق میں در آئے ہیں۔ ان کی شاعری میں کلیدی موضوعات میں ستارہ، پرندے، خواب، شفق، نشاط، دُکھ، آنسو، محبت، آنکھیں، لکیریں، دشت، خاک، پرسش، قرب، سانحہ، مشرق، حسن، ہجر، خوشبو اور دیگر موضوعات شامل ہیں۔

یہ کلیات بھی 912 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں 243 غزلیں، 58 نظمیں، 96 قطعات، 40 متفرق اشعار، 13 نثری پارے اور 2 ڈرامے شامل ہیں۔ سلیم احمد کی شاعری پر جن شخصیات نے اظہار خیال کیا، ان میں ریاض فرشوری، ڈاکٹر جمیل جالبی، عزیز حامد مدنی، شمیم احمد، سراج منیر، جاذب قریشی اور اکرام الحق شوق شامل ہیں۔ سلیم احمد کا شمار ایسے شعرا میں ہوتا ہے، جنہوں نے شاعری میں تصوف اور فلسفے کی آمیزش سے اپنا نیا رنگ تشکیل دیا۔ ان کی نظموں میں مشرق اور مغرب کے معاملات کی جس طرح عکاسی ہوتی ہے، اس عالمگیر سوچ کے منفرد شاعر سلیم احمد ہی ہوسکتے تھے۔ انہوں نے جس طرح شاعری کی مختلف اصناف سخن کے ساتھ انصاف کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کی نظم "مشرق ہار گیا" ایک تاریخی حیثیت کی نظم ہے، جس کو اردو شاعری کے منظرنامے پر کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ سلیم احمد کی شاعری کے چند نمونے ملاحظہ کیجیے۔

خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں

یہ کیسے لوگ ہیں جن کو گھروں سے ڈرنہیں لگتا

۔۔۔۔۔

رات بھر پرچھائیوں سے جنگ کی

میرا دشمن ایک مٹی کا دیا

۔۔۔۔۔

تم کو کیا یاد کبھی آتا ہے

شام کو چائے پیا کرتے تھے

تھا کبھی ذائقہ زندہ اپنا

ایک ایک گھونٹ جیا کرتے تھے

اردو شاعری کے تینوں جدید شعرا کی کلیات چھاپنے پر رنگ ادب پبلیکیشنز کراچی کو ماننا پڑے گا۔ اگر واقعی کوئی ادارہ کام کرنے کی ٹھان لے، تو اس کی اٹھان ایسی ہی ہوا کرتی ہے۔ جدید عہد غزل کے ان تینوں شعرا کی کلیات شائع کرنے پر ان کے ناشر شاعر علی شاعر کی ہمت لائق تحسین ہے۔ اسی ادارے سے شائع ہونے والے دیگر شعرا میں قیصر نجفی، اعجاز رحمانی، رفیع الدین راز، فضا اعظمی، امیرالاسلام ہاشمی، عنایت علی خان اور دیگر کی کلیات شامل ہیں۔