سیلاب زدہ چترال میں 31 ہلاکتیں، ریسکیو سرگرمیاں تیز

اپ ڈیٹ 27 جولائ 2015

ای میل

۔ — اے پی
۔ — اے پی

چترال: تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ چترال میں بڑٖے پیمانے پر ریسکیو اور ریلیف کوششیں جاری ہیں۔

چترال میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ دس دنوں میں 31 افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں عمارتیں بہہ چکی ہیں۔

فوجی ہیلی کاپٹر سیلاب سے متاثرہ دیہات میں لوگوں کی مدد کیلئے اپنی پروازیں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ پھنسے ہوئے متاثرین کیلئے عارضی پناہ گاہیں اور خوراک کے بندوبست میں مصروف ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق،چترال میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اتوار کو مزید 70 مکانات زمین بوس ہو گئے۔

چترال میں اب تک 300 مکانات، 25 مساجد، پل، تعلیمی ادارے سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں۔

کیلاش وادی اور گانچی اب بھی ملک کے باقی حصوں سے کٹے ہوئے ہیں اور تباہ حال رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام بدستور جاری ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر چترال میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیوں کو تیز کر دیا گیا ہے اور وفاقی حکومت نے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تیز تر بحالی اور مرمت کے لئے فرنٹیئر ورک آر گنائزیشن کی خدمات خیبرپختونخوا حکومت کے حوالہ کی ہیں۔

وزیراعظم نے نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی پریپیرڈنس نیٹ ورک ( این ایچ ای پی آراین) کو بھی ہدایت کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں طبی ٹیموں میں اضافہ کیا جائے کیونکہ متاثرہ علاقوں سے مزید پانچ اموات کی اطلاعات ملی ہیں جس سے اموات کی تعداد 31 تک جا پہنچی ہے۔