یہ آخری اوور ہے۔ اسٹیڈیم میں جذبات اپنے عروج پر ہیں۔ کرس گیل اسٹرائیک پر ہیں جبکہ گیند محمد عامر کے ہاتھ میں ہے جو میچ کی آخری بال کروانے کے لیے تیار ہیں۔

میں نے ادھر ادھر نظریں گھمائیں تو دیکھا کہ پورا قذافی اسٹیڈیم اپنے پیروں پر کھڑا ہے؛ ہاتھ فضا میں بلند ہیں۔ آخری بال پر پانچ رنز درکار ہیں۔ کیا فتح لاہور قلندرز کے ہاتھ میں آئے گی یا کراچی کنگز کو نصیب ہوگی؟

میں دعا کرتی ہوں کہ کاش لاہور جیت جائے اور میرا دل چاہتا ہے کہ اسٹیڈیم میں موجود باقی ہزاروں لوگ بھی یہی دعا کر رہے ہوں۔

عامر آخری بال کرواتے ہیں۔ گیند کرس گیل کے بلے کو چھوتی ہے اور ایک ہلکی سی آواز آتی ہے۔

پھر مجھے ایک ہلکی اور ناخوشگوار آواز آتی ہے، ایک ایسی آواز جسے میں پہچانتی ہوں مگر پہچاننا نہیں چاہتی۔ میں ادھر ادھر دیکھتی ہوں کہ گیند کہاں گئی، مگر وہ آواز تیز تر ہوتی جا رہی اور مجھے کچھ سوچنے نہیں دیتی۔

میری آنکھ کھلتی ہے تو میں خود کو اپنے بیڈروم میں پاتی ہوں۔ کلاس کے لیے دیر ہورہی ہوتی ہے لہٰذا میں جلدی جلدی تیار ہو کر یونیورسٹی کے لیے نکل جاتی ہوں۔


پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) آج کل ہر جگہ خبروں میں ہے۔ کئی سالوں تک زیرِ التوا رہنے کے بعد اب لگتا ہے کہ پاکستان کی اپنی ٹی 20 لیگ آخرکار حقیقت کا روپ دھار رہی ہے۔ جب پہلی بار 2007 میں یہ خیال پیش کیا گیا تھا، تب سے کرکٹ شائقین اس کو حتمی روپ میں دیکھنا چاہتے تھے، اور اس کے لیے بے تاب تھے۔

اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہو رہی ہیں۔

پاکستان سپر لیگ اگلے سال فروری 4 سے 23 تک کھیلا جائے گا۔ کئی مقامات کا بغور جائزہ لینے کے بعد بورڈ نے افتتاحی سیشن کے لیے دبئی اور شارجہ کا انتخاب کیا۔

کرس گیل، شین واٹسن، بریٹ لی، کیون پیٹرسن اور دیگر کئی کھلاڑی اسکواڈز میں شامل ہیں جبکہ مکی آرتھر، مشتاق احمد اور پیڈی اپٹن سمیت کئی مایہ ناز کھلاڑی کوچنگ پینل میں ہیں۔

پڑھیے: پی ایس ایل نیلامی: 308 کھلاڑی پانچ کیٹیگریز میں تقسیم

پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن میں پانچ ٹیمیں کراچی کنگز، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کھیلیں گی۔ یوں تو کراچی اور اسلام آباد فرنچائزز مزید تخلیقی نام رکھ سکتی تھیں، مگر پھر بھی ان شہروں کے رہائشی اپنی اپنی ٹیموں کے لیے پرجوش ہیں۔

ہر زمرے میں کھلاڑیوں کا معاوضہ اتنا ہوگا:

  • پلاٹینم 140,000 ڈالر

  • ڈائمنڈ 70,000 ڈالر

  • گولڈ 50,000 ڈالر

کہا جا رہا ہے کہ سلور کیٹیگری میں موجود جونیئر کھلاڑی 25,000 ڈالر تک کمائیں گے، جبکہ ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی کیٹیگری 'ایمرجنگ' کے کھلاڑی 10,000 ڈالر تک کمائیں گے۔

یہ ان مقامی کھلاڑیوں کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ہوگا جو صرف ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر اتنا معاوضہ حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ مالیاتی تحریک پاکستان بھر کے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزا ہوگی جس سے وہ یہ کھیل زیادہ پروفیشنل انداز میں کھیل سکیں گے۔

اگر کھلاڑیوں کے لیے اچھا معاوضہ یقینی بنایا جائے تو بہت سے جرائم جیسے سٹے بازی اور میچ فکسنگ کا راستہ روکا جا سکتا ہے، مگر یہ بات ابھی زیرِ بحث ہے۔

لیکن پھر بھی پی ایس ایل مجموعی طور پر جونیئر کھلاڑیوں کو ایک اچھے پیکج کی پیشکش کر رہا ہے۔ کھلاڑیوں کے لیے مالی فوائد کے علاوہ کرس گیل، شین واٹسن، کیون پیٹرسن، تلکراتنے دلشان، بریڈ ہیڈن اور دیگر کے ساتھ ڈریسنگ روم میں ہونا ان نوجوان کھلاڑیوں کو مستقبل کے لیے تیار کر سکتا ہے۔

کیونکہ پاکستان میں کئی سالوں سے بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیلی گئی ہے، اس لیے مایہ ناز بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ اور خلاف کھیلنا مقامی کھلاڑیوں کے ہنر کو نکھارنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

پڑھیے: ‘سپر لیگ مرحلہ وار پاکستان منتقل کریں گے’

اس کے علاوہ پی ایس ایل سے جونیئر کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، اور شاید اس سے ان میں پروفیشنل ازم بھی آئے، جس کی ہمیں بہت ضرورت ہے۔

پی ایس ایل کھلاڑیوں کو کھیل کے ماہرین سے خود سیکھنے کا موقع دے گا۔ اس میں مقامی اور بین الاقوامی ماہر کوچز پر مبنی ایک کوچنگ پینل ہے جو اس تین ہفتوں پر مشتمل ٹورنامنٹ کے لیے کھلاڑیوں کو تربیت دے گا۔

پیڈی اپٹن (جنوبی افریقا) بطورِ ہیڈ کوچ لاہور قلندرز کے ساتھ ہیں جبکہ معین خان کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ، اسلام آباد یونائیٹڈ نے آسٹریلیا کے ڈین جونز کی خدمات حاصل کی ہیں تو پشاور زلمی نے محمد اکرم کی، جبکہ جنوبی افریقا کے ہی مکی آرتھر کراچی کنگز کی کوچنگ کریں گے۔

ان تجربہ کار کوچز کی تربیت ان کھلاڑیوں کی تکنیک، کمیونکیشن، اور رویے میں زبردست نکھار لائے گی۔

جہاں ایسے کسی بھی ایونٹ کو ملک سے باہر منعقد کروانے کے اخراجات ہیں، وہیں اس کے مقام کی وجہ سے زبردست منافع کی بھی توقع ہے۔

میں جانتی ہوں کہ پی ایس ایل کا اپنی سرزمین پر نہ ہونا قابلِ افسوس ہے، مگر بورڈ اب کئی سالوں سے عرب امارات کو بطورِ ہوم گراؤنڈ استعمال کر رہا ہے۔ اور پی ایس ایل میں کتنے لوگ آئیں گے، یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔ عرب امارات برِصغیر کے کرکٹ شائقین سے بھرا ہوا ہے، اس لیے اگر آپ اسٹیڈیم بھی بھرا ہوا دیکھیں تو حیران مت ہوئیے گا۔

آفریدی کے پٹھان مداحوں سے لے کر کرس گیل کے مداحوں تک، ہر کوئی اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو کھیلتا دیکھنے کے لیے آئے گا۔

اس کے علاوہ فروری میں خلیجی ممالک کا موسم خوشگوار ہوتا ہے جس سے شائقین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ بورڈ ٹکٹس، اسپانسرشپ اور نشریاتی حقوق سے جو منافع حاصل کرے گا، اسے فرنچائزز میں تقسیم کرنے کے بعد ملک میں کرکٹ کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

بجائے اس کے کہ ملک بھر میں ٹرائل کیمپ لگا کر فاسٹ باؤلرز ڈھونڈے جائیں، اس پیسے کو مقامی طور پر تربیتی کیمپوں اور کلبز کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

کچھ حد تک یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ پی ایس ایل اس ملک میں نہیں کھیلا جائے گا جہاں سے اس کا تعلق ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ ملکی شائقین اپنے کھلاڑیوں کو اپنے سامنے کھیلتا دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں، تو یہ بات سبھی جانتے ہیں۔

پاکستان میں لیگ کروانے کی ذکا اشرف کی کوششوں اور امیدوں کے باوجود یہ بات شروع سے ہی قابلِ فہم تھی کہ ایسا ممکن نہیں ہوگا۔

مگر ہم اس بات پر شرط لگا سکتے ہیں کہ اگر لیگ تہلکہ مچانے میں کامیاب رہی، تو یہ بالآخر دو سے چار سالوں میں ملک واپس آئے گی۔ سب کچھ اب اس بات پر منحصر ہے کہ پی سی بی کتنے بہتر انداز میں ایونٹ کرواتا ہے، دنیا بھر کے لیے کشش پیدا کرتا ہے، پی ایس ایل برانڈ کی مارکیٹنگ کرتا ہے اور کسی بھی منفی تشہیر سے بچتا ہے۔

جانیے: پاکستان سپر لیگ کی کامیابی کیوں ضروری ہے؟

یہ کہا جا رہا ہے کہ فرنچائزز اگلے چار سالوں میں پانچ سے بڑھ کر آٹھ ہوجائیں گی، جس کا مطلب ہے کہ مزید کھلاڑی اور شراکت دار اس میں حصہ لیں گے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پی سی بی کتنا جلد لیگ کو ملک واپس لا سکتا ہے۔

شاید جلد ہی میں قذافی اسٹیڈیم والے اپنے خواب کو پورا ہوتے دیکھوں گی۔

گڈ لک پی سی بی۔

انگلش میں پڑھیں.