مردان : خودکش دھماکے میں 26 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 29 دسمبر 2015

ای میل

۔ — اے پی فوٹو
۔ — اے پی فوٹو

پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے دفتر پر خود کش حملے میں 26 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔

منگل کی صبح نادرا آفس کے باہر شناختی کارڈ بنوانے والوں کا رش تھا ، جب ایک خود کش حملہ آور نے اپنی موٹر سائیکل دفتر کے دروازے سے ٹکرا دی۔

صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے کم از کم 26 ہلاکتوں اور 50 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 11 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ بعض شدید زخمیوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ضلعی پولیس چیف فیصل شہزاد نے کہا کہ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا۔’بظاہر حملہ آور کا ہدف دفتر میں تقریباً 400 افراد پر مشتمل قطار تھی۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے میں 8 سے 10 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

ٹی وی فوٹیج میں نادرا آفس کی ایک گری ہوئی دیوار اور سڑک پر لوہے کے ٹکڑے دیکھے جا سکتے ہیں۔

عینی شاہد اور 29 سالہ زخمی مزدور ناصر خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ قطار میں کھڑے اپنی باری کے انتظار میں تھے کہ اچانک زوردار دھماکا ہوا اور وہ زمین پر گر پڑے۔

ناصر خان کے مطابق، فضا میں ہر طرف دھواں تھا اور وہ کچھ بھی دیکھنے سے قاصر تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدہ ہونے والے گروپ جماعت الحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

دوسری جانب، ٹی ٹی پی نے واقعہ کی مذمت کی۔ بی بی سی نے بھی طالبان کی جانب سے مذمت کی تصدیق کر دی۔

کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے بیان میں کہا ’عوامی مقامات پر دھماکوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں‘۔

وزیراعظم اور صدر کی مذمت

وزیراعظم نواز شریف اور صدر مملکت ممنون حسین نے مردان دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے ہمدری کا اظہار کیا۔

دوسری جانب وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی.

آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں