زندگی و موت کا فرق بننے والے حفاظتی نکات

اپ ڈیٹ 04 جنوری 2016

ای میل

چھوٹی عمر سے ہی بچوں کو آتشزدگی، ہنگامی حالات اور انٹرنیٹ سے متعلق حفاظتی اصولوں سے آگاہ کرنا چاہیے۔
چھوٹی عمر سے ہی بچوں کو آتشزدگی، ہنگامی حالات اور انٹرنیٹ سے متعلق حفاظتی اصولوں سے آگاہ کرنا چاہیے۔

بچوں کو مخصوص حفاظتی اقدامات کی تعلیم دینا نہ صرف زندگی اور موت میں فرق بن سکتا ہے بلکہ اس سے دیگر افراد کا تحفظ بھی ممکن ہوسکتا ہے۔

آتشزدگی سے تحفظ کے لیے:

اگر کپڑے آگ پکڑ لیں تو کیا کرنا چاہیے (رکنا، گرنا اور زمین پر لوٹنا)، یہ چیز بہت جلد یعنی تین سال کی عمر میں ہی سکھا دینی چاہیے۔

الارم کیسے بجانا چاہیے (چیخنا، ایمرجنسی نمبر پر فون، گھر والوں کو چوکنا کرنا)، یہ بچوں کے بولنے اور آلات استعمال کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر سکھایا جانا چاہیے۔

حکومتی ادارے جیسے فائر فائٹنگ کا محکمہ اور ریسکیو 1122 بہت کم فیس کے عوض یا اعزازی تربیت کی پیشکش کرتے ہیں۔ یہ ادارے اسکولوں کے ساتھ شراکت کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کرسکیں مگر یہ محلوں کی سطح کے سیشنز کا بھی انتظام کرتے ہیں۔

بنیادی ابتدائی طبی امداد کی تربیت تاکہ:

  • خود کے ساتھ گھر، اسکول، کھیل کے میدان اور دیگر جگہوں پر خود کو محفوظ رکھا جائے۔

  • سانس کی نالی میں غذا پھنس جانے پر (خاص طور پر تب جب تنہا ہوں) سینے پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ پھنسی ہوئی غذا باہر آ سکے۔

  • کسی ایسے کی مدد کی جا سکے جس کا خون بہہ رہا ہو۔

  • بے ہوش فرد کی مدد جو سانس لے رہا ہو۔

  • ہاتھ ٹوٹ جانے کی تکلیف میں مبتلا فرد کی مدد۔

اوپر دیے گئے نکات میں کسی عمر کا تعین ممکن نہیں بلکہ اس کا انحصار بچے کا کسی چیز کو شناخت کر کے اسے سمجھنے اور مناسب ردعمل دینے کی اہلیت پر ہے۔

ریسکیو 1122 اور اسی طرح کے ملک بھر میں قائم حکومتی ادارے اس طرح کی تربیت فراہم کرنے کے اہل ہیں۔ بڑے نجی ٹیچنگ ہسپتالوں میں بھی اس طرح کے سیشنز شیڈول ہونا معمول کا حصہ ہیں۔ ایسے نجی حفاظتی ادارے جو اداروں کے ساتھ کام کرتے ہیں وہ بھی اس طرح کے سیشنز مطالبے پر کرسکتے ہیں۔ ملک بھر میں گرلز گائیڈ اور بوائز اسکاﺅٹ ایسوسی ایشنز کی جانب سے اپنے اراکین کے لیے اس حوالے سے سیشنز کا انعقاد ہوتا ہے۔

روڈ سیفٹی جس میں ان باتوں پر توجہ مرکوز کی جائے:

  • سفر کے خطرات (گاڑی کی چھت کے بجائے اندر بیٹھیں. اس پر لٹکیں نہیں)۔

  • ٹریفک قوانین (سگنلز، سڑکوں کو عبور کرنا، بالائی گزرگاہوں کا استعمال)۔

  • یہ تربیت خاص طور پر ان بچوں کے لیے ضروری ہے جو کسی بالغ شخص کے بغیر روزانہ سفر کرتے ہیں۔

حکومتی ادارے جیسے موٹروے پولیس، ٹریفک پولیس، نیشنل ہائی وے اتھارٹیز یہاں تک کہ ریسکیو 1122 کے پاس حفاظتی پروگرامز اور ٹیمیں ہیں جو اسکولوں اور محلوں میں اکثر جا کر یہ تربیت فراہم کرتی ہیں۔ نجی شعبے میں ایسے ادارے ہیں جو سڑکوں پر حفاظت سے متعلق عام حفاظتی تربیت فراہم کرتے ہیں۔

آن لائن تحفظ

آج کے بچے ٹیکنالوجی کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں مگر ان کی آن لائن سرگرمیوں کے دوران غیر متوقع خطرات کو اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے، یہ وہ مسئلہ ہے جس سے اکثر بالغ افراد بھی آگاہ نہیں۔

آن لائن تحفظ کے لیے ان امور پر توجہ مرکوز کریں:

  • پاس ورڈ کا تحفظ۔

  • اجنبیوں سے تعلقات سے گریز۔

  • ذاتی تفصیلات کو شیئر کرنے سے گریز (کہاں رہتے ہیں، کہاں جانا ہے، وغیرہ وغیرہ)۔

  • انٹرنیٹ پر ہراساں کرنے یا ہونے دونوں سے بچانا.

آن لائن تحفظ کی تعلیم دینے کے لیے بہترین عمر وہ ہے جب کوئی بچہ آن لائن ہوجائے۔ یاد رکھیں کہ اگر آپ کا بچہ موبائل فون کو گیم کھیلنے کے لیے استعمال کر رہا ہو تو آج کے اسمارٹ فونز کی دنیا میں ایک بچہ حادثاتی طور پر بھی کوئی ایپ خرید سکتا ہے۔

آن لائن جا کر آن لائن تحفظ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانیں۔ ایسے اہم الفاظ کو سرچ کریں جو کسی مخصوص ایپ کے تحفظ کے بارے میں ہوں، کسی بھی سوشل میڈیا ایپ کے سیکیورٹی فیچرز میں جائیں اور وہاں ویڈیو گائیڈز کو براﺅز کر کے اس بارے میں جانیں۔

اہم بات: ہوسکے تو تربیت کے دوران اپنے بچے کا ساتھ شامل ہو۔ تربیت کے دوران مختلف عناصر پر بچے کے ردعمل سے آپ کو اندازہ ہوسکے گا کہ کس چیز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہوسکے تو بچے کے لیے ایسی اصطلاح کے مفہوم سمجھانے کے لیے ترجمہ کریں جو عام طور پر استعمال ہوتی ہوں۔ آخر میں انہیں اس وقت تفریح اور انعام دیں جب وہ روزمرہ کے معمولات مں ٹھیک کام کریں جس سے ان کے اندر ہمیشہ ایسا کرنے کا جذبہ پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔


شادیوں کے سیزن کے دوران اہم سیکیورٹی امور کون سے ہیں؟

شادیاں بشمول دیگر تہوار اکثر جرائم پیشہ افراد کا نشانہ بنتے ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے آسان ہدف ہوتے ہیں۔ جرائم پیشہ افراد ضروری نہیں اسلحے کے ساتھ ہی آئیں، ایسا اکثر سننے میں آتا ہے کہ وہ مہمانوں یا ایونٹ کی انتظامیہ کے معاون عملے کے بھیس میں بھی آتے ہیں۔

گھر پر:

  • جب بڑی تعداد میں لوگ گھر میں ہوں تو چھوٹی ڈیوائسز، زیورات اور نقدی چوروں کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ مہمانوں کی آمد سے قبل گھر کو چیک کریں اور تمام ایسی اشیاء کو محفوظ بنائیں جن پر آپ کی توجہ غائب ہونے تک نہیں جاتی۔

  • اگر آپ سجاوٹی روشنیوں اور تیز آواز میں موسیقی چلانے پر غور کر رہے ہیں تو آپ کو زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ جرائم پیشہ افراد بھی اس کے منتظر ہوتے ہیں۔ ایک سیکیورٹی گارڈ رکھنے پر غور کریں. یاد رکھیں کہ تقریب کے دن زیادہ تر پڑوسی آپ کے گھر ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں کچھ وقت تک متعدد گھر خالی ہوسکتے ہیں۔

  • مرکزی تقریب کے قریب آنے پر زیورات اور نقدی کے امور کو دیگر افراد کی موجودگی میں سرانجام دینے سے گریز کریں، خاص طور پر معاون عملے کے سامنے۔ یہ ایک موقع اور ارادے کو جنم دے سکتا ہے جس سے بچنا مشکل ہوسکتا ہے۔

راستے میں:

  • اگر آپ نے قیمتی زیورات پہننے ہیں تو انہیں شادی کے مقام پر جاکر پہننے کو ترجیح دیں۔

  • اگر آپ سجی سجائی گاڑی میں سفر کر رہے ہیں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے ساتھ کم سے کم قیمتی اشیاء تقریب کے مقام کے جانب جاتے یا واپسی پر ہوں۔ کسی دوسرے بااعتماد شخص کو وہ قیمتی اشیاء دیں جو کسی عام گاڑی پر سفر کر رہا ہو۔

  • جب گھر تحائف لے کر جا رہے ہوں تو انہیں کسی اور جگہ جسے تقریبات کے انتظامات (سجاوٹی روشنیاں، ٹینٹس وغیرہ) کی وجہ سے نہ پہچانا جا سکتا ہو، پر رکھنے کے لیے بااعتماد شخص کے حوالے کرنے کے آپشن پر غور کریں۔

تقریب میں:

  • اپنے تحائف کو محفوظ کریں؛ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پورے وقت کم از کم دو افراد ان پر کڑی نگاہ رکھیں۔

  • تحائف کو کسی گاڑی سے اس وقت تک باہر نہ نکالیں جب تک آپ انہیں گھر منتقل کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔

  • خوشی میں ہوائی فائرنگ سے گریز کریں کیونکہ یہ غیر قانونی اور انتہائی خطرناک ہے۔

  • اگر رات کو کسی ہوٹل میں رہنا پڑے تو اپنی قیمتی اشیاء کو تجوری میں رکھیں۔

یہ مضمون ڈان سنڈے امیجز میں 27 دسمبر 2015 کو شائع ہوا.


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔