وزیرستان : نو تعمیر شدہ سرکاری اسکول تباہ

20 فروری 2016

پشاور : کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے 'سجنا گروپ' نے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی ایجنسی جنوبی وزیرستان میں ایک نو تعمیر شدہ سرکاری اسکول کو دھماکے سے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے.

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سجنا گروپ کے ترجمان اعظم طارق نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے جنوبی وزیرستان میں ایک اسکول کو دھماکے سے اڑایا، واقعے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی جبکہ سائٹ پر کام کرنے والے 18 مزدوروں کو بھی اغواء کرلیا گیا، جنھیں بعد میں رہا کردیا گیا.

رائٹرز کے مطابق اعظم طارق نے مزید حملوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئےکہا، 'ہم نے اسکول کو دھماکے سے اڑا دیا، کیونکہ اسے حکومت نے تعمیر کیا تھا'.

دوسری جانب جنوبی وزیرستان میں حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جمعے کی رات تحصیل تیارزہ میں ایک سرکاری اسکول کے لڑکیوں کے حصے کو دھماکے سے اڑایا گیا، جس کے نتیجے میں اسکول کی تعمیر کے لیے سائٹ پر موجود ہیوی مشینری کو بھی نقصان پہنچا.

یاد رہے کہ محسود طالبان کے طاقت ور خان سید سجنا گروپ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرکے خالد محسود عرف خان سید سجنا کو اپنا سربراہ مقرر کیا تھا.

فاٹا اور خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں کو دہشت گردوں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

گذشتہ ماہ بھی ضلع چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے.

اس سے قبل 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے نتیجے میں 130 بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے سے قبل اور بعد میں بھی ملک بھر میں اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔

آرمی پبلک اسکول پر حملے سے 2 ماہ قبل پشاور میں ہی ایک اسکول پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا، یکم اکتوبر 2014 کو بم حملے میں اسکول کی خاتون ٹیچر ہلاک اور 2 بچے زخمی ہوئے تھے۔

پاک افغان سرحد پر واقع کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پارا چنار میں 18 نومبر 2014 کو ایک اسکول وین کو بم سے نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں گاڑی کا ڈرائیور اور ایک بچہ ہلاک ہوا تھا۔

29 اکتوبر 2015 کو خیبر پختونخوا میں چارسدہ میں شبقدر کے علاقے میں 2 سرکاری اسکولوں کے سامنے نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، ان اسکولوں میں لڑکیوں کا اسکول بھی شامل تھا، تاہم اس فائرنگ سے کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا۔

3 نومبر 2015 کو بھی خیبر پختونخوا میں ہی نوشہرہ میں 3 حملہ آوروں نے ایک گرلز اسکول کے باہر ہوائی فائرنگ کی تھی، خیبر پختونخوا میں اسکولوں کے باہر فائرنگ کرنے والے افراد کو پولیس گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

تبصرے (2) بند ہیں

solani Feb 20, 2016 07:45pm
Dehsaht gar or koi kaam nahi kar sakte sivae school ko tabah karne ke. Ye log Pakistan ko Syria bana denge or lasho ki dher laga denge. Inhe khatm karna Pak Foji ka pehla farz hae.
Israr Muhammad Khan Yousafzai of Shewa Feb 21, 2016 12:18am
یہ قابل مزمت واقعہ ھوا ھے دھشتگرد پھر سے صف بندی کررہے ھیں حالانکہ دعوہ ھورہا ھے کہ ھم نے دھشتگردی کی کمر توڑ دی ھے انکا کمانڈ کنٹرول سسٹم تباہ کردیا گیا ھے لیکن اس طرح کے حملے دیکھ کر پریشانی ھوتی ھے کہ اللہ نہ کریں اپریشن ضرب غضب ناکام نہ ھوجائے