فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کیلئے سفارشات

اپ ڈیٹ 13 جون 2016

پشاور: فاٹا اصلاحات کمیٹی نے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لیے سیاسی، اتنظامی، عدالتی اور سیکیورٹی اصلاحات سمیت تعمیرنو اور بحالی پروگرام کی سفارشات پیش کردیں۔

مجوزہ سفارشات کے ڈرافٹ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹا کو 5 سال کے لیے خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

ڈرافٹ میں تحریر کیا گیا ہے کہ فاٹا کے عوام نے گزشتہ 30 سالوں میں جنگ اور بحران کے سوا کچھ نہیں دیکھا، فاٹا کے عوام اب امن و امان، خوشحالی اور شہری حقوق کے مستحق ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز اس کمیٹی کے سربراہ ہیں، جنھوں نے وزیراعظم نواز شریف کے برطانیہ سے واپس آنے کے بعد سفارشات پیش کیں۔

گزشہ سال وزیراعظم نوازشریف نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں مشیر برائے قومی سلامتی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ، وزیر قانون زاہد حامد اور وزیر سیفران ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبد القادر بلوچ شامل ہیں۔

کمیٹی کے اراکین نے فاٹا کا دورہ کرنے کے بعد قبائلی رہنماؤں سے ملاقات کی تھی جس میں قبائلی اور حکومتی نمائندوں نے مستقبل میں فاٹا میں نئی اصلاحات کو شامل کرنے کے بارے میں بات چیت کی تھی اور قومی سلامتی کے مشیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز سے معلومات بھی فراہم کی تھیں۔

ڈان کو مصدقہ ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ سفارشات کا مقصد فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنا ہے اور یہ واحد کارآمد آپشن ہے۔

سینئر سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ فوج فاٹا کے مستقبل کے بارے میں بہت فکر مند ہے اور اس نے ان اصلاحی سفارشات میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کسی نے ان سفارشات کی مخالفت نہیں کی، ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ اب فاٹا میں ترقی و خوشحالی آنی چاہیے، ہم سب صرف اس چیز پر غور کررہے ہیں کہ فاٹا میں تعمیر نو اور بحالی کے لیے کتنا وقت متعین کرسکتے ہیں، اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنی ہوگی۔

دوسری جانب سرتاج عزیز نے کمیٹی رپورٹ کے بارے میں کچھ کہنے اور بات چیت کرنے سے انکار کردیا۔

رپورٹ کے مطابق فاٹا کو اب تبدیلی کی ضرورت ہے، سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک دہائی سے جنگ وجدل کے بعد اب قبائلی علاقوں میں امن قائم کرنا چاہتی ہے، علاقائی سلامتی اور زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے شارٹ ٹرم اقدامات کرنے کے لیے سفارشات پیش نہیں کی گئی۔

فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی سفارشات پر عملدرآمد کے بارے میں بات چیت جاری ہے، فاٹا کے منتظمین کو علیحدہ انتظامی امور چلانے کے لیے مکمل اختیارات دیئے جائیں۔

ذرائع کے مطابق فاٹا میں ترقی و خوشحالی کے لیے ان سفارشات پر عملدرآمد ضروری ہے، کیونکہ فاٹا میں موجودہ انتظامی امور احسن طریقے سے نہیں چلائے جارہے۔

تعمیر نو اور بحالی

کمیٹی کے سفارشات کے مطابق 2016 کے اختتام تک بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کی واپسی اور 2017 سے قبل تعمیر نو کا کام مکمل کرنا ہے، اس ٹارگٹ کو مکمل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقتصادی وسائل اور تعاون کی ضرورت ہے۔

سماجی اقتصادی ترقی

فاٹا میں غربت اور بے روز گاری کی وجہ سے ملک کا یہ خطہ سب سے زیادہ پسماندہ اور غربت کا شکار ہے، سفارشات کے مطابق 2016 کے اختتام سے قبل خیبر پختونخوا کے گورنر، ماہرین اور حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو فاٹا کے لیے 10 سالہ ترقیاتی منصوبہ پیش کرے گی۔

10 سالہ ترقیاتی منصوبے کا مقصد فاٹا کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط، آپ پاشی، معدنی ترقی، مربوط صحت، تعلیم اور انڈسٹریل زون اور نوجوانوں کے تربیتی مراکز قائم کرنا ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبے کا مقصد پاکستان کے باقی تمام شہروں کی طرح فاٹا کو بھی خوشحال بنانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقامی اداروں کے ذریعے ترقیاتی منصوبے پر کام کیا جائے گا، اس حوالے سے نیشنل فنانس کمیشن سے کہا جائے گا کہ وہ 10 سالہ ترقیاتی منصوبے پر کام شروع کرنے کے لیے ایک سال (17-2016) میں 2 فیصد ( تقریبا 50 ارب روپے) مختص کرے۔

بلدیاتی انتخابات

فاٹا میں تعمیراتی مرحلہ مکمل ہونے کے تین ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ حکومت اور فاٹا کے عوام کے درمیان تعلقات میں بہتری آسکے، فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کا مقصد خطے میں سیاسی قانونی اور آئینی اصلاحات کے ذریعے حکومتی رٹ قائم کرنا ہے۔

قانونی اصلاحات

کمیٹی کے سفارشات کے مطابق فرنٹئیر کرائم ریگولیشن کا نام تبدیلی کرکے فاٹا ریگولیشن ایکٹ، 2016 کا نام رکھا جائے جس میں جرگہ سسٹم (سول اورکرمنل مسائل) کے تمام سیشن کو ختم کردیا جائے گا، تاکہ عدالت کی جانب سے قانون کے نفاذ اور رواج کے مطابق ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کونسل مقرر کیے جاسکیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعداد میں اضافہ

عدالت کے اختیارات کو وسیع کرنے کا مقصد آرٹیکل 247 میں ترمیم کرنا ہے تاکہ فاٹا کے عوام کو بنیادی اور شہری حقوق حاصل ہوسکیں۔

کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کام کرنے والے افسران، پولیس کے لیے یونیفارم متعارف کرانے، 10 ہزار نوجوان بھرتی کرنے اور پاک افغان بارڈر مینجمنٹ سیکیورٹی کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔

جائیداد کی خرید و فروخت کا ریکارڈ

کمیٹی نے فاٹا میں ترجیحی بنیادوں پر سول لاء اور سرمایہ کاری کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت کا ریکارڈ رکھنے کی تجویز پیش کی ہے، کمیٹی نے ان اصلاحات پر نظر رکھنے کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر، سلامتی کونسل کے مشیر، وزیر سیفران، وزیر قانون اور ایک پاک فوج کے نمائندے پر مشتمل اصلاحاتی کمیٹی بنانے کی تجویز دی ہے تاکہ کمیٹی وزیر اعظم کے ساتھ مل کر ان اصلاحات کا سہ ماہی جائزہ لے سکے۔

یہ خبر 13 جون 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

تبصرے (0) بند ہیں

KH Jun 13, 2016 12:23pm
It is best option to make FATA part of KPK for the prosperity of its locality.