جمعے پر مساجد آنے والوں میں منزلِ مقصود پر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے۔ لگتا ہے جیسے نمازیوں کی اکثریت پیزا ڈلیوری کرتے ہیں — تصویر اے ایف پی
جمعے پر مساجد آنے والوں میں منزلِ مقصود پر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے۔ لگتا ہے جیسے نمازیوں کی اکثریت پیزا ڈلیوری کرتے ہیں — تصویر اے ایف پی

اللہ کے نزدیک تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ حقوق اللہ سے زیادہ ضروری حقوق العباد ہیں۔ بڑوں کی عزت کرو اور چھوٹوں سے محبت سے پیش آؤ۔ جھوٹ، سود اور منافقت سے دور رہو۔

یہ وہ چند نصیحتیں ہیں جن سے ملتی جلتی نصیحتیں ہر جمعے کو ملک کی ہر جامعہ مسجد میں ہونے والے نماز جمعہ سے پہلے بیان کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بیشتر جامع مساجد کے مولانا حضرات حالات حاضرہ کو دیکھتے ہوئے اپنے اندر چھپا خفیہ تجزیہ کار بذریعہ لاؤڈ اسپیکر نمازیوں کے آگے پیش کرتے ہیں۔

یہ تجزیے خلیجی ریاستوں میں بدلتے سیاسی و لاثانی حالات سے لے کر امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے متعلق ہوتے ہیں، جس میں چند مولانا حضرات ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمان مخالف بیانات کو بنیاد بنا کر امریکا پر خوب تنقید بھی کرتے ہیں، جبکہ چند مولانا حضرات عورت دشمنی کی وجہ سے ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کی مخالفت کرتے ہیں۔

مولانا حضرات کی ذاتی پسند اور ناپسند کے ساتھ ساتھ ان کے حالات حاضرہ سے متعلق تجزیے کو ہم فراموش کر بھی دیں۔ مگر حیران کن طور پر مندرجہ بالا جو نصیحتیں ہر جمعے بیان کی جاتی ہیں، کیا ان کا کوئی اثر نماز جمعہ ادا کرنے والوں پر ہوتا ہے؟

کیا جمعے کے جمعے جامع مساجد کا رُخ کرنے والے جب واپس جاتے ہیں تو کیا وہ کچھ ایسا سیکھ کر جاتے ہیں جسے وہ اپنی عملی زندگی میں لاگو کرسکیں؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ باقی نمازوں کی نسبت نماز جمعہ میں نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اور تعداد کو دیکھتے ہوئے خصوصی انتظامات بھی کیے جاتے ہیں۔ خصوصی انتظامات میں نماز جمعہ ادا کرنے والوں پر مولانا حضرات کی نصیحتوں کے اثر کا اندازہ، نماز جمعہ ختم ہونے کے فوراً بعد مساجد کے خارجی راستوں پر ہونے والی دھکم پیل اور سیڑھیوں سے اترتے نمازیوں کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے، جو آگے چلنے والے نمازیوں کو بنا اشارہ دیے ہی اُوورٹیک کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔

مسجدوں میں داخل ہونے کے ساتھ جو پہلی مہم اکثر باوضو نمازیوں کے سر پر سوار ہوتی ہے وہ یہ کہ چپلوں کو کس محفوظ ٹھکانے پر رکھنا ہے تا کہ کسی 'چپل چور' کی نگاہوں سے قیمتی، دس بار سلوائی ہوئی چپل محفوظ رہے۔ اس کے بعد سروں کو پھلانگتے ہوئے پہلی صف تک پہنچنے کی جدوجہد کی جاتی ہے اور حضرت مولانا کو باغور سننے کے لیے وہ صاحب آگے آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔

ہاں مساجد میں چپل چوری ایک تلخ حقیقت ہے۔ لیکن اس طرح چپلوں کی حفاظت پر کمربستہ ہونا بھی تو ٹھیک نہیں۔ مگر ایسا نہیں کیا جائے تو نماز کی بسم اللہ سے صدق اللہ العظیم تک چپلیں ہی دماغ پر سوار رہتی ہیں۔

یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ پاکستان میں موجود لاکھوں مساجد میں صرف جمعے کے دن کم از کم مہینے میں 4 بار اور سال میں کم از کم 48 بار جمعے کے خطابات میں ایسی نصیحتیں دہائیوں سے سنائی جا رہی ہیں۔ مساجد کے منبر، محراب اور لاؤڈ اسپیکر کا استعمال مہینے کے چار جمعوں کے علاوہ دن میں پانچ بار اذان کے لیے اور نظریہ ضرورت کے تحت کیا جاتا ہے۔ مگر پھر بھی مساجد میں آنے والے اور بذریعہ لاؤڈ اسپیکر سننے والے نصیحتوں پر عمل نہیں کرتے۔

مثلاً صدیوں سے نمازِ جمعہ جاری ہے، لیکن نمازیوں کو اب بھی بتانا پڑتا ہے کہ پائنچے ٹخنوں سے اوپر کریں، صفوں میں کندھے سے کندھا ملائیں۔ موبائل فون آئے ہوئے 10 سال سے زیادہ ہوگئے لیکن اب بھی ان سے درخواست کرنی پڑتی ہے کہ نماز کے دوران موبائل فون بند کر دیں۔ کیا یہ چیزیں وقت کے ساتھ سمجھ نہیں آ جانی چاہیئں؟

مولانا صاحب کے جس بیان میں ایک دوسرے سے محبت، رواداری، اخلاقیات اور صادق و امین ہونے کا پیغام دیا جاتا ہے۔ اس بیان کو نمازیوں کی اکثریت ایسے دلچسپی سے سر ہلاتے ہوئے سُن رہے ہوتے ہیں کہ جیسے مسجد سے نکلتے ساتھ ہی اِن تمام نصیحتوں پر عمل کرنا شروع کر دیں گے۔

مگر بعد از نماز جمعہ اگر سڑکوں پر ٹریفک کو ہی دیکھ لیا جائے تو حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے۔ جو شخص جمعے کی نماز پڑھنے کے بعد اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل پر نکلتا ہے وہ فوراً ہی تمام نصیحتوں کو فراموش کرتے ہوئے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور غلط ڈرائیونگ کرنے والے کو گالیاں دینا شروع کردیتا ہے۔ بدلے میں ہفتے بعد جمعہ پڑھ کر سڑک پر آیا ہوا شخص بھی تمام نصیحتیں ہوا میں اڑاتا ہوا غصّہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔

ایک اور چیز جو جمعے کے جمعے مساجد میں آنے والوں میں مشترک ہوتی ہے وہ منزلِ مقصود پر پہنچنے کی جلدی ہے۔ ایسے لگ رہا ہوتا ہے کہ نمازیوں کی اکثریت پیزا ڈلیوری کرتے ہیں۔ جن کے لیٹ ہونے کی وجہ سے پیزا مفت میں دینا پڑے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مساجد میں دینی مسائل پر بات ہونی چاہیے اور ہوتی بھی ہے کیونکہ مسجد کا بنیادی کام بندوں اور اللہ کے درمیان تعلق قائم کرنا ہے۔ مگر مسجد کے منبر و لاؤڈ اسپیکر کو صحتمند معاشرتی علوم کا بھی ذریعہ بنایا جائے۔ مثلاً پولیو کے ٹیکے پلانے کی تلقین بھی ان لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے کی جانے چاہیے، جدید عصری علوم کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی جانی چاہیے۔

ہمارے معاشرے میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ مساجد کیوں ان معاملات پر لوگوں کی نفسیاتی تربیت نہیں کرتیں؟ جمعے کے خطبوں میں کیوں بڑے پیمانے پر یہ مسائل نہیں اٹھائے جاتے۔ پردے کی اہمیت پر تو بات کی جاتی ہے مگر مردوں کو نگاہیں نیچی کرنے کے حکم کے بارے میں شاذ و نادر ہی کوئی بات سننے میں آتی ہے۔

لہٰذا مولانا حضرات کو چاہیے کہ وہ دینی نصیحتوں کے علاوہ جمعے کے خطبات میں انسانی روّیوں پر بھی بات کریں۔ اگر روز مرّہ زندگی سے مثالیں دے کر وزیٹنگ مسلمانوں کو سمجھانے کی کوشش کریں تو شاید افاقہ ہو، کیونکہ مندرجہ بالا نصیحتیں سُننے کا ان پر کچھ اثر ہوتا تو لگتا نہیں۔

نمازیوں کو سمجھانے کی کوشش کریں کہ مسلمان تو آپ پیدا ہوتے ہی ہوگئے تھے، اب انسان بھی بن جائیں کیونکہ ایک اچھا انسان ہی اچھا مسلمان ہوسکتا ہے۔