حزب المجاہدین کے کشمیری کمانڈر کی ہلاکت پر پاکستان کی مذمت

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2016

ای میل

اسلام آباد: پاکستان نے کشمیری حریت پسند اور حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہندستانی فورسز کے ہاتھوں ’ماورائے عدالت قتل‘ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

برہان مظفر وانی کی دور زور قبل ہلاکت کے بعد ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں شدید احتجاج ہو رہا ہے، احتجاج کے دوران 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ہندوستانی فوج کے ہاتھوں 17کشمیری ہلاک
حزب المجاہدین کے 22 سالہ کمانڈر برہان مظفر وانی کو نوجوانوں میں بہت زیادہ شہرت حاصل تھی— فائل فوٹو
حزب المجاہدین کے 22 سالہ کمانڈر برہان مظفر وانی کو نوجوانوں میں بہت زیادہ شہرت حاصل تھی— فائل فوٹو

خیال رہے کہ برہان مظفر وانی حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر تھے، ہندوستانی فورسز کے مطابق ان 2 دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کو 2 دن پہلے جمعے کو کشمیر کے جنوب میں جنگل میں ایک گاؤں کوکیرنگ میں جھڑپ کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ کشمیری حریت رہنما برہان وانی سمیت دیگر کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل قابل مذمت ہے۔

کشمیر میں ہلاکتوں پر نفیس زکریا کا مزید کہنا تھا کہ ایسے واقعات کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جبکہ کشمیریوں کو ان حق خود ارادیت کے عزم سے متزلزل نہیں کیا جا سکتا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی فوج کی جانب سے کشمیری رہنماؤں کی گرفتاری اور ماورائے قتل باعث تشویش ہے، ہندوستان کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے باز رہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان حق ملنا چاہیے۔

وزیراعظم کی مزمت

وزیراعظم ہاوس اسلام آباد سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نواز شریف نے ہندوستانی فوج کے ہاتھوں نوجوان کشمیری حریت رہنما برہان وانی اور دیگر شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہندوستانی فوج اور پیرا ملٹری فورسز کشمیری شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کررہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جابرانہ حربوں سے کشمیری عوام کو حق خودارادیت کے مطالبے سے نہیں روکا جاسکتا۔

نواز شریف نے جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اپنے بیان میں کشمیری رہنماؤں کی نظر بندی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

کشمیریوں کی محرومی۔۔۔۔ عالی برادری کی ناکامی، خورشید شاہ

ڈان نیوز کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشیدشاہ نےاپنے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستانی مظالم کا نشانہ بننے والے نہتے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کشمیر کی آزادی کیلئے پیپلز پارٹی نے ہمیشہ بھر پور کردار ادا کیا۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کی حق خود ارادیت سے محرومی عالی برادری کی ناکامی ہے۔

انھوں نے جموں کشمیر کے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں کشمیر میں ہندوستانی ظلم و ستم کا فوری نوٹس لے۔

'کشمیری منتظر ہیں کہ اقوام متحدہ ان کو کب حق دلائے گا'

اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عرج پر ہیں اور کشمیر میں ہندوستانی فوج نہتے شہریوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔

انھوں نے کشمیر میں ہندوستانی فوجیوں کی فائرنگ سے نہتے کشمیری شہریوں کی ہلاکت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں ہندوستانی فوج نے نہتے کشمیریوں پر فائرنگ کی اور کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے بندوق کا بے دریغ استعمال کیا، جس میں 20 لوگ شہید اور 300 زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں : 21سالہ کشمیری کی ہندوستان مخالف ویڈیو

پرویز رشید نے جموں کشمیر کے حوالے سے عالمی برادری کی بے حسی کے حوالے سے کہا کہ کشمیری منتظر ہیں کہ عالمی برادری ان کے حق میں آواز کب بلند کرے گی، 'آج جموں کشمیر کا شہری دنیا اور اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہا ہے، کشمیری منتظر ہیں کہ اقوام متحدہ ان کو کب حق دلائے گا'۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں جموں کشمیر میں اس ظلم کا نوٹس لیں، 'پاکستان انسانی حقوق کی تمام تنظیموں کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کرے گا'۔

انھوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا کا ضمیر جموں کشمیر میں یہ سب ظلم و ستم دیکھ کر بھی خاموش ہے۔

واضح رہے کہ برہان مظفر وانی کی جانب سے حالیہ سال میں کئی ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئیں جس میں انہوں نے نوجوانوں کو حریت کی مسلح تحریک کا حصہ بننے کی دعوت دی۔

خیال رہے کہ پہلے کشمیر میں نوجوان اپنے چہرے سامنے نہیں لاتے تھے تاہم اب کشمیری نوجوانوں کی جانب سے نہ صرف سوشل میڈیا پر عسکری وردیوں میں تصویر لگانا معمول بن گیا ہے جبکہ وہ ہندوستانی فورسز کو دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں : ہندوستانی فوج 'مجاہدین' کی تصاویر سامنے آنے پر پریشان

برہان مظفر وانی کے سر پر ہندوستان نے 10 لاکھ روپے کا انعام بھی مقرر کیا تھا۔

حزب المجاہدین کے کمانڈر کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں احتجاج کے دوران 17 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں.