اردگان کے خلاف بغاوت ناکام کیوں؟

اپ ڈیٹ 18 جولائ 2016

Email


بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ اردگان کی پوزیشن پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوجائے گی۔ — اے ایف پی۔
بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ اردگان کی پوزیشن پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوجائے گی۔ — اے ایف پی۔

جمعے کے روز ترکی میں ناکام ہونے والی بغاوت کی کوشش کرنے والے فوجی دھڑے کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمہوریت بچانے کے لیے ترک صدر رجب طیب اردگان کے خلاف بغاوت کی، مگر اس کوشش کو ترک عوام نے اپنے منتخب کردہ صدر رجب طیب اردگان کی کال پر ناکام بنا دیا۔

پچھلے کچھ عرصے سے ترکی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے، اور حالیہ کئی کارروائیوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ترکی میں بڑھتی دہشتگردی کی وجہ صدر رجب طیب اردگان کی سخت پالیسیاں اور ہمسایہ ممالک سے کشیدہ تعلقات ہیں۔

مگر ترک عوام نے بغاوت کا مقابلہ کر کے اپنے صدر کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں، جس کا ثبوت ملک بھر میں ہونے والے مظاہرے ہیں۔ اور صرف عوام ان کے ساتھ نہیں، بلکہ صدر اردگان بھی اس پورے ایڈوینچر کے دوران اپنے عوام کے ساتھ ساتھ، بلکہ ان کے درمیان نظر آئے، جس سے عوام کا ان پر اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔

ترکی کے مختلف شہروں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے بعد اگر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ترک عوام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اور خاص طور پر روس اور شام سے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے اپنے صدر سے خائف ہیں، مگر اس کے باوجود اردگان کی جمہوری حکومت کا دفاع شاید ترک عوام کا جمہوریت کے ساتھ لگاؤ ہے، جس کا تسلسل وہ ان کی چند غلط پالیسیوں کے باوجود جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

اس پورے کھیل کا ماسٹر مائنڈ ترک حکومت کی جانب سے گولن تحریک کو قرار دیا گیا ہے جسے مذہبی رہنما فتح اللہ گولن امریکی ریاست پینسلوینیا سے کنٹرول کر رہے ہیں۔ گولن تحریک کو اسی سال اردگان حکومت نے دہشتگرد تنظیم قرار دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ تنظیم کے ارکان حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

چند سال پہلے تک گولن تحریک کے ارکان صدر اردگان کے ساتھی تھے اور یہ تحریک اردگان کی مقبولیت میں اضافے کا سبب بھی بنی تھی۔ تاہم 2013 میں صدر اردگان کے قریبی ساتھیوں اور اہل خانہ کے خلاف پولیس اور محکمہ استغاثہ کے بعض افسران کی جانب سے بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کی گئیں، جس کی وجہ سے صدر اردگان اور گولن تحریک کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے۔

صدر اردگان کے مطابق جو افسران یہ تحقیقات کر رہے تھے، ان کا تعلق گولن تحریک سے تھا جو کہ اپنے رہنما کی فرمائش پر منتخب جمہوری حکومت کو بدنام کر رہے ہیں۔

اس الزام کی تحقیقات میں تو وقت لگے گا مگر اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ مصطفیٰ کمال اتاترک کے بعد رجب طیب اردگان ہی وہ واحد لیڈر ہیں جنہیں ترک عوام میں اس قدر مقبولیت حاصل ہے۔

ان کی چند پالیسیاں ایسی ضرور ہیں جن سے عوام نالاں ہیں، مگر بنیادی طور پر ان کی حکومت میں ہونے والی معاشی ترقی نے عوام کو اتنا آسودہ حال ضرور کیا ہے کہ وہ اردگان کا حکومت میں رہنا چاہتے ہیں۔

اردگان اور ان کی جماعت (جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی) نے اسکولوں کے نصاب میں اسلامی اصولوں پر مبنی ترامیم کی ہیں، میڈیا پر بھی پابندیاں لگائیں اور آئین میں ایسی ترامیم کیں جن کی وجہ سے اب اختیارات کا مرکز وزیرِ اعظم کے بجائے صدر ہے۔

باغی دھڑے کے مطابق ان تمام اقدامات سے ترکی کی جمہوریت اور سیکیولرازم، جو کہ اتاترک کے بنیادی اصولوں میں شامل ہیں، کے لیے خطرہ لاحق ہے۔

مزید دلچسپ مضامین


- اتاترک کون؟

- پاکستان کا اتاترک

- تصاویر: جب ترک عوام نے بغاوت ناکام بنائی

ترک فوج خود کو مصطفیٰ کمال اتاترک، جو کہ خود بھی ایک فوجی تھے، کے 'کمال ازم' کا محافظ سمجھتی ہے۔ اتاترک کی رہنمائی میں ترکی نے وہ اقدامات کیے، جنہیں آج تک دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ 1960 سے لے کر اب تک 4 بار ترک فوج نے جمہوریت کی حفاظت اور اسلامی انتہاپسندی سے بچانے کا جواز پیش کر کے جمہوری حکومتوں کو گھر بھیجا، مگر بعد میں حالات بگڑ جانے پر اقتدار جمہوری حکومتوں کے حوالے کرنا پڑا۔

اب کی بار فوجی بغاوت کے ناکام ہونے کی وجہ اعلیٰ فوجی قیادت کا اس کوشش میں شامل نا ہونا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ فوجی قیادت اردگان کی حامی ہے اور اس کی جاری پالیسیوں سے متفق ہے، پھر چاہے ان پالیسیوں سے صدر کو کتنے بھی آئینی اختیارات مل جائیں۔

بغاوت ناکام ہونے پر سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں میں اردگان کے مخالف گروہ بھی شامل تھے، جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ترک عوام بھلے ہی اردگان سے ناخوش ہو، مگر اتنی بھی نہیں کہ وہ انہیں فوجی ٹیک اوور کے ذریعے گھر بھیجیں۔

اقتدار پر قبضے کی اس بے نتیجہ کوشش سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اعلیٰ قیادت آئندہ بھی ایسے کسی اقدام کا حصہ بننے کے موڈ میں نہیں جو منتخب حکومت کو گھر بھیجے۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جس طرح پاکستان کے لیے اس وقت اقتصادی راہداری منصوبہ اولین ترجیح ہے، جس کے راستے میں اسٹیبلشمنٹ کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہیں چاہتی، اسی طرح ترکی یورپی یونین میں شمولیت کا خواہاں ہے۔ ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت دلوانا اردگان کی انتخابی مہم کا اہم وعدہ رہا ہے، جس کے لیے اس کی تمام تر توجہ خود کو اقتصادی طور پر مضبوط بنانے کی طرف ہے۔

اب اگر اس موقع پر اردگان کو گھر بھیج دیا جاتا ہے تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ آنے والی حکومت کیا ترکی کی حالیہ سالوں میں ہونے والی اقتصادی ترقی کو برقرار رکھ سکے گی یا نہیں، جس کی وجہ سے یورپی یونین میں شمولیت کا مقصد متاثر ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی عین ممکن ہے کہ فوجی قیادت مشرقِ وسطیٰ کی روز بروز بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر ملک میں انارکی نہیں چاہتی، کیونکہ شام اور عراق جیسے شورش زدہ ممالک ترکی کی سرحد کے ساتھ لگتے ہیں، اور ملک میں ہونے والی کسی بھی سیاسی اتھل پتھل کی وجہ سے پہلے سے دہشتگردوں کے نشانے پر موجود ترکی کے لیے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ اردگان کی پوزیشن پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوجائے گی۔ طیب اردگان اس ناکام کوشش کو بذریعہ آئینی ترامیم مزید آئینی اختیارات حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، اور یقینی طور پر اس کا فائدہ آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں بھی اردگان اور ان کی سیاسی جماعت کو ہوگا۔