الطاف حسین کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور

اپ ڈیٹ 02 ستمبر 2016

ای میل

اسلام آباد/کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر پر قومی اسمبلی میں مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی کی جانب سے بھی قرارداد کی حمایت کی گئی۔

قومی اسمبلی میں منظور ہونے والی قرار داد — فوٹو : ڈان نیوز
قومی اسمبلی میں منظور ہونے والی قرار داد — فوٹو : ڈان نیوز

مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی اور وفاقی وزیر برجیس طاہر نے قرارداد ایوان میں پیش کی۔

یہ بھی پڑھیں: الطاف حسین نے کیا کہا ...

الطاف حسین کی تقریر کو قرار داد میں پاکستان کی اساس اور سالمیت پر حملہ قرار دیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ لندن سے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے متنازع اور اشتعال انگیز تقریر کی، جو پاکستان کی اساس اور سالمیت پر حملہ تھا، قرارداد میں مذکورہ تقریر کے نتیجے میں میڈیا ہاؤسز ہر ہونے والے حملے کی بھی مذمت کی گئی۔

یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان مخالف نعرے لگانے والے افراد کے خلاف پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

قرار داد میں پاکستان کی پارلیمنٹ، مسلح افواج، میڈیا، عدلیہ اور آئین کے مطابق کام کرنے والے جمہوری اداروں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بھی اس قرار داد کی حمایت کی گئی۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ایم کیو ایم کی جانب سے جمع کروائی گئی قرارداد — فوٹو : ڈان نیوز
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ایم کیو ایم کی جانب سے جمع کروائی گئی قرارداد — فوٹو : ڈان نیوز

ڈان نیوز کے مطابق قرار داد پیش ہونے کے بعد بحث کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے الطاف حسین کے خلاف قرار داد تیار کر رکھی تھی، ایم کیو ایم کو قرار داد پیش کرنے کا موقع دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔

فاروق ستار نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم نے بانی قائد الطاف حسین سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔

بعد ازاں الطاف حسین کے خطاب کے حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 22 اگست کو ایک خود کش بیان دیا گیا، اس کے بعد ہم سیاسی برادری سے کٹ گئے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کی جانب سے بھی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ایک قرار داد جمع کروائی گئی۔

ڈان نیوز کو موصول ہونے والی ایم کیو ایم کی مجوزہ قرار داد میں واضح طور پر الطاف حسین کے خطاب کی مذمت کی گئی۔

مزید پڑھیں : الطاف حسین کےخلاف قرارداد قبول نہیں:واسع جلیل

گزشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے لندن میں مقیم رہنما واسع جلیل نے الطاف حسین کو ایم کیوایم اور ایم کیوایم کو الطاف حسین قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد کو قبول کرنے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ مائنس ون فارمولا قبول نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ الطاف حسین نے 22 اگست کو کراچی میں کارکنوں سے خطاب کے دوران پاکستان مخالف نعرے لگوائے تھے، اور کارکنان کو میڈیا ہاؤسز پر حملے کے لیے اکسایا تھا۔

ایم کیو ایم کے کارکنوں نے پاکستان کے خلاف نعرے لگانے کے بعد نجی ٹی وی چینل پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی تھی جبکہ ہنگامہ آرائی کے کے دوران ایک شخص ہلاک اور کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔

کراچی میں خطاب کے بعد الطاف حسین نے 22 اگست کو ہی امریکا میں مقیم اپنے کارکنوں سے خطاب میں بھی پاکستان مخالف تقریر کی تھی۔

ان تقاریر کے بعد الطاف حسین نے معافی بھی مانگی جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھے اس لیے ایسی باتیں کیں جب کہ اس کے بعد ایم کیو ایم کے قائد نے پارٹی کے تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کے سپرد کر دیئے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے الطاف حسین کی تقریر کے اگلے روز یعنی 23 اگست کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم قائد کے بیانات سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں ہی رجسٹرڈ ہے اس لیے بہتر ہے کہ اب اسے آپریٹ بھی پاکستان سے ہی کیا جائے۔

23 اگست کے اعلان لاتعلق کے بعد گزشتہ ہفتے یعنی 27 اگست کو فاروق ستار نے ایک اور پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے الطاف حسین سے قطع تعلق کر دیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ہی ایم کیو ایم پاکستان نے پارٹی آئین میں ترمیم کرکے بانی متحدہ الطاف حیسن کا نام نکال دیا۔

کراچی میں پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم نے 23 اگست کے فیصلوں کی روشنی میں پارٹی آئین میں چند ترامیم کی ہیں۔