سی پیک سے گلگت بلتستان کے عوام کی امیدیں وابستہ

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2016

ای میل

اسلام آباد: پاکستان کے شمال میں واقع گلگت بلتستان پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کے حوالے سے ایک دروازے کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے یہاں کے عوام اس منصوبے سے بہت سی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

46 ارب ڈالر کے اس منصوبے میں چین کے شہر کاشغر سے آنے والے تجارتی ساز و سامان کی پہلی منزل گلگت ہوگی جہاں سے روٹ کے مطابق یہ سامان ملک کے مختلف حصوں سے ہوتا ہوا گوادر منتقل کیا جائے گا، جبکہ اسی طرح گوادر بندر گاہ پر بحری جہازوں سے اترنے والا سامان بھی اسی روٹ کے ذریعے سے چین لے جایا جائے گا۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'دوسرا رُخ' میں گلگت کے عوام سے بات کی گئی جن میں سے اکثریت کی رائے میں پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے سے گلگت بلتستان میں ناصرف معاشی ترقی ہوگی، بلکہ یہ منصوبہ یہاں مختلف کاروباری شعبوں کو وسعت دینے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

گلگت کے عوام کو امید ہے کہ جب یہاں کی مقامی پیداوار عالمی مارکیٹ میں جائے گی تو اس سے انہیں کافی حد تک فائدہ ہوگا۔

پروگرام میں گلگت کے نوجوانوں سے بھی بات کی گئی، جنہوں نے پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ایک بہت بڑا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس منصوبے کے تحت یہاں کے نوجوانوں کو پہلی ترجیح دے۔

کچھ مقامی طالبات نے گفتگو کے دوران کہا کہ یہ منصوبہ یہاں کی نوجوان نسل کے لیے ایک 'دروازہ' ہے جس سے لوگوں کو ملازمت کے مواقع میسر آئیں گے اور جب چین کے تعاون سے یہاں پر یونیورسٹیز اور اسکول بنیں گے تو تعلیمی شعبے میں کافی حد تک بہتری آئے گی اور نوجوانوں کو چین میں جاکر کر تعلیم حاصل کرنے کا بھی موقع مل سکے گا۔

ساتھ ہی انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو اس منصوبے سے بہت امیدیں ہیں، لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کو پورا کرے۔

تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اس منصوبے میں گلگت بلتستان کے لیے ملک کے باقی صوبوں کے مقابلے میں کوئی بڑا پروجیکٹ موجود ہی نہیں اور نہ ہی کوئی علیحدہ سے زون بنایا گیا ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت یہاں کے قدرتی حُسن خاص طور پر فصلوں اور گلیشیئرز کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات کرتی ہے تو سی پیک منصوبے سے نہ صرف گلگت بلتستان، بلکہ پورے پاکستان کو فائدہ ہوسکتا ہے۔

پروگرام میں سی پیک منصوبے کے مستقبل اور اس کے فوائد پر بات کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان نے دعویٰ کیا کہ سی پیک منصوبے سے عملی طور پر فائدے ہونا شروع ہوچکے ہیں اور شاہراہ قراقرم پر لوگ بہت آرام و سکون کے ساتھ سفر کرسکتے ہیں جوکہ پہلے 8 سے 10 گھنٹوں میں مکمل ہوا کرتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پہلے کوئی بھی سیاح یہاں پر نہیں آتا تھا اور آج سی پیک کی وجہ سے 10 لاکھ کے قریب سیاح یہاں پر آرہے ہیں کیونکہ یہاں سیکیورٹی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے جس میں ہمیں بہت کامیابی ملی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاحوں کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ روزانہ کی بنیادوں پر 3 جہاز پرواز کرتے ہیں۔

حافظ حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبے کے علاوہ گلگت بلتستان خود اپنے طور پر بھی بہت سے ترقیاتی منصوبوں پر کام رہا ہے جن میں سڑکوں کی تمیر کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبے میں بہتری کے لیے یونیورسٹیز اور میڈیکل کالج کا قیام بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: سی پیک کے تحت 3 نئی جامعات کا قیام

سی پیک کے تحت اقتصادی زون کی تعمیر کے حوالے سے شکوک سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پہلا زون گوادر میں بن چکا ہے اور دوسرا زون گلگت بلتستان میں بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے، کیونکہ یہاں پر اس کے لیے پہلے تو سڑک کا ہونا ضروری ہے اور دوسرا توانائی جیسے مسئلے کو بھی حل کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ سی پیک کے اس منصوبے سے پاکستان کو نہ صرف دنیا میں اعلیٰ مقام ملے گا بلکہ ٹیکس کی مد میں ہونے والی آمدن پاکستان کی معیشت پر شاندار اثرات بھی ڈالے گی۔

پاکستان میں معاشی انقلاب برپا کرنے والا یہ منصوبہ جہاں ایک شاہراہ ریشم کو جنم دے گا جو تجارت کو محفوظ، آسان اور مختصر بنائے گی، وہیں اس کے ساتھ ہی گوادر کو ایک انتہائی اہم مقام میں تبدیل کر دے گا جس کی جستجو ترقی یافتہ ممالک کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ 5 جولائی 2013 کو وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دورہ چین کے موقع پر چینی صدر سے ملاقات میں پاک-چین اکنامک کوریڈور کے تحت آٹھ منصوبوں کی مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے تھے، جن میں گوادر سے کاشغر تک 2 ہزار کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'سی پیک کیلئے چین نے ہمارے اقتدار میں آنے کا انتظار کیا'

اس کے بعد سن 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ کی پاکستان آمد کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 51 معاہدوں کی یادشتوں پر دستخط کیے گئے۔

اس منصوبے کو پاکستان کی قسمت بدلنے کے حوالے سے ایک 'گیم چینجر' کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

یہاں پڑھیں: چینی صدر کا دورہ: 51 معاہدوں پر دستخط

سی پیک کے تحت گوادر میں ہی ایکسپریس وے کی تعمیر سمیت بلوچستان میں توانائی کا بھی ایک بڑا منصوبہ شامل ہے، جبکہ کئی منصوبوں پر ملک کے دیگر صوبوں میں کام کیا جائے گا۔