پاناما لیکس پر وزیراعظم کی نااہلی: درخواستوں پر اعتراضات ختم

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2016

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے دائر تمام درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرلیں۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے دائر درخواستوں پر رجسٹرار کے اعتراضات سے متعلق سماعت اپنے چیمبر میں کی۔

چیف جسٹس نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جماعت اسلامی، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی درخواستوں پر رجسٹرار کے اعتراضات ختم کردیئے اور رجسٹرار آفس کو درخواستوں کی سماعت کے لیے بنچ مقرر کرنے کا حکم دیا۔

مزید پڑھیں:پاناما لیکس: تحریک انصاف کی وزیراعظم کے خلاف درخواست

جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ تمام درخواستوں کی سماعت کھلی عدالت میں ہوگی اور سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل جماعت اسلامی، تحریک انصاف، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھی جس پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر یہ درخواستیں واپس کردی تھیں۔

بعد ازاں تحریک انصاف نے درخواست پر رجسٹرار کے اعتراضات کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل بھی دائر کی تھی۔

یاد رہے کہ رواں برس اپریل میں پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے 'آف شور' مالی معاملات عیاں ہوئے تھے۔

صحافیوں کے گروپ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے پاناما پیپرز سے متعلق دستاویزات دو قسطوں میں جاری کیے تھے، دونوں اقساط میں 350 سے زائد پاکستان کی طاقت ور اور اثرو رسوخ رکھنے والے شخصیات کے نام سامنے آئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : پاناما پیپرز: پاکستانیوں کے متعلق انکشافات

انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کی جانب سے ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں درجنوں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت، کاروباری شخصیات، مجرموں، مشہور شخصیات اور کھلاڑیوں کی 'آف شور' کمپنیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔

ان دستاویزات میں روس کے ولادمیر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، یوکرائن، آرجنٹائن اور یو اے ای کے صدور، سابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے رشتہ داروں، شام کے صدر بشار الاسد، چین کے سابق وزیر اعظم، اقوام متحدہ کے سابق سربراہ کوفی عنان کے بیٹے اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں سمیت درجنوں حکمرانوں یا ان کے عزیزوں کے نام شامل ہیں۔

مزید پڑھیں : پاناما لیکس میں مزید بڑے ناموں کا انکشاف

پاناما لیکس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جس وقت نواز شریف اپوزیشن میں تھے انھوں نے ایک ڈچ بینک سے لندن میں موجود ان کے 4 فلیٹس پر 70 لاکھ پاؤنڈ کا قرضہ حاصل کیا تھا جو برطانیہ کی ورجن آئی لینڈ نامی آف شور کمپنی کی ملکیت تھے۔

موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل عام ہونے والی ان معلومات کو امریکی سفارتی مراسلوں سے بھی بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔

پاناما لیکس کی جانب سے جاری کی جانے والی پہلی فہرست کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ صورت حال اختیار کرگئے تھے اور اپوزیشن نے پاناما لیکس میں نام آنے کے باعث ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں : شریف خاندان کی 'آف شور' کمپنیوں کا انکشاف

وزیراعظم کے بچوں کے نام پاناما لیکس میں سامنے آنے پر اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تاہم بعد ازاں جوڈیشل انکوائری پر اتفاق کیا گیا جس کے لیے وزیر اعظم نواز شریف نے 22 اپریل کو قوم سے اپنے خطاب میں کیے گئے اعلان کے مطابق سپریم کورٹ کو کمیشن کے قیام کے لیے خط ارسال کیا تاہم چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے کمیشن بنانے سے متعلق حکومتی خط کو اعتراضات لگا کر واپس کر دیا تھا۔

حکومت کو جوابی خط میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے لکھا کہ جب تک فریقین مناسب ضوابط کار پر متفق نہیں ہوجاتے، کمیشن تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ حکومتی ضوابط کار بہت وسیع ہیں، اس کے تحت تحقیقات میں برسوں لگ جائیں گے اور جس خاندان، گروپ، کمپنیوں یا افراد کے خلاف تحقیقات کی جانی ہیں ان کے نام فراہم کرنا بھی ضروری ہیں۔

جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے حکومت اور اپوزیشن کی 12 رکنی کمیٹی بنی تھی، حکومت اور اپوزیشن میں جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے متعدد اجلاس ہوئے مگر فریقین اس کے ضابطہ کار (ٹی او آرز) پر اب تک متفق نہ ہو سکے، دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس حوالے سے اپنی تحریک احتساب کا بھی آغاز کر رکھا ہے، جس کے تحت رواں ماہ 30 ستمبر کو وہ رائے ونڈ جانے والے ہیں۔