جب سے میں یورپ آیا ہوں یہاں ایک عجیب رواج کو پروان چڑھتے پایا ہے، وہ ہے سلیبرٹیز کو بلا کر فلاحی کاموں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا۔

پاکستان میں چلنے والے مختلف فلاحی ادارے اپنے ساتھ چند مشہور شخصیات کو جوڑ کر بیرون ملک دوروں پر نکلتے ہیں اور یہاں موجود پاکستانیوں کو فلاح کے کاموں میں حصہ ڈالنے کی تحریک دیتے ہیں۔ مشہور سیاسی شخصیات، شاعر، گلوکار اور سماجی لوگ ایسی تقریبات کی جان ہوتے ہیں، جن کے دم قدم سے ہلکی پھلکی فلاحی تنظیم بھی قد آور درخت لگنے لگتی ہے۔

اسی طرز پر معروف نعت خواں حضرات کو بلا کر لوگوں کے دل نرم کر کے لوگوں کو نیکی کی طرف مائل کرنے کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ کچھ دن پہلے پتہ چلا کہ میلاد کے نام پر ایک اسلامی حلقے سے تعلق رکھنے والی خواتین میلاد پر آئی ہوئی خواتین کو پاکستان کے ریگ زاروں میں پانی کا نل لگانے کی تحریک دے خوب چندہ وصول کرتی ہیں۔

جب ایسی تنظیموں کو دیے جانے والے چندے کی تفصیل سنتا ہوں تو حیران ہو جاتا ہوں کہ ہمارے لوگ کتنے دریا دل واقع ہوئے ہیں۔ پچھلے سال ابرارالحق تشریف لائے تو ان کو ملنے والا چندہ کئی ملین روپے پر مشتمل تھا۔

ایسی تقاریب کو عمومی طور پر 'فنڈ ریزنگ ڈنر' کا نام دیا جاتا ہے، اور اگر آپ نے کسی معروف نعت خواں یا گلوکار کو بلا رکھا ہے تو اس ڈنر کی انٹری فیس بھی ہوگی، جیسے ابرار الحق والے پروگرام کا کم از کم انٹری ٹکٹ 300 ڈینش کرون کا تھا، اور وی آئی پی ٹکٹ ایک ہزار ڈینش کرون کا تھا جو تقریباً پندرہ ہزار پاکستانی روپوں کے برابر بنتا ہے۔ اس طرح کے سبھی پروگرامز کی ہیڈنگ ایسی ہی ہوتی ہے کہ نیکی کے کام میں ہماری مدد کیجیے وغیرہ۔

میں خود بھی کئی سال مختلف سماجی تنظیموں سے وابستہ چلا آ رہا ہوں، جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے کوئز کلب کے لیے ہم نے پہلی بار فنڈ ریزنگ کی تھی اور ناظرین میں خوب انعام بانٹے تھے۔

اس کے بعد سے میں عملی طور پر ہمارے شہر میں واقع کیئر ویلفیئر ڈسپنسری، ایگری ہنٹ کے اشتراک سے چلنے والے ایک مفت اسکول، اور پاکستان میں پھلدار پودوں کی کاشت کے ایک پراجیکٹ کا حصہ ہوں، اور ان کے لیے کسی نہ کسی حد تک فنڈز اکھٹے کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔

میرے لیے لوگوں سے فنڈز اکھٹے کرنے کا تجربہ بہت تکلیف دہ رہا ہے۔ آپ کے مقصد کو سمجھنے والے لوگ، آپ کے مقصد کی مدد کرنے والے لوگ کبھی بھی باآسانی دستیاب نہیں ہوتے۔

ایک دوست سے پاکستان میں پھلدار پودے لگانے والے پراجیکٹ میں شامل ہونے کا کہا تو اس نے کہا پاکستان میں تو شیشم ختم ہو رہا ہے، اگر آپ پھلدار پودوں کی بجائے شیشم کے درخت لگائیں تو میں آپ کے ساتھ ہوں۔ اسی طرح بہاولنگر کے نواحی علاقے میں واقع ایک مفت اسکول کے پراجیکٹ کے لیے ماہانہ تین سو ڈینش کرون دینے والا صرف ایک شخص مل پایا۔

غرض یہ کہ میرے لیے کسی بھی مقصد کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کاکام جان جوکھوں کا ہی بنا اور باوجود کوشش کے اس میں ناکام رہا۔ شاید پیسے اکٹھے کرنے کے لیے جن صفات کی ضرورت ہوتی ہے وہ مجھ میں نہیں۔

ان فنڈ ریزنگ ڈنرز میں میزبان اسٹیج پر کھڑے ہو کر لوگوں کو پکارتے بھی پائے گئے، کہ لیجیے فلاں شخص ہیں، خاندانی رئیس ہیں اور کاروباری ہیں، اس کے بعد بتائیے کہ کیا حصہ ڈالیں گے، اور بے چارے خاندانی رئیس اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے اپنی اوقات سے کچھ زیادہ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ایسا بھی سننے کو ملا ہے کہ کچھ لوگ وقتی طور پر پیسوں کا اعلان کر دیتے ہیں، محفل میں واہ واہ ہو جاتی ہے اور جب پیسے دینے کی باری آتی ہے تو وعدہ پورا نہیں کرتے۔

ایسے ہی ایک پروگرام میں ایک شخص نے اپنا پلاٹ بچوں کے اسکول کے نام کرنے کا اعلان کیا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس پلاٹ پر تو قبضہ مافیا کا قبضہ تھا جو چھڑانا مشکل تھا اور انہوں نے اسی لیے اسکول کے نام کر دیا۔

لوگ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بھی کچھ جذباتی سے ہو کر اعلانات کر دیتے ہیں اور گھر آ کر پچھتاتے ہیں۔ ایسے پروگرامز کی دیگر خوبیوں میں بلاوجہ طوالت اور ہر صاحبِ ثروت کی بے محل تقریر بھی شامل ہوتی ہے۔ یوں کہیے کہ دولت مندوں کا لنڈا بازار لگ جاتا ہے اور پھر وہ نیکی کے اس کام میں لوگوں کے سامنے زیادہ سے زیادہ تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس خدا کی قربت کے لیے وہ ایسے بے دریغ پیسہ لٹانے پر تیار نظر آتے ہیں، وہ خدا دائیں ہاتھ سے دینے کی بائیں ہاتھ کو خبر نہ دینے کی بات کرتا ہے۔ جہاں ریاکاری کو ساری عبادات کی جڑ کاٹنے والی بتایا گیا ہے، وہاں اہل ثروت کی ہوہوکار کیا معنی؟

لیکن جن پروگرامز میں نشستیں ہی امیر اور غریب کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھ کر تقسیم کی گئی ہوں وہاں پر مساوات، اخوت اور برابری صرف نام کی حد تک رہ جاتے ہیں۔

سنا ہے جس ٹیبل پر کوئی سلیبرٹی بیٹھے اس میز پر بیٹھنے تک کی قیمت ہوا کرتی ہے۔ جتنی قربت آپ چاہتے ہیں اتنی جیب ڈھیلی کیجیے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے لوگوں کی جیب سے روپے نکلوانا میرے خیال میں کوئی ہنر نہیں۔ آپ جس مقصد کے لیے روپیہ اکٹھا کرنا چاہ رہے ہیں کیا اس کو صرف پیسے درکار ہیں؟ جیسے کسی نے کہا تھا حرام کی کمائی بھلے مسجد کے ٹوائلٹ پر لگا دی جائے لیکن ہر طرح کے بندے سے روپیہ اکٹھا کیا جائے؟

پھر اسی متن میں ایک دلیل اور بھی سننے کو ملتی ہے کہ جب آپ اقوام عالم سے مدد کی اپیل کرتے ہیں کیا وہ سب روپیہ حلال طریقے سے کمایا ہوا تھا؟ اگر نہیں تو اپنے ہاں آپ روپیہ اکٹھا ہونے پر سوال کیوں اٹھاتے ہیں؟

میرے خیال میں روپیہ اکٹھا کرنے سے زیادہ بہتر اپنے لوگوں کو چینلائز کرنا ہوتا ہے کہ وہ اس کام کی افادیت کو سمجھیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے اس کام میں حصہ دار ہو جائیں۔ میرے پودوں والے پراجیکٹ کے لیے ہمارے ایک بیوروکریٹ دوست نے کہا تھا کہ اب جو بھی مرغی ہمارے پاس پھنسے گی میں ان سے کہوں گا کہ ہماری تو کوئی ذاتی ضرورت نہیں، بس اس تنظیم کی مدد کر دیجیے۔ لیکن کیا اس طرح فلاح کے کسی بھی کام کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا مناسب ہو سکتا ہے؟

ایسے فلاحی کاموں کی محفلوں میں جانے کے میرے پچھلے تمام تجربے مجھے کسی اگلے پروگرام میں جانے سے منع کرتے ہیں لیکن پھر کئی نام ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے آپ کے شہر میں آنے کی خبر آپ کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔

اب پاکستانی ادبی منظرنامے کے مشہور نام آپ کے شہر میں آئے ہوں، اور ان کی مراد کسی بے مثل ادارے کی سپورٹ ہو تو آپ بے اختیار ایسے کسی بھی پروگرام میں جانا چاہتے ہیں۔

لیکن اس کے بعد آپ کو کم پیسے والی سیٹ اور زیادہ پیسے والی سیٹ کی چھلنی سے گزرنا ہو تو دل پر ایک ضرب لگتی ہے۔ کیا اہل ثروت کم ظرف ہوتے ہیں جو پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر کسی نیکی کے کام میں حصہ نہیں ڈال سکتے، کیا اخوت کا دم بھرنے والے مہنگی سیٹ اور سستی سیٹ خریدنے والوں کے چندے کو بھی کم تر اور بالاتر سمجھیں گے؟

لیکن ایک سوچ یہ بھی ہے کہ شاید پاکستانیوں کو نیکی کے کام پر راضی کرنے کا طریقہ بھی یہی ہے کہ انہیں روٹی کے جھانسے میں بلایا جائے، کچھ انا کا مساج کیا جائے اور ان کی دریا دلی کی صفت پر مہر تصدیق ثبت کی جائے اور اپنا نیک مقصد پورا کر لیا جائے۔

ورنہ سادہ سی درخواستیں تو میں بھی کئی کر کے دیکھ چکا لیکن لوگ کسی بھی مقصد کی مدد کے لیے اکھٹے نہ کرسکا۔ اس طرح سے فنڈ ریزنگ کا کسی کو تو فائدہ ہوتا ہی ہے، تب ہی یہ ڈنرز زور و شور سے جاری ہیں۔