قسمت میں یہی لکھا تھا

اپ ڈیٹ 14 مارچ 2017

ای میل

irfan.husain@gmail.com
[email protected]

میں اکثر تعجب میں پڑ جاتا ہوں کہ پاکستان کے لوگ اپنے ساتھ ہونے والی روزانہ کی تکالیف کو آخر خاموشی سے سہتے کیوں جاتے ہیں۔

وہ ملک میں پھیلی نااہلی اور بدعنوانی کے خلاف احتجاج کے لیے اٹھ کھڑے کیوں نہیں ہوتے؟ بنیادی تعلیم اور صحت کو دیکھیں تو ریاست لگ بھگ کچھ بھی تو فراہم نہیں کرتی؛ 84 فیصد پاکستانیوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے؛ اور عوام دہشتگردوں اور مجرموں کے مسلسل خطرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

تو پھر آخر کیوں لوگ بہتر حکمرانی کے مطالبے کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلتے؟ ہمارے رہنما ہمارے لیے جو کچھ بھی دیتے ہیں اس پر ہماری خاموش قبولیت کی ایک بڑی حد تک وجہ ہر چیز کو قسمت کا لکھا سمجھ لینا ہے جس نے ایک طویل زمانے سے برصغیر کو اپنے آہنی ہاتھوں میں جکڑ رکھا ہے۔

کسی ہسپتال میں کوئی بچہ خراب علاج یا دیکھ بھال کی وجہ سے مر جاتا ہے تو اس کے والدین آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے "اللہ کی مرضی" کہہ کر اپنا غم ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ بدترین طبی دیکھ بھال ایک عام بات بنی رہتی ہے کیوں کہ ڈاکٹرز اور نرسز کو معلوم ہے کہ ان کی غلطیاں نہ تو منظر عام پر آئیں گی اور نہ ہی کسی کو کوئی سزا ملے گی۔

اس کے برعکس دیگر ملکوں میں اسی طرح کی پیشہ ورانہ لاپرواہی یا غلطیوں کرنے پر مقدمہ دائر کر دیا جاتا۔

یہ رویہ معاشرے میں اس گہرائی سے بس گیا ہے کہ جب بھی پالیسی ساز، سیاستدان، بیوروکریٹس، اہلکار اور مختلف پیشہ ور اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام جاتے ہیں یا مایوس کن کارکردگی پیش کرتے ہیں تو اس رویے کی وجہ سے انہیں بچ نکلنے کا آسانی سے نکلنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اور جب نااہلی پر ہی ذرا توجہ نہ دی جائے تو اصلاحات اور بہتری کے لیے تحریک بھی ممکن نہیں ہو پاتی۔

چوں کہ ہم اپنے تمام تر زوال کو خالق سے منسوب کردیتے ہیں تو پھر کسی انسانی محکمے کو کس طرح الزام دیا جا سکتا ہے؟ برے حالات کو دیکھ کر اپنی ذمہ داری کو ماننے کے بجائے سب سے اوپر تک منتقل کر دینا کس طرح آسان ہے۔ جب ایک بھکاری اپنے 6 بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے پیسے مانگتا ہے اور پھر جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ اس نے اتنے زیادہ بچے کیوں پیدا کیے، تو جواب ہمیشہ یہی آتا ہے کہ، "جو رب کی مرضی۔"

دہشتگرد حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کے لیے جب سیاستدان ہسپتال آتے ہیں تو ہمیشہ انہیں تسکین پہنچانے کے لیے خالق سے دعا مانگتے ہیں۔ جب وہ ٹی وی کیمروں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو یہ مفت فارمولا انہیں صورتحال سے آزاد کر دیتا ہے۔ اور ہاں چوں کہ عوام بھی اپنے پیاروں کی موت کو خدا کی مرضی سے منسوب کر دیتی ہے لہٰذا لگاتار ہونے والے جان لیوا حملوں کے بعد بھی کوئی تبدیلیاں رونما نہیں ہوتیں، یوں حکومت اور سیکیورٹی ادارے کسی بھی قسم سے الزام سے بری ہو جاتی ہیں۔

جہاں صبر کرنے سے درد اور غم کو برداشت کرنے میں مدد ملتی ہے وہاں یہ رویہ اس غم و غصے کو کم کر دیتا ہے جو کہ غیر ضروری تکالیف سے ایک انسان میں پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا ذاتی یا سرکاری نااہلی کے باعث ہونے والے کسی بھی واقعے کے بعد وکیل بلانے یا سڑک پر احتجاج کرنے کے بجائے ہم صرف خود کو یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ یہ خدا کی مرضی ہی تھی۔

1571 میں معرکہ لیپانٹو کے موقعے پر سلطنتِ عثمانیہ کی بحری فوج کو ہولی لیگ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک غیر معمولی بحری جنگ تھی اور اس کے نتیجے نے سلطنتِ عثمانیہ کی بحرہ روم میں پیش قدمی کے خاتمے کا اشارہ دے دیا۔ اس وقت کی عثمانیہ تاریخ میں اس ہار کو کچھ اس طرح قلمبند کیا گیا ہے کہ، "... شاہی بحریہ نے خستہ حال کافروں کی بحری فوج کا مقابلہ کیا مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔"

عثمانیہ بحری فوج کے مخالفین کے مقابلے میں کثیر تعداد میں ہونے کے بعد بھی شکست کا تجزیہ کرنے کے بجائے خدا کی مرضی سے منسوب کر دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں جب دوبارہ بیڑے بنائے جا رہے تھے تب ان میں بھی وہی کمزوریاں موجود تھیں جو ان جنگی بیڑوں میں تھیں جنہیں ہولی الائنس نے اپنے قبضے میں کر لیا تھا یا ڈبو دیا تھا۔

گزشتہ نومبر میں جب گڈانی میں ایندھمن کے جہاز میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں متعدد مزدور ہلاک اور زخمی ہوئے، اس کی وجہ بالکل صاف تھی: اسٹیل نکالنے کے لیے ساحل پر لنگر انداز ہونے والے اس بحری جہاز کے مالک نے اس میں مبینہ طور پر اسمگل شدہ ایندھن رکھا ہوا تھا۔ چنگاریاں نکالتی ویلڈنگ میں مصروف مزدور اس بڑے خطرے سے بے خبر تھے اور نتیجے میں ایک تباہ کن دھماکہ ہو گیا۔

کئی افسران اور سیاستدان جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ میڈیا نے ٹینکر کا جائزہ لینے میں انتظامیہ کی ناکامی پر تنقید کی مگر دن کے آخر میں تمام متعلقہ افراد اپنے سروں کو ہلاتے ہوئے سرگوشی میں بولنے لگے کہ، "اللہ کی مرضی۔" پورے ملک میں موجود کانوں اور صنعتوں میں ایسا ہونا ایک عام سی بات ہو گئی ہے مگر، ہر حادثے کے بعد، کچھ نہیں بدلتا اور اسے معمول ایک حصہ سمجھ لیا جاتا ہے۔

یہ رویہ ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے اور قصورواروں کو بری ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ "خدا ان کی مدد کرتا ہے جو خود اپنی مدد آپ کرتے ہیں" اس قول کو بھولتے ہوئے ہم جاہل مذہبی رہنماؤں کے بچھائے جال میں الجھ چکے ہیں۔

ان کے نظریے کے مطابق سب کچھ پہلے سے لکھا ہوتا ہے، لہٰذا ہمارے ساتھ جو ہوتا ہے اور ہمارے آس پاس جو کچھ ہوتا ہے اس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ زندگی کا حقیقی مقصد دنیاوی زندگی کے بعد کی تیاری ہے۔ اگر آپ ایک غریب اور کمزور پیدا ہوتے ہیں، تو آپ کو اگلی زندگی میں اس کا صلہ ملے گا۔

جب تک کہ ہم اپنے تمام اقدامات کی ذمہ داری خود نہیں اٹھا لیتے، تب تک ہم مردہ دلی کی دلدل میں دھنستے جائیں گے۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 11 مارچ 2017 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔