’بھارت دلائی لامہ کی میزبانی کرنے سے باز رہے‘

31 مارچ 2017

ای میل

بیجنگ: چین نے بھارتی حکومت کی جانب سے تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کی متنازع علاقے میں میزبانی کرنے والے منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی ایسے عمل سے باز رہے۔

خیال رہے کہ تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ آئندہ ماہ 4 سے 13 اپریل تک تبت کی سرحد کےقریب بھارتی ریاست ارونا چل پردیش کا دورہ کریں گے۔

چین کا دعویٰ ہے کہ مشرقی ہمالیہ کے دامن میں واقع یہ علاقہ دراصل جنوبی تبت ہے۔

چین ہمشیہ اس متنازع علاقے میں غیر ملکیوں حتیٰ کہ بھارتی رہنماؤں کے دورے کی بھی مخالفت کرتا آیا ہے،اور ان کوششوں کو متنازع علاقے پر بھارتی دعووں کی حوصلہ افزائی قرار دیتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے’رائٹرز‘ نے بھارتی حکومت کے عہدیداروں کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا کہ دلائی لامہ 4 سے 13 اپریل تک ارونا چل پردیش کے مذہبی دورے پر آئیں گے، اور ایک سیکولر جمہوری حکومت انہیں اس دورے سے نہیں روک سکتی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کے میزائل ٹیسٹ پر چینی اخبار کا انتباہ

ادھر اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے 14 ویں دلائی لامہ کے متنازع سرحدی علاقے کے دورے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا کہ وہ سرحدی علاقے کے معاملات کو مزید دشوار بنانے کے اقدامات سے باز رہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ دلائی لامہ گروہ چین-بھارت سرحدی معاملے پر شرمناک کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ دلائی لامہ کی جانب سے متنازع ریاست ارونا چل پردیش کے دورے کا منصوبہ کچھ ماہ قبل بنایا گیا تھا، جب کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقے کا تنازع کئی سال پرانہ ہے۔

اس سے پہلے دلائی لامہ نے2009 میں بھارت کا دورہ کیا تھا، جب کہ 1959 میں چین کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد انہیں ہندوستان نے ہی پناہ دی تھی۔

اپنے گزشتہ دورے کے دوران دلائی لامہ نے ارونا چل پردیش کے شہر ٹوانا میں کہا تھا کہ متنازع سرحدی علاقہ بھارت کا حصہ ہے۔

چینی حکومت کے تحت چلنے والے تبت کے ایک رسرچ سینٹر کے پروفیسر لیان شیانگ منگ نے رواں ماہ 23 مارچ کو بیجنگ میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ چین اوربھارت کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کہنا بہت ہی مشکل اور غیردانشمندانہ ہے کہ ارونا چل پردیش کا شہر ٹوانا تبت اور تبت چین کا حصہ ہے۔