ڈبلیو ایچ او کی سربراہی: پاکستانی ڈاکٹر حتمی اُمیدواروں میں شامل

اپ ڈیٹ 21 مئ 2017

ای میل

جینوا: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی سربراہی کیلئے ہونے والے انتخابات میں پاکستانی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے 3 حمتی اُمیدواروں میں اپنی جگہ بنالی۔

خیال رہے کہ ان کے مد مقابل دیگر دو اُمیدواروں میں ایک برطانوی فزیشن اور ایک ایتھوپیا کے سابق وزیر صحت ہیں۔

پہلی مرتبہ ڈبلیو ایچ او کی 194 اراکین ریاستوں پر مشتمل گورننگ باڈی ایگزیکٹو بورڈ کا انتخاب کرنے جارہی ہے جیسا کہ گذشتہ کچھ سالوں میں انہیں منتخب نہیں کیا گیا۔

بند کمرے میں ہونے والے یہ انتخابات 10 روزہ ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے اجلاس کا ایک اہم ایونٹ ہے، جس میں پولیو کے خلاف جنگ، وبائی فلو اور اینٹی مائیکروبیل کے خلاف اقدامات کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔

ڈاکٹر مارگرایٹ چن کے ایک دہائی طویل دور کے اختتام کے بعد متعدد اراکین ڈبلیو ایچ او میں اصلاحات کے خواہش مند ہیں، ان کے دور میں افریقہ کے مغربی ممالک میں 11000 افراد ایبولا کے مرض کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

اُمیدوار

مذکورہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والا فرد رواں سال یکم جولائی سے 5 سال کیلئے سربراہ مقرر کیا جائے گا۔

ان اُمیدواروں میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ ناباررو شامل ہیں جنھوں نے حالیہ سالوں کے سب سے بڑے صحت کے بحرانوں میں اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کی قیادت کی ان میں فلو اور ایبولا شامل ہیں۔

واضح طور پر انھیں کئی سالوں کا تجربہ حاصل ہے تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او میں ان کے دہائیوں سے جاری کام نے انھیں عالمی ادارے کے قریب کیا ہے اور وہ ایجنسی میں مطلوبہ اصلاحات متعارف کرواسکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی سربراہی کیلئے دوسرے اُمیدوار ٹیڈروس ایڈہانوم ایتھوپیا کے سابق وزیر صحت ہیں اور وہ ممکنہ طور پر افریقہ سے ڈبلیو ایچ او کے پہلے ڈائریکٹر جنرل ہوسکتے ہیں جبکہ انھیں متعدد افریقی اراکین ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔

تیسری اُمیدوار ثانیہ نشتر ایک پاکستانی ڈاکٹر ہیں، انھیں کئی سالوں سے غیر موذی امراض پر کام کرنے کا تجربہ ہے اور اس کے علاوہ وہ پاکستان میں صحت، سائنس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزیر بھی رہ چکی ہیں۔

اپنے مد مقابل کے برعکس ثانیہ نشتر کو وبائی امراض سے نمٹنے کا کم تجربہ ہے۔

انھوں نے اپنی مہم کے دوران 10 اقدامات کیلئے وعدے کئے ہیں جن میں اپنے کام میں شفافیت اور احتساب کے عمل کو یقینی بنانا، اور اس بات کا وعدہ کہ ڈبلیو ایچ او کی قیادت 'کسی مخصوص مفاد کیلئے کام نہیں کرے گی' شامل ہے۔

یہ رپورٹ 21 مئی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی