کیا شاہ جہاں نے واقعی 40 ہزار ہاتھ کٹوا دیے تھے؟

اپ ڈیٹ 28 مئ 2017

ای میل

— تصویر گارجیئن
— تصویر گارجیئن

"میں تو صرف احکامات بجا لا رہا تھا۔"

بربریت میں حصہ دار بننے والے لوگ ہمیشہ اس منطق کا راگ الاپتے ہیں۔ جب شاہی محافظوں بابر (جس کا کردار ڈیرن کپان نے ادا کیا) اور ہمایوں (جس کا کردار ڈینی اشوک نے ادا کیا) نے احکامات کی بجا آوری کرتے ہوئے تاج محل بنانے والے 20 ہزار مزدوروں کے ہاتھ کاٹ دیے، تب وہ بھی اس قدیم منطق سے خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مشہورِ زمانہ داستان کے مطابق، مغل شہنشاہ، شاہ جہاں نے عالیشان تاج محل تعمیر ہونے کے بعد فرمان جاری کیا کہ اس خوبصورت عمارت کی کبھی بھی نقل نہ بنائی جائے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انہوں نے اس شاہکار کے تمام معماروں کے ہاتھ کٹوا دیے تھے۔

اسی فرضی داستان پر تھیٹر ڈرامہ 'گارڈز ایٹ دی تاج' مشتمل تھا۔ نیو یارک سے ایوارڈ یافتہ یہ ڈرامہ اس وقت لندن کے کھچا کھچ بھرے بش تھیٹر میں جاری ہے اور اس بارے میں کافی تعریفی ریویوز بھی لکھے جا رہے ہیں۔ دو اداکاروں پر مشتمل ڈرامے میں تناؤ سے بھرے مناظر ہیں اور زیادہ تر مناظر آپ پر ہیبت طاری کر دیتے ہیں، جبکہ مزاح کے چند لمحے تناؤ کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

راجیو جوزف کا لکھا یہ ڈرامہ فرائض، خوبصورتی اور طاقت کے تصورات کا گہرائی سے جائزہ پیش کرتا ہے۔ اگر، جیسے بابر کہتا ہے، تاج محل جیسی خوبصورت عمارت کی نقل نہیں بننے گی، تو پھر کیا یہ خوبصورتی کی موت نہیں؟ اور اگر ایسا ہے، تو کیا وہ خوبصورتی تباہ کرنے کا مجرم نہیں؟

ہمایوں اپنے ساتھی کو یاد دلاتا ہے کہ وہ صرف احکامات کی بجا آوری کر رہے ہیں۔ خون آلود اس عمل کو سر انجام دینے کے بعد دونوں کو ترقی دی جاتی ہے اور حرم کے محافظ بنا دیے جاتے ہیں جہاں وہ شہنشاہ کی نجی زندگی میں بھی ساتھ ہوں گے۔ ہمایوں کہتا ہے کہ اپنا کام خوش اسلوبی سے سر انجام دینے پر ہی تو یہ صلہ ملا ہے۔

مگر بابر، جس نے خود 40 ہزار ہاتھ کاٹے تھے جبکہ ہمایوں نے زخموں کو داغنے (زخم کو آگ سے جھلسانے) کا کام کیا تھا، اُن خون آلود یادوں کو اپنے ذہن سے نکال نہیں پاتا اور شہنشاہ کو قتل کرنے کی باتیں شروع کر دیتا ہے۔ ہمایوں اسے خاموش کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بالآخر قید خانے میں ڈال دیتا ہے۔

ڈرامے کے ایک ہیبت ناک منظر میں، جب وہ بابر کے ہاتھوں کو کاٹنے والا ہی ہوتا ہے کہ اسٹیج پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اگلے منظر میں ہم انہیں ایک جنگل میں دیکھتے ہیں۔ مگر، ہم تصوراتی جہان میں ہیں یا نہیں، یہ واضح نہیں ہو پاتا۔

ڈرامے کا شاید سب سے زیادہ حیرت میں ڈال دینے والا منظر وہ ہوتا ہے جب بغیر کسی وارننگ کے اسٹیج پر روشنی پڑتی ہے اور اسٹیج کسی مذبح خانے جیسا نظر آتا ہے، اسٹیج پر ہر جگہ خون بکھرا ہوا ہے اور دو اداکار بھی موجود ہیں۔ بابر تلخی کے ساتھ سوچتا ہے کہ ان دونوں کو نہ صرف اس رات ناگوار عمل پر عمل پیرا ہونا تھا بلکہ خون آلود فرش کی صفائی بھی کرنی ہے۔

فرش کو صاف کرتے وقت دونوں اپنے ناگوار عمل کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ بابر اپنے کیے پر شدید شرمندگی محسوس کرتا ہے، جبکہ ہمایوں اسے یقین دلاتا ہے کہ وہ دونوں تو صرف احکامات کی بجا آوری کر رہے تھے۔ بابر کو تاج محل کا نقشہ اور ڈیزائن بنانے والے استاد عیسیٰ کے ہاتھ کاٹنے کا لمحہ یاد آتا ہے۔ اس سے قبل وہ بڑے ستائشی انداز میں سلطنت کے اس 'سب سے ذہین انسان' کے بارے میں بات کر چکے ہوتے ہیں۔


میں سمجھتا ہوں کہ تھیٹر میں جذبات سے کھلواڑ کرنے کی طاقت ہے جو سینما کے پاس بھی نہیں: اسٹیج حقیقی دنیا کا ایک استعارہ بن جاتا ہے، جبکہ اسکرین ہمیں اداکاروں کی اداکاری اور ان کے الفاظ سے دور کر دیتی ہے بھلے ہی انہوں نے کتنے شاندار انداز میں اپنا کردار نبھایا ہو۔ حقیقت سے قریب تر کارکردگی اس وقت ہی پیش کی جا سکتی جب اداکار خود آپ کے سامنے اداکاری کرے۔ شیکسپیئر سے بھی پہلے دور سے لے کر تھیٹر نسل در نسل لندن کے باسیوں کو تفریح فراہم کرتا آیا ہے، ظاہر ہے لندن کو تو دنیا میں تھیٹر کا مرکز بننا ہی تھا۔

برصغیر کئی شاندار شعرا اور ناول نگاروں کا مالک ہونے کے باوجود بھی کن وجوہات کی بنا پر معیاری تھیٹر پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ گارڈز ایٹ دی تاج نے بھی یہ بات ثابت کی ہے کہ جس میں چند اداکار اور لکھاری جن کی جڑیں برصغیر میں پیوست ہیں مگر باہر اپنے کام کا لوہا منوا رہے ہیں۔ میری ذاتی تھیوری بھی یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اپنے دردناک بحرانوں — جو ایسے موضوعات ہیں جو ایک معنی خیز تھیٹر کی جان ہیں— کا مقابلہ کرنے اور ان کا سامنا کرنے سے کتراتا ہے۔

صرف دو اداکاروں پر مشتمل تھیٹر ڈرامے ڈراما نگاروں اور ہدایت کاروں کے لیے خاصے محنت طلب ہوتے ہیں، اور سب سے زیادہ خود اداکاروں کے لیے محنت طلب ہوتے ہیں۔ 90 منٹوں تک تھیٹر میں بیٹھے حاضرین کو اسٹیج پر متوجہ رکھنے کے لیے جاندار کارکردگی پیش کرنی ہوتی ہے، اور گارڈز ایٹ دی تاج میں انہوں نے اس کام کو انجام دیا ہے۔ ہمایوں ایک قابل بھروسہ اٹل سپاہی ہے۔ بابر خواب پالنے والا شخص ہے، ہمیشہ نئی ایجادات بشمول ہوا میں اڑنے والی ڈولی کے بارے میں سوچتا رہتا ہے اور خوبصورتی جیسے مجرد (abstract) تصورات میں دلچسپی رکھتا ہے۔

بش تھیٹر حسب روایت کئی تناؤ سے بھرے اور تجرباتی ڈرامے پیش کر چکا ہے۔ میں یہاں دی کیوریئس انسی ڈینٹ آف دی ڈاگ اور ڈس گریسڈ بھی دیکھ چکا ہوں، اور اس تھیٹر کی دوبارہ تزئین آرائش کے بعد اب مزید آرامدہ محسوس ہوا۔ ڈینی اشوک نے ڈس گریس میں بھی کام کیا تھا، یہ دکھی ڈرامہ نیو یارک کے ایک کامیاب مسلمان وکیل کے بارے میں تھا، جو یہودی قانونی مرکز میں کام کرنے کی خاطر اپنے پاکستانی پس منظر کو پوشیدہ رکھتا ہے اور ہندوستانی شناخت کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ جب اس کی اصل شناخت کا انکشاف ہوتا ہے تب اس کی زندگی زبردست حد تک متاثر ہو جاتی ہے۔


شاہ جہاں کے حکم پر 40 ہزار ہاتھ کاٹے جانے کے بارے میں کہانی لوک قصوں کا حصہ بن چکی ہے۔ حالانکہ اس واقعے کے بارے میں کوئی بھی مصدقہ حوالہ نہیں ملتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے کو مغلوں اور اس زمانے کے دیگر بادشاہوں کی جانب سے طاقت کے بے ضابطہ استعمال کا ثبوت مانا جاتا ہے۔ تاج محل کی تعمیر میں بے تحاشا دولت اور دو دہائیوں کا وقت لگا۔ لیکن شہنشاہوں سے کب احتساب ہوا ہے اور اگر اس فرضی داستان میں سچائی بھی ہوتی تو بھی شاہ جہاں سے سوال پوچھنے کی ہمت کس کے پاس تھی۔

اس بلا احتساب طاقت کا استعمال 21 صدی میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے: جیسے شمالی کوریا کے کم جونگ اِل، اور ان کا ملک جس پر ان کے خاندان کی تین پیڑھیاں حکمرانی کر چکی ہیں۔ یا پھرسعودی شاہی خاندان جیسے آمروں کی بد اعمالیاں۔ لہٰذا یہ صاف ہے کہ، طاقت — جب تک اس میں مضبوط روایتوں اور اداروں کا عمل دخل شامل نہیں — حکمرانوں کو اپنے نشے میں چور کر دیتی ہے۔

گارڈز ایٹ دی تاج، جہاں 17 ویں صدی کی صرف ایک داستان پر مشتمل تھا، وہاں یہ موجودہ دور کے مسائل کا بھی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ آج ہمارے ارد گرد مضبوط اور بے رحم رہنما ابھر رہے ہیں، چاہے وہ روس کا پیوٹن ہو، ترکی کا اردگان یا مصر کے سیسی ہوں۔

وہ بھلے ہی ہاتھ کاٹنے کا فرمان تو جاری نہ کریں مگر طاقت کا بے ضابطہ استعمال کر رہے ہیں۔ شاید انہیں شاہ جہاں کی قسمت سے کچھ سیکھ لینا چاہیے کیونکہ انہیں ان کے ہی بیٹے نے تاج محل کے قریب ایک مینار میں قید کر دیا تھا جہاں سے بیٹھ کر وہ اس شاہکار تاج محل کا حسرت سے نظارہ کرتے جنہیں خود انہوں نے بنایا تھا۔

یہ مضمون 22 مئی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔