1906 سے 1948: طلوعِ پاکستان

یہ تصویریں پاکستان کی 70 ویں سالگرہ کی خصوصیات سے پردہ اٹھاتی ہیں۔
اپ ڈیٹ اگست 16, 2017 10:14am

برصغیر کی تقسیم کے وقت ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ افراد بے گھر ہوئے،جب کہ پُر تشدد واقعات میں 20 لاکھ افراد نے جانیں گنوائیں۔

اس فیچر میں 42 برس کی جدوجہد کا احاطہ کیا گیا ہے، جو 1906 سے لے کر 1948 تک رہی، کیوں کہ اسی دورانیے میں آزادی کی تحریکیں اور جدوجہد سامنے آئی، پھر قوم نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک علیحدہ مسلم ریاست حاصل کی۔

پاکستان اب 70 برس کا ہوچکا ہے اور اب اس مملکت خداداد کی داستان ہماری اور آپ کی کہانی بن چکی ہے۔

مستقبل کی طرف اشارہ


25 دسمبر 1947


قائد اعظم کی آخری سالگرہ


مندرجہ بالا تصویر جو ڈان کے اپنے اسٹار آرکائیو سے حاصل کی گئی، اس میں قائداعظم محمد علی جناح اپنی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر ڈان اخبار پڑھ رہے ہیں۔

محمد علی جناح کی پاکستان میں پہلی سالگرہ 25 دسمبر 1947 کو منائی گئی، جو اتفاق سے ان کی آخری سالگرہ بھی ثابت ہوئی، ان کے جنم دن کی صبح کا آغاز ڈان کراچی کے صحافیوں کے چھوٹے وفد کے ساتھ ملاقات سے ہوتا ہے، وفد کی سربراہی ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین نے کی، وفد نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، اسی دن ہی وہ ڈان کے مارننگ ایڈیشن کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔

اُسی دن وہ ان دنوں کو بھی یاد کرتے ہیں، جب دہلی سے ڈان کا آغاز کیا گیا تھا، مگر انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا کہ ڈان کراچی اخلاقیات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اور پھر کچھ غیر معمولی ہوا، محمد علی جناح نے اپنے کیریئر میں کبھی بھی اس بات کی توثیق نہیں کی کہ ہم بطور مصنوعات یا برانڈ بننے پرغور کریں گے اور ابھی تک یہی صورتحال ہے، وہ اپنے ساتھیوں کی فرمائش پرڈان کی کاپی اٹھا کر اسے پڑھتے ہوئے ایک تصویر کھنچوانے پر رضامند ہوجاتے ہیں۔

بعد ازاں قائداعظم گورنر جنرل ہاؤس میں سرکاری تقریب میں بھی شرکت کرتے ہیں، لیکن وہ اپنے دوست سر غلام حسین ہدایت اللہ کی جانب سے سالگرہ پارٹی دیے جانے کی وجہ سے سرکاری پارٹی سے جلد چلے جاتے ہیں۔

سندھ ویمن نیشنل گارڈ کے کمانڈر پاشا ہارون ان کی سالگرہ پر لاہور کے ایک شاعر کی طرف سے لکھی گئی نظم گاتے ہیں، جس کے بول درج ذیل ہیں۔

ملت کے لیے غنیمت ہے آج تیرا دم، اے قائداعظم

شیرازہِ ملت کو کیا تونے فراہم، اے قائد اعظم

9 ماہ بعد 11 ستمبر 1948 کو قائداعظم بلآخر تپ دق سے طویل جنگ ہار جاتے ہیں، یہ بیماری انہیں پچھلی ایک دہائی سے تھی، مگر اسے راز میں رکھا جاتا ہے، ڈان نے اگلے دن اعلان کیا کہ ’قائد اعظم اب ہم میں نہیں رہے‘، ’پاکستان زندہ باد‘۔

اسی دن بھارتی فوجیں نوابی خود مختار ریاست حیدرآباد میں داخل ہوتی ہیں اور ریاست ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے کا اعلان کرتی ہے۔


قائداعظم 1947


ثابت قدم میراث

—فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم، رولی بک دہلی
—فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم، رولی بک دہلی

یہ تصویر، جو کہ مارگریٹ بروک وائٹ کی جانب سے لی گئی کئی تصاویر میں سے ایک ہے، 5 جنوری 1948 کو ’لائف میگزین‘ نامی جریدے کے سرورق پر شائع ہوئی۔

آج پاکستان اپنے قیام کے 70 سال کی خوشیاں منا رہا ہے تو اس موقع پر قائدِاعظم محمد علی جناح کی عظمت کا تذکرہ بھی قابل غور ہے جنہوں نے 1947 میں دنیا کی سب سے بڑی مسلم ریاست کی بنیاد رکھی۔

قانون کی حکمرانی، آزادی رائے، سماجی انصاف اور تمام شہریوں کے لیے یکساں مواقع ان کی میراث کے جوہر ہیں، ایک ایسی میراث جو وہ چاہتے تھے کہ تمام پاکستانی مستقبل میں بھی تھام کر رکھیں۔

حالانکہ حکومت اور قانون سازی لوگوں کے منتخب نمائندوں کا اختیارِ خصوصی ہے، لیکن قائداعظم 1919 تک امپیریل لیجسلیٹو کونسل سے کہا کرتے تھے کہ مجوزہ قانون کی رو سے کوئی بھی شخص اپنی آزادی نہیں کھو سکتا اور نہ ہی اس سے اس کی آزادی چھینی جاسکتی ہے۔

محمد علی جناح ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اسلام نے ہمیں میانہ روی، انصاف اور عدل کی تعلیم دی، انہوں نے واضح کیا کہ ان کے بغیر پاکستان کبھی بھی ایک دینی ریاست نہیں بن سکتا۔

11 اگست 1947 کو اپنے سیاسی دور کی تاریخی تکرار کے موقع پر قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ آپ اپنے مندروں، مسجدوں اور اپنی عبادت گاہوں میں (عبادت کی غرض سے) جانے کے لیے بالکل آزاد ہیں، چاہے آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، قوم یا ذات سے ہو اس (نئی) ریاست کو اس حوالے سے کوئی مسائل نہیں۔

رشوت اور کرپشن کے حوالے سے جب قائداعظم نے بات کی تو انہوں نے اسے ’زہر قاتل‘ قرار دیا اور اعلان کیا کہ ہمیں کرپشن سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ آپ اس حوالے سے اس اسمبلی کے لیے جتنا جلد ممکن ہو سکا اقدامات کریں گے۔


دہلی، اگست 1947


آزادی کے لیے طویل انتظار

—فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم، رولی بک دہلی
—فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم، رولی بک دہلی

مندرجہ بالا تصویر کو وٹنیس ٹو لائف اینڈ فریڈم رولی بک دہلی کی اجازت سے یہاں شایع کیا گیا، یہ تصویراگست 1947 میں دہلی میں موجود مہاجر کیمپ کے باہر کھینچی گئی، تصویر میں ایک نوجوان مہاجر کو دیکھا جاسکتا ہے، جس نے پریشانی کے عالم میں اپنے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، اس کے اطراف میں مہاجر کیمپ نظرآ رہا ہے۔

مہاجر کیمپ میں ہزاروں مسلمان یہ دعائیں مانگتے ہیں کہ وہ جلد سے جلد پاکستان جائیں، وہاں پنجاب سے سیکڑوں سکھ اور ہندو مہاجر اپنے شہر چھوڑتے ہیں، مسلمانوں کے منظم قتل عام کے باعث ہر طرف خوف کا ماحول ہوتا ہے، اور ایسے واقعات نے انڈو- اسلامک تہذیب اور سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے اندازوں کے مطابق شہر میں صرف ایک ہزار ہلاکتیں ہوئیں، جب کہ دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس اندازے سے 20 گنا زیادہ تھی، مئورخ گیاندرا پانڈے نے اس وقت دہلی میں تشدد سے ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار اکٹھے کیے، جن کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 20 سے 25 ہزار تھی۔

پرتشدد اور ہلاکت خیز واقعات کی وجہ سے ہزاروں مسلمان مہاجرین کو دہلی کے تاریخی مقامات پرانا قلعہ، عیدگاہ اور نظام الدین پر بنائی گئی کیمپس میں منتقل کیا گیا۔

کشیدگی کے خاتمے پر تقریبا 33 لاکھ مسلمانوں کو پاکستان منتقل ہونے پر مجبور کیا گیا، 1951 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق دہلی میں مسلمانوں کی آبادی کم ہوئی، 1941 میں مسلمانوں کی آبادی 32.22 فیصد تھی، جو 1951 میں کم ہوکر صرف 9.8 فیصد رہ گئی۔

اندازے کے مطابق تقسیم کے نتیجے میں ڈیڑھ کروڑ افراد نے سرحد کی دونوں جانب سفر کیا، اور انہوں نے اپنے اپنے مستقبل کے ملک کو منتخب کیا۔


نوابی ریاستیں


ڈھاکہ، مارچ 1948


سپریم کمانڈر کا دورہ

—فوٹو: بشکریہ گوہر ایوب آرکائیو
—فوٹو: بشکریہ گوہر ایوب آرکائیو

یہ قائداعظم محمد علی جناح کا ستمبر 1948 میں کیا گیا ڈھاکہ کا آخری دورہ تھا، یقیناً ان کی جانب سے اس سے پہلے مشرقی پاکستان کے دارالحکومت کے متعدد دورے کیے گئے۔

آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد 1906 میں ڈھاکہ میں ہی رکھی گئی اور محمد علی جناح نے کلکتہ سے بنگال کے شہر ڈھاکہ کے کئی دورے کیے، کیوں کہ برطانوی راج میں اسے اہم سیاسی شہر کی حیثیت حاصل تھی، البتہ تقسیم ہند کے بعد ڈھاکہ صرف مسلم اکثریتی صوبے مشرقی بنگال کی سیاست کا گڑھ بن گیا۔

جس وقت بنگال کے عوام نے یہ مطالبہ کیا کہ ریاست کی قومی زبان کا درجہ اردو نہیں بلکہ بنگالی کو ملنا چاہیے، اُس وقت مشرقی پاکستان کے وزیراعلیٰ خواجہ ناظم الدین تھے اور اس معاملے کے بعد حالات کو قابو کرنے کے لیے محمد علی جناح ڈھاکہ تشریف لے آئے۔ کچھ دن بعد 24 مارچ کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا کہ عوام کو صوبے کی زبان اپنی مرضی سے اختیار کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن پورے ملک میں رابطے کی ایک ہی زبان ہونی چاہیے اور اردو کو ہی قومی زبان کا درجہ حاصل ہونا چاہیے۔

جنرل ایوب خان 1958 میں فوجی بغاوت کے بعد ملک کے دوسرے صدر بنے اور 1969 میں مشرقی پاکستان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں ان کو سخت مزاحمت کا سامنا رہا، ان پر صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

اس فوجی حکمرانی کے نتیجے میں مشرقی پاکستان اور اس کے دارالحکومت ڈھاکہ کو پاکستان محض 13 سال بعد کھو دیتا ہے۔


گلگت اور کشمیر 1947


جزوی جیت

یکم نومبر 1947 کو گلگت، ہنزہ اور بلتستان نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرلیا۔

استور، ہنزہ، گلگت اور نگر کو ڈوگرا مہاراجہ نے فتح کیا تھا، مگر 1889 میں برطانوی سرکار نے گلگت ایجنسی کو روسیوں کے خلاف مزاحمت کے لیے اہم علاقے کے طور پر تشکیل دیا، پھر انگریزوں نے 1935 میں گلگت ایجنسی کو مہاراجہ ہری سنگھ سے 60 سال کے لیز پر حاصل کیا۔

چلاس کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ میجر ولیم نے 1947 میں اعلان کیا کہ وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے حکم دیا ہے کہ گلگت ایجنسی کی 1935 سے لی گئی لیز 49 برس میں ختم کردی جائے گی، اگرچہ اس علاقے کی اکثریت مسلم آبادی پر مبنی ہے، تاہم اسے مہاراجہ ہری سنگھ کے حوالے کردیا جائے گا۔

دریں اثناء پنجاب میں سکھوں اور ہندوؤں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات کی کہانیاں گلگت میں داخل ہوئیں اور یہاں بھی جلاؤ گھیراؤ کے واقعات ہونے لگے، جس کے بعد 26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے اتحاد کے معاہدے پر دستخط کیے (دستخط شدہ معاہدہ نہیں مل سکا)

معروف تاریخ دان احمد حسن دانی کے مطابق اس امتیازی فرق کو دیکھتے ہوئے میجر براؤن نے یکم نومبر 1947 کو گورنر کو ہٹاتے ہوئے گلگت میں صوبائی حکومت قائم کردی اور وزیراعلیٰ نارتھ ویسٹ فرنٹیئر پروژنل (این ڈبلیو ایف پی) کو خط لکھ کر پاکستان کی جانب سے علاقے کو ٹیک اوور کرنے کا کہا، ان کے مطابق عوام میں بغاوت کے جذبوں کے باوجود پاکستان کے لیے مضبوط جذبات پائے جاتے تھے۔

فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم، رولی بک دہلی
فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم، رولی بک دہلی

مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے ہندوستان تک رسائی حاصل کرنے کے بعد مسلح قبائلی افراد کا یہ جتھا باچا گل کا منتظر ہے، جن کی سربراہی میں کشمیر میں جنگ لڑی گئی، مسلح قبائلیوں کا یہ جتھا سری نگر کی بیک سائیڈ سے کشمیر میں داخل ہوا، مگر جلد ہی اسے اس جگہ دھکیل دیا گیا جہاں آج آزاد کشمیر ہے۔

آسٹریلوی مؤرخ کرسٹوفر سنیڈن کے مطابق پونچھ میں یہ مزاحمت ٹیکس کے معاملے سے شروع ہوتی ہے، تاہم یہ اُس وقت مسلح جنگ کے روپ میں بدل جاتی ہے، جب ریاست کشمیر کی فوج عوام پر فائرنگ کردیتی ہے، اس واقعے کے 2 دن بعد وزیراعلیٰ این ڈبلیو ایف پی نے قبائلیوں پر مشتمل ایک مسلح گروپ تیار کیا، جس نے دھیر کوٹ میں موجود مہاراجہ ہری سنگھ کے فوجیوں کے کیمپ پر حملہ کردیا، کشیدگی کو بڑھانے والے پونچھ کے مسلمان تھے، نہ کہ پاکستانی علاقے کے قبائلی پٹھان۔

بھارت کی جانب سے کشمیر میں فوجی مداخلت اسی جواز کی بناء پر کی گئی کہ پاکستانی قبائلیوں نے کشمیر پر حملہ کیا، یکم جنوری 1948 کو بھارت یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں لے گیا، جس نے ایک قرار داد منظور کی، جس میں پاکستان کو جموں و کشمیر سے نکل جانے اور بھارت کو فوج کی تعداد انتہائی کم کرنے کا کہا گیا، بھارت نے لوگوں کی خواہش کا نام دے کر وہاں فوج موجود رکھی۔

تنازعات کو حل کرنے کا میکانزم ختم ہونے کی وجہ سے آج تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوسکا۔


سوات 24 نومبر 1947


ولی کی رضامندی

فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم، رولی بک دہلی
فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم، رولی بک دہلی

سوات کو ریاست کا درجہ اُس وقت حاصل ہوا، جب سکھ اور افغان بادشاہت کا خاتمہ ہوا، جب 1849 میں انگریزوں نے پشاور پر قبضہ کیا تو سوات پر بنیادی طور پر یوسف زئی پٹھان حکمران تھے، اسی سال قبائلی جرگے نے سید اکبر شاہ کو سوات کا نواب منتخب کیا، اگرچہ سوات میں حقیقی طاقت علاقے کے بادشاہ اخوند کے پاس تھی، جسے سیدو بابا کے نام سے جانا جاتا تھا۔

سیدو بابا کی 1887 میں وفات کے بعد سوات میں ان کے بیٹے اور پوتے کے درمیان جنگ شروع ہوگئی، بلآخر 1917 میں قبائلی جرگے نے سیدو بابا کے ایک پوتے مینگل عبدالودود کو سوات کا بادشاہ منتخب کیا، اگرچہ 1923 تک انہوں نے پورے سوات پر حکمرانی حاصل کرلی تھی، مگر برطانوی سرکار نے انہیں باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، البتہ 1926 میں انگریز سرکار نے انہیں ولی کا لقب دیا، جو کسی قدر مذہبی ہے، کیوں کہ انگریز کا خیال تھا کہ بادشاہ کا لقب صرف ملکہ برطانیہ کا حق ہے۔

برطانوی سرکار کی جانب سے پوزیشن دیے جانے کے باوجود سوات کے نامزد بادشاہ ولی کو جرگے کے احکام اور قوانین پر بھی اختیار حاصل رہا۔

—فوٹو: بشکریہ مینگل اورنگزیب آرکائیو، سوات
—فوٹو: بشکریہ مینگل اورنگزیب آرکائیو، سوات

1931 تک سوات کا رقبہ 18 ہزار اسکوائر کلومیٹر تک تھا اور اس کی آبادی 21 لاکھ 60 ہزار تھی، ریاست کی زیادہ آبادی مسلمانوں پر مبنی تھی، لیکن ہندوؤں کی بھی کم تعداد موجود تھی، سوات نے بھی کالام کی جانب سے پاکستان کے ساتھ 1947 میں الحاق کے فوری بعد الحاق کرلیا، جس نے چترال اور دیر کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

اگرچہ پاکستان نے سوات کے دعوؤں کو مسترد کردیا، مگر ولی کو امید تھی کہ پاکستان کالام سے متعلق ان کے دعوے کو تسلیم کرلے گا، سوات کے آخری ولی جہانزیب نے اپنے نوٹ میں لکھا ٗ پاکستان کی تخلیق کے بعد ہم فوری طور پر ایک نئی ریاست کے طور پر اس میں شامل ہوئے اور ہم محب وطن ہیں، میں نے پولیٹیکل ایجنٹ نواب شیخ محمود سے اس سارے معاملے پر ٹیلی فون پر گفتگو کی اور کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ الحاق پر دستخط کرنے جا رہے ہیںٗ۔

ولی نے 24 نومبر 1947 کو الحاق کے دستاویزات پر عملدرآمد شروع کردیا۔


بہاولپور 3 اکتوبر 1947


امیر کا مطمئن ہونا

—فوٹو: بشکریہ، شہزادی یاسمین آرکائیو، لندن
—فوٹو: بشکریہ، شہزادی یاسمین آرکائیو، لندن

بہاولپور کے نوابوں کا دعویٰ تھا کہ ان کا شجرہ نسب خلیفہ بغداد سے ملتا ہے، اس لیے یہ بات انہیں ہندوستان کے دیگر شہزادوں سے منفرد بناتی ہے، انہیں پہلی بار امداد کے طور پر نادر شاہ کی بادشاہت سے زمین ملی، اس کے بعد وہ احمد شاہ درانی کی بادشاہت میں آجاتے ہیں، جب احمد شاہ درانی کی بادشاہت ڈھیر ہوجاتی ہے تو وہ آزاد ہوجاتے ہیں، تاہم جیسے ہی سکھ طاقت میں آتے ہیں تو انہیں 1833 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ معاہدے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

نواب صادق عباسی صرف 18 ماہ کی عمر میں بہاولپور کے حکمران بنتے ہیں، لیکن 1924 تک ریاست ان کی بڑی بہن کے احکامات پر عمل کرتی ہے۔

1941 تک ریاست بہاولپور کی اراضی 17 ہزار 449 مربع میل اور آبادی 13 لاکھ تک ہوتی ہے، 1947 میں نواب خرابی صحت کے باعث انگلینڈ میں ہوتے ہیں اور ڈاکٹرز کی جانب سے انہیں وہاں مزید قیام کا مشورہ دیا جاتا ہے، یہ وقت بہاولپور کے لیے نہایت ہی اہم تھا، اس کی سرحدیں ہندوستان اور پاکستان سے ملتی تھیں، اسے کسی ایک ملک کا انتخاب کرنا تھا۔

نواب کی غیر موجودگی میں کوئی فیصلہ نہ ہوپایا، مؤرخ اور بہاولپور ریاست میں پبلک ورکس کے وزیر کے طور پر خدمات سر انجام دینے والے سر پینڈرل مون نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ محمد علی جناح کانگریس کے رہنماؤں کی طرح حکمران شہزادوں کو قید کرنا یا ان کی طاقت ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔

اپریل 1947 میں یونینسٹ وزیر مشتاق احمد گرمانی پنجاب کے وزیراعلیٰ مقرر ہوئے، اختیارات کی منتقلی کے وقت یہ افواہیں عام تھیں کہ بہاولپور کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا جائے گا۔

15 اگست 1947 کو نواب صادق عباسی نے آزاد حکمران کے طور پر رہنے کا اعلان کرتے ہوئے بہاولپور کو پاکستان کے تحت چلانے کی خواہش کا اظہار کیا، جس کے بعد حکومت پاکستان نے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے بہاولپور کو پاکستان کا حصہ بنانے پر کام شروع کردیا اور نواب کے انگلینڈ سے واپس آنے تک بات چیت کا انتظار کیا جاتا ہے۔

مشتاق احمد گرمانی بہاولپور کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی افواہوں کے باوجود ان پر الحاق کے لیے دباؤ نہیں ڈالتے، اس معاملے کو حل کرنے کے لیے امیر کے دستخط کافی تھے، جو انہوں نے 3 اکتوبر 1947 کو کیے۔

—فوٹو: بشکریہ، شہزادی یاسمین آرکائیو، لندن
—فوٹو: بشکریہ، شہزادی یاسمین آرکائیو، لندن

پاکستان کے ساتھ الحاق سے پہلے نواب صادق خان عباسی بہاولپور ریاست کے آخری بادشاہ تھے، انہوں نے ریاست میں بہترین طرز حکمرانی کے لیے خلیفہ خاندان کی سفری روایات کو برقرار رکھا۔

انہوں نے اسکول، ہسپتال، پل اور سڑکیں تعمیر کیں، زراعت کے لیے آبپاشی نظام تشکیل دیا، ریاست میں ٹیکس کلیکشن کے سب سے بہترین اور معیاری نظاموں میں سے ایک نظام رائج کیا اور معروف گاڑیاں رولز رائس اور بینٹلیس کی کئی گاڑیاں رکھیں، وہ فائن آرٹس اور کھانوں سے محبت کرنے کے طور پہچانے جاتے تھے۔


خیرپور 3 اکتوبر 1947


چھوٹے بادشاہ کو خوش آمدید

—فوٹو: بشکریہ میر آف خیرپور فیملی آرکائیو
—فوٹو: بشکریہ میر آف خیرپور فیملی آرکائیو

سندھ میں تالپوروں کی حکمرانی 1783 سے اُس وقت شروع ہوئی، جب حیدرآباد کے میر فتح علی خان تالپور نے خود کو رئیس سندھ قرار دیا، انہیں بادشاہ شاہ زمان درانی کی قربت حاصل رہی، میر فتح علی خان تالپور کا بھتیجا میر سہراب خان تالپور روہڑی منتقل ہوا، جہاں اس نے ریاست خیرپور کی تشکیل کی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو قبول کرتے ہوئے خیرپور کے میروں نے پہلی افغان جنگ کے دوران برطانوی سرکار کو مدد فراہم کرنے کی پیش کش کی، یہ ایک حیران کن قدم تھا اور اسے برقرار رکھنا ریاست خیرپور کی بڑی پالیسی تھی۔

24 جولائی 1947 کو میر فیض محمد خان تالپور دوئم نے خرابی صحت کی وجہ سے انگلینڈ کا دورہ کیا تو انہوں نے اپنے بیٹے مسٹر جارج علی مراد خان تالپور دوئم کو حکمران مقرر کیا، لیکن کم عمر ہونے کی بناء پر ان کی رہنمائی کے لیے بورڈ آف چیئرمین تشکیل دیا جاتا ہے، جو میر خاندان کے قریبی مردوں پر مبنی ہوتا ہے، اس میں میر غلام حسین بھی شامل ہوتے ہیں۔

1940 تک ریاست خیرپور کا رقبہ 6 ہزار 50 اسکوائر میل، جب کہ آبادی قریباً 3 لاکھ تھی، جس میں سے 16 فیصد غیر مسلم تھے۔

لاہور کو کراچی سے ملانے والے ریلوے ٹریک کا بہت بڑا حصہ اس ریاست میں تھا، جو اسے پاکستان کے ساتھ ملانے کا اہم جز تھا۔

4 اگست 1947 کو ریاست خیرپور ایک نوٹی فکیشن جاری کرتی ہے کہ ریاست 15 اگست کو یوم آزادی منائے گی، تاہم حکومت پاکستان نے بڑی کوششوں کے بعد ریاست خیرپور کو قائل کرلیا، جس کے بعد چھوٹے بادشاہ نے 3 اکتوبر 1947 کو اُسی دن پاکستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے، جس دن ریاست بہاولپور نے اس پر دستخط کیے۔

حکومت پاکستان نے اس ایک ہی دن 2 اہم ریاستیں حاصل کیں، جو نہ صرف زمینی لحاظ سے اہم تھیں، بلکہ زرعی، صنعتی اور اسٹریٹجک پوزیشن کے حوالے سے بھی اہم تھیں۔


قوم کی تعمیر، لاہور 1947-1946


رہنما کے ساتھ ایک اقرار

—فوٹو: بشکریہ لاہور میوزیم آرکائیوز
—فوٹو: بشکریہ لاہور میوزیم آرکائیوز

مندرجہ بالا تصویر تحریک پاکستان کے فوٹوگرافر فاسٹن ایلمن چوہدری نے 7 جنوری 1946 کو پنجاب یونیورسٹی کے لان میں کھینچی، تصویر میں قائداعظم محمد علی جناح کو طلبہ سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

طلبہ اور خاص طور پر پنجاب کے طلبہ نے 1945 میں ہونے والے عام انتخابات میں اہم کردار ادا کیا۔

ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا مسلم لیگ کے لیے اہم تھا، کیوں کہ انتخابات میں ناکامی کا مطلب یہ تھا کہ کانگریس اور برطانوی سرکار کی جانب سے پاکستان کے حوالے سے مزید مذاکرات منسوخ کردیے جاتے اور اسی لیے ہی مسلم لیگ نے طلبہ کی جانب رخ کیا اور انہیں متحرک کرنے کی کوششیں کیں۔

نوابزادہ لیاقت علی خان علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ کو ہدایات کرتے ہیں کہ وہ مسلم لیگ کی مہم کے لیے اپنی تعلیم کو کم وقت دیں، اسی حوالے سے یونیورسٹی میں ایک تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں کئی طلبہ کو تربیت دینے کے بعد صوبے کے مختلف علاقوں میں بھیجا جاتا ہے، اسلامیہ کالج لاہور میں ایک الیکشن دفتر کھولا گیا، جب کہ مسلم لیگ کے پیغام کو پھیلانے کے لیے پنجاب مسلم اسٹوڈنٹ فیڈریشن نے ایک الیکشن بورڈ کی تشکیل دی۔

قریباً 200 طلبہ کو 20 حلقوں اور 400 دیہاتوں میں عارضی طور پر تعینات کیا گیا، مہم کے اختتام کے بعد مسلم لیگ نے اعلان کیا کہ طلبہ نے تقریباً 60 ہزار دیہاتوں کا دورہ کیا۔

اس جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم لیگ کو انتخابات میں بھرپور کامیابی ملی اور اس نے 37-1936 کے انتخابات میں ملنے والی ناکامی کو ختم کردیا۔

—فوٹو: بشکریہ لاہور میوزیم آرکائیوز
—فوٹو: بشکریہ لاہور میوزیم آرکائیوز

سر سکندر حیات خان 1942 کو چل بسے تو قائد اعظم محمد علی جناح نے حالات کو قابو کرنے کے لیے پنجاب کی سیاست میں مداخلت کی، کیوں کہ ان کے جانشین ملک خضر حیات ٹوانہ 1937 میں جناح-سکندر معاہدے کو مسترد کرچکے تھے، مذاکرات کی ناکامی کے بعد ملک خضر حیات کو مسلم لیگ سے نکال دیا گیا تھا۔

1945 میں ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ، پنجاب میں واحد بڑی پارٹی کے طور پر اُبھر کر سامنے آئی، لیکن اس کے باوجود برطانوی سرکار کی جانب سے اسے حکمرانی کے لیے کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی، انہوں نے ملک خضر حیات کو ہندو اور سکھوں سے مل کر اتحادی حکومت بنانے کے لیے کہا۔

یہ عمل پنجاب میں بہت بڑی سول نافرمانی اور تشدد بن کر ابھرتا ہے اور جنوری 1947 میں مسلم لیگ کے رہنماؤں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے، خواتین کے مظاہروں پر پابندی نافذ کرکے بے شمار خواتین کو عدالتی تحویل میں لیا گیا، جس کے نتیجے میں آخر میں اتحادی حکومت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ملک خضر حیات استعفیٰ دیتے ہیں اور صوبے میں گورنر راج نافذ کردیا جاتا ہے۔

خواتین اور خاص طور پر طالبات نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔


نیشنل گارڈ 1948


خود مختار خواتین

—فوٹو: بشکریہ شیفیلڈ آرکائیوز
—فوٹو: بشکریہ شیفیلڈ آرکائیوز

سفید یونیفارم میں ملبوس قریباً 25 سے 30 کم عمر لڑکیوں پر مشتمل سندھ ویمن نیشنل گارڈ کا دستہ، اپنے تحفظ اور بچاؤ کی تربیت حاصل کر رہا ہے، جنہوں نے بعد ازاں خواتین کی ووٹنگ میں حوصلہ افزائی کی۔

یہ تصویر 1947 میں کھینچی گئی، جس میں 18 سالہ زینت راشد کو دیکھا جاسکتا ہے، جن کے والد حاجی عبداللہ ہارون 5 برس قبل چل بسے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کی والدہ لیڈی نصرت عبداللہ ہارون تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کرتی رہیں۔

انہوں نے سندھ ویمن نیشنل گارڈ کی کیپٹن کی حیثیت سے اپنی 35 کلاس فیلو لڑکیوں کو قائداعظم محمد علی جناح کی ہدایات پر ناخوشگوار واقعات پر قابو پانے کے لیے تیار کیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ’قائد اعظم نے ہمیں کہا کہ خواتین کو مردوں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہنا چاہیے، آپ نوجوان لوگ کیا کر رہے ہیں‘؟ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے قائد اعظم کے اس سوال پر اپنے ہیرو کو جواب دیا کہ ’ہم تیار ہیں، آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں‘۔

بعد ازاں لائف میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’وہ اس وقت علامت بن چکی تھیں، قائداعظم لوگوں کو دکھانا چاہتے تھے کہ خواتین پاکستان میں ہر چیز کرسکتی ہیں، ہم اپنے سروں پر دوپٹہ تک نہیں پہنتی تھیں، لوگ سوچتے تھے یہ کیا بے وقوفی ہے، لیکن ہم بہتری کی علامت تھے‘۔

ان کی زندگی کا اہم دن 1947 میں وہ دن تھا، جس دن وہ سندھ ویمن نیشنل گارڈ کی خواتین کے ساتھ لاٹھیوں کے ساتھ تربیتی کیمپ میں شامل تھیں، مارگریٹ بورچ وائیٹ نے ان کی تربیت کو تصاویر میں قید کرلیا، یہ تصویر ان سلسلہ وار تصاویر کا حصہ ہے، جو بعد ازاں لائف میگزین نے 1948 میں اسٹوری آف پاکستان میں شائع کیں۔


جمہوری پنجاب 1947-1937


دوستانہ طور پر قائل کرنے کی کوشش

—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

پنجاب میں 1937 میں ہونے والے انتخابات میں جیت کے بعد یونین پارٹی کے سربراہ سر سکندر حیات پر مسلمان پارلیمنٹری ارکان کی جانب سے پنجاب میں متوازن تقسیم کا دباؤ رہا، جس کی بناء پر انہوں نے قائداعظم کے ساتھ مذاکرات کے بعد جناح-سکندر معاہدہ کیا۔

معاہدے کا اصل مقصد یہ تھا کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی قومی سطح پر جب کہ یونین پارٹی صوبائی سطح پر نمائندگی کرے گی۔

قائداعظم کی جانب سے یہ معاہدہ وہاں مسلم لیگ کو1947 کے بعد حاصل ہونے والی طاقت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

میاں افتخار جن کا تعلق آرائیں میاں خاندان سے تھا، انہوں نے اپنا سیاسی کیریئر کانگریس سے ہی شروع کیا اور صوبائی صدارت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، بعد ازاں 1945 میں انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت کی، تقسیم کے بعد وہ مسلم لیگ پنجاب کے پہلے صدر منتخب ہوئے اور قائد اعظم نے انہیں پناہ گزینوں کی بحالی کا وزیر مقرر کیا۔

1947 میں میاں افتخار الدین نے پاکستان ٹائمز کی شروعات کی اور فیض احمد فیض اس کے پہلے ایڈیٹر اِن چیف مقرر ہوئے، 1949 میں وہ پنجاب میں زرعی اصلاحات کے لیے تجویز پیش کرتے ہیں، جو بری طرح ناکام ہوجاتی ہے، اس کی ناکامی مسلم لیگ کے بااثر رہنماؤں کی جانب اشارہ دیتی ہے، جس پر وہ مایوس ہو کر وزارت سے استعفیٰ دے دیتے ہیں، بعد ازاں 1951 میں انہیں مسلم لیگ سے نکال دیا جاتا ہے۔

ان کی 1962 میں وفات کے بعد فیض احمد فیض نے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا۔

**’ جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم،

جو چلے تو جان سے گزر گئے،

رہ یار ہم نے قدم قدم،

تجھے یادگار بنا دیا‘۔**

یہ قائد اعظم محمد علی جناح کی جانب سے سیاسی تدبیر کا نتیجہ ہی ہے کہ انہوں نے میاں افتخارالدین جیسے رہنماؤں کو پنجاب میں حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے منتخب کیا۔


کراچی اور دہلی 1947


ایک شاندار فتح، ایک سانحہ

—فوٹو: بشکریہ الطاف حسین/ ڈان آرکائیو وائٹ اسٹار
—فوٹو: بشکریہ الطاف حسین/ ڈان آرکائیو وائٹ اسٹار

ڈان دہلی اور ڈان کراچی کو قائد اعظم نے قائم کیا،انہوں نے سب سے پہلے 1945 میں محمد حسین کو ڈان دہلی کے لیے ایڈیٹر مقرر کیا، جس کے بعد اگست 1947 میں پوتھن جوزف نے یہ ذمہ داریاں سنبھالیں، انہیں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے جلسے میں ڈان کے صحافیوں کی جانب سے فائرنگ کرنے جیسے الزامات کے بعد ہٹایا گیا، واقعے کے بعد قائداعظم نے محمد حسین کو دہلی سے ڈان کراچی منتقل کرکے انہیں ایڈیٹر مقرر کردیا، جو پہلے جناح فیملی، بعد ازاں حاجی عبداللہ ہارون فیملی کے تحت شائع ہوتی رہی۔

سردار ولبھ بھائی کے جلسے میں فائرنگ کے الزامات میں ڈان دہلی کو دھمکیاں ملتی رہیں اور 14 ستمبر 1947 کو اس کا دفتر جلادیا گیا،اس کے باوجود بھی ڈان کراچی کی جانب سے ڈان دہلی اور کراچی کے پرچے شائع ہوتے رہے، مگر 21 اکتوبر 1947 کو قائداعظم نے تسلیم کیا اور ڈان دہلی کو باقائدہ طور پر ختم کردیا۔

ڈان دہلی کا سانحہ قائد اعظم کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا، کیوں کہ انہوں نے یہ اخبار 1941 میں منقسم ہندوستان میں مسلم لیگ کا پیغام پھیلانے کے لیے شروع کیا تھا، لیکن ان کی فتح ڈان کراچی کی بقاء ہے۔

—فوٹو: بشکریہ الطاف حسین/ ڈان آرکائیو وائٹ اسٹار
—فوٹو: بشکریہ الطاف حسین/ ڈان آرکائیو وائٹ اسٹار

قائد اعظم کے دائیں جانب ڈان دہلی کے ایڈیٹر پوتھن جوزف، نوابزادہ لیاقت علی خان اور حامد زبیری، جنہوں نے بعد ازاں ڈان کراچی جوائن کرلیا، لیاقت علی خان کے بائیں جانب جنرل مینجر (جی ایم) ڈان کراچی محمد حسین ہیں۔

محمد علی جناح نے ہندوستان کے مسلمانوں کے پیغام کو عام کرنے کے لیے ڈان دہلی کو 19 اکتوبر 1941 میں قائم کیا، اخبار کا دفتر شہر کے دریا گنج علاقے میں موجود تھا، جس میں معمولی فرنیچر کے ساتھ عملہ کم تنخواہ پر کام کرتا رہا، محمد علی جناح اور ایڈیٹر پوتھن جوزف اور بعد ازاں الطاف حسین کی جانب سے عملے کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی، عملہ حب الوطنی اور قائداعظم کی شخصیت سے متاثر ہوکر کام کرتا رہا۔

اخبار نے مسلمانوں کے حقوق کے لیے بہترین کام کیا۔


بکھرے پاکستان کا ایک لڑی میں ملنا، کراچی 1948


قوم کی تعمیر کا ماہر

—فوٹو: بشکریہ لاہور میوزیم آرکائیوز
—فوٹو: بشکریہ لاہور میوزیم آرکائیوز

مندرجہ بالا تصویر لاہور میوزیم آف پاکستان سے حاصل کی گئی، جس میں قائداعظم محمد علی جناح 21 فروری 1948 کو ملیر میں ایئر کرافٹ رجمنٹ کے مظاہرے کے بعد ہونے والی قومی ترانے کی میوزیکل تقریب میں دستاویزات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح نے قومی ترانے کے انتخاب میں ذاتی دلچسپی لی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ قومی ترانے میں پاکستان کے مستقبل کی تمام چیزوں کا احاطہ کیا جائے (اس سے پہلے انہوں نے قومی جھنڈے کے ڈیزائن میں بھی خصوصی دلچسپی لی، جس میں سفید حصے کو اقلیتوں کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا)۔

ترانے کی موسیقی احمد غلام علی چھاگلا نے ترتیب دی، جسے 1949 میں منتخب کیا گیا، جب کہ اس کی شاعری بعد میں 1952 میں حفیظ جالندھری نے لکھی اور 2 سال بعد 1954 میں ترانے کو سرکاری طور پر قومی ترانے کا اعزاز دیا گیا۔

—فوٹو: بشکریہ لاہور میوزیم آرکائیو
—فوٹو: بشکریہ لاہور میوزیم آرکائیو

پاکستان کے گورنر جنرل کے طور پر قائداعظم نے قومی پالیسیاں بنائیں، جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے، انہوں نے آئین نہ ہونے کے باوجود انڈین ایکٹ 1935 کے تحت وفاقی کابینہ کی تشکیل دی، سول سروسز میں بیورو کریسی کو منظم کیا اور انہیں پڑوسی ممالک خاص طور پر مغرب سے اچھے روابط کے لیے تیار کیا، اسی وجہ سے ہی 30 ستمبر 1947 کو پاکستان اقوام متحدہ (یو این) کا رکن بنا اور اس ضمن میں لیاقت علی خان کی کوششیں بھی اہم ہیں۔

بعد ازاں قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کے آخری ایام میں نوابزادہ لیاقت علی خان اور محمد علی جناح کے درمیان اختلافات سامنے آتے ہیں، لیکن اس کے باوجود تاریخ میں اس کی تصدیق نہیں ہوتی کہ محمد علی جناح نے لیاقت علی خان کو اپنے تین قابل بھروسہ منصب داروں کی فہرست سے خارج کیا ہو، اس عمل سے ظاہر ہوتا کے ذاتی مسائل کسی بھی شخص اور خاص طور پر قائداعظم کے لیے اصولوں سے بڑھ کر نہیں۔

—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

قائداعظم محمد علی جناح اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح مالی طور پر مستحکم اور ایک خودمختار ملک کی علامت کے طور پر کرتے ہیں۔

حتیٰ کہ پاکستان میں مانیٹری سسٹم اور ریزرو بینک سسٹم کو ریزرو بینک آف انڈیا کے ایکٹ 1947 کے تحت 30 ستمبر 1948 تک قانونی طور چلنا تھا، تاہم محمد علی جناح نے اس حوالے سے وقت سے پہلے ہی یکم جولائی 1948 تک انتظامات مکمل کرلیے تھے۔


پشاور 1945 سے 1948


فرنٹیئر صوبے کا دورہ

—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

قائد اعظم محمد علی جناح نے نارتھ ویسٹ فرنٹیئر پروونس (این ڈبلیو ایف پی) کے دوسرے دورے کے دوران مردان، پشاور اور قبائلی علاقہ جات میں ریلیوں سے خطاب کیا، یہ ان کا 1937 میں صوبے میں کانگریس اور خدائی خدمت گار تحریک کی حکومت کے بعد کا پہلا دورہ تھا۔

یہاں مسلم لیگ کی مقبولیت مسلمانوں کے عدم اطمینان کے درمیان گھری ہوئی تھی، کیوں کہ صوبے میں ہندوؤں اور سکھوں کی اسمبلی میں 7 فیصد نمائندگی کے باوجود برطانوی حکومت نے انہیں 24 فیصد نمائندگی کا حق دے رکھا تھا۔

مسئلہ یہ تھا کہ این ڈبلیو ایف پی کمیونل نہیں تھا، جس کی وجہ سے یہاں پر ہندو کانگریس کی پشت پناہی میں چلنے والی خدائی خدمت گار تحریک اور مسلم لیگ کے درمیان تنازع اٹھا، اس وجہ سے قبائلی مزید الجھن کا شکار ہوئے، تاہم ان کی زیادہ ہمدریاں مسلم لیگ کے ساتھ ہی تھیں۔

فروری 1947 میں مسلم لیگ نے وہاں خدائی خدمت گار تحریک کی حکومت کے خلاف سول نافرمانی کا آغاز کیا، جس نے جلد ہی تیزی حاصل کرلی، جس کے بعد کانگریس برطانوی حکومت کی اس تجویز سے اتفاق کرنے پر مجبور ہوا کہ این ڈبلیو ایف پی کی قسمت کا فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے ہوگا۔

جون میں خان عبدالغفار خان نے ریفرنڈم کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ایک الگ اور خود مختار ریاست ’پختونستان‘ کا مطالبہ کیا، جس کے بعد صوبے میں خدائی خدمت گار اور کانگریس کی شہرت کم ہوئی اور مسلم لیگ ابھر کر سامنے آئی۔

—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

یہ تصویر اُس وقت لی گئی، جب قائد اعظم نے این ڈبلیو ایف پی کا تیسری بار دورہ کیا، وہ خیبر سے گومل تک گئے، وہاں انہوں نے 10 دن گزارے، محمد علی جناح نے قبائلی عمائدین سے ملاقاتیں کیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔

قائد اعظم نے پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے فرنٹیئر کو حاصل کرلیا۔


لاہور 1947


دلوں کی سرزمین پر دوبارہ آمد

—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

تقسیم کے دوران جو تشدد ہوا، وہ قائد اعظم کے لیے ذاتی پریشانی کا باعث بھی بنا، جس کی صداقت ان کی جانب سے دیے گیے بیان سے بھی ہوتی ہے، جس میں انہوں نے کہا ’کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ 3 جون 1947 کا قبولیت پلان مسلم لیگ کی غلطی ہے، میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اس کے کسی بھی متبادل فیصلے کو قبول کرنے کے بھی تباہ کن نتائج ہوں گے‘۔

وہ ایک ایسے شخص تھے، جنہوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا، انہوں نے کنونشن سے خطاب میں مزید کہا کہ ’اسلام کے اصولوں کے تحت ایک مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے، ہندوستان میں مسلمان اقلیتوں کے ساتھ برے سلوک کے باوجود ہمیں اقلیتوں کو تحفظ دے کر ان کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے‘۔

—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

محمد علی جناح کی کوششوں کے باوجود مسلم لیگ کوانتخابات میں شکست ہوئی۔

پنجاب کی 175 سیٹوں میں سے یونین پارٹی کے سر سکندر حیات نے سب سے زیادہ 67 سیٹیں، کانگریس نے 18 اور اکائی دل نے 10 سیٹیں حاصل کیں، اگرچہ کئی مسلم یونینسٹ مسلم لیگ کے حامی تھے، مگر اس کے باوجود مسلمانوں کے ووٹ تقسیم رہے اور یوں مسلم لیگ کے بجائے یونین پارٹی نے وہاں حکومت بنائی۔

شکست کے بعد مسلم لیگ نے اپنی خامیوں کو دور کرتے ہوئے وہاں خود کو منظم کیا اور یونین پارٹی کے متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آئی، جس وجہ سے ہی اس نے 1945 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔


بلوچستان 1943 سے 1948


دلوں اور ذہنوں کی فتح

—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

تحریک پاکستان کے اہم رہنما محمد عیسیٰ نے قائداعظم کو بلوچستان کے دوروں میں سہولت فراہم کی اور ان کی وہاں کے بلوچ رہنماؤں سے ملاقاتیں کروائیں، محمد علی جناح کا یہ دورہ ان کے بہت سارے دوروں میں سے ایک ہے۔

سبی میں قیام کے دوران انہوں نے خان آف قلات کے ساتھ تین ملاقاتیں کیں، جن میں قلات سے الحاق سے متعلق معاملات زیر غور لائے گئے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری میٹنگ 14 فروری کو ہاربوئی میں طے تھی، جو خان آف قلات کی پہاڑوں میں گھری ریاست تھی، مگر وہ ملاقات خان کی اچانک طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے منسوخ کردی گئی۔

برٹش بلوچستان قلات، لسبیلہ، کھاران اور مکران ریاستوں پر مشتمل تھا، بعد ازاں تقسیم سے قبل باقی تینوں ریاستوں کو قلات کے ماتحت امانتی ریاست کے طور پر رکھا گیا، جس پر محمد علی جناح نے برطانوی سرکار سے قلات اور برٹش بلوچستان کے حوالے سے بات چیت کی۔

محمد علی جناح، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور خان آف قلات کے درمیان متعدد ملاقاتوں کے بعد 11 اگست 1947 کو ایک معاہدے کا اعلان کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ پاکستان اور قلات کے درمیان ثابت قدمی کے ساتھ دفاع، اطلاعات اور خارجہ معاملات پر مذاکرات کیے جائیں گے۔

—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

آگے چل کر محمد علی جناح کی سوچ میں تبدیلی آتی ہے، ان کا خیال تھا کہ قلات کو بھی دیگر ریاستوں کی طرح الحاق کے دستاویزات پر دستخط کرنے چاہئیں، مگر خان آف قلات کا خیال تھا کہ وہاں الگ ہی درالعوام اسمبلی بنے۔

مارچ 1948 میں مکران، کھاران اور لسبیلہ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرلیا، جس کے بعد 26 مارچ 1948 کو پاک فوج جیوانی، پسنی اور تربت میں داخل ہوئی۔

خان آف قلات 2 دن بعد 28 مارچ 1948 کو ابھرتی ریاست کے ساتھ الحاق کرتے ہیں اور معاہدے کو 15 اگست 1947 سے نافذ کرکے دستخط کیے جاتے ہیں۔

راستے میں کئی اختلافات اور رکاوٹوں کے باوجود محمد علی جناح کو عوام کے دلوں اور ذہنوں کی فتح میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔


ہولوکاسٹ 1947


ہجرت

فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم، رولی بک دہلی
فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم، رولی بک دہلی

مندرجہ بالا تصویر میں مغربی پنجاب اور دوسرے مسلمان اکثریتی صوبوں کے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کوامرتسر کے ریلوے اسٹیشن پر دیکھا جاسکتا ہے، جو بعد ازاں بذریعہ ٹرین لاہور پہنچے۔

تقسیم کے فوری بعد لاکھوں لوگوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہجرت کی، ایک طرف کے لوگ دوسری طرف گئے، قریباً 65 لاکھ مسلمان ہندوستان سے مغربی پاکستان آئے، جب کہ 4 لاکھ 70 ہزار سکھ اور ہندو مغربی پاکستان سے ہندوستان ہجرت کرگئے۔

صرف 32 کلومیٹر کی دوری پر موجود امرتسر کو لاہور سے الگ کردیا گیا، ان دونوں شہروں کی نصف آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی، جب کہ لاہور اور امر تسر کی تیسری بڑی آبادی سکھوں اور ہندوؤں پر مشتمل تھی، دونوں شہروں میں ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان بہترین تعلقات تھے، کئی لوگوں کے گھر ایک شہر میں تو کاروبار دوسرے شہر میں تھے۔

تقسیم کے اعلان کے بعد اگست سے نومبر 1947 سے تک دونوں شہروں سے لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے ہجرت کی، مشرقی پنجاب سے مسلمان جب کہ مغربی پنجاب سے ہندوؤں اور سکھوں نے اپنے گھر بار چھوڑے۔

اس ہجرت کے نتیجے میں دونوں اطراف بدترین تشدد بھی ہوا، سب سے زیادہ افسوس ناک حملے ٹرینوں کے ذریعے ہجرت کرنے والے مہاجرین پر کیے گئے، حملہ آوروں نے ٹرینوں کو لاشوں سے بھردیا، ہجرت کے دوران لاہور کے 4 ہزار گھروں کو جلا کر مسمار کردیا گیا، جب کہ پرانے لاہور کے 6 ہزار سے زائد گھروں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

امرتسر میں 10 ہزار گھروں کو جلا کر تباہ و برباد کیا گیا، جس کے باعث وہ پنجاب کا سب سے بڑا متاثر شہر بنا۔

فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم، رولی بک دہلی
فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم، رولی بک دہلی

البتہ 1947 کے وسط تک سندھ میں فرقہ وارانہ تشدد کا کوئی واقعہ نہیں ہوا، یہاں تک کہ ہندوؤں اور سکھوں نے ہجرت بھی شروع کردی، سندھ کی معروف تاریخ دان حمیدہ کھوڑو کے مطابق قائداعظم محمد علی جناح کو پاکستان میں اقلیتوں کے رہنے کی مکمل امید تھی، جب کہ اُس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ محمد ایوب کھوڑو نے ہندوؤں اور سکھوں کو صوبے کی معیشت کے لیے اہم ستون قرار دیا۔

سندھ کے حالات میں تشدد کی لہر اجمیر میں 6 دسمبر 1947 میں پیش آںے والے واقعے کے بعد پیدا ہوئی، جس کے بعد صحرائے تھر میں مسلمانوں کی ہلاکتیں بہت ہی زیادہ ہوئیں۔

بعد ازاں ہندو مخالف گروپوں نے 6 جنوری 1948 کو کراچی میں حالات خراب کیے، مگر صورتحال اُس وقت مزید بگڑ گئی جب ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے افراد نے حیدرآباد اور کراچی میں گھروں پر زبردستی قبضہ کرنا شروع کیا، جب کہ وہ گھر اُس وقت تک اپنے ہندو مالکوں کے قبضے میں تھے۔

ستمبر1947 کے ٹائمز آف انڈیا کے شمارے کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 12 ہزار غیر مسلم افراد نے حیدرآباد کو خداحافظ کہا اور وہ حیدرآباد کے راستے بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے میواڑ میں داخل ہوئے، جب کہ کراچی سے 60 ہزار غیر مسلم افراد سمندری، فضائی اور دیگر راستوں سے ہندوستان پہنچے اور یوں 15 اگست 1947 کے بعد ہونے والی ہجرت کے نتیجے میں 7 جنوری 1948 تک صرف بمبئی میں 2 لاکھ 90 ہزار غیر مسلم پہنچے۔


اگست 1947


ایک پنجاب کا بٹوارا

فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی
فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی

سر سرل ریڈ کلف 8 جولائی 1947 کو ہندوستان پہنچے اور انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ 15 اگست 1947 تک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی لکیر کھینچ دی جائے۔

انہوں نے مختصر وقت سے متعلق تمام خدشات مسترد کردیے، مسئلہ یہ تھا کہ پنجاب کے ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کی بہت بڑی آبادی کو کسی بھی لکیر سے تقسیم کیسے کیا جاسکتا تھا۔

دونوں ممالک کی سرحدوں کے درمیان لکیر کھینچے والے کمیشن میں 4 رکن تھے، جس میں سے 2 کانگریس اور 2 مسلم لیگ سے تھے، لیکن دونوں پارٹیوں کے ارکان کی جانب سے کسی بھی معاملے پر اتفاق نہ ہونے کا مطلب یہ تھا کہ حتمی فیصلہ اکیلے ریڈ کلف کو ہی کرنا ہے۔

جلد ہی کمیشن نے اعلان کردیا کہ حد بندی کی لکیر 17 اگست 1947 کو کھینچی جائے گی، اعلان کے بعد لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے ہجرت کرنا شروع کردی، مغربی پاکستان کے ہندوؤں اور سکھوں نے مشرقی، جب کہ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں نے مغربی حصے کا رخ کیا۔

آنے والے دنوں میں ہجرت کے درمیان فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کی وبا پھوٹ پڑی اور ایک اندازے کے مطابق دونوں اطراف کم سے کم 2 لاکھ جب کہ زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ افراد مارے گئے۔

حد بندی کی لکیر کھینچے جانے کے بعد ریڈ کلف جلد ہی ہندوستان سے چلے گئے اور ان کی رخصتی سے قبل ہی تمام کاغذات کو پھاڑ دیا گیا۔

1966 میں انگریز شاعر واسٹن ہف (ڈبلیو ایچ) آدن نے ریڈکلف کی تقسیم پرایک نظم لکھی، جس میں انہوں نے اس ٹاسک کی مشکلات کا ذکر کیا۔

’وہ اپنے محل میں خاموشی سے کام کرتا رہا،

جہاں پولیس دن رات پہرہ دیتی رہی اور قاتلوں کو دور رکھتی رہی،

وہ کام میں مگن رہا،

کیوں کہ اسے لاکھوں لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کرنا تھا،

اس کے بنائے گئے تمام نقشے مدہ خارج تھے،

اور مردم شماری سے متعلق اندازے سراسر غلط تھے،

لیکن اسے 7 ہفتوں میں کام مکمل کرنا تھا،

کیوں کہ اس کے بڑے فیصلہ کر چکے تھے،

بہتر ہو یا غلط، لیکن براعظم کو تقسیم ہونا تھا‘

پنجاب کو واقعی بکھیر کرتقسیم کردیا گیا۔


واحد ترجمان- کراچی 15 اگست 1947


گورنر جنرل کی آمد

—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

’میں محمد علی جناح تہہ دل سے آئین پاکستان پر مکمل یقین اور اس کی اطاعت کرتا ہوں اور میں بطور گورنر جنرل آف پاکستان ہز مجیسٹی کنگ جارج ششم کا وفادار رہوں گا‘.

یہ 15 اگست 1947 کا دن تھا، جب قائداعظم نے انڈین انڈیپینڈنٹ ایکٹ 1947 میں درج الفاظ کے تحت حلف اٹھایا، اُسی دن ان کی پاکستان کے لیے طویل جدوجہد ختم ہوئی۔

حلف برداری کا اہتمام لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس میاں عبدالرشید کے دفتر میں کیا گیا، بعد ازاں میاں عبدالرشید پاکستان کے پہلے چیف جسٹس بنے۔

اس تقریب کے بعد انہیں 31 بندوقوں کی سلامی دی گئی۔

اگلے مرحلے میں پاکستان کی پہلی کابینہ نے حلف اٹھایا اور نوابزادہ لیاقت علی خان ملک کے پہلے وزیراعظم مقرر کیے گئے۔

ابراہیم اسماعیل (آئی آئی) چندریگر کو صنعت و پیداوار، ملک غلام محمد کو خزانہ، سردار عبدالرب نشتر کو کمیونیکیشن، راجا غضنفر علی خان کو فوڈ، زراعت و صحت، جوگندرا ناتھ مندل کو قانون اور محنت جب کہ میر فضل الرحمٰن کو داخلہ، معلومات و تعلیم کی وزارت کا قلمدان سونپا گیا۔

ان تقریبات میں قائد اعظم محمد علی جناح نے سفید شیروانی پہن رکھی تھی، انہوں نے نیول گارڈز کے ساتھ واک کی اور ان کی سلامی قبول کی، اگرچہ اگست کا مہینہ تھا، ان دنوں بحیرہ عرب سے ہوائیں نہ چلنے کی وجہ سے سخت گرمیاں تھیں۔

گرمیوں کے باوجود محمد علی جناح سنجیدگی سے چلتے رہے اور گورنمنٹ ہاؤس میں گھومتے رہے، جہاں کئی سفارت کار، سرکاری عہدیدار اور سیاستدان انہیں مبارکباد دینے کے لیے جمع ہوئے تھے، جب کہ باہر بھی جشن کا سماں تھا اور ہزاروں لوگ اپنے گورنر جنرل کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔


کراچی اگست 1947


پاکستان زندہ آباد

قائد اعظم محمد علی جناح کے سابق نیشنل گارڈ اے ڈی سی سعید ہارون سالارِ کمانڈر مسلم لیگ نیشنل گارڈ کی حیثیت سے بولٹن مارکیٹ کراچی میں ہونے والے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے—فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنیس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی
قائد اعظم محمد علی جناح کے سابق نیشنل گارڈ اے ڈی سی سعید ہارون سالارِ کمانڈر مسلم لیگ نیشنل گارڈ کی حیثیت سے بولٹن مارکیٹ کراچی میں ہونے والے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے—فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنیس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی

آل انڈیا مسلم لیگ نیشنل گارڈ کو صوبے کو متحد کرنے کے لیے 1931 میں کاسی ملٹری آرگنائزیشن نے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر بنایا، جس کا مقصد نوجوان مسلمانوں میں جذبہ قربانی پیدا کرنے سمیت انہیں متحرک کرنا تھا، مگر نیشنل گارڈ کو 1934 میں اُس وقت مزید تقویت حاصل ہوئی، جب قائداعظم نے انہیں ہدایات دیں اور پھر وہ متحدہ ہندوستان میں تحریک پاکستان کے لیے زیادہ متحرک دکھائی دیے۔

درج بالا تصویر میں لوگوں کے جمِ غفیر کی جانب سے نکالی گئی اس ریلی میں 2 سلوگن استعمال کیے گئے، ’لے کے رہیں گے پاکستان‘ اور ’لے کے رہیں گے کشمیر‘۔ کراچی میں نکالی گئی یہ ریلی تحریک پاکستان اور آزادی کے لیے لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے کی گئی کوششوں کی ایک کڑی ہے۔

سعید ہارون کی یہ تصویر مارگریٹ بورچ وائٹ کی جانب سے لی گئی، جو 1947 میں کرونیکل سان فرانسسکو میں شائع ہوئی، یہ تصویر لائف میگزین کور اسٹوریز کے جنوری 1947 کے شمارے میں پاکستان کے حوالے سے شائع مضمون کا حصہ ہیں۔


ممبئی، اگست 1947


واحد ترجمان

قائد اعظم محمد علی جناح ماؤنٹ پلزنٹ روڈ مالابار ہلز ممبئی میں اپنی رہائش گاہ کے مطالعہ کورٹ میں کھڑے ہوئے ہیں، یہ تصویر قائد اعظم کی کراچی روانگی سے قبل لی گئی، جس کے بعد انہوں نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا— فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنیس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی
قائد اعظم محمد علی جناح ماؤنٹ پلزنٹ روڈ مالابار ہلز ممبئی میں اپنی رہائش گاہ کے مطالعہ کورٹ میں کھڑے ہوئے ہیں، یہ تصویر قائد اعظم کی کراچی روانگی سے قبل لی گئی، جس کے بعد انہوں نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا— فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنیس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی

ہندو-مسلم سفیر کے طور پر طویل سفر میں آگے چل کر قائداعظم محمد علی جناح ہندوستان کے غیر منقسم مسلمانوں کے واحد ترجمان بنے، ان کی جانب سے مسلمانوں کے واحد ترجمان ہونے کے حوالے سے ان کی شخصیت میں پیدا ہونے والی تبدیلی کو پاکستانی مؤرخ ڈاکٹرعائشہ جلال بہت بڑا کارنامہ اور تبدیلی قرار دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں قائد اعظم کی جانب سے لندن کی ازخود جلاوطنی ختم کرکے وطن واپسی پر ان میں آنے والی تبدیلی نہ صرف ان کی ذات بلکہ برصغیر کے دیگر سیاستدانوں اور مؤرخین یہاں تک کہ بھارت کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا سبب بنی۔

محمد علی جناح کے واحد ترجمان کی حیثیت سے ڈاکٹر عائشہ جلال مزید کہتی ہیں کہ قائداعظم نے منقسم مسلمانوں کی قیادت کی، جنہیں آزاد بھارت کی جدوجہد کے لیے ایک متحرک آواز کی ضرورت تھی، جناح نے جب برطانوی سرکار اور کانگریس سے مذاکرات کیے تو انہوں نے ہندوستان کے مسلم اکثریت اور مسلم اقلیتی صوبے کی ترجمانی کا دعویٰ کیا۔

جلد ہی قائد اعظم محمد جناح نے سیاسی جدوجہد کے دوران ہندو-مسلم اتحاد کے سفیر کی حیثیت کا درجہ حاصل کرلیا۔

کانگریس کے سیاسی رہنما گوپال کرشنا گوکھل کے مطابق محمد علی جناح کی جانب سے خود کو مسلمانوں کے واحد ترجمان کے طور پر پیش کیے جانے کا مقصد کانگریس کے اس دعوے کو مسترد کرنا تھا کہ وہ ہندوستان بھر کے مسلمانوں کی ترجمان ہے، کیوں کہ کانگریس کا یہ دعویٰ صرف کاغذات تک محدود تھا۔

قائد اعظم کی جانب سے اقلیتوں کے چیمپیئن ہونے کے دعوے کا صریحاً نتیجہ محمد علی جناح کی جانب سے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی سے 1947 میں کیے گئے پہلے خطاب اور آزادی کے بعد دیے گئے بیانات سے بھی واضح ہوتا ہے۔

قائد اعظم کی جانب سے مسلمانوں کے واحد ترجمان ہونے کے دعوے کا کانگریس نے منفی استعمال کیا، کانگریس نے محمد علی جناح کے اس دعوے کو جواز بنا کر مسلمان اکثریتی صوبوں پنجاب اور بنگال میں غیر مسلموں کے لیے حق دینے کی مہم پر زور دیا۔

کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے مارچ 1947 میں ان دونوں صوبوں کی تقسیم کے لیے مہم شروع کی، جس سے بنگال اور پنجاب کو تقسیم کیے بغیر پاکستان کا حصہ بنانے والے قائداعظم کا خواب ٹوٹ گیا۔

ڈاکٹر عائشہ جلال کہتی ہیں تقسیم کے بعد پاکستان کے لیے بنگال اور پنجاب کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔


کراچی 14 اگست 1947


قائد کا اقتدار سنبھالنا

قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں وائسرائے کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے، اس موقع پر برطانوی سرکار نے اپنے اختیارات پاکستان اور ہندوستان کو منتقل کیے—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں وائسرائے کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے، اس موقع پر برطانوی سرکار نے اپنے اختیارات پاکستان اور ہندوستان کو منتقل کیے—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

ان کے پیچھے بینچوں پر بیٹھے لارڈ لوئس مائونٹ بیٹن اور ان کے پیچھے بائیں جانب بیٹھیں لیڈی ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن۔

آزادی سے 3 دن پہلے 11 اگست 1947 کو کراچی میں آئین ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے محمد علی جناح نے تاریخی خطاب کیا، جس میں انہوں نے پاکستان کے لیے کچھ اہم ترجیحات کا اعلان کیا۔

مذہبی آزادی کے اظہار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ’ آپ آزاد ہیں کہ آپ اپنے مندر اور گردواروں میں جائیں،’ جہاں تک ریاست کا تعلق ہے اس کا مذہب سے کوئی واسطہ نہیں، آپ چاہیں تو مندر جائیں، چاہیں تو مسجد یا کسی اور عبادت گاہ میں جائیں‘ ریاست کا اس سے کوئی واسطہ نہیں کہ آپ کا تعلق کس مذہب ہے اور آپ کی قومیت کیا ہے، ریاست کے لیے تمام شہری یکساں ہیں‘۔

اس تقریر کے بعد قائداعظم محمد علی جناح کو پاکستان کے اقتدار کے اختیارات دیے گئے، لارڈ ماؤنٹ بیٹن تقریر کے بعد اپنی نشست پر واپس آگئے، اپنی تقریر میں ماؤنٹ بیٹن نے محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا اور قائد اعظم کا دوستانہ اور قریبی تعلق مزید مضبوط ہوا، ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں ان کا تعلق مزید مضبوط ہوگا۔

قائد اعظم جو سفید شیروانی میں ملبوس تھے اور ان کے ہاتھوں میں کچھ نوٹس تھے، انہوں نے جواب میں کہا ’ آپ کا شکریہ، میں آپ کو اس موقع پر یقین دلانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی تمام افراد کے لیے بلاتفریق سماجی کام کرنے کی کوشش کرے گی'۔

اگلے ہی دن قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا، ان سے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس میاں عبدالرشید نے حلف لیا۔

آئین ساز اسمبلی سے جاتے وقت قائد اعظم محمد علی جناح، محترمہ فاطمہ جناح لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن اور لیڈی ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
آئین ساز اسمبلی سے جاتے وقت قائد اعظم محمد علی جناح، محترمہ فاطمہ جناح لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن اور لیڈی ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

قائد اعظم محمد علی جناح اور لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن نے گورنمنٹ ہاؤس میں رولز رائس کی ڈرائیونگ کی، بعد ازاں دوپہر کو لارڈ اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن دہلی روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے بھارت کی آزادی کی تقریبات میں شرکت کی۔


دہلی 3 جون 1947


تقسیم ہند کا سلسلہ جاری

—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

ہندوستان کے آخری وائسرائے لوئس ماؤنٹ بیٹن وائسرائے ہاؤس میں مطالعہ کرتے ہوئے، ان کے دائیں طرف مسلم لیگ کی جانب سے قائد اعظم محمد علی جناح، نوابزادہ لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر، جب کہ ان بائیں طرف کانگریس کی جانب سے جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور اچاریہ کرپلانی اور سکھوں کی جانب سے سردار بلدیو سنگھ نمائندگی کرتے ہوئے۔

لوئس ماؤنٹ بیٹن کے پیچھے دائیں جانب چیف آف اسٹاف جنرل لارڈ اسمے اور بائیں جانب پرائیویٹ سیکریٹری سر ایرک میویلی موجود ہیں۔

یہ 3 جون 1947 کا منظر ہے، جب وائسرائے کی جانب سے اٹھائے گئے تمام اقدامات ناکام ہوگئے، شملہ کانفرنس، لندن کانفرنس، کابینہ مشن پلان، یہاں تک کہ ڈائریکٹ ایکشن ڈے سمیت تمام معاملات ہونے کے بعد ہندوستان کو متحد رکھنے کی تمام امیدیں دم توڑ چکی تھیں اور واحد سوال یہ تھا کہ ہندوستان کو کس طرح تقسیم کیا جائے۔

لوئس ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہند ایکٹ 1947 کے تحت برطانوی سرکار کی جانب سے ہندوستان کی تقسیم سے متعلق فارمولے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ برطانوی ہندوستان 15 اگست 1947 کو 2 نئی خود مختار ریاستوں میں تقسیم ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بنگال اور پنجاب دونوں ریاستوں کے درمیان تقسیم ہوں گے، جب کہ دونوں ریاستوں کو قانون سازی کا اختیار دیا جاتا ہے اور برطانوی سرکار کا اثر ان دونوں پر 15 اگست 1947 سے ختم ہوجائے گا۔

اجلاس میں کی گئی تقریریوں کو الگ الگ آل انڈیا ریڈیو پر نشر کیا گیا، ترتیب وار سب سے پہلے لوئس ماؤنٹ بیٹن، اس کے بعد جواہر لال نہرو، پھر قائداعظم اور آخر میں بلدیو سنگھ کی تقریر نشر کی گئی۔

یہ سب تقسیم کا حصہ تھا، چند ہفتوں کے بعد قائد اعظم اور جواہر لال نہرو نے اقتدار کی ذمہ داریاں کراچی اور دہلی میں سنبھالیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح اور نوابزادہ لیاقت علی خان سابقہ رہائش گاہ 10 اورنگزیب روڈ پر—فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنیس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی
قائد اعظم محمد علی جناح اور نوابزادہ لیاقت علی خان سابقہ رہائش گاہ 10 اورنگزیب روڈ پر—فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنیس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی

وکالت کی تربیت حاصل کرنے والے نوابزادہ لیاقت علی خان 1923 میں سیاست میں داخل ہوئے۔

انہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں بڑھ کر حصہ لیا اور قائداعظم کے قریبی دوست رہے، محمد علی جناح کی رحلت کے بعد ان کا نام بانی پاکستان کے تین پسندیدہ ترین افراد میں سے ایک ذمہ دار افسر کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔

انہوں نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے طور پر 1951 تک اُس وقت تک خدمات سرانجام دیں جب تک انہیں کمپنی باغ راولپنڈی میں گولی مار کر شہید نہیں کیا گیا۔


بہت دور کا منصوبہ -کلکتہ 16 اگست 1946


واقعے کے بعد

—فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنیس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی
—فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنیس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی

مذکورہ بالا تصویر جو کتاب ’وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم‘ سے اجازت کے ساتھ لی گئی ہے، کو رولی بک دہلی نے شائع کیا، تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گدھ کلکتہ کی گلی میں پھینکی گئی لاشوں کو کھا رہے ہیں۔

کلکتہ کی اس گلی میں بکھری ہوئی لاشیں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے فسادات کے بعد کی ہیں، جس کے دوران کئی لوگوں کو ذبح کیا گیا۔

اُس دن مسلم لیگ کی ریلی سے قبل ہی صبح سے ناخوشگوار واقعات کا آغاز ہوگیا، جب کہ ریلی کا آغاز دوپہر کو ہونا تھا، ریلی سے بنگال کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی اور خواجہ ناظم الدین اہم خطاب کرنے والے تھے، ریلی سے قبل ہونے والے حالات کی وجہ سے کشیدگی تھی، مگر خواجہ ناظم الدین نے تحمل سے کام لینے کی التجا کی۔

غیر تصدیق شدہ رپورٹس کے مطابق ریلی کے اختتام کے بعد شرکاء پر حملہ کیا گیا، جس میں زخمی ہونے والے تمام افراد مسلمان تھے۔

مسلمانوں کے انتظار میں کھڑے ہندو اور سکھوں نے انھیں پکڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا، جس کے بعد 6 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا جب کہ سیکیورٹی اہلکار 8 گھنٹوں تک مرکزی روٹ کو محفوظ بنانے کے لیے گشت کرتے رہے۔

اگرچہ دوپہر تک کشیدگی زدہ علاقوں میں قدرے امن بحال ہوگیا اور فوج کی موجودگی میں رات دیر گئے تک توسیع کی جاتی ہے، مگر قتل و غارت اگلے دن تک بڑھ گئی۔

فوج کے زیر اثر علاقوں میں بھی شدید تشدد کی لہر اٹھی، 18 اگست کو ہتھیاروں اور تلواروں سے لیس ہندوؤں اور سکھوں سے لدی بسیں اور ٹرک دیکھنے میں آتے ہیں، جو جلاؤ گھیراؤ کرتے رہتے ہیں، یہاں تک 21 اگست تک اُس وقت تک لوگوں کو ذبح کیے جانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جب تک بنگال کو وائسرائے کے ماتحت نہیں کیا جاتا۔


کلکتہ اگست 1946۔ ناقابل یقین اعتماد کا سامنا


فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنیس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی
فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنیس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی

برطانوی راج کے تحت حسین شہید سہروردی بنگال کے آخری وزیراعظم اور مسلم لیگ کے معروف لیڈر تھے، جو 1930 میں کلکتہ کے میئر رہ چکے تھے۔

آئندہ 10 سال کے اندر وہ پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم بنے، اس کے 2 سال بعد خواجہ ناظم الدین پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل، جب کہ ملک کے دوسرے وزیراعظم بھی بنے۔

ایک ماہ قبل ہی مسلم لیگ اور کانگریس نے مختلف اسباب کی وجہ سے کابینہ مشن پلان مسترد کردیا تھا، کانگریس نے مرکز میں مسلمانوں کو ہر طرح کی برابری دینے سے انکار کردیا، جس کا صاف مقصد یہ تھا کہ مشن منصوبے کو تسلیم نہیں کیا جاتا، جس کے بعد محمد علی جناح نے 16 اگست کو ملک گیر ڈائریکٹ ایکشن ڈے منانے کا اعلان کیا، مسلم لیگ 1946 کو اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ برطانیہ کی دستبرداری کے بعد مرکز میں مسلمانوں کی نمائندگی ہونا لازمی ہے۔

ڈائریکٹ ایکشن ڈے کے موقع پر کوئی پیشگوئی نہیں کرسکتا تھا کہ حالات و واقعات کلکتہ قتل عام یعنی 'گریٹ کلکتہ کلنگز' کو جنم دیں گے۔

اگرچہ مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 56 فیصد تھی، مگر اس کا انحصار مشرقی بنگال کے مسلمانوں پر تھا، لیکن کلکتہ میں ہندوؤں کا تناسب 64 فیصد تھا، نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ کلکتہ کی آبادی 2 متضاد اقوام پر مبنی تھی۔

مسلمان اور ہندوؤں کے اخبارات کی جانب سے جذبات کو بھڑکانے والی خود ساختہ اشتعال انگیز رپورٹنگ نے جلتی پر تیل کا کام کیا، سیاستدان لفظ ’قوم‘ کے تحت اتحاد قائم رکھنے میں ناکام ہوگئے، یہ اب سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ سیاست اور طاقت کی حقیقت بن کر سامنے آیا۔

اس کے جواب میں ڈائریکٹ ایکشن ڈے قتل عام کی ایک علامت بن کر سامنے آیا، تاکہ تقسیم کے وقت ہندو مسلم تنازع کی صورت میں اسی عمل کے تحت مداخلت کی جاسکے۔

یہ وہ دن ہے، جس کی نہ تو مسلم لیگ، نہ ہی کانگریس اور نہ برطانوی راج پیش گوئی کرسکا۔


دہلی جولائی 1946- منصوبے سے دستبرداری


فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی
فوٹو: بشکریہ کتاب 'وٹنس ٹو لائف اینڈ فریڈم'، رولی بک دہلی

اسی سال برطانوی حکومت کابینہ مشن مقرر کرتی ہے، جس کا مقصد انڈیا کی آزادی اور ملک میں اتحاد کی جھلک کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

کابینہ مشن کی آئین ساز اسمبلی کے ممبر ایک پلان تحریر کرتے ہیں، جو 2 نقاط پر مبنی ہوتا ہے۔

پہلا نقطہ یہ تھا کہ آل انڈیا کو فیڈریشن گروپ میں تقسیم کیا جائے، جس کے ایک حصے میں ہندو اکثریت کے صوبے بنائے جائیں، دوسرے میں مسلم اکثریت صوبے ہوں، جن میں شمال مغربی صوبے سندھ، پنجاب، بلوچستان اور این ڈبلیو ایف پی، جب کہ شمال مشرقی صوبے بنگال اور آسام شامل ہیں۔

فیڈریشن کو صرف خارجہ، دفاعی اور ذرائع ابلاغ کے محدود اختیارات دیے جائیں، اگرچہ اس تجویز کو مسلم لیگ نے قبول کیا، مگر کانگریس نے اسے مسترد کردیا، جس کا مؤقف تھا کہ ان تجاویز سے صوبے زیادہ طاقتور اور مرکز کمزور ہوگا۔

دوسرے نقطے میں تجویز دی گئی کہ پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے تحت خودمختار ’پاکستان‘ کا قیام کیا جائے اور تمام مسلم اکثریتی علاقے اس کا حصہ ہوں، دوسری تجویز کو مسلم لیگ اور کانگریس نے مسترد کردیا۔

بعد ازاں کچھ ممبران نے کہا کہ وہ اپنے قومی کردار پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے، اس لیے یا تو مسلم لیگ کی تجویز پر رضامندی ظاہر کی جائے یا پھر سامراجی گروپ کی جانب سے تجاویز کو ویٹو کیا جائے۔

ایک موقع پر جب واضح ہوگیا کہ کانگریس صوبائی طاقت کم اور مرکز کی طاقت کو بڑھانا چاہتا ہے تو محمد علی جناح کابینہ مشن میں مسلم لیگ کی جانب سے پیش کی گئی پہلی تجویز سے دستبردار ہوجاتے ہیں اور پنجاب اور بنگال کی تقسیم پر خود مختار پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اور ڈائریکٹ ایکشن ڈے کے ذریعے برطانوی حکومت کو مجبور کرتے ہیں کہ انہیں مرکز میں برابری کی بنیاد پر نمائندگی دی جائے۔


وائسرائے کا شطرنج کا کھیل: شملہ اور لندن 1946-1945


—فوٹو: بشکریہ لاہور میوزیم آرکائیو
—فوٹو: بشکریہ لاہور میوزیم آرکائیو

قائد اعظم محمد علی جناح کی مذکورہ بالا تصویر جو لاہور میوزیم کے آرکائیو سے حاصل کی گئی، اس میں وہ سولر ٹوپی پہنے رکشہ سواری میں بیٹھے ہوئے ایک وائسرائے کی طرح نظر آرہے ہیں۔

اس تصویر میں قائد اعظم محمد علی جناح وائسرائے لارڈ واویل کی جانب سے 25 جون 1945 کو شملہ میں بلائی جانے والی کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد واویل کے منصوبے کو مسلم لیگ اور کانگریس کے سامنے رکھنا تھا۔

واویل منصوبہ ان کے اور برطانوی حکومت کے درمیان مئی 1945 میں ہونے والی بات چیت کا نتیجہ تھا، اس منصوبے کی دشواری یہ تھی کہ اس میں وائسرائے ایگزیکٹو کونسل کی دوبارہ تعمیر کی جانی تھی، جس کے لیے وائسرائے کو ان امیدواروں کا ہی انتخابات کرنا تھا، جن امیدواروں کے نام سیاسی پارٹیوں نے تجویز کیے تھے۔

اس حوالے سے مسلم لیگ اور کانگریس میں مسلمان امیدواروں کے حوالے سے اختلافات فوری طور پر بڑھ گئے، مسلم لیگ کا مؤقف تھا کہ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے، اس لیے تمام مسلمان اراکین کا انتخاب وہی کرے گی۔

کانگریس کا مؤقف تھا کہ وہ ہندوستان کی تمام کمیونٹیز کی نمائندہ جماعت ہے، اس لیے وہ بھی مسلمان اراکین کا انتخاب کر سکتی ہے اور اسی اختلاف کے باعث مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہوگئے۔

—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

بعد ازاں محمد علی جناح اور جواہر لال نہرو نے لندن میں برطانوی وزیراعظم کلیمینٹ ایٹلی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی اور یہ برطانیہ کی دوسری کوشش تھی کہ دونوں گروپ کابینہ مشن منصوبے پر رضامند ہوجائیں۔

اگرچہ محمد علی جناح نے مستقبل میں ہندوستان کے ساتھ ہندو اکثریت ریاست کے طور پر تعلقات برقرار رکھنے اور فوجی تعلقات بڑھنے جیسے معاملات پر رضامندی ظاہر کی، تاہم انہوں نے مسلمانوں کے مستقبل کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے علیحدہ آئینی اسمبلی کا تقاضا کیا۔

لندن کانفرنس کی ناکامی کے بعد قائد اعظم نے پاکستان کو ایک خود مختار ریاست کا درجہ دینے پر زور دیا اور ہندوستانی آفس میں کام کرنے سے انکار کردیا۔


دہلی 1946 خدائی خدمت گار شاعر کی مزاحمت


خان عبدالغنی خان نامور صحافی اور سیاستدان بنیگال شیوا راؤ کے ساتھ
خان عبدالغنی خان نامور صحافی اور سیاستدان بنیگال شیوا راؤ کے ساتھ

خان عبدالغفار خان کے بڑے بیٹے خان عبدالغنی خان، جنہوں نے مشرقی بنگال میں شاعر رابندر ناتھ ٹگور کے شانتی نکٹن اسکول میں تعلیم حاصل کی، وہ شاعر، مجسمہ ساز اور مضبوط سیاسی خیالات کے مالک تھے، اسی اسکول میں اندرا گاندھی نے بھی تعلیم حاصل کی۔

خان عبدالغنی خان نے اپریل 1947 میں تقسیم ہند کے پیش نظر خدائی خدمت گار اور کانگریس اراکین کی مسلم لیگ کے حمایتیوں کی جانب سے حفاظت کے لیے پختون زلمے (پختون یوتھ) کے نام سے ایک عسکری گروپ تشکیل دیا، تاہم خدائی خدمت گار تحریک کے حامیوں اور کانگریس اراکین کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔

خدائی خدمت گارتحریک کی جانب سے پاکستان کی مخالفت کے باوجود کانگریس نے برطانوی حکومت سے مذاکرات میں مؤقف اختیار کیا کہ نارتھ ویسٹ فرنٹیئر پروونس (این ڈبلیو ایف پی) کی پاکستان یا ہندوستان میں شمولیت ریفرنڈم کے ذریعے کی جائے گی۔

یہ صورتحال خدائی خدمت گارتحریک کے لیے مایوس کن ثابت ہوئی، خان عبدالغنی خان کے والد نے مہاتما گاندھی اور کانگریس کے اتحادیوں کو آخری بار کہا کہ’ تم لوگوں نے ہمیں بھیڑیوں میں پھینک دیا‘۔

این ڈبلیو ایف پی کا ریفرنڈم پاکستان کے حق میں آیا، جس کے بعد خدائی خدمت گار تحریک نے کانگریس سے اپنے روابط ختم کردیے اور ایک قرارداد کے تحت پاکستان سے وفاداری کا اقرار کیا، اس قرارداد میں کہا گیا کہ ’پاکستان ہمارا اپنا وطن ہے، ہم اس کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے‘۔

اس کے بعد خان عبدالغنی خان سیاست میں زیادہ متحرک نہیں رہے اور انہیں ایک مزاحمتی شخص کے طور پر یاد رکھا گیا، وہ 1950 میں کچھ وقت جیل میں بھی رہے۔

جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے فلسفہ، آرٹ اور شاعری سمیت پختونوں کی حفاظت کے لیے لکھی گئی کتاب ’دے پنجرے چغر‘ سے بھی علیحدگی کرلی، بعد ازاں 1980 میں ان کی اسی کتاب کو جنرل ضیاء الحق نے ستارہ امتیاز دیا۔

عبدالغنی خان 1996 میں وفات پاگئے، انہیں ان کے یادگار الفاظ کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے جس میں انہوں کہا تھا کہ ’پختون محض دوڑ کا نام نہیں، بلکہ وہ ذہنی کیفیت کا نام ہیں، ہر شخص میں ایک پختون موجود ہوتا ہے، جو کبھی کبھار ہی بیدار ہوتا ہے، جو باقی وجود پر غالب آجاتا ہے‘۔


پشاور سے بمبئی 1944- گاندھی کی چال


مہاتما گاندھی نے 1930 کے وسط میں این ڈبلیو ایف پی کا دورہ کیا، تاکہ انڈین نیشنل کانگریس اور خان عبدالغفار خان کی خدائی خدمت گار تحریک کے درمیان اتحاد قائم ہوسکے، یہ ان دونوں کے درمیان اچھے روابط ہی تھے، جس کی وجہ سے گاندھی کو فرنٹیئر میں حمایت حاصل ہوئی۔

خدائی خدمت گار نے خان عبدالغفار خان کی سربراہی میں برطانوی راج کے خلاف عدم تشدد کی تحریک شروع کردی، ابتداء میں اس تحریک پر برطانوی حکومت کے عہدیداروں کا دباؤ بڑھا تو خان عبدالغفار خان کو دیگر نیشنل پارٹیوں کی حمایت کی ضرورت پڑی۔

مسلم لیگ میں 1931 کے درمیان بغاوت کی وجہ سے انہیں کانگریس کی ہمدردیاں حاصل ہوئیں اور خان عبدالغفار خان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب نے خدائی خدمت گار اور کانگریس کے درمیان 1937 اور 1946 میں ہونے والے انتخابات کے موقع پر بننے والے اتحاد میں اہم کردار ادا کیا۔

تقسیم ہند کے موقع پر خدائی خدمت گار تحریک نے پاکستان سے اشتراک کی مخالفت کردی، تاہم جب کانگریس نے برطانوی سرکار کو تجویز دی کہ این ڈبلیو ایف پی کی قسمت کا فیصلہ ریفرنڈم پر ہوگا تو خان عبدالغفار خان نے کانگریس کے ساتھ اپنے تعلقات کو خوفناک سمجھنا شروع کیا۔

—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
—فوٹو: بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

ابتدائی میں مہاتما گاندھی نے جولائی 1944 میں قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ ان کی بمبئی میں موجود رہائش گاہ پر مذاکرات کے دوران انہیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کا خیال یا وجود ناقابل یقین ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ تمام اختیارات کانگریس کے حوالے کیے جائیں، بعد ازاں مسلم اکثریتی علاقوں میں الگ ریاستیں بنائی جائیں، جو انڈین فیڈریشن حکومت کے ماتحت ہوں۔

مہاتما گاندھی کا مشورہ قرارداد لاہور کے برعکس تھا، جب کہ محمد علی جناح کی جانب سے گاندھی کے مشورے کو مسلم ریاستوں کی خود مختاری کے حوالے سے کسی بھی ضمانت کے بغیر قبول کرنا ناممکن تھا، اس لیے یہ مذاکرات بھی ناکام ہوگئے۔


کراچی 1943: فتح کا شاندار جلسہ


فوٹو : بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
فوٹو : بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

مذکورہ بالا تصویر میں قائد اعظم محمد علی جناح اور جی ایم سید کو دسمبر 1943 میں کراچی میں مسلم لیگ کے سالانہ کنونشن کے شاندار جلسے میں دیکھا جاسکتا ہے۔

قائد اعظم اور جی ایم سید کے پیچھے نیشنل گارڈز کے اے ڈی سی ممتاز ہدایت اللہ جو سندھ کے معروف سیاستدان غلام حسین ہدایت اللہ کے بیٹے اور سعید ہارون جو حاجی عبداللہ ہارون کے بیٹے ہیں، نظر آرہے ہیں۔

3 مارچ 1943 کو جی ایم سید نے سندھ قانون ساز اسمبلی میں ایک قراداد پیش کی، جس میں پاکستان کی تخلیق کا مطالبہ کیا گیا اور اس قرارداد کو منظور بھی کیا، یوں یہ پاکستان کی تخلیق کی پہلی قرارداد قرار پائی۔

اس قرار داد کے متن میں کہا گیا تھا کہ’ ہندوستان کے مسلمانوں کے حق میں ہے کہ وہ اس خطے میں آزاد ریاستوں پر مبنی ایک الگ ملک کے مالک ہوں، ہندوستان کی جن ریاستوں میں ان کی اکثریت ہے، وہ انہیں دے دیے جائیں‘۔

اور اس قرارداد کے بعد ہی دسمبر 1943 میں مسلم لیگ کا سالانہ کنونشن منعقد کیا گیا، جو فتح کے شاندار جلسے میں تبدیل ہوگیا اور اس کنونشن کے لیے کراچی کا ہی انتخاب کیا گیا۔

مسلم لیگ سندھ کے صوبائی صدر کی حیثیت سے جی ایم سید کو اس جلسے کے انعقاد کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔

جی ایم سید اس کنونشن کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’انہوں نے اس جلسے کے لیے مسلسل 3 ماہ تک محنت کی، ہم نے ہرکسی کو اس جلسے میں شامل ہونے کے لیے دعوت دی اور آج اس شاندار جلسے میں شریک لوگ ہی اس کی خرابی کے حوالے سے بتاسکتے ہیں اور وہ یہ بھی گواہی دے سکتے ہیں کہ سندھ نے ان کی کس قدر اعلیٰ مہمان نوازی کی‘۔

جی ایم سید نے اس موقع کو نئے سندھ کی تعمیر کے لیے یادگار بنانے کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے جناح میں غیر معمولی صلاحیتیں دیکھی ہیں، ان کے مطابق جناح کی غیر معمولی شخصیت نے ان کے ذہن پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں‘۔

بعد ازاں جی ایم سید نے محمد علی جناح سے مسلم لیگ سندھ کی صدارت سے استعفیٰ دینے کے لیے اجازت مانگی، جس کے بعد انہوں نے 1946-1945 کے انتخابات میں پروگریسو مسلم لیگ کے تحت سندھ میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیا اور اپنا ایک الگ راستہ بنالیا۔


23 مارچ 1940: سچائی کی تحریک


قائد اعظم منٹو پارک میں خطاب کرتے ہوئے، اس موقع پر نواب شاہنواز خان ممدوت اور اے کے فضل حق بھی نظر آرہے ہیں—فوٹو: نیشنل آرکائیو اسلام آباد
قائد اعظم منٹو پارک میں خطاب کرتے ہوئے، اس موقع پر نواب شاہنواز خان ممدوت اور اے کے فضل حق بھی نظر آرہے ہیں—فوٹو: نیشنل آرکائیو اسلام آباد

قائد اعظم محمد علی جناح نے 22 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں عوام کے جم غفیر سے خطاب کیا، مسلم لیگ کے اس تین روزہ کنونشن میں ’قرارداد پاکستان‘ متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

اوپر دی گئی تصویر میں قائد اعظم کے خطاب کے دوران سب سے پہلے کھڑے ہوئے چیئرمین پنجاب ریسیپشن کمیٹی نواب شاہنواز خان ممدوت اور جھنڈے کے قریب کھڑے ہوئے بنگال کے وزیر اعلیٰ اور شیر بنگال عبدالکسیم (اے کے) فضل حق، جن کا ساتھ اس قرارداد میں اہم ثابت ہوا۔

سرظفراللہ خان، مولانا ظفر علی خان، مولانا عبدالغفور ہزاروی، حاجی عبداللہ ہارون اور قاضی عیسیٰ—فوٹو: سیفیلڈ آرکائیو/ڈان وائٹ اسٹار
سرظفراللہ خان، مولانا ظفر علی خان، مولانا عبدالغفور ہزاروی، حاجی عبداللہ ہارون اور قاضی عیسیٰ—فوٹو: سیفیلڈ آرکائیو/ڈان وائٹ اسٹار

اس تصویر کے بائیں جانب پہلے نمبر پر موجود سر ظفراللہ خان نے ’قرارداد پاکستان‘ کا اصل ڈرافٹ تیار کیا تھا، ڈرافٹ پر مسئلہ اُس وقت پیدا ہوا جب انہوں نے اسے وائسرائے لارڈ لنلتھگو کی خدمت میں یادگار کے طور پر پیش کیا، مگر دوسری جانب لاہور کی ورکنگ کمیٹی نے اس میں ترامیم کردیں۔

تصویر کے بائیں جانب دوسرے نمبر پر ہندوستان کی شمال مغربی ریاست پنجاب کے مولانا ظفر علی خان ہیں، جنہوں نے اس قرارداد کی حمایت کی۔

اس کے بعد نارتھ ویسٹ فرنٹیئر پروونس (این ڈبلیو ایف پی) سابقہ صوبہ سرحد اور حالیہ خیبرپختونخوا کے مولانا عبدالغفور ہزاروی، اس کے بعد سندھ کے حاجی عبداللہ ہارون اور آخر میں بلوچستان کے قاضی عیسیٰ ہیں۔

نوابزادہ لیاقت علی خان قرارداد لاہور کا جائزہ لیتے ہوئے—فوٹو:لاہور میوزیم
نوابزادہ لیاقت علی خان قرارداد لاہور کا جائزہ لیتے ہوئے—فوٹو:لاہور میوزیم

قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کی یہ بات کہ قرارداد لاہور کو مسلم لیگ اتر پردیش کے رہنما اور قانون ساز چوہدری خلیق الزماں نے پیش کیا، آگ کو ہوا دینے کے برابر ہے، کیوں کہ انہوں نے دوسرے شخص کی حیثیت سے قرارداد کو پیش کیا۔

اس قرار داد کو جلسے میں متفقہ طور پر منظور کرنے کے بعد اعلان کیا گیا کہ’ کوئی بھی قانونی منصوبہ اُس وقت تک قابل قبول اور قابل عمل نہیں ہوگا، جب تک مسلمانوں کو جغرافیائی اور جمہوری طریقے سے اکثریت والے علاقے نہیں دیئے جاتے، جن کی علاقائی تشکیل ناگزیر بن چکی ہے‘۔

اب پاکستان کی تشکیل سچائی اور جدوجہد کی تحریک بن چکی تھی۔


سندھ 1938: یادگار کامیابی کے بعد آرام


قائد اعظم اور میاں ممتاز دولتانہ حاجی عبداللہ ہارون کے ساتھ سیفیلڈ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے—
قائد اعظم اور میاں ممتاز دولتانہ حاجی عبداللہ ہارون کے ساتھ سیفیلڈ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے—

حاجی عبداللہ ہارون مسلم لیگ کی کراچی میں ہونے والی ایک کانفرنس میں تھکاوٹ کے بعد گھر میں آرام کر رہے تھے، اس دوران قائد اعظم محمد علی جناح اور میاں ممتاز دولتانہ ان سے سندھ میں پہلی آل انڈیا مسلم لیگ حکومت کی بحالی سے متعلق تبادلہ خیال کرنے پہنچے، جو عبداللہ ہارون کی سربراہی میں بننا تھی۔

قائد اعظم کو ہندو-مسلم سفیر کی حیثیت بھی حاصل تھی، وہ لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کے 4 سال گزارنے کے بعد 1934 میں وطن لوٹے اور مسلم لیگ کے صدر کے طور پر فرائض انجام دیے۔

قائد اعظم کے وطن واپسی کے پہلے تین سال کے دوران ہی انہوں نے مستقبل کے پاکستان کے علاقوں کے حوالے سے ذہن بنالیا تھا (اگرچہ ان کے ذہن میں پاکستان سے متعلق ناقابل اعتماد خیال تھا)۔

خصوصی طور پر وہ سندھ میں یونین طرز کے اتحاد کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے، جو برطانوی سرکار کی مداخلت کی وجہ سے ہوا تھا، پھر اس کو شیخ عبدالمجید کی ایک قرارداد سے ختم کردیا گیا، یہ قرارداد کراچی کانفرنس نے منظور کی، اس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ مسلم لیگ ایک مکمل آزاد اور خودمختار مسلم ریاست کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

قائد اعظم کی آزاد مسلم ریاست کی جدوجہد کے لیے یہ موقع پہلا اہم قدم ثابت ہوا۔

محض 4 سال بعد حاجی عبداللہ ہارون 1942 میں چل بسے، ان کی وفات پر قائد اعظم نے کہا’ ہندوستانی مسلمان اور خاص طور پر سندھ کے لوگ ایک ایسے لیڈر سے محروم ہوگئے، جو ان کے لیے سچائی اور نیک نیتی سے کوشاں تھا‘۔

محمد علی جناح نے مزید کہا کہ 'میں نے ایک دوست، ایک ساتھی کھودیا، ان کی وفات سے بہت بڑا نقصان ہوا ہے'۔

نوابزادہ لیاقت علی خان نے ان کی وفات پر کہا کہ’ وہ مسلم لیگ کا ستون تھے، مخلص لیڈرز میں سے ایک تھے، وہ ایک محب وطن پاکستانی تھے، ان کی وفات سے ہندوستانی مسلمانوں اور خصوصی طور پر سندھ کے عوام کو نقصان پہنچے گا‘۔


لندن1931: ایک خودساختہ جلاوطنی


محمد علی جناح اپنی بہن فاطمہ اور بیٹی دینا کے ہمراہ — تصویر : بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
محمد علی جناح اپنی بہن فاطمہ اور بیٹی دینا کے ہمراہ — تصویر : بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

لندن میں گول میز کانفرنسیں بے نتیجہ ختم ہو گئیں، اس دوران محمد علی جناح لندن میں ہی رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں جہاں پرائیوی کونسل (برطانیہ اور دولتِ مشترکہ کی اعلیٰ ترین عدلیہ) کے وکیل کے طور پر ان کی زبردست پریکٹس قائم ہے، ان کے چیمبر کنگز بینچ واک پر قائم ہیں۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت انڈین نیشنل کانگرس کی صورت میں ہندو مسلم اتحاد کے پلیٹ فارم کی ناکامی پر غور کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔ بالآخر 1934 میں وہ ہندوستان واپس لوٹ کر آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ وہاں سے وہ بطور قائدِ اعظم، ان اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کرتے ہیں کہ جو صرف 13 سال کی ریکارڈ مدت میں پاکستان کے قیام پر منتج ہوں گے۔


رتی جناح—تصویر : بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
رتی جناح—تصویر : بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد

رتی جناح پارسی معزز سر ڈنشا پیٹٹ کی صاحبزادی ہیں۔ خاندان کی بھرپور مخالفت کے باوجود وہ 13 سال کی عمر میں قائدِ اعظم سے شادی کرلیتی ہیں۔ یہ جوڑا بمبئی میں ساؤتھ کورٹ مینشن میں رہتا ہے۔ رتی اور محمد علی جناح گلیمر سے بھرپور جوڑا ہیں۔ رتی ریشمی لباس میں بے انتہا خوبصورت دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ہیئر اسٹائل مخصوص ہے جس کی سجاوٹ وہ تازہ پھولوں یا پھر ہیرے، روبی اور زمرد جڑے ہیڈ بینڈز سے کرتی ہیں۔

یہ جوڑا اپنی شادی کے ابتدائی سالوں میں خوش رہتا ہے، مگر 1922 کے وسط تک محمد علی جناح کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں، کام کے طویل اوقات کار اور سفر کی کثرت کی وجہ سے رتی تنہائی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جناح 20 فروری 1929 کو دہلی میں ہوتے ہیں جب انہیں فون پر بتایا جاتا ہے کہ رتی شدید بیمار ہیں۔

ایک قریبی دوست کے مطابق قائد اعظم کہتے ہیں: "تم جانتے ہو کس کا فون تھا؟ میرے سسر کا۔ ہماری شادی کے بعد آج پہلی بار ہم نے بات کی ہے"۔

جو بات محمد علی جناح نہیں جانتے، وہ یہ کہ رتی وفات پا چکی ہیں۔ ان کی آخری رسومات 22 فروری 1929 کو بمبئی کے مسلم قبرستان میں ادا کی جاتی ہیں۔

رتی کے قریبی دوست کانجی دوارکداس کے مطابق "جنازہ ایک تکلیف دہ حد تک سست رو رسم تھی۔ جناح پانچ گھنٹے تک خاموش بیٹھے رہے"۔ پھر جب رتی کو قبر میں اتارا گیا، تو قائد اعظم مٹی کی پہلی مٹھی ڈالتے ہیں۔ پھر اچانک وہ جذبات پر قابو کھو بیٹھتے ہیں اور بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتے ہیں۔ ایک اور قریبی دوست ایم سی چھاگلہ کے مطابق، "ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ یہ واحد وقت تھا جب میں نے جناح کو بشری کمزوری کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا" ۔


محمد علی جناح اور دینا لندن کے علاقے ہیمپسٹیڈ کے ویسٹ ہیتھ روڈ پر واقع اپنے گھر کے باغ میں اپنے ڈوبرمین اور اسکاٹش ٹیریئر کتوں کے ساتھ—تصویر : بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد
محمد علی جناح اور دینا لندن کے علاقے ہیمپسٹیڈ کے ویسٹ ہیتھ روڈ پر واقع اپنے گھر کے باغ میں اپنے ڈوبرمین اور اسکاٹش ٹیریئر کتوں کے ساتھ—تصویر : بشکریہ نیشنل آرکائیو اسلام آباد


1931: خلافت تحریک کی آگ بجھ گئی


تصویر : بشکریہ محمد علی جوہر فیملی، ڈان/وائٹ اسٹار آرکائیوز
تصویر : بشکریہ محمد علی جوہر فیملی، ڈان/وائٹ اسٹار آرکائیوز

مولانا محمد علی جوہر (اوپر بائیں جانب) 1919 میں اپنے ترکی کے دورے کے دوران ترک لباس میں ملبوس ہیں۔ ترکی میں انڈین مسلم میڈیکل مشن کے سربراہ ڈاکٹر انصاری ان کے بائیں جانب کھڑے ہیں۔

خلافت تحریک (1922-1919) کے دوران ریاست رام پور سے تعلق رکھنے والے علی برادران کو خلافت تحریک میں مرکزی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے، اس کٹھالی کی طرح جس میں ایک علیحدہ جنوبی ایشیا کی مسلم شناخت جنم لیتی ہے۔

مولانا محمد علی جوہر اپنا پہلا نقش پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر اُس وقت چھوڑتے ہیں جب اتحادی افواج سلطنتِ عثمانیہ پر معاہدہ سیوریز کے تحت قبضہ کر لیتی ہیں، ترک قوم پرست اس معاہدے کو مسترد کر دیتے ہیں جبکہ مصطفیٰ کمال اتاترک کی زیرِ سربراہی گرینڈ نیشنل اسمبلی برسرِ اقتدار سلطان محمود چہارم کی حکمرانی کی مذمت کرتے ہیں۔

جب یہ واقعات وقوع پذیر ہو رہے ہوتے ہیں تو مولانا محمد علی جوہر اور ان کے بھائی مولانا شوکت علی ہندوستان میں ایک تحریک کا آغاز کر دیتے ہیں تاکہ مسلمانوں میں سیاسی اتحاد بیدار کیا جائے اور برطانیہ پر سلطنتِ عثمانیہ کی حفاظت کے لیے دباؤ ڈالا جائے، یہ تحریک آگے چل کر خلافت تحریک کی بنیاد بنتی ہے، مگر انڈین نیشنل کانگریس سے اتحاد اور سول نافرمانی کی ملک گیر اور پرامن تحریک کے باوجود خلافت تحریک کمزور پڑ جاتی ہے کیوں کہ ہندوستانی مسلمان کانگریس، خلافت تحریک اور مسلم لیگ کے درمیان کام کرنے کے دوران تقسیم ہیں، اختتام 1924 کو ہوتا ہے جب اتاترک خلافت کا خاتمہ کر دیتے ہیں، علی برادران مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں اور پھر تحریکِ پاکستان میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

خلافت تحریک جنوبی ایشیاء میں ایک علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

تصویر : بشکریہ لاہور میوزیم آرکائیوز
تصویر : بشکریہ لاہور میوزیم آرکائیوز

مولانا شوکت علی (نیچے انتہائی دائیں جانب) جنوری 1931 میں مسجدِ اقصیٰ، یروشلم میں اپنے بھائی کی قبر پر کھڑے ہیں، مولانا محمد علی جوہر کی بار بار قید اور شدید ذیابیطس نے ان کی صحت پر نہایت برے اثرات مرتب کیے تھے، لندن میں جنوری 1931 میں گول میز کانفرنس میں شرکت کے دوران وہ انتقال کر گئے، حکومتِ برطانیہ کے لیے ان کے آخری الفاظ یہ ہیں: "اگر ایک غیر ملک آزاد ہے، تو میں وہاں مرنا پسند کروں گا، اگر آپ ہمیں ہندوستان میں آزادی نہیں دیتے تو آپ کو مجھے یہاں ایک قبر دینی ہوگی"۔


الہ آباد 1930: یادگار خطاب


فوٹو ڈان : وائٹ اسٹار آرکائیوز
فوٹو ڈان : وائٹ اسٹار آرکائیوز

سر محمد اقبال نے 30 دسمبر 1930 کو الہ آباد میں ہونے والے مسلم لیگ کے سیشن میں شرکت کی، جہاں انہوں نے تاریخی الہ آباد خطاب کیا۔

گاڑی میں ان کے دائیں جانب بیٹھے حاجی عبداللہ ہارون ہیں، ان کی گاڑی کے ساتھ کھڑے نوجوان یوسف ہارون ہیں، گاڑی کے بائیں جانب شروع میں کھڑے ہوئے شاعر حفیظ جالندھری ہیں، جنہوں نے بعد ازاں 18 برس بعد پاکستان کا قومی ترانہ لکھا۔

سر محمد اقبال کا خطاب ہندوستان میں موجود مسلم اکثریتی ریاستوں کی تقسیم کے بجائے ان کی آزادی کا اظہار کرتا ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ برصغیر کا امن مسلمانوں کو آزاد ریاستوں کے تحت ایک وفاقی طرز کی ریاست دینے میں ہے اور ایسا ہی نظام ہندو اکثریت والی ریاستوں کے لیے بھی ہو۔

—فوٹو: اقبال اکیڈمی
—فوٹو: اقبال اکیڈمی

محمد اقبال نے مسلم اکثریت والی شمال مغربی ہندوستانی ریاستوں کی بھی آزادی کی وضاحت کی، وہ ہی پہلے سیاستدان ہیں، جنہوں نے دو قومی نظریہ دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ’مسلمان ایک مختلف قوم ہیں، اس لیے انہیں الگ خود مختار اور ہندوستان کے دیگر مذاہب سے الگ ملک دینا ہی ان کا حق ہے۔

سر محمد اقبال تاریخی مسجد قرطبہ بھی گئے، جہاں انہوں نے نماز ادا کی، یہ مسجد 1236 میں عیسائی حکمران کارڈوبا کے دور اقتدار میں مسجد سے رومن کیتھولک چرچ میں تبدیل ہوگئی۔

8 بندوں پر مشتمل ان کی شاہکار نظم 'مسجدِ قرطبہ' اس مسجد میں گزارے گئے وقت سے متاثر ہو کر لکھی گئی۔

دیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماں

آہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاں


تقسیم کی جانب: آزادی کا قافلہ


اس تصویر میں 1906 سے 1948 تک کے واقعات زیر غور ہیں جو ایک ایسا چونکا دینے والا وقت ہے جب آزادی کی تحریکیں سامنے آئیں جنہوں نے ایک علیحدہ مسلم ریاست کی تشکیل کا مقصد حاصل کر لیا۔

درج ذیل تصویر جو کہ اس مدت کے اختتامی دور میں لی گئی اس میں 1906 میں قائم ہونے والی آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام، مسلمانوں کی شناخت کے لیے بڑھتی ہوئی جدوجہد، قائد اعظم کا ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بطور تنہا ترجمان سامنے آنا، پاکستان کی تخلیق کو راستے سے ہٹانے والے حربوں کے ساتھ مذاکرات کرنا، مسلمانوں کی آزادی کا حصول، پاکستان کو مضبوط بنانے کا عزم اور ان کی عظمت کے نچوڑ کے ساتھ ختم ہونے والی یادوں کو روشن کرتی ہے جو آج پاکستان کے وجود کا سبب ہے۔


ڈھاکا سے آغاز 1906: آل انڈیا مسلم لیگ کی تشکیل


تصویر ڈان/وائٹ اسٹار آرکائیوز
تصویر ڈان/وائٹ اسٹار آرکائیوز

نواب وقار الملک ریاست حیدرآباد کی ایک ممتاز سیاسی شخصیت تھے، انہوں نے ہی ڈھاکا میں ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے سب سے پہلے اجلاس کا افتتاح کیا۔

تصویر : ڈان / وائٹ اسٹار آرکائیوز
تصویر : ڈان / وائٹ اسٹار آرکائیوز

ڈھاکا کے نواب سلیم اللہ جو ایک قابل عزت تعلیم دان، قانون ساز اور تقسیم بنگال کی تحریک میں سب سے متحرک رہنے والی شخصیت تھے، ڈھاکا میں منعقدہ آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے اس اجلاس کی میزبانی کرتے ہیں جو آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد کا باعث بنتا ہے۔

تصویر ڈان/وائٹ اسٹار آرکائیوز
تصویر ڈان/وائٹ اسٹار آرکائیوز

سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوم (سب سے اوپر والی صف میں بائیں جانب تیسرے نمبر پر)، جو دنیا بھر میں پھیلی اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی سربراہ ہیں، انھوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام میں تشکیلی کردار ادا کیا، انھوں نے 1907 سے لے کر 1913 تک آل انڈیا مسلم لیگ کے بطور پہلے صدر اپنی خدمات سر انجام دیں بعد ازاں انھوں نے لیگ آف نیشنز کی صدارت کا عہدہ بھی سنبھالا۔

تصویر ڈان/وائٹ اسٹار آرکائیوز
تصویر ڈان/وائٹ اسٹار آرکائیوز

تصویر ڈان/وائٹ اسٹار آرکائیوز
تصویر ڈان/وائٹ اسٹار آرکائیوز

آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی ممبران 30 دسمبر 1906 کو شاہ باغ کی بارہ دری کے مقام پر موجود ہیں، آل انڈیا مسلم لیگ علی گڑھ کے سر سید احمد خان کے وژن سے ظہور پذیر ہوئی جبکہ آگے چل کر 1947 میں تشکیل پاکستان کا باعث بنی۔


یہ رپورٹ ڈان میڈیا گروپ کی جانب سے آزادانہ طور پر تیار کی گئی، جبکہ یو بی ایل نے اس مقصد کے لیے ادائیگی کی۔


یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) نجی شعبے میں کام کرنے والے پاکستان کے بڑے بینکوں میں سے ایک ہے، جسے 2016 میں پاکستان کا بہترین بینک قرار دیا گیا۔ اپنی 58 سالہ بافخر میراث کے ساتھ یو بی ایل ملک کے سماجی و اقتصادی تانے بانے کا حصہ ہے، یو بی ایل نے ہمیشہ جذبے اور فخر کے ساتھ پاکستان کی خدمت کی ہے، پاکستان کی آزادی کے 70 ویں برس کے موقع پر اس مہم کے ذریعے ہم اُس سب کا جشن منائیں گے جو ہمیں ہمارے ماضی پر فخر کرنے اور مستقبل کے حوالے سے مثبت امید دلانے کا باعث بنتا ہے۔

Twitter Share
Facebook Count