چین نے اپنے شہریوں کو پاکستان میں دہشت گردی کے خطرے سے آگاہ کردیا

اپ ڈیٹ 09 دسمبر 2017

ای میل

چین نے پاکستان میں موجود اپنے شہریوں کو ممکنہ طور پر دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی اطلاعات کے بعد پاکستان میں موجود چینیوں کو خبردار رہنے کی ہدایت جاری کردی۔

اسلام آباد میں قائم چین کے سفارت خانے کی ویب سائٹ کے مطابق چینی کمپنیوں اور اہلکاروں کے خلاف 'شدید دہشت گرد حملوں' کی منصوبہ بندی کی معلومات ملی ہیں۔

سفارت خانے کی جانب سے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا تاہم چینی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رہائشی مقامات میں ہی رہیں اور عوامی جگہوں میں جانے سے گریز کریں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں ہزاروں چینی شہری مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جبکہ چین کی جانب سے 60 بلین ڈالر کی مالیت کے 'بیلٹ اینڈ روڈ' کے نام سے شروع کیے گئے بڑے منصوبے سے جڑے کاموں کے لیے یہاں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مغوی چینی شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات جاری ہیں:دفتر خارجہ

پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت چلنے والے توانائی، سڑکوں اور دیگر بڑے منصوبوں کے آغاز اور ڈھانچے کو مکمل کرنے کے لیے بھی کئی چینی ماہرین، انجینیئرز اور ملازمین بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف حصوں میں کام میں مصروف ہیں۔

بلوچستان میں بندرگاہ اور سڑکوں کے منصوبوں میں کام کرنے والے افراد ماضی میں دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

رواں سال کے اوائل میں عیسائی مشینری سے تعلق رکھنے والے دو چینی باشندے کوئٹہ سے لاپتہ ہوگئے تھے جنھیں بعد ازاں دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) نے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

حکومت پاکستان نے چین کو یقین دہانی کرادی ہے کہ وہ ملک میں سی پیک اور دیگر حوالوں سے موجود چینی باشندوں کے تحفظ کے لیے فورسز کو تعینات کر دے گی۔