2010ء کے سیلاب بلاخیز کے بعد مجھے خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔ سیلاب کا پانی اتر چکا تھا مگر تباہی اور بربادی کا منظر چہار سو پھیلا ہوا تھا، گاؤں کے گاؤں اُجڑ چکے تھے۔ لوگ اپنے بچے کچھے سامان اور چند ایک مویشیوں کو لے کر بربادی کی تصویر بنے بیٹھے تھے۔ یہ سیلاب پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک تھا۔

ماہرِ ماحولیات اور قومی کلائمٹ چینج پالیسی کے مصنف ڈاکٹر قمر زمان چوہدری کے مطابق اِس سیلاب نے معیشت کو 9.6 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچایا جبکہ 2 کروڑ لوگ متاثر ہوئے۔ نقصان کا دائرہ وسیع تھا جبکہ کام کرنے والے محدود۔ کئی این جی اوز حکومت کے ساتھ مل کر یا انفرادی سطح پر اُن علاقوں میں کام کر رہی تھیں۔ خواتین کی بحالی کے لیے بھی کئی ادارے کام کررہے تھے۔

اس سیلاب نے معیشت کو 9.6 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچایا جبکہ دو کروڑ لوگ متاثر ہوئے—تصویر شبینہ فراز
اس سیلاب نے معیشت کو 9.6 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچایا جبکہ دو کروڑ لوگ متاثر ہوئے—تصویر شبینہ فراز

مجھے ایک ادارے نے رپورٹ تیار کرنے کے لیے ایسے ہی ایک علاقے میں بھیجا تھا، جہاں میں خواتین سے مل کر معلوم کروں کہ اُن کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ گھومتے پھرتے لوگوں کی درد بھری کہانیاں اور داستانیں سنتے سنتے میں محب بانڈہ کے ایک گاؤں میں پہنچ گئی۔ لوگوں نے بہت عزت سے مجھے اپنے گھر میں بٹھایا، گھر کیا تھے گھاس پھونس کی ایک چھت تھی جو چاروں طرف سے کھلی تھی، چھت تلے انسان بھی تھے اور مویشی بھی۔ سیلاب کا پانی اُتر چکا تھا لیکن زمین ابھی بھی پوری طرح خشک نہیں ہوئی تھی، سانسوں کو تھما دینے والی ایک ناگوار بو چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔

مزید پڑھیے: کراچی کا مضافاتی قلعہ رتوکوٹ، جو ڈوبنے کے قریب ہے

یہاں میری ملاقات گُل بی بی سے ہوئی، ایک 20 یا 21 سالہ لڑکی، جس کی شادی کو ایک سے ڈیڑھ سال ہوا تھا، اور اُس کا چند ماہ کا بچہ اُس کی ماں کی گود میں تھا۔ اُس خوبصورت سی لڑکی کے چہرے پر بچپنے کی معصومیت ابھی تک ٹھہری ہوئی تھی، لیکن اُس کی آنکھیں کچھ اور ہی کہانی سنا رہی تھیں، وہ خالی خالی نظروں سے ایک ہی سمت دیکھے جارہی تھی۔ میں نے گل بی بی کے بارے میں پوچھا تو اُس کی ماں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد سے اِس کا یہی حال ہے۔

سیلاب سے اِس صورت حال کا کیا تعلق؟ مزید کریدا تو صورت حال آشکار ہوئی۔ دراصل گُل بی بی بہت اچھی سلائی کڑھائی کیا کرتی تھی۔ وہ سلائی کرکے پیسے کماتی اور پھر اُسی پیسوں سے اپنے جہیز کا سامان خریدا تھا۔ اُسے گھر گرہستی کا بہت شوق تھا۔ گوٹا کناری والے خوش رنگ ملبوسات، خوبصورت کڑھائی والے تکیے اور بچھونے، اسٹیل کے چم چم چمکتے برتن اور ڈھیر ساری چیزیں جو مجھے اُس کی والدہ گنا رہی تھیں۔ وہ اپنی شادی کے بعد بہت خوش تھی۔ اپنے سجے بنے خوبصورت کمرے والے گھر میں جو اگرچہ کچا ہی تھا، مگر وہ پریوں کی طرح اُڑتی پھرتی کہ اچانک سب کچھ تباہ ہوگیا۔

خیبرپختونخوا میں 2010ء میں آنے والے سیلاب میں کئی گھر منہدم ہو گئے—تصویر شبینہ فراز
خیبرپختونخوا میں 2010ء میں آنے والے سیلاب میں کئی گھر منہدم ہو گئے—تصویر شبینہ فراز

یہ سیلاب پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک تھا—تصویر شبینہ فراز
یہ سیلاب پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک تھا—تصویر شبینہ فراز

سیلاب کا پانی کسی دیو کی طرح آیا اور اُس کی خوشیاں اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ وہ سب بمشکل اپنی جانیں ہی بچا پائے۔ پانی اترنے کے بعد جب وہ اپنے گاؤں لوٹے تو ہر طرف تباہی کا منظر تھا۔ اُس کے گھروں کے صرف آثار ہی بچے تھے۔ کچی دیواروں اور گھاس پھونس کی چھتوں کی پانی کے آگے کیا اہمیت۔ سب کچھ ختم ہوگیا۔

اپنی ہمت اور کچھ اداروں کے تعاون سے لوگوں نے کمر کَسی اور گھروں کی تعمیر شروع کی۔ اپنے ہاتھوں سے بنائی اپنی جنت کے اُجڑنے کا دُکھ گل بی بی برداشت نہیں ہوا، تباہی اور پھر بحالی کا کام دیکھ کر گل بی بی کو چُپ سی لگ گئی۔ اُس کا چند ماہ کا بچہ بھی اُس کی والدہ اور ساس سنبھالتیں۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اُسے شاک یا گہرا صدمہ پہنچا ہے اور کچھ وقت کے بعد وہ ٹھیک ہوجائے گی۔

پڑھیے: مائی مَتُو کا گاؤں جسے زمین نہیں "سمندر" نگل رہا ہے

کلائمٹ چینج یا آب و ہوا کی تبدیلی نامی بلا نے پاکستان کا رُخ کر رکھا ہے۔ ایک بین الاقوامی ادارے (تھنک ٹینک) جرمن واچ کے مطابق، آب و ہوا کی تبدیلی سے لاحق خطرات کی زد میں آنے والے ممالک میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے، لیکن اُسے آپ پہلا نمبر ہی سمجھیے کیونکہ ابتدائی 6 میں ہیٹی، فجی اور زمبابوے وغیرہ جیسے ممالک شامل ہیں، جن کی کُل آبادی شاید کراچی کی آبادی سے بھی کم ہو، گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان ہی پہلے نمبر پر ہے۔

آب و ہوا کی تبدیلی سے لاحق خطرات کی زد میں آنے والے ممالک میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے—تصویر آئی یو سی این
آب و ہوا کی تبدیلی سے لاحق خطرات کی زد میں آنے والے ممالک میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے—تصویر آئی یو سی این

جرمن واچ ہی کے مطابق پچھلے 20 برسوں میں پاکستان کی معیشت کو 3.8 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچا ہے، یعنی جی ڈی پی کا 0.6 فیصد حصہ جبکہ جانی نقصان علیحدہ۔ اِسی ادارے کے مطابق سالانہ اوسطاً 523.1 اور 20 برسوں میں 10 ہزار 642 جانیں ضائع ہوئیں۔ اِنہی 20 برسوں کے دوران پاکستان نے آب و ہوا کی تبدیلی سے پیش آنے والی 141 آفات برداشت کیں جن میں سیلاب، خشک سالی، بے موسم شدید بارشیں، برف باری کے طوفان، گلیشیئرز کی جھیلوں کا پھٹنا، جسے (Glacial Lake Outburst Floods) اور درجہءِ حرارت کا بڑھنا (Heat waves) وغیرہ شامل ہیں۔

معاشی اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو یہ بھی اب واضح ہوچکا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی سے بڑا خطرہ کلائمٹ چینج سے لاحق ہے۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ماہرین اور ہمارے ہی کیا بلکہ دنیا بھر کے ماہرین ماحول کی تباہی یا کلائمٹ چینج سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ معیشت کی کسوٹی پر لیتے ہیں۔

ہر نقصان کو پیسے اور ڈالروں میں تولا جاتا ہے لیکن انسان کے دل، جذبات، احساسات اور دماغی طور پر پہنچنے والا نقصان کسی ریسرچ یا کسی سائنسی مقالے میں نظر نہیں آتا۔ محب بانڈہ کی گل بی بی بھی ایسا ہی کیس تھا، لوگ اُس کے گھر اور مویشیوں کے نقصان کا اندازہ تو لگا رہے تھے لیکن جو کچھ نقصان اُس کے دلی جذبات، احساسات اور دماغ کو پہنچا تھا اُسے کوئی خاطر میں نہیں لا رہا تھا۔ اِن مسائل کا حوالہ سائنسی تحقیق میں تو نظر ہی نہیں آتا۔

جرمن واچ ہی کے مطابق پچھلے 20 برسوں میں پاکستان کی معیشت کو 3.8 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچا ہے—تصویر آئی یو سی این
جرمن واچ ہی کے مطابق پچھلے 20 برسوں میں پاکستان کی معیشت کو 3.8 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچا ہے—تصویر آئی یو سی این

کچھ عرصہ قبل مجھے پہلی بار ایک ایسا ریسرچ پیپر پڑھنے کو ملا جس میں مذکورہ مسائل کا جائزہ لیا گیا تھا۔ مقالے کا عنوان تھا، نان اکنامک لاس اینڈ ڈیمیج: ایکسپلورنگ دی مینٹل ہیلتھ امپیکٹ آف کلائمٹ چینج (غیر معاشی نقصان اور خسارہ: ماحولیاتی تبدیلی سے ذہنی صحت پر پہنچنے والے اثرات کا جائزہ)۔ تحقیق کے مصنف اور محقق بشارت سعید صاحب لیڈ پاکستان میں کلائمیٹ چینج کو آرڈینیٹر ہیں۔ یہ تحقیق غیر سرکاری تنظیم ’لیڈ پاکستان‘ کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی، لیڈ پاکستان کے سربراہ علی توقیر شیخ کے مطابق یہ دنیا بھر میں پہلی تحقیق ہے جس میں کلائمٹ چینج سے انسان کے دماغ اور احساسات کو پہنچنے والے نقصانات پر بات کی گئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ نقصانات دو طرح کے ہوتے ایک تو فوری طور پر وقوع پذیر ہوتے ہیں، جیسے سیلاب آگیا تو اُس سے ہونے والے نقصانات فوراً نظر آجاتے ہیں لیکن کچھ نقصانات دھیرے دھیرے ہوتے ہیں جو دماغ کو پہنچتے ہیں، جن میں خوف، ڈپریشن اور دیگر امراض شامل ہیں۔

اِس تحقیق کے مطابق کلائمٹ چینج سے لاحق اہم اور بڑے خطرات مثلاً سیلاب اور خشک سالی سے ہونے والے نقصانات میں معاشی نقصانات کا تخمینہ لگانا بہت آسان ہے، مثلاً بہت آسانی سے گنا جاسکتا ہے کہ کتنے گھر منہدم ہوئے، کتنے پُل گرے، کتنی سڑکیں تباہ ہوئیں، اُن کی مالیت کیا تھی۔ زراعت میں کتنا نقصان ہوا، کون کون سی فصل کتنے من یا ٹن تباہ ہوئی وغیرہ وغیرہ، مگر لوگوں کے ذہنوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے، کس قدر خوف زدہ ہوئے، کتنے ڈپریشن اور اینگزائٹی کا شکار ہوئے، خوشیوں سے محروم ہوئے، اُن سب کا تخمینہ لگانا قطعاً آسان نہیں۔

پاکستان کے نامور آبی ماہر خالد مہنداللہ کے الفاظ میں

’آپ ہر اُس چیز کو اہمیت نہیں دیتے جسے ناپ یا گن نہ سکتے ہوں۔ گویا دنیا کی نظر میں نقصان صرف وہی ہے جسے کرنسی میں تبدیل کرکے دیکھا جاسکے۔‘

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل سینڈل کے مطابق،

’ہم دراصل مارکیٹ سوسائیٹیز ہیں اور مارکیٹ میں ہر شے یا تو خریدی جاتی ہے یا فروخت کی جاتی ہے۔ گویا بازار میں ایسی کوئی شے اہمیت نہیں رکھتی جو کرنسی کی کسوٹی پر پرکھی نہ جاسکے۔‘

قدرتی آفت سے لوگ کس قدر خوف زدہ ہوئے، کتنے ڈپریشن اور تیزابیت کا شکار ہوئے، خوشیوں سے محروم ہوئے، اُن سب کا تخمینہ لگانا قطعاً آسان نہیں—تصویر آئی یو سی این
قدرتی آفت سے لوگ کس قدر خوف زدہ ہوئے، کتنے ڈپریشن اور تیزابیت کا شکار ہوئے، خوشیوں سے محروم ہوئے، اُن سب کا تخمینہ لگانا قطعاً آسان نہیں—تصویر آئی یو سی این

دماغی صحت اور کلائمٹ چینج کے درمیان تعلق کو واضح کرنے کے لیے سائنس اور جذبات و احساسات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ اگر صرف سائنس کو اہمیت دی گئی تو بات نہیں بنے گی۔

ترقی یافتہ معاشروں میں تو رائج ہے کہ آفت زدہ لوگوں کا ماہرِ نفسیات سے علاج کروایا جاتا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں عام طور پر بھی کسی ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بشارت سعید کے مطابق قدرتی آفات سے دوچار لوگوں کی اگر ذہنی صحت خراب ہے تو آپ اُنہیں کتنی ہی ملازمتوں کے مواقع دیں یا مالی امداد دیجیے لیکن اُن لوگوں کو فرق نہیں پڑے گا، اُن کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اُن کے مطابق ذہنی صحت اور کلائمٹ چینج میں براہِ راست اور بالواسطہ دونوں حوالوں سے تعلق موجود ہے۔ براہِ راست تبدیلیوں میں فوراً ہونے والے نقصانات شامل ہیں، جبکہ بالواسطہ نقصانات میں ذہنی اور دماغی امراض شامل ہیں جن کے اثرات دھیرے دھیرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔

اِسی تحقیق میں ایک باب، ’تھرپارکر میں خشک سالی اور ڈپریشن کے اثرات‘ کے نام سے بھی ہے جس میں تھرپارکر ضلع میں قدرتی آفات سے رونما ہونے والی صورت حال کی تفصیل ہے۔

دماغی صحت اور کلائمٹ چینج کے درمیان تعلق کو واضح کرنے کے لیے سائنس اور جذبات و احساسات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا—تصویر آئی یو سی این
دماغی صحت اور کلائمٹ چینج کے درمیان تعلق کو واضح کرنے کے لیے سائنس اور جذبات و احساسات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا—تصویر آئی یو سی این

انسانی ترقیاتی اشاریے میں ضلع تھرپارکر کو غربت اور پسماندگی کے باعث سب سے نچلا درجہ دیا گیا ہے۔ محکمہءِ بحالیات سندھ کے مطابق اِس ضلع کو خشک سالی کے حوالے سے آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔ 1986ء سے 2012ء کے درمیان یہ ضلع کوئی 13 بار مختلف قسم کی آفات سے دوچار ہوا، جس میں خشک سالی اولین نمبر پر رہی۔ جبکہ اُن میں سے 5 آفات 2001ء سے 2012ء کے درمیان آئیں۔

2012ء سے لے کر اب تک تھر پارکر نے متواتر 3 بار شدید خشک سالی کا مقابلہ کیا ہے، جس کا سبب یقیناً کلائمٹ چینج ہے۔ ایک ایسے علاقے میں جہاں غربت پہلے ہی عروج پر ہو اور زندگی گزارنے کے لیے گزر بسر چھوٹی موٹی زراعت اور مویشی بانی پر ہو، جبکہ اُس کا بھی دارومدار بارشوں کے پانی پر ہو تو اگر وہاں بارانِ رحمت منہ موڑ لے اور چاروں جانب خشک سالی چھا جائے تو پھر جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا ایک معجزہ ہی ٹھہرتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اِس علاقے میں 2011ء سے اب تک خودکشیوں کے 130 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ جبکہ صرف 2014ء میں خود کشی کے 42 دلخراش واقعات پیش آئے۔ یعنی 2011ء (24 کیس) کے مقابلے میں 75 فیصد اضافہ ہوا۔ اویئر (Aware) نامی غیر سرکاری تنظیم کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق خشک سالی کے دنوں میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔

پڑھیے:

اور اب اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی ماہر درکار نہیں کہ خودکشیوں کے پیچھے غربت و افلاس، بے روزگاری اور دیگر سماجی و معاشی دباؤ کا بڑا ہاتھ ہوگا۔ لوگ ذرائع روزگار نہ ہونے کے باعث قرض لے لیتے ہیں جس کا دباؤ بھی ذہن پر پڑتا ہے پھر چونکہ قرض وقت پر ادا نہیں ہوپاتا تو یہ دباؤ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ ملازمت یا زراعت ختم ہوجانے اور حالات خراب ہونے پر اپنے خاندان کے سامنے اپنے ناکارہ ہونے کا احساس بڑھتا ہے، طبی ماہرین کہتے ہیں کہ اِن مذکورہ مسائل سے مریضوں میں ڈپریشن، تیزابیت اور خودکشی کا رحجان بڑھتا ہے۔

لیڈ پاکستان کی جانب سے تھرپارکر میں 250 گھروں کا سروے کیا گیا، اُن میں سے 31 فیصد افراد نے کہا کہ وہ انتہائی درجے کے ڈپریشن سے گزر رہے ہیں۔ 6 فیصد نے کہا کہ وہ انتہائی بیچارگی کے احساسات سے گزر رہے ہیں۔ جبکہ 67 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ خشک سالی سے اُن کی نفسیات، سماج اور ثقافت پر بدترین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ 70 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ اِس خشک سالی کے دائرے سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکتے۔ جبکہ 89 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں کوئی رشتے دار، کوئی دوست یا کوئی ادارہ ان کی مدد کو نہیں آیا۔ یہ احساسات مستقبل کے حوالے سے خوف کو بھی جنم دیتے ہیں۔

پڑھیے: مچھلی کی نسل کشی: شارٹ کٹ آمدنی کا ناقابلِ تلافی نقصان

علی توقیر شیخ کے مطابق کلائمٹ چینج اور دماغی صحت کے حوالے سے اگر تعلق جوڑا جائے تو درجہ حرارت کا بڑھنا اور جارحیت میں براہِ راست تعلق بنتا ہے۔ گرمی کی شدت ماحول میں بگاڑ پیدا کرتی ہے، ارد گرد کی گرمی دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے اور ایک چڑچڑا پن، فرسٹریشن اور جارحیت انسان میں پیدا ہونے لگتی ہے جس کا نتیجہ گھریلو تشدد بعض اوقات، جنسی زیادتیاں، خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانا اور اُس کی انتہا خودکشی پر جاکر منتج ہوتی ہے۔ کلائمٹ چینج سے ہونے والی مسلسل خشک سالی کم از کم 42 میں سے 30 خود کشیوں کی وجہ ہے۔

قدرتی آفات میں جو سب سے بڑا عذاب انسان بھگتتا ہے، وہ اُس کے آبائی علاقوں سے دور ہوجانا ہے۔ لیکن دماغی امراض کی ایک کیفیت ایسی بھی ہے جس میں انسان اپنی جگہ سے دور نہیں ہوتا لیکن محسوس ایسا ہی کرتا ہے۔ اِس کیفیت کے لیے بشارت سعید صاحب نے ایک لفظ solastalgia سولسٹیلجیا استعمال کیا، جس کی تشریح انہوں نے اس طرح کی کہ اگرچہ متاثرہ انسان اپنی جگہ موجود ہوتا ہے، مگر چونکہ اُس کے ارد گرد کی اشیاء جن سے اُس کی وابستگی تھی وہ تباہ ہوجاتی ہیں۔ درخت پیڑ پودے، فصلیں، مویشی یہ سب اُس سے چھن جاتے ہیں تو وہ سولسٹیلجیا کی حالت میں چلا جاتا ہے، جو دماغی امراض کی ایک شکل۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تھر میں لوگوں نے بتایا کہ پہلے بڑا جوش و خروش ہوا کرتا تھا لیکن اب نہیں رہا، کسی بات سے خوشی نہیں ہوتی، جینے کی اُمنگ ختم ہوگئی ہے۔

اِس تحقیق کے سامنے آنے سے یہ بات تو طے ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا بڑا تعلق دماغی امراض سے بھی ہے، لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ ہم ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے دماغی امراض پر بات کریں۔ حکومت اِس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات اُٹھائے، اسپتال اس حوالے سے اپنے شعبے ترتیب دیں اور اپنے کام کو دیہاتوں تک لے جائیں۔ حکومت اب کوشش کررہی ہے کہ قدرتی آفات کا شکار لوگوں کے لیے انشورنس کی سہولت فراہم کی جائے، اِس کا دائرہ دماغی امراض تک بھی بڑھایا جانا چاہیے۔ اِس کے علاوہ اِس موضوع پر اب ذرائع ابلاغ میں بھی بات ہونی چاہیے تاکہ عوام کو شعور اور آگاہی حاصل ہو۔

یاد رہے کہ ہم صحت پر سالانہ بجٹ کا ایک فیصد خرچ کرتے ہیں اور اِس میں بھی دماغی امراض کے لیے کوئی خاص حصہ مختص نہیں ہوتا۔ کسی ماہرِ نفسیات تک پہنچنا ہمارے معاشرے میں کس قدر مشکل ہے اِس کا اندازہ اِس بات سے لگائیے کہ یہاں 10 لاکھ لوگوں کے لیے ایک ماہرِ نفسیات ہے اور جو ہیں وہ بھی شہروں میں موجود ہیں، جبکہ ہماری 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے اور یہ بھی یاد رکھا جائے کہ آفات کا شکار زیادہ تر دیہی اور غریب لوگ ہی ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں جلد اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔