Email


مچھلی کی نسل کشی: شارٹ کٹ آمدنی کا ناقابلِ تلافی نقصان

ابوبکر شیخ

ایک منظرنامہ وہ ہے جو ہمیں بڑے سیمیناروں، اداروں کی پریزنٹیشنوں اور ٹی وی ٹاک شوز میں نظر آتا ہے، جس میں ماحولیات کے متعلق باتیں ہوتی ہیں اور بڑے وزنی، سنجیدہ اور رنجیدہ قسم کے انگریزی الفاظ ہوتے ہیں، جو پورے ملک کے فقط دو فیصد لوگوں کو سمجھ آتے ہیں اور باقی لوگ اُن الفاظ اور اُس مشکل گفتگو کے سحر میں جکڑے رہتے ہیں۔ جب ایسی گفتگو یا سیمینار اختتام کو پہنچتے ہیں تو ایک غنودگی کے عالم میں لوگ اپنے گھر کو چل دیتے ہیں۔

اگر اس رنگین اور ٹھنڈے منظرنامے کو ایک طرف رکھ کر بات کریں تو صاف بات یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی آنکھیں اور کان بند کیے ماحول اور وسائل کی بربادی میں جُٹا ہوا ہے۔

میں اس حقیقت کو یوں اور بھی آسان بنا دیتا ہوں کہ شیخ چلی جس ڈالی پر بیٹھا ہے اُس کو ہی کاٹ رہا ہے۔ یہ بالکل سادہ اور آسان زبان ہے جو ہم سب کو سمجھ میں آنی چاہیے۔

کچھ ہفتوں پہلے ایک گرم ڈھلتی دوپہر کا قصہ ہے۔ میں انڈس ڈیلٹا کی ساحلی پٹی کے اُن لوگوں سے مل کر واپس آ رہا تھا جہاں خوراک کی کمی نے بہت ساری بیماریوں نے اُن کے گھروں کے راستے دیکھ لیے ہیں۔ یا یہ کہنا بھی شاید غلط نہ ہو کہ ان لوگوں نے خود ان بیماریوں کو اپنی طرف آنے کی دعوت دی ہوئی ہے۔

مگر اُس گرم ڈھلتی دوپہر میں کچے راستے پر میں ایک چھوٹے کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔ کیوں؟ تو قصہ کچھ یوں ہے کہ وہاں سے چوں کہ راستہ پگڈنڈی نما تھا جس پر گاڑی کا چلنا ممکن نہیں تھا، لہٰذا ہم نے موٹر سائیکل پر سفر شروع کیا۔ قسمت کا تقاضا کہہ لیجیے کہ دو پہیوں والی سواری کا ایک پہیہ پنکچر ہوگیا سو ہماری سواری اب ایک پہیے پر کھڑی تھی۔ میرے ساتھ موجود موٹر سائیکل رائیڈر دو کلومیٹر دور پنکچر بنوانے چلا گیا تھا۔

انڈس ڈیلٹا سے قریبی علاقوں میں موجود نہریں — تصویر ابوبکر شیخ
انڈس ڈیلٹا سے قریبی علاقوں میں موجود نہریں — تصویر ابوبکر شیخ

مچھلی کے بیجوں کو نہر میں ہی پکڑ لیا جاتا ہے — تصویر ابوبکر شیخ
مچھلی کے بیجوں کو نہر میں ہی پکڑ لیا جاتا ہے — تصویر ابوبکر شیخ

اس دھوپ میں کچھ عورتیں اور بچے وہاں سے گذرے، اور چلتے چلتے اُنہوں نے پہلے ایک ٹانگ پر کھڑی موٹر سائیکل کو دیکھا، پھر مجھے دیکھا اور پھر چلے گئے۔

اگر آپ ساحلی پٹی جائیں تو ان پگڈنڈیوں پر بڑے درخت بڑی مشکل سے ہی نظر آتے ہیں اور تپتی دوپہروں میں کوے کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔ بس خاموشی ہر سو ہوتی ہے، جس کی جڑیں آکاس بیل کی طرح حد نظر تک پھیلتی جاتی ہیں۔

مگر وہاں مجھے دو لوگوں کی آوازیں سنائی دیں اور چند منٹوں بعد وہ میرے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ خیر و عافیت پوچھنے کے بعد میں نے اُنہیں کیکر کی چھاؤں میں چند لمحے بیٹھنے کو کہا۔

ان کے ہاتھوں میں مچھلی کے جال تھے جنہیں نیچے رکھ کر وہ اُن پر بیٹھ گئے۔ باتوں کا سلسلہ چلا تو معلوم ہوا کہ وہ ماہی گیری کرتے ہیں اور بچوں کی روزی روٹی کمانے کے لیے جا رہے ہیں۔

اپنی روزی روٹی کی خاطر وہ میٹھے پانی کی نہروں پر جال لگانے جا رہے تھے۔ جہاں دن رات بیٹھے رہیں گے، میٹھے پانی کی مچھلی کا بیج اس نہر میں آئے گا اور جال میں پھنسے گا۔

نہروں پر لگے جالے انتہائی باریک ہیں — تصویر ابوبکر شیخ
نہروں پر لگے جالے انتہائی باریک ہیں — تصویر ابوبکر شیخ

نہر سے مچھلیوں کے بیج پکڑنے کی خاطر لگائے گئے باریک جالے — تصویر ابوبکر شیخ
نہر سے مچھلیوں کے بیج پکڑنے کی خاطر لگائے گئے باریک جالے — تصویر ابوبکر شیخ

پھر وہ ان چھوٹی مچھلیوں کو تپتی دھوپ میں پھینک دیں گے۔ جل نہیں ہوگا تو مچھلی کے چھوٹے ننھے مُنے بچے بھی تڑپ تڑپ کر مر جائیں گے۔ جب یہ زندہ مچھلی 100 کلوگرام وزن تک پکڑیں گے تب یہ سوکھ کر 40 کلوگرام تک رہ جائے گی، جسے یہ لوگ 800 سے 1000 روپے میں بیچیں گے۔

100 کلوگرام میں مچھلی کے لاکھوں چھوٹے بچے ہوتے ہیں، جو اگر جھیلوں، دھان کے کھیتوں تک پہنچ جائیں تو افزائش پا کر بڑے ہوجائیں گے اور اس طرح ڈیلٹائی ساحلی پٹی میں خوراک کی کمی فوری طور پر ختم ہو جائے گی۔ اور جب آپ کو بہتر خوراک ملے تو بیماریاں آپ کے قریب نہیں آتیں۔

لیکن اب گنگا اُلٹی بہنے لگی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب آپ میں انتظار کرنے کی طاقت ختم ہو جائے تو پھر آپ کے پاس شارٹ کٹ کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔ جہاں بھی شارٹ کٹ آیا اپنے ساتھ بربادی ہی لایا۔

اب یہاں بھی روزی روٹی شارٹ کٹ کے حوالے ہے، اسی کی وجہ سے یہ ماہی گیر کماتے کم ہیں اور بدلے میں بھرتے زیادہ ہیں۔ چاہے وہ پیسے ہوں، پریشانی ہو یا ذہنی کوفت ہو۔

مچھلی کا بیج مار کر اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں اور جس طرح صحت بخش غذا بننے والے بیج کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ وہ یا تو اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ اس طرح وہ بھوک، افلاس اور بے روزگاری کا بیج بو رہے ہیں۔ جبکہ ان کو یہ بھی پتہ ہے کہ مچھلی ان کے خاندان کی خوراک کے لیے کس قدر ضروری ہے۔

ماضی میں ایسا کچھ نہیں تھا، ان دنوں پانی محترم تھا اور مچھلی کو 'لکشمی' کا درجہ دیا جاتا تھا۔ میں نے جب اس حوالے سے، ڈیلٹا کی ماحولیات پر انتہائی گہری نظر رکھنے والے، یو این ڈی پی، جیف سمال گرانڈ پروگرام کے مسعود لوہار سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ، "اب تو گنگا ہی اُلٹی بہنے لگی ہے۔ ترجیحات تبدیل ہوتی رہتی ہیں، جو کہ بہتر عمل ہے مگر جب ترجیحات میں مثبت اور منفی، اچھے اور بُرے کی تمیز نہ رہے تو پھر بڑی نازک صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ جس کا منظر آج دیکھا جا سکتا ہے۔

ان علاقوں میں مچھلیوں کی نسل کشی جاری ہے — تصویر ابوبکر شیخ
ان علاقوں میں مچھلیوں کی نسل کشی جاری ہے — تصویر ابوبکر شیخ

چھوٹی مچھلیوں کو دھوپ میں سکھانے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے — تصویر ابوبکر شیخ
چھوٹی مچھلیوں کو دھوپ میں سکھانے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے — تصویر ابوبکر شیخ

"میرا تعلق گاؤں سے ہے۔ مجھے یاد ہے کہ کبھی کبھار گھر میں اچانک مہمان آ جاتے یا سالن نہ ہوتا تو میں اور میرا بھائی میٹھے پانی کی نہر پر جال لے کر چلے جاتے، ہم پانی میں جال لگاتے اور بیس منٹ سے بھی کم وقت میں چھوٹی بڑی مچھلیاں جال میں پھنس جاتیں اور ہوگیا سالن کا بندوبست۔

"مگر اب کہانی اس کے بالکل برعکس ہے۔ کوئی قانون نہیں ہے، لوٹ مچی ہوئی ہے۔ ظلم تو یہ ہے کہ میٹھے پانی کی نہروں پر جال لگے ہوئے ہیں۔ سمندر کا ڈیپ سی فشنگ، بولو، گجو اور قطرہ جیسے مچھلی جالوں نے بیڑہ غرق کردیا ہے۔

"اب مرغی کی فیڈ بنانے کے لیے اس میٹھے پانی کی مچھلی نظر آگئی ہے۔ جھیلیں جو کبھی مچھلی سے بھری ہوتی تھیں، وہاں اب کچھ نہیں بچا۔ کوئی کسی کے بچے مار کر کیسے روٹی کما سکتا ہے۔ میں حیران ہوں کہ اب اس قدر منفی عوامل عام ہو چکے ہیں۔"

جب ان ماہی گیروں سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ فشریز ڈپارٹمنٹ نے ان کو لائسنس دے رکھے ہیں جن کی بنیاد پر وہ یہ جال لگاتے ہیں۔

خشک کی گئی چھوٹی مچھلیاں جن سے مرغیوں کی فیڈ تیار کی جاتی ہے — تصویر ابوبکر شیخ
خشک کی گئی چھوٹی مچھلیاں جن سے مرغیوں کی فیڈ تیار کی جاتی ہے — تصویر ابوبکر شیخ

خشک کی گئی چھوٹی مچھلیاں جن سے مرغیوں کی فیڈ تیار کی جاتی ہے — تصویر ابوبکر شیخ
خشک کی گئی چھوٹی مچھلیاں جن سے مرغیوں کی فیڈ تیار کی جاتی ہے — تصویر ابوبکر شیخ

اس حوالے سے جب میں نے فشریز ڈپارٹمنٹ بدین اور ٹھٹھہ کے ضلع آفیسر عبدالجبار میمن سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ، "ہم نہروں کے پانی پر جال لگانے کے لائسنس نہیں دیتے۔ اگر دیتے بھی ہیں تو اُن پر کچھ پابندیاں عائد ہوتی ہیں، جیسا کہ جال ایسے استعمال کیے جائیں جن سے چھوٹی مچھلی گزر سکے۔ اگر اس کے بعد بھی کوئی ان چیزوں پر عمل نہیں کرتا تو یہ یقیناً ہمارے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔"

فشریز ڈپارٹمنٹ کی یہ بات فقط بات کی حد تک صحیح ہے۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔ جو جال نہیں لگنے چاہیئں وہ ہی لگے ہوئے ہیں۔ باریک سے باریک مچھلی تو کیا ان جالوں سے بچارا پانی بھی بڑی مشکل سے گذر پاتا ہے۔

چلیے اگر یہ جال غیر قانونی بھی ہے تو اس کی روک تھام کے حوالے سے کیا ہو رہا ہے؟ کچھ نہیں۔ یہاں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، کسی طور پوشیدہ تو نہیں، آپ کسی بھی نہر پر جائیں، کچھ اور ملے نہ ملے پانی میں لگے جال ضرور مل جائیں گے۔ ہزاروں جال ہیں جو پانیوں میں لگے ہوئے ہیں۔

یہ اس ماحولیاتی بربادی کی ذرا بھر علامت ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ ایک سو کلو مچھلی کے بچوں کو خشک کر کے جو 800 سے 1000 روپے کماتے ہیں، اس کے بدلے میں اپنی خوراک، صحت اور ماحولیات کو قتل کر رہے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر جھیلوں میں یہ مچھلی جائے گی، افزائش پائے گی تو کوئی اور آ کر وہ مچھلی نہیں لے جائے گا۔ یہ لوگ ہی ان جھیلوں کے مالک ہیں، یہ ان کی ہی خوراک ہے، اگر مچھلی بڑی ہوگی تو یہ لوگ اسے بیچنے مارکیٹ تک بھی جائیں گے اور جو پیسے ملیں گے وہ ان ہی کے ہاتھوں میں آئیں گے کوئی اور ان سے چھین کر نہیں لے جائے گا، مگر اتنا انتظار کون کرے!

ان علاقوں میں مچھلی کی نسل کشی خوراک کی کمی کا باعث بنتی ہے — تصویر ابوبکر شیخ
ان علاقوں میں مچھلی کی نسل کشی خوراک کی کمی کا باعث بنتی ہے — تصویر ابوبکر شیخ

نہروں پر لگے جالے بہت ہی باریک ہیں مگر کوئی بھی کارروائی نہیں کی جاتی — تصویر ابوبکر شیخ
نہروں پر لگے جالے بہت ہی باریک ہیں مگر کوئی بھی کارروائی نہیں کی جاتی — تصویر ابوبکر شیخ

میرے قریب بیٹھے ماہی گیر نے بتایا کہ زندگی بڑی مشکل سے کٹ رہی ہے۔ بچہ سمندری کنارے پر کیکڑے پکڑتا ہے، بیوی کو ٹی بی کا مرض لاحق ہے، بیٹی شادی کے لائق ہے، سمندر میں مچھلی نہیں بچی، میں اب ایسے ہی گزارا کرتا ہوں۔ حالات اچھے نہیں ہیں۔ وہ یہ سب جب بتا رہا تھا تب پانی کی نمکین تہہ اُس کی آنکھوں میں ابھر آئی تھی۔

درد ہوگا تو آنکھیں بھی بھر آئیں گی۔ اب اسے یہ کیسے سمجھایا جائے کہ اس سلسلے سے آنے والے حالات مزید بدتر ہو جائیں گے اور ان حالات کی بڑی وجہ بھی یہ افراد خود ہوں گے، کیوں کہ یہ اپنی خوراک اور آمدنی کے وسائل اپنے ہاتھوں سے برباد کر رہے ہیں۔

ایک زمانے میں یہاں کی جھیلوں اور نہروں میں مچھلی کی بڑی فراوانی تھی، جب بھی ضرورت ہوتی مچھلی ہر وقت مل جاتی تھی، جبکہ مچھلیوں کی کچھ ایسی بھی نسلیں تھیں جن سے مچھلی کا تیل نکالا جاتا، اُن میں ایک کو ’ڈینڈ‘ کہا جاتا تھا۔ وہ نسل دو تین انچ سے بڑی نہیں ہوتی، اُس کو بھون کر بھی کھایا جاتا اور تیل نکال کر بوتلوں میں بھر کر رکھ دیا جاتا تھا۔

سالن یا چاول پکانے کے لیے گھی کی جگہ اس تیل کو استعمال کیا جاتا تھا۔ کہتے ہیں کہ چاول کے آٹے کا حلوہ بھی اُس تیل سے بنتا تھا جو کافی لذیذ اور خوشبودار ہوتا۔

یہ اتنی بھی پرانی بات نہیں، قریب چالیس برس پہلے کی بات ہے، جب ایسا سب کچھ ہوتا اور ایسی خوراک استعمال کی جاتی تھی۔ ان دنوں ڈاکٹروں کی ضرورت شاید ہی کبھی پڑتی تھی کیوں کہ خوراک میں دیسی گھی اور مچھلی تھی۔

بڑی مچھلی معاشی اور غذائی لحاظ سے انتہائی اہم ہے — تصویر ابوبکر شیخ
بڑی مچھلی معاشی اور غذائی لحاظ سے انتہائی اہم ہے — تصویر ابوبکر شیخ

مچھلیوں کی نسل کشی سے مستقبل میں حالات انتہائی خراب ہو سکتے ہیں — تصویر ابوبکر شیخ
مچھلیوں کی نسل کشی سے مستقبل میں حالات انتہائی خراب ہو سکتے ہیں — تصویر ابوبکر شیخ

پھر جب ہم نام نہاد ترقی کے بیمار گھوڑے پر سوار ہوئے تو خود کو بربادی کی راہوں پر گامزن کر دیا، قدرتی وسائل کو برباد کر دیا اور جو بچا ہوا ہے اُسے برباد کرنے پر تلے ہیں۔

چھوٹی مچھلیوں کی پکڑنے کے حوالے سے جب میں نے پاکستان فشر فوک فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ سے پوچھا تو جواب ملا، "میں آپ کی بات سے متفق ہوں کہ ماہی گیروں کے اس عمل سے ماحولیات کو ناقابلِ تلافی نقصان ہو رہا ہے۔ یہ عمل زیادہ بربادی کی طرف لے جائے گا۔ یہ ایک غیر قانونی عمل ہے، جس پر فشریز ڈپارٹمنٹ کو سختی نمٹنا چاہیے جو کہ نہیں ہو رہا۔ پاکستان فشر فوک فورم نے اس حوالے سے ماہی گیروں کو سمجھانے کا کام کیا ہے مگر اس حوالے سے ہم شاید زیادہ کامیاب نہیں ہوسکے۔"

نہروں میں اب بھی پہلے کی طرح جون جولائی میں میٹھے پانی کی مچھلیوں کا بیج آتا ہے جن میں سترہ سے زیادہ مچھلی کی نسل شامل ہوتے ہیں۔

ہم اور ہمارے ادارے اگر اس وقت بھی سنبھل جائیں اور اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے پوری کریں تو شاید ہم ایک بڑی بربادی کو کچھ حد تک کم کرسکتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ فطرت بڑی رحمدل ہے۔ اگر اُس کی قدر کی جائے، اسے تحفظ فراہم کیا جائے اور شارٹ کٹ آمدنی کے لیے اُس کی روح کو نہ نوچا جائے، تو فطرت پھر سے ہماری نہروں، چھوٹی بڑی جھیلوں کو خوراک سے بھر دے گی اور مرتی جھیلیں پھر سے جی اُٹھیں گی کیون کہ مچھلی ہوگی تو پھر جیون بھی ہوگا۔


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔

ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔