ای میل

پنجاب میں آوارہ گردی

عبیداللہ کیہر


ڈان بلاگز موسمِ سرما کی چھٹیوں میں سیر و تفریح کے حوالے سے اپنے قارئین کے لیے مکمل ٹؤر گائیڈ پیش کررہا ہے۔ یہ سیریز کا چوتھا اور آخری بلاگ ہے، گزشتہ بلاگ یہاں پڑھیں۔ اس سیریز میں قارئین تک مکمل معلومات پہنچانے کی کوشش کی جائے گی کہ سردیوں میں پاکستان کے کن کن علاقوں میں جانا زیادہ بہتر رہے گا۔


صحرائے چولستان میں آوارہ گردی، بہاول پور کے محلات کی سیر اور لال سوہانرا نیشنل پارک میں کالے ہرنوں کو اپنے ہاتھ سے گھاس کھلانے کے بعد اب آئیے آگے چلتے ہیں کہ پاکستانی ونٹر ٹورزم میں ابھی خاصا کچھ باقی ہے اور بہاولپور سے صرف 100 کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے چناب کے کنارے پاکستان کا ساتواں بڑا شہر ملتان بھی ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ کراچی سے ملتان کا فاصلہ تقریباً 1000 کلومیٹر بنتا ہے۔ ملتان کا موسم شدید ہوتا ہے، گرمی تیز اور سردی بھی خوب۔ شدید گرمی کی وجہ سے ملتان کی سیاحت کے لیے موسمِ سرما ہی کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے قدیم شہروں میں شامل ہے۔ تُرکی کے تاریخی شہر بورصہ کو ملتان کا جڑواں شہر قرار دیا گیا ہے جو کہ قسطنطنیہ سے پہلے عثمانی سلطنت کا دارالخلافہ ہوا کرتا تھا۔

ملتان کو اولیاء کا شہر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ تاریخ کے مختلف ادوار میں دور دراز سے کئی بزرگ ہستیاں یہاں تشریف لائیں، یہاں دین کی اشاعت کی اور پھر اِسی شہر کی خاک کو اپنی آخری آرام گاہ کے طور پر قبول کیا۔ اُن بزرگانِ دین میں سے شیخ بہاء الدین ذکریا ملتانی اور شاہ رُکنِ عالم کے عالیشان مقبرے ملتان کی علامت ہیں اور دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

مقبرہ شاہ رکنِ عالم ملتان —فوٹو عبیداللہ کیہر
مقبرہ شاہ رکنِ عالم ملتان —فوٹو عبیداللہ کیہر

گنبد مقبرہ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی—تصویر عبیداللہ کیہر
گنبد مقبرہ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی—تصویر عبیداللہ کیہر

یہاں ایک قدیم مسجد بھی ہے جسے ملتان کی پہلی مسجد کہا جاتا ہے اور خیال ہے کہ اسے محمد بن قاسم نے تعمیر کروایا تھا۔ ملتان کا عجائب گھر بھی مشہور ہے جہاں ملتان، بہاولپور اور صحرائے چولستان کے عجائبات و نوادرات جمع کیے گئے ہیں۔ ملتان میں ایک قدیم قلعہ بھی ہے کہ جس کا اب صرف ایک ہی دروازہ ’قاسم گیٹ‘ باقی رہ گیا ہے۔

باب قاسم ملتان—تصویر عبیداللہ کیہر
باب قاسم ملتان—تصویر عبیداللہ کیہر

کسی زمانے میں دریا اِس قلعے کے برابر میں بہتا تھا اور ملتان کی دریائی بندرگاہ سے نکلنے والی کشتیاں اور جہاز ایران، عراق اور جنوبی ہندوستان کی بندرگاہوں تک سامانِ تجارت لے کر جاتے تھے۔ ملتان میں اِن سارے آثار کی سیاحت کی جاسکتی ہے اور اِس بھرپور تاریخی و ثقافتی شہر میں چند یادگار دن گزارے جاسکتے ہیں۔

شہر میں بے شمار ہوٹل ہیں جن کا کرایہ بھی مناسب ہے، اِس لیے ملتان میں قیام کرنا بھی آسان ہے۔ یہاں میٹرو بس بھی چلتی ہے جس میں بیٹھ کر بھی ملتان کی بہت اچھی سیر کی جاسکتی ہے، بلکہ کراچی سے اندرونِ ملک سفر کریں تو راستے میں آنے والا سب سے پہلا شہر ملتان ہی ہے کہ جہاں ہمیں میٹرو بس نظر آتی ہے۔ شہر کی سڑکوں پر بے شمار فلائی اوورز کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں بھی خلل نہیں پڑتا۔

مزید پڑھیے: نلتر جھیل کی سیر؛ اب بھی سوچتا ہوں، یہ خواب تھا یا حقیقت!

ملتان اپنے سوہن حلوے کی وجہ سے بھی ملکی و بین الاقوامی شہرت رکھتا ہے۔ یہاں آپ کو قدم قدم پر سوہن حلوے کی بڑی بڑی دکانیں نظر آئیں گی جن سے آپ کچھ نہ کچھ خریداری کیے بغیر آگے نہیں نکل پائیں گے۔ حافظ کا ملتانی سوہن حلوہ، ریواڑی کی مٹھائی، حرم گیٹ کی کھیر، لال کرتی کی چانپ، خونی برج کی فرائی فِش اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔

مقبرہ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی—عبیداللہ کیہر
مقبرہ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی—عبیداللہ کیہر

ملتان کے اطراف میں بھی بہت کچھ ہے، چاہیں تو دریائے چناب اور دریائے سندھ کو عبور کرکے ڈیرہ غازی خان اور فورٹ منرو کی طرف نکل جائیں یا ساہیوال جاکر ہڑپہ کے آثار قدیمہ کی سیر کریں یا پھر سیدھے سیدھے شہرِ زندہ دلانِ لاہور کی طرف نکل کھڑے ہوں۔ ملتان سے لاہور 350 کلومیٹر دور اور 6 سے 7 گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے، لیکن لاہور سے 80 کلومیٹر پہلے چھانگا مانگا کا دلفریب جنگل بھی ہے کہ جس کی سیر کیے بغیر نکل جانا کوئی مناسب بات نہیں۔ چنانچہ آئیے، ہم ملتان سے صبح سویرے ہی نکل پڑتے ہیں تاکہ جلد چھانگا مانگا پہنچ جائیں۔

چھانگا مانگا کا جنگل

چھانگا مانگا بہاولپور کے لال سوہانرا نیشنل پارک کی طرح جنگلی حیات کی افزائش کا مرکز اور مصنوعی جنگل ہے۔ 12 ہزار ایکڑ کے وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے اِس گھنے جنگل کو غالباً انسانی ہاتھوں سے اُگایا گیا دنیا کا سب سے بڑا اور قدیم جنگل سمجھا جاتا ہے۔ انگریز دور میں بنائے گئے اِس جنگل کا مقصد ریل گاڑی کے اسٹیم انجنوں کے لیے لکڑی کی فراہمی تھا۔ یہاں ایک سفاری پارک، واٹر ٹربائن اور پکنک، کھیل کود، نائٹ کیمپنگ اور باربی کیو وغیرہ کے لیے وسیع سبزہ زار گھنے جنگل میں محفوظ گوشے موجود ہیں۔

یہاں ایک مِنی ٹرین بھی چلتی ہے جس میں بیٹھ کر جنگل کی سیر کی جاسکتی ہے۔ چھانگا مانگا کی جھیل میں کشتی رانی کا بھی لُطف لیا جاسکتا ہے۔ سیاحوں کے قیام کے لیے یہاں ایک ٹؤرسٹ ریزورٹ بھی موجود ہے۔ چھانگا مانگا کے قدرتی جنگلی ماحول میں نیل گائے، ہِرن، بارہ سنگھا، اڑیال، گیدڑ اور مور وغیرہ کے ساتھ ساتھ معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں اور پرندوں کی افزائش بھی کی جا رہی ہے۔

لاہور

چھانگا مانگا میں تفریح کے بعد آئیے اب ہم چلتے ہیں لاہور۔ پاکستان کے قلب میں زندہ دل لوگوں کا ایک جیتا جاگتا گہوارہ، پھولوں سے سجا، خوشبوؤں سے بھرا، آسودہ دلوں کا آسودہ شہر، لاہور۔ دریائے راوی کے کنارے آباد یہ قدیم و جدید تہذیب کا مرکز پاکستان کا ایک بہترین سیاحتی شہر ہے۔ لاہور کا دل مال روڈ ہے۔ لاہور کی کئی معروف عمارتیں اور قدیم و جدید کاروباری مراکز اِسی کے اطراف میں واقع ہیں۔

گورنر ہاؤس، باغِ جناح، جناح ہال، جناح لائبریری، الحمرا آرٹس کونسل، ایونِ اقبال، لاہور چڑیا گھر، فورٹریس اسٹیڈیم، انار کلی بازار، پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس، نیشنل کالج آف آرٹس، عجائب گھر، اولڈ انارکلی فوڈ اسٹریٹ، ٹولنٹن مارکیٹ، ناصر باغ، رُڈیارڈ کپلنگ کی مشہور عالم توپ اور ایم ایم عالم کا معروف فائٹر جہاز، سب اِسی سڑک پر واقع ہیں۔ مال روڈ پر ہی شارع فاطمہ جناح اور شارع قائدِاعظم کے سنگم پر واپڈا ہاؤس سے متصل پنجاب اسمبلی کی خوبصورت اور تاریخی عمارت اور اسلامی سربراہی کانفرنس کا یادگاری مینار بھی واقع ہے۔

اندرون شہر لاہور—تصویر عبیداللہ کیہر
اندرون شہر لاہور—تصویر عبیداللہ کیہر

میٹرو بس لاہور—فوٹو عبیداللہ کیہر
میٹرو بس لاہور—فوٹو عبیداللہ کیہر

لاہور باغوں، فواروں اور سبزہ زاروں کا شہر ہے۔ شالامار باغ، جناح باغ، جلو پارک، ریس کورس پارک، گلشنِ اقبال، ماڈل ٹاؤن پارک، حضوری باغ اور پنجاب یونیورسٹی سے گزرتی نہر، سب لاہور کی خوبصورتی اور تازگی بڑھاتے ہیں۔ مغل دور کا شالامار باغ آج بھی اپنے حُسنِ لافانی سے دلوں کو مسحور کرتا ہے۔ اِس کے فوارے، آبشاریں، بارہ دریاں، قدیم تناور درخت اور سبز مخملی گھانس دلکش اور دلفریب ہیں۔

اندرون شہر لاہور —تصویر عبیداللہ کیہر
اندرون شہر لاہور —تصویر عبیداللہ کیہر

اِسی طرح مال روڈ کے ساتھ ساتھ 100 ایکڑ پر پھیلا ہوا تاریخی لارنس گارڈن بھی ہے جو اب باغِ جناح کہلاتا ہے۔ ہزاروں درختوں اور پھولوں سے سجے اِس چمن زار میں پاکستان کا سب سے بڑا ایئر کنڈیشنڈ کتب خانہ ’جناح لائبریری‘ بھی قائم ہے۔ علامہ اقبال ٹاؤن کا باغ ’گلشنِ اقبال‘ بھی اپنی رنگا رنگ تفریحات، جھولوں، ٹرین، کشتی اور دیگر ایڈونچرز کے باعث معروف ہے۔ ریس کورس پارک، نواز شریف پارک اور ماڈل ٹاؤن پارک بھی قابلِ دید ہیں۔

مزید پڑھیے: لاہور کا باغِ جناح: میری خوشگوار یادوں کا امین

لاہور خوبصورت اور تاریخی عمارتوں کا شہر ہے۔ شہنشاہ اکبر کا شاہی قلعہ، اورنگ زیب عالمگیر کی بادشاہی مسجد، اندرونِ شہر میں نقاشی کا عظیم مرقع مسجد وزیر خان، سنہری مسجد، شاہی حمام، دریائے راوی کے پار شاہدرہ میں مغل حکمران جہانگیر اور ملکہ نورجہاں کے عالیشان مقبرے، انار کلی کا مقبرہ، قُطب الدین ایبک کا مقبرہ، قراردادِ پاکستان کی یادگار مینارِ پاکستان، بادشاہی مسجد کے پہلو میں حکیم الامت علامہ اقبالؒ کا مقبرہ، لاہور ریلوے اسٹیشن اورچوبرجی کے ساتھ کئی معروف و غیر معروف تاریخی عمارتیں شہر میں پھیلی ہوئی ہیں۔

مسجد وزیر خان لاہور —تصویر عبیداللہ کیہر
مسجد وزیر خان لاہور —تصویر عبیداللہ کیہر

مسجد وزیر خان لاہور پینوراما—تصویر عبیداللہ کیہر
مسجد وزیر خان لاہور پینوراما—تصویر عبیداللہ کیہر

لاہور کے 13 تاریخی دروازوں، بھاٹی گیٹ، لوہاری گیٹ، مستی گیٹ، شیرانوالہ گیٹ، شاہ عالمی گیٹ، اکبری گیٹ اور دہلی گیٹ وغیرہ کے اندر واقع لاہور کا اندرون شہر بھی اپنی تاریخ، زندہ ثقافت، ذائقوں اور رنگا رنگی کے باعث یادگار سیاحت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ تاریخی دروازے آج بھی ماضی کی طرح معروف ہیں۔ ان دروازوں کے اندر موجود مُحلّے اب بھی مغلیہ دور کے ناموں ہی کے حامل ہیں۔

حمام وزیر خان لاہور—تصویر عبیداللہ کیہر
حمام وزیر خان لاہور—تصویر عبیداللہ کیہر

لاہور ذائقوں کا بھی شہر ہے۔ اندرونِ شہر کے کھابے اور فوڈ اسٹریٹوں کی اشتہا انگیزیاں، سری پائے، بونگ، نہاری، ہریسہ، حلیم، حلوہ پوری، دال پٹھورے، مکئی کی روٹی، سرسوں کا ساگ، قتلمے، مرغ چنے، مٹن کڑاہی، لبرٹی کے کباب، مزنگ کا چرغہ، دیسی مرغ کی کڑاہی، لکشمی کے دال چاول، فاسٹ فوڈ، پیزا، برگر، بار بی کیو، ریگل کے دہی بلے، قیمے والے نان، مزنگ چنگی کی محمدی نہاری، انار کلی کی وارث نہاری، قذافی اسٹیڈیم میں بشیر دارالماہی، گوالمنڈی میں سردار کی مچھلی اور گڑھی شاہو میں صدیق کی مچھلی۔

اندرون شہر لاہور—تصویر عبیداللہ کیہر
اندرون شہر لاہور—تصویر عبیداللہ کیہر

شیرینی کی طرف توجہ دیں تو مال روڈ کی چمن آئس کریم، انار کلی کا ٹھنڈا دودھ، اندرون شہر کی لسی، گڑھی شاہو کی کھیر، ربڑی دودھ، فیروز پور روڈ کا قصوری فالودہ، نرالے، گورمے، فضل، حافظ، مالمو، کیکس اینڈ بیکس اور محمدی کی مٹھائیاں اور کیک، خلیفہ کی نان خطائیاں وغیرہ وغیرہ، ایک نہ ختم ہونے والی فہرست ہے۔ پھر اُن سب کے ساتھ ساتھ لاہور کی ہر گلی اور بازار میں آپ کو نان چنے کی ریڑھیاں اور لاتعداد فُٹ پاتھی ہوٹل بھی نظر آئیں گے جہاں کھانے والوں کے رش دیکھ کر آپ حیران ہی رہ جائیں گے۔

لاہوری پائے —تصویر عبیداللہ کیہر
لاہوری پائے —تصویر عبیداللہ کیہر

اکتوبر سے مارچ تک کے مہینے لاہور کی سیاحت کے لیے آئیڈیل سمجھے جاتے ہیں۔ یہاں بے شمار ہوٹل ہیں جن میں ایک طرف فائیو اسٹار ہوٹلز ہیں تو دوسری طرف لاری اڈوں کی کم قیمت سرائیں بھی ہیں۔ اپنی پسند کی رہائش گاہ منتخب کیجیے اور لاہور کی نہ ختم ہونے والی رنگا رنگی کا حصہ بن جائیے۔

شیخوپورہ اور ہرن مینار

لاہور کی سیر تو اتنی آسانی سے مکمل نہیں ہوگی، چلیے ہم شیخوپورہ چلتے ہیں جہاں کی مشہور بارہ دری اور ہرن مینار ہمارا انتظار کررہے ہیں۔ شیخوپورہ لاہور سے 35 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ شیخوپورہ شہر کی بنیاد شہنشاہ جہانگیر نے رکھی۔ جہانگیر کی والدہ اُنہیں پیار سے شیخو بابا کہتی تھیں، اِس لیے اِس شہر کا نام بھی شیخوپورہ پڑگیا۔ جہانگیر کے دور میں شیخوپورہ کے گرد و نواح میں گھنے جنگل ہوا کرتے تھے جہاں ہر طرح کے جانور پائے جاتے تھے، اِسی لیے شیخوپورہ کو شاہی شکار گاہ کی حیثیت حاصل تھی اور بادشاہ کی دعوت پر ریاستوں کے والی اور نواب یہاں شکار کے لیے آتے تھے۔ جس جگہ آج ہرن مینار کی عمارت واقع ہے وہاں بھی گھنا جنگل ہوا کرتا تھا جہاں ہرنوں کے غول دوڑتے تھے اور خوب شکار ہوتے تھے۔

ایک دفعہ شہنشاہ جہانگیر نے اِس شکار گاہ میں ایک خوبصورت ہرن کو زندہ پکڑلیا اور پھر اُسے شاہی جانوروں کے ساتھ شامل کردیا۔ یہ ہرن بہت معصوم اور پیارا تھا۔ جہانگیر نے اُسے ’ہنس راج‘ کا نام دیا تھا۔ مگر ہنس راج کی زندگی تھوڑی تھی۔ ایک دن وہ کسی وجہ سے بیمار پڑا اور جلد ہی موت کا شکار ہوگیا۔ اُس کی موت کا جہانگیر کو بہت دُکھ ہوا۔ شاہی ہرن کو ایک جگہ اہتمام سے انسانوں کی طرح قبر بنا کر دفن کیا گیا۔ جہانگیر اُس کے غم میں کئی دن اُداس رہے اور بالآخر اُس کی قبر پر ایک بلند مینار تعمیر کرنے کا حکم دیا۔

ہرن مینار—تصویر شگفتہ کریم/کری ایٹو کامنز
ہرن مینار—تصویر شگفتہ کریم/کری ایٹو کامنز

ہرن کی یاد میں تعمیر کردہ وہ خوبصورت شاہی مینار شیخوپورہ میں آج بھی موجود ہے اور ’ہرن مینار‘ کہلاتا ہے۔ 110 فٹ بلند اِس خوبصورت مخروطی مینار میں جگہ جگہ کھڑکیاں اور روشندان ہیں تاکہ تازہ ہوا اور روشنی اندر آسکے۔ مینار کے اوپر تک جانے کے لیے 100 سیڑھیاں ہیں جو اُس میں بل کھاتی ہوئی چھت تک چلی جاتی ہیں۔ مینار کے سامنے ایک بے حد وسیع مستطیل تالاب بھی ہے جس کے وسط میں ایک عالیشان ہشت پہلو (Hexagonal) بارہ دری بنی ہوئی ہے۔

بارہ دری تک پہنچنے کے لیے تالاب کے اوپر ایک خوبصورت پل بنا ہوا ہے۔ اِس تین منزلہ بارہ دری میں شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نور جہاں آرام کیا کرتے تھے۔ چاندنی راتوں میں آج بھی یہاں کا نظارہ بڑا دلفریب ہوتا ہے۔ بارہ دری کے گرد اِس وسیع و عریض تالاب میں پانی 20 میل دور دریائے راوی سے ایک نہر کے ذریعے آتا تھا۔ جہانگیر کی وفات کے بعد شاہ جہاں نے بھی ہرن مینار کی خوبصورتی کو برقرار رکھا اور شیخوپورہ میں ایک قلعہ بھی تعمیر کروایا۔ شیخوپورہ کا قلعہ، ہرن مینار اور بارہ دری، مغلیہ طرز تعمیر کا خوبصورت شاہکار ہیں اور اِن دلکش عمارات کے باعث شیخوپورہ آج بھی سیاحوں کے لیے ایک پُرکشش تفریح گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

علامہ اقبالؒ کا شہر سیالکوٹ

قلعہ شیخوپورہ اور ہرن مینار کی سیاحت مکمل کرکے آئیے اب ہم سیالکوٹ چلتے ہیں۔ شیخوپورہ سے سیالکوٹ تقریباً سوا سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور آپ یہاں تک براستہ گوجرانوالہ 2 سے 3 گھنٹے کا سفر کرکے پہنچ سکتے ہیں۔ سیالکوٹ پاکستان کے چند قدیم ترین شہروں میں شامل ہے۔ کہتے ہیں کہ اِس شہر کی بنیاد 4 ہزار سال قبل راجہ سل نے رکھی اور شہر کے وسط میں ایک قلعہ تعمیر کروایا تھا۔ یہ قلعہ ’سل کوٹ‘ کہلایا اور یہی نام آگے چل کر سیالکوٹ بن گیا۔

سیالکوٹ—تصویر عبیداللہ کیہر
سیالکوٹ—تصویر عبیداللہ کیہر

سیالکوٹ پاکستان کا ایک اہم صنعتی شہر ہے اور خصوصاً اپنی اسپورٹس انڈسٹری کے باعث دنیا میں شہرت رکھتا ہے، لیکن اِس شہر کی شہرت کا سب سے بڑا سبب حکیم الامت، شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کی ذات ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال سیالکوٹ شہر میں 9 نومبر 1877ء کے دن شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ سیالکوٹ کے ’بازار چوڑی گراں‘ میں وہ گھر آج بھی موجود ہے جسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے اقبال کے مداح اور عقیدت مند سیالکوٹ آتے ہیں۔

اقبال منزل سیالکوٹ—تصویر عبیداللہ کیہر
اقبال منزل سیالکوٹ—تصویر عبیداللہ کیہر

حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ علامہ اقبال کے بعد پاکستان کے سب سے معروف شاعر فیض احمد فیض بھی اِسی شہر سیالکوٹ ہی میں پیدا ہوئے تھے۔ بلکہ اگر ہم تحریک پاکستان کے بنیادی نعرے ’پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ‘ کے خالق معروف شاعر اصغر سودائی کو بھی یاد کریں تو وہ بھی اِسی شہرِ شاعر خیز سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔

سیالکوٹ میں تیار ہونے والا کھیلوں کا سامان اور سرجیکل آلات پوری دنیا میں برآمد ہوتے ہیں۔ عالمی تجارت کا مرکز ہونے کے باعث یہاں بے شمار عمدہ ہوٹل ہیں اور ہر طرح کی سہولیات دستیاب ہیں۔ سردیوں کے خوشگوار موسم میں اِس شہرِ شاعراں کی سیاحت ضرور کیجیے۔ علامہ اقبال کے گھر، سیالکوٹ کے قلعے اور شہر کے بھرے پرے بازاروں کی سیر کیجیے اور سیالکوٹ کے مزیدار کھانوں کا لُطف اٹھائیے۔

جہلم اور قلعہ روہتاس

سیالکوٹ سے جہلم تقریباً سوا سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور 2 سے 3 گھنٹے کا سفر کرکے آپ یہاں پہنچ سکتے ہیں۔ جہلم کی شہرت کا ایک بڑا سبب قلعہ روہتاس ہے کہ جو برِصغیر ہند و پاک کے چند بڑے قلعوں میں سے ایک ہے۔ شیر شاہ سوری کا تعمیر کردہ یہ 500 سال قدیم قلعہ شہر جہلم سے 15 کلو میٹر دور جی ٹی روڈ یا جرنیلی سڑک کے کنارے آج بھی سر اُٹھائے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: بلوچستان نے بُلایا اور ہم چلے آئے

پہاڑوں کے نشیب و فراز میں 200 ایکڑ پر محیط اِس قلعے کی چوڑی چوڑی دیواریں 30 سے 40 فٹ تک بُلند ہیں اور اُن میں بے شمار اونچی اونچی برجیاں اور دروازے بنے ہوئے ہیں۔ یہ بلند و بالا دروازے 30 سے 60 فٹ تک بلند، 20 فٹ گہرے اور 10 سے 15 فٹ تک چوڑے ہیں۔ یہ دروازے کابل اور کشمیر کے رخ پر کھلتے ہیں۔ قلعے کا مغربی حصہ شاہی خاندان کے رہائشی استعمال کے لیے تھا اور ’اندر کوٹ‘ کہلاتا تھا، جبکہ قلعے کا باقی حصہ فوج کے زیرِ استعمال تھا اور ’بنیادی قلعہ‘ کہلاتا تھا۔ اندر کوٹ حویلی مان سنگھ اور رانی محل پر مشتمل ہے۔

قلعے میں خوبصورت شاہی مسجد بھی ہے۔ قلعے کے اندر پانی کے حصول کے لیے طویل سیڑھیوں والے کنویں (باؤلیاں) بھی ہیں۔ قلعہ روہتاس عالمی تاریخی ورثہ میں شامل ہے۔ یہاں شیر شاہ سوری موزیم بھی ہے جہاں شاہی خاندان سے متعلق نادر اشیاء موجود ہیں۔ رانی محل، شیشی دروازہ، گھٹالی دروازہ، خاص خوانی دروازہ، سوہل دروازہ، طلاقی گیٹ، پھانسی گیٹ، لنگر خانہ گیٹ، حویلی مانک سنگھ اور شاہی مسجد کے علاوہ یہاں ایک نیا پارک بھی ہے جہاں لوگ بمع اہل و عیال سیر کے لیے آتے ہیں اور پکنک مناتے ہیں۔

مقبرہ شہاب الدین غوری

آئیے اب ہم اپنے وِنٹر ٹؤرزم کے آخری مقام ’سوہاوہ‘ کی طرف چلتے ہیں۔ قصبہ سوہاہ جہلم سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ سوہاوہ کے قریب جی ٹی روڈ سے راولپنڈی کی طرف جاتے ہوئے دائیں طرف ایک سڑک پر 15 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاؤں دھمیک ہے۔ دھمیک کا یہ غیر معروف گاؤں اُس وقت ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا جب بھارت کے میزائل ’پرتھوی‘ کے جواب میں بنائے گئے پاکستانی میزائل کا نام ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ’غوری‘ رکھا۔ غوری بھارت کے لیے بڑا معنی خیز نام تھا کیونکہ بھارتی مہاراجہ پرتھوی راج کو سلطان شہاب الدین غوری نے ہی شکست دے کر ہندوستان میں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی تھی۔

دھمیک اِس وجہ سے مشہور ہوا کہ یہاں سلطان شہاب الدین غوری کی قبر تھی۔ شہاب الدین غوری کو 700 سال قبل نمازِ عشاء کے دوران اِس مقام پر شہید کیا گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں شاہ ایران نے سلطان شہاب الدین کا مقبرہ تعمیر کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن اُس وقت اس معاملے کو کسی نے خاص اہمیت نہ دی۔

1994ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستانی میزائل کا نام ’غوری‘ رکھنے کے بعد دھمیک کے گاؤں میں آئے اور یہاں سُلطان شہاب الدین غوری کی خستہ حال قبر کا جائزہ لیا اور پھر سلطان کے شایان شان مقبرہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پہلے مقبرے کے اطراف 8 کنال زمین خرید کر چار دیواری تعمیر کروائی اور پھر مقبرے کا ڈیزائن تیار کروایا۔

مقبرے کی تعمیر 2 سال کے عرصے میں مکمل ہوئی۔ اُس کا ڈیزائن وسط ایشیائی مسلم طرز تعمیر کے مطابق امیر تیمور اور الغ بیگ کے مزارات سے مشابہہ بنایا گیا ہے۔ مقبرے کی بلندی 50 فٹ ہے اور اُس کے چاروں کونوں پر مینار اور برجیاں تعمیر کی گئیں ہیں۔ مزار کے ارد گرد خوبصورت گزر گاہیں، سبز قطعے، سرو کے درخت اور پھولدار کیاریاں بنا کر اسے سنوارا گیا ہے۔ بلند و بالا عمارت پر سفید سنگِ مرمر استعمال کیا گیا ہے اور فرش بھی قیمتی پتھر سے تعمیر کیا گیا ہے۔

تعمیر کو ہر طرف سے یوں یکساں رکھا گیا ہے کہ آپ جس رخ سے بھی کھڑے ہوکر دیکھیں وہ ایک سا ہی نظر آتا ہے۔ شہری شور و غل سے دور پوٹھوہار کی پُرسکون فضاؤں میں کھڑی سنگِ سفید کی اِس دلفریب عمارت کو دیکھتے ہیں تو اُن پر ایک سحر سا طاری ہوجاتا ہے۔

سوہاوہ سے اسلام آباد 2 گھنٹے کی مسافت پر تقریباً 100 کلومیٹر دور ہے۔ اسلام آباد پہنچ کر ہمارے ونٹر ٹؤرزم کا اختتام ہوتا ہے کیونکہ اِس سے آگے گلیات، کشمیر اور شمالی علاقہ جات کی سیاحت کا اصل موسم گرمیوں میں ہی شروع ہوتا ہے۔ میں نے اِس مضمون میں جن مقامات کا ذکر کیا، ملکِ پاک میں اِن کے علاوہ بھی کئی قابلِ دید جگہیں ہیں کہ جہاں آپ سردیوں کی سیاحت کرسکتے ہیں۔ اِن تمام مقامات کی تفصیل تو ایک ضخیم کتاب میں ہی سما سکتی ہے۔ میر ے اِس مضمون میں تو بس چند اشارے ہیں، تاکہ آپ نکلیں، اِس ملکِ خداداد میں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں اور برکتوں سے واقف ہوں، اپنے قلب و ذہن کو وسیع کریں اور اپنی سرزمینِ پاک سے نہ صرف محبت کریں بلکہ قریب سے جانیے۔


عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں۔ آپ کی اب تک 7 کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ آبائی تعلق سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہیں۔ عمر کا غالب حصہ کراچی میں گزارا اور اب اسلام آباد میں رہتے ہیں.


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔